12:59 pm
پاکستان بھارت تعلقات کیسے اچھے ہوسکتے ہیں؟

پاکستان بھارت تعلقات کیسے اچھے ہوسکتے ہیں؟

12:59 pm

پاکستان کے نوعمر وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے بھار ت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتر ی لانے کا عندیہ دیاہے۔ بلکہ کہاہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان اچھے ہمسائیگی کے تعلقات ہونے چاہئیں۔ بلاول بھٹو کا بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے سلسلے میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل ماضی کی حکومتیں بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے چاہتی تھیں‘ لیکن بھارت کا اس سلسلے میں مزاج دوسرا ہے۔ حالانکہ کسی زمانے میں( ماضی بعید میں) جنرل ایوب خان نے بھارت کے ساتھ جنگ نہ لڑے No War pact کاخیال ظاہر کیاتھا‘ لیکن وہ خواہش بھی پوری نہیں وہسکی‘ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بات آگے نہ بڑھ سکی۔ پھر1965 ء میں بھارت نے رات کی تاریکی میں لاہور پرحملہ کردیا‘ اس حملے کو لاہور کے عوام اور پاکستان کی فوج نے باہم مل کر روکا اور بھارت کو نہ صرف پسپا ہونے پر مجبور کیا بلکہ اس کی فوج کوزبردست نقصان سے بھی دوچار کیا تھا۔
لیکن اب کیا حالات میں ایسی کوئی تبدیلی رونما پذیر ہوگئی ہے کہ جناب بلاول بھٹو بھارت کے ساتھ عہد تجدید وفا کرناچاہتے ہیں؟ میرے خیال کے مطابق اس وقت بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی ومعاشی تعلقات پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں‘ بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے اندر دہشت گرد وں کو بھیجنا شرو ع کردیاہے (بلکہ روکا کب تھا) نیز بھارت کی ریاست راجستھان میں باقاعدہ پاکستان دشمن عناصر کو دہشت گردی کرنے کی تربیت دی جاتی ہے جس میں بھارتی فوج کے حاضر اور ریٹائرڈ افسر شامل ہیں ۔ مزید براں بھارت کی موجودہ حکومت بی جے پی نے بھارت کے 24کروڑ مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی ہے‘ اتنی بڑی اقلیت نریندر مودی کی مسلمان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے خوف کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہے۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں صرف ان دو ہفتوں کے دوران 13کشمیریوں نوجوانوں کو شہید کیاہے۔ اس کے علاوہ جب سے نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آزاد اسٹیٹس یعنی370اور35A ختم کیاہے۔ وہاں اس نے بھارت کے مختلف علاقوں سے ہندوئوںکو کشمیر میں آباد کرناشروع کردیاہے اب تک 45000 ہزار ہندوئوں کو باہر سے لاکر مقبوضہ کشمیر میں آباد کیا گیاہے۔ اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب ختم کرکے وہاں ہندو اکثریت کاعلاقے قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی کل تعداد90لاکھ ہے یعنی یہ واحد علاقہ ہے جہاں اس وقت بھی مسلمان اکثریت میں ہیں‘ ماضی میں بھی اکثریت میں تھے‘ ڈوگر اراج بھی مسلمانوں کی اکثریت کوختم نہیں کرسکاتھا۔ چنانچہ ان حالات میں جبکہ بھارت سامراج کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیاء میں اپنی بالادستی قائم کرناچاہتاہے‘ تواس صورت میں بھارت کے ساتھ کس طرح اور کیوں کر اچھے ہمسائیگی کے تعلقات فروغ پاسکتے ہیں؟ بلاول بھٹو کو یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ بھارت اس خطے میں اپنی فوج کے لئے سب سے زیادہ مہلک ہتھیار خرید رہاہے‘ ماضی میں یہ مہلک ہتھیار روس (سوویت یونین) سے خریدے جاتے تھے‘ لیکن اب زیادہ تر جدید مہلک ہتھیار امریکہ‘ فرانس اور برطانیہ سے حاصل کئے جارہے ہیں۔ اسرائیل بھی بھارت کو جدید فوجی ہتھیار سپلائی کررہاہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے پاس اتنے ذرائع نہیں ہیں کہ وہ بڑی مقدار میں فوجی ہتھیار خرید سکے۔ جب بھارت سے یہ سوال کیاجاتاہے کہ وہ کیوں جدید فوجی ہتھیار جمع کررہاہے تواس کا ایک ہی جواب ہے کہ ہماری یہ فوجی تیاریاں چین کے خلاف ہیں۔ حالانکہ فوجی اور معاشی اعتبار سے بھارت کا چین سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ بھارت میں نام نہاد جمہوریت بھارتی عوام کے معاشی ومعاشرتی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ نیز جس طرح بھارت میں اقلیتوں کوہراساں کیاجارہاہے‘ خاص کر کے مسلمانوں کو اس سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ بھارت کے عزائم کیاہیں؟ بی جے پی کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس پاکستان کو بھارت میں ضم کرناچاہتی ہے جس کے لئے وہ پاکستان کے بعض سیاستدانوں اور نام نہاد دانشوروں کو اپنا ہم خیال بنانے کی مذموم کوشش کررہی ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کااس ناپاک خیال میں بھارت کا ہمنوا ہے۔ چنانچہ ان معروزی حالات کی روشنی میں کیا بھارت کے ساتھ دوستی اور مفاہمت ہوسکتی ہے؟ خارجی امور سے متعلق کوئی بھی شخص موجودہ حالات میں بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کاسوچ نہیں سکتا۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ اس خطے میں بھارت کی بالادستی قبول کرلی جائے جو ایک سامراجی ایجنڈا ہے(جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے) پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس وقت ایسے کرپٹ حکمران پاکستان کے عوام پر مسلط کردیئے گئے ہیں جو نہ تو عوام دوست ہیں‘ اور نہ ہی پاکستان دوست ‘ ہوسکتاہے کہ بلاول بھٹو کو میرا یہ تجزیہ پسند نہ آئے۔ لیکن حقائق سے کوئی انکار نہیں کرسکتاہے پاکستان اس وقت انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں گھرا ہوا ہے‘ جبکہ گورننس نام کی کوئی چیز بھی نظرنہیں آرہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر بھارت کے ساتھ تجارتی‘ سفارتی اور سیاسی تعلقات بڑھانا دانشمندی نہیں ہے۔ تاہم خواہشات پرکون پابندی لگاسکتاہے؟ ذرا سوچیئے!

تازہ ترین خبریں

موٹرسائیکل غریب کی پہنچ سے دور ہو گیا، قیمتوں میں مزید 3ہزار روپے تک اضافہ

موٹرسائیکل غریب کی پہنچ سے دور ہو گیا، قیمتوں میں مزید 3ہزار روپے تک اضافہ

عمران خان زندہ باد، پی ٹی آئی رہنما نے استعفیٰ دیدیا

عمران خان زندہ باد، پی ٹی آئی رہنما نے استعفیٰ دیدیا

پارٹی کیساتھ اختلافات، شاہ محمود قریشی نے خاموشی توڑتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

پارٹی کیساتھ اختلافات، شاہ محمود قریشی نے خاموشی توڑتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

پیٹرول بحران ،حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی

پیٹرول بحران ،حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی

پاکستان میں برفانی جھیل پھٹ گئی، شدید طغیانی ، 2پل بہہ گئے

پاکستان میں برفانی جھیل پھٹ گئی، شدید طغیانی ، 2پل بہہ گئے

گرمی سے نجات، محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی نوید سنا دی

گرمی سے نجات، محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی نوید سنا دی

یکم جولائی سے پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے واضح کردیا

یکم جولائی سے پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے واضح کردیا

میری بہن انگلینڈ سے آئی ہے اسے کچھ مت کہنا،برطانیہ پلٹ بہن کو لوٹنے والاکون نکلا،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

میری بہن انگلینڈ سے آئی ہے اسے کچھ مت کہنا،برطانیہ پلٹ بہن کو لوٹنے والاکون نکلا،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

مرنے والے چلے جاتے ہیں لواحقین عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں ، عامر لیاقت کی اہلیہ کا شکوہ سامنے آگیا

مرنے والے چلے جاتے ہیں لواحقین عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں ، عامر لیاقت کی اہلیہ کا شکوہ سامنے آگیا

پرچی چیئرمین کومقبولیت کازعم ہے تو۔۔۔مراد سعید نے بلاول بھٹو کو انکی مرضی کے حلقے میں الیکشن لڑنے کا چیلنج دیدیا

پرچی چیئرمین کومقبولیت کازعم ہے تو۔۔۔مراد سعید نے بلاول بھٹو کو انکی مرضی کے حلقے میں الیکشن لڑنے کا چیلنج دیدیا

مسائل حل نہ ہوں تو ایسی وزارت پر تھوکتے ہیں،ایم کیو ایم پاکستان کی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی

مسائل حل نہ ہوں تو ایسی وزارت پر تھوکتے ہیں،ایم کیو ایم پاکستان کی اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی دھمکی

بس اب ہم مزید ساتھ نہیں رہ سکتے ۔۔اسکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے آزادی کیلئےریفرنڈم کرانے کا اعلان

بس اب ہم مزید ساتھ نہیں رہ سکتے ۔۔اسکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے آزادی کیلئےریفرنڈم کرانے کا اعلان

خطے میں امن کیلئے عالمی شراکت داروں کیساتھ تعاون کیلئے پرعزم ہیں، آرمی چیف

خطے میں امن کیلئے عالمی شراکت داروں کیساتھ تعاون کیلئے پرعزم ہیں، آرمی چیف

بھارت نے روس سے سستے تیل کے بعد اب کون سی چیز سستی خریدنے کامعاہدہ کرلیا،دنیابھرمیں ہلچل مچادینے والی خبرآگئی

بھارت نے روس سے سستے تیل کے بعد اب کون سی چیز سستی خریدنے کامعاہدہ کرلیا،دنیابھرمیں ہلچل مچادینے والی خبرآگئی