01:03 pm
قائد،اقلیتیں اوربیوروکریسی

قائد،اقلیتیں اوربیوروکریسی

01:03 pm

قائداعظمؒ نے اپنی سیاسی اورپارلیمانی زندگی میں بلاشبہ سینکڑوں تقاریرکی ہیں مگرجوشہرت ان کی11اگست1947ء کوپاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی گئی تقریرکوملی،وہ شائدکسی دوسری تقریرکے حصے میں نہ آسکی۔بانیِ پاکستان کی یہ تقریران کی خطابت کا شاہکارتوتھی ہی مگراس کی اہمیت اس امرسے دوچند ہوگئی کہ کس طرح پاکستان میں قیام پاکستان سے پہلے ہی سربراہ مملکت کی تقریرکوسینسرکرنے اوراس کے بعض حصوں کواشاعت سے رکوانے کی کوششیں شروع کی گئیں۔محمد علی جناحؒ نے اپنی اس تقریرمیں دیگر باتوں کے علاوہ نوزائیدہ ملک میں بسنے والے اقلیتی عوام کوتحفظ دینے کاوعدہ کیاتھااور مرخین کے مطابق ملک کے بعض حلقوں کوان کایہی وعدہ گراں گزراتھا۔قیام پاکستان کے اعلان کے بعدبانی پاکستان سات اگست1947ء کوکراچی تشریف لائے تھے، کراچی وہ شہرتھاجسے نئے ملک کا دارالحکومت بھی بنناتھا۔ 10اگست1947ء کو کراچی میں دستور ساز اسمبلی کاافتتاحی اجلاس منعقد ہواجس میں لیاقت علی خان کی تجویز اورخواجہ ناظم الدین کی تائیدپراسمبلی کے غیرمسلم رکن جوگندرناتھ منڈل کوعارضی صدرمنتخب کرلیاگیا اوران کی تقریرکے بعد اراکین اسمبلی نے اپنی اسناد رکنیت پیش کرکے اسمبلی کے رجسٹرپردستخط کیے۔اگلے روزدستورسازاسمبلی کااجلاس دوبارہ منعقد ہواجس کی صدارت جوگندرناتھ منڈل نے کی۔
انہوں نے اسمبلی کوبتایاکہ قائدِایوان (لیڈرآف دی ہاؤس)کے انتخاب کے لئے سات ارکان نے محمدعلی جناح ؒکونامزدکیاہے اوراتنے ہی ارکان نے ان کی نامزدگی کی تائیدکی ہے۔ منڈل نے مزیدبتایاکہ تمام کاغذات نامزدگی درست ہیں اورچونکہ کوئی اورامیدوارنہیں ہے اس لیے میں اعلان کرتاہوں کہ محمدعلی جناح متفقہ طورپردستور سازاسمبلی کے صدرمنتخب قراردیے جاتے ہیں۔محمد علی جناح ؒکے قائدایوان منتخب ہونے کے بعد لیاقت علی خان،کرن شنکررائے،ایوب کھوڑو، جوگندرناتھ منڈل اورابوالقاسم نے تہنیتی تقاریر کیں۔ اب اس اجلاس سے بانی پاکستان کے تاریخی خطاب کاآغازہوا،جواب ملک کے نامزدسربراہ بھی تھے۔اس اجلاس سے انہوں نے جو خطاب کیاوہ ہرلحاظ سے بڑی اہمیت کاحامل تھا۔ بانیِ پاکستان کے سوانح نگارہیکٹربولائتھو نے اپنی کتابPakistan Jinnah:Creator ofمیں تحریرکیاہے کہ قائداعظمؒ کاوہ خطبہ جوانہوں نے 11اگست 1947کومجلس آئین سازکے صدرکی حیثیت سے پڑھا،اس کی تیاری پرانہوں نے کئی گھنٹے صرف کیے تھے۔ اس خطبے کے ذریعے انہوں نے یہ اعلان کیاکہ پاکستان کے سب شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اوراس معاملے میں مذہب وملت کاکوئی امتیازروانہ رکھاجائے گا۔قائداعظم نے یہ تقریرانگریزی زبان میں کی تھی،جس سے پاکستان کی آبادی کی غالب اکثریت ناآشناتھی،تاہم یہ تقریران کی رواداری اوروسعت نظرکی بین دلیل ہے۔چاردن پہلے جب محمدعلی جناح فاتحانہ شان سے کراچی کی سڑکوں پرسے گزرے تھے تو انہوں نے شہرکے ہندوؤں کوخاموش اورمتفکرپایاتھا۔آئین سازاسمبلی کاخطبہ افتتاحیہ لکھتے وقت غالبایہی ہندوقائداعظم کی چشم تصورکے سامنے ہوں گے۔ بانی پاکستان کی یہ تقریران کی تقاریرکے سبھی مجموعوں میں موجودہے جن میں سرکاری طورپرشائع کردہ مجموعہ Jinnah: Quaid e Azam Mohammad Ali Speeches and Statements (1947-48) اور’’جناح پیپرز‘‘کے نام سرفہرست ہیں۔11اگست 1947 ء کو اپنی تقریرمیں بلاتخصیص تمام شہریوں کوکہاتھا : آپ آزاد ہیں،آپ آزادہیں۔اپنے رسوام ورواج کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزادہیں۔انہوں نے ااپنی اس تقریرمیں اقلیتوں کوبرابرکے حقوق دینے کا اعلان کیاتھا۔ محمدعلی جناح نے یہ تقریرختم کی ہی تھی کہ ان کی اس تقریرکے بعض حصوں کوعوام کی نظرسے اوجھل رکھنے کی کوششیں شروع ہوگئیں،جس کاذکرجناح کی وفات کے بعد شائع ہونے والی کئی کتابوں میں موجودہے مگران کوششوں کوجس طرح ناکام بنایا گیااس کاسب سے مفصل احوال ضمیرنیازی کی کتاب The Press in Chains میں ملتا ہے۔اس کا اردوترجمہ ’’صحافت پابندسلاسل‘‘کے نام سے بآسانی دستیاب ہے۔جناح یہ تاریخی تقریرکرکے گورنمنٹ ہاؤس روانہ ہوگئے لیکن جلدہی کچھ خفیہ ہاتھ حرکت میں آگئے اور انہوں نے جناح کی تقریرکے مندرجہ بالاحصے میں تحریف کی کوششیں شروع کردیں۔ اسی روزشام کے وقت ایک فون آیااورہدایت کی گئی کہ تقریرکایہ مخصوص حصہ شائع نہ کیاجائے۔ایف ای براؤن نے،جواس وقت ایڈیشن انچارج’’ڈان‘‘ تھے،یہ فون کال وصول کی۔انہوں نے الطاف حسین جوکہ اخبارکے ایڈیٹرتھے،تقریرکامکمل متن ان کے سامنے رکھتے ہوئے فون کال کاذکربھی کردیا۔انہوں نے پوچھا ’’کون شخص یہ عبارت حذف کروانا چاہتا ہے۔ کیایہ جناح کی ہدایات ہیں یایہ خیال کسی اور شخص کے ذہن کی پیداوارہے۔مجیدملک جواس وقت پرنسپل پی آراوتھے،کانام لیاگیا۔الطاف حسین نے چودھری محمدعلی کوفون کرکے پوری تفصیلات سے آگاہ کردیاجواس وقت کیبنٹ ڈویژن کے سیکرٹری جنرل تھے۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگراس پریس ایڈوائس کوواپس نہ لیاگیا تووہ جناح کے پاس چلے جائیں گے جس کے بعدمجیدملک سے رابطہ ہواتو انہوں نے کہاکہ یہ کوئی ایڈوائس نہیں بلکہ صرف ایک رائے ہے۔قائدکی تقریرکوسینسرکرنے کاکوئی سوال نہیں،یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتابھلاایسافیصلہ کون شخص کرسکتاہے۔ گویاالطاف حسین کی دہمکی کام آگئی۔ تقریرمیں تحریف کیے جانے کاذکرسب سے پہلے حامدجلال نے اپنے ایک مضمون’’ویوپوائنٹ لاہور‘‘کی 22جنوری1981ء میں اپنے ایک مضمونWhen They Tried to Censor Quaid میں کیاتھا۔زیڈاے بھٹوکے سپریم کورٹ میں اپنے تحریری بیان کے مطابق(جنرل یحییٰ خان کے)وزیراطلاعات جنرل شیرعلی کی ہدایات پراس تقریرکو جلادینے یاریکارڈسے غائب کردینے کی کوششیں کی گئیں۔لیاقت علی خان کے قاتلوں کی طرح قائدکی زباں بندی کی سازش کاارتکاب کرنے والے لوگ بھی اب تک پردہ رازمیں ہیں۔ گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنی مختصرزندگی میں انہوں نے صحافت اوراظہارکی آزادی اوربنیادی انسانی حقوق کے اپنے عزیزاصولوں سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ آپ نے بانیِ پاکستان کی11اگست 1947ء کی تاریخی تقریرکاتحریری ریکارڈتوموجودہے مگربدقسمتی سے اس کی کوئی ریکارڈنگ کہیں محفوظ نہیں۔جون2012میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضی سولنگی نے اس تقریرکی ریکارڈنگ کی تلاش میں آل انڈیا ریڈیومیں اپنے ہم منصب ایل ڈی مینڈولوی سے بھی رابطہ کیا، کیوںکہ جس وقت یہ تقریرکی گئی اس وقت ریڈیو پاکستان کاقیام عمل میں نہیں آیاتھا اورپاکستان کے موجودہ حصوں میں آل انڈیاریڈیوہی کی حکمرانی تھی لیکن آل انڈیاریڈیونے ہی اپنے ریکارڈ میں اس تقریرکی ریکارڈنگ کی موجودگی سے انکارکردیا۔ پاکستان میں آوازوں کے سب سے بڑے خزانے کے مالک جناب لطف اللہ خان مرحوم سے رابطہ کیاگیاتھا لیکن ان کے خزانے میں جناح کی اس تقریرکی کوئی ریکارڈنگ موجودنہیں ہے۔بانیِ پاکستان کی اس تاریخی تقریرکے ساٹھ برس بعد29مارچ2008ء کوپاکستان پارلیمنٹ میں اقلیتوں کے سیاسی،سماجی، قانونی ، مذہبی اوردیگرحقوق کے تحفظ کااعلان کیاگیااب ملک میں ہرسال اقلیتوں کاہفتہ منایاجاتاہے۔

تازہ ترین خبریں

اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کوایک اوربڑاجھٹکالگ گیا

اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کوایک اوربڑاجھٹکالگ گیا

پنجاب میں 6 نئے اضلاع بنانے کی تجاویز ۔۔کون کون سی تحصیلوں کوضلع کادرجہ دیاجائے گا،بڑی خبرآگئی

پنجاب میں 6 نئے اضلاع بنانے کی تجاویز ۔۔کون کون سی تحصیلوں کوضلع کادرجہ دیاجائے گا،بڑی خبرآگئی

کسے پتہ تھا کہ بڑی بڑی آنکھوں والا یہ معصوم سا بچہ بڑا ہو کر پاکستان کی مشہور شخصیت بنے گا،یہ بچہ کون ہے،

کسے پتہ تھا کہ بڑی بڑی آنکھوں والا یہ معصوم سا بچہ بڑا ہو کر پاکستان کی مشہور شخصیت بنے گا،یہ بچہ کون ہے،

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ،چین نے بھی اپنا موقف دیدیا

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی ،چین نے بھی اپنا موقف دیدیا

کتنے فیصد پاکستانی جلد انتخابات چاہتے ہیں؟ سروے رپورٹ میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

کتنے فیصد پاکستانی جلد انتخابات چاہتے ہیں؟ سروے رپورٹ میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

کرپٹوکمپنی کوبڑاجھٹکا۔۔کتنے کروڑ ڈالرکی ڈیجیٹل چوری ہوگئی ،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

کرپٹوکمپنی کوبڑاجھٹکا۔۔کتنے کروڑ ڈالرکی ڈیجیٹل چوری ہوگئی ،جان کرآپ کے ہوش اڑ جائیں گے

یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاءکی خریداری ،عوام کی بڑی مشکل حل کردی گئی

یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیاءکی خریداری ،عوام کی بڑی مشکل حل کردی گئی

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوگئے ،بڑ ی خبرآگئی

سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں کتنے دہشتگرد ہلاک ہوگئے ،بڑ ی خبرآگئی

صبرکرومجھے گجرات آنے دوپھر۔۔۔۔چوہدری شجاعت نے اپنے بھائی وجاہت حسین کی تقریر کو بیہودہ قرار دے دیا

صبرکرومجھے گجرات آنے دوپھر۔۔۔۔چوہدری شجاعت نے اپنے بھائی وجاہت حسین کی تقریر کو بیہودہ قرار دے دیا

ملک کے معاشی حالات میں بہتری کب آنا شروع ہوگی؟وفاقی وزیر خرم دستگیرنے بڑادعویٰ کردیا

ملک کے معاشی حالات میں بہتری کب آنا شروع ہوگی؟وفاقی وزیر خرم دستگیرنے بڑادعویٰ کردیا

پاکستانی طلبہ کیلئے خوشخبری، برطانیہ نے بڑا اعلان کردیا

پاکستانی طلبہ کیلئے خوشخبری، برطانیہ نے بڑا اعلان کردیا

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے نے زرداری سے کتنے ڈالر مانگے چوہدری وجاہت حسین کا انکشاف،ہرکوئی ہکا بکا رہ گیا

چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے نے زرداری سے کتنے ڈالر مانگے چوہدری وجاہت حسین کا انکشاف،ہرکوئی ہکا بکا رہ گیا

چوہدری خاندان میں اختلافات ختم کرانے کی کوششیں،چودھری خاندان میں 5 ملاقاتوں کا انکشاف

چوہدری خاندان میں اختلافات ختم کرانے کی کوششیں،چودھری خاندان میں 5 ملاقاتوں کا انکشاف

حکومتی اور اتحادی جماعتوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے وزیر اعظم شہبازشریف سر پکڑ کر بیٹھ گئے

حکومتی اور اتحادی جماعتوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے وزیر اعظم شہبازشریف سر پکڑ کر بیٹھ گئے