12:37 pm
دال روٹی ہی سب پہ بھاری ہے

دال روٹی ہی سب پہ بھاری ہے

12:37 pm

ہر دور میں فقر وافلاس انسانی زندگی کا المیہ رہا ہے۔ اس کے خاتمے کے لئے کئی ایک تحریکیں معرض وجود میں آئیں۔ غربت و افلاس کو مٹانے کے ’’نعرہ مستانہ‘‘ کی بدولت مختلف ادوار میں کئی لوگوں کی لیڈرشپ کی دھاگ قائم رہی۔ بڑے بڑے شعرا، علماء، فلاسفرز اور حکماء کے اعصاب پر ’’روٹی‘‘ سوار نظر آتی ہے۔ اسی کوحضرت فریدالدین گنج شکر دین کا چھٹا رکن قرار دیتے ہیں تو بقول کسے ’’چناں قحط سالے شود در دمشق۔۔۔ کہ یاراں فراموشش کردند عشق‘‘ (جب دمشق میں قحط سالی پڑ گئی تو دوستوں کو بھوک کی وجہ سے عشق و محبت کو بھی بھلانا پڑ گیا)۔
لیکن ایک طرف تماشہ یہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف نظام ہائے معیشت میں اس غربت کو ختم کرنے کی جس قدر کوششیں کی جاتی ہیں اس قدر یہ بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام روز اول سے غربت اور اس کے علاج، غریبوں کے حقوق کی پاسداری اور روحانی کے ساتھ ساتھ ان کی مادی ضروریات کی کفالت پر بھی زور دیتا رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات دولت کی پیداوار اور حصول سے لیکر معاشرے میں موزوں تقسیم اور خرچ تک کی ہدایات ارشاد فرماتا ہے۔ اس حوالے سے اسلام کا نظام اقتصاد کس وسعت اور گہرائی کا حامل ہے؟ اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب قرون اولیٰ کے حقیقی معنوں میں اسلامی معاشی تعلیمات پر مبنی معاشروں کے احوال و واقعات سے آگاہی نصیب ہوتی ہے۔ اسلامی نکتہ نظر سے دولت اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مالک حقیقی کی ہدایات کے مطابق اس کو خرچ کیا جائے۔ محنت، کاوش اور جد و جہد کرنا بندے کا کام ہے لیکن اس پر ثمرات فقط اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا سے مرتب ہوتے ہیں۔ دولت کو فقط اپنے علم و ہنر کا نتیجہ سمجھنا تعلیمات اسلامی کے منافی ہے۔ قارون اس موقف کا ایک عظیم نمائندہ تھا۔ تعلق تو اس کا بنی اسرائیل سے تھا لیکن قوم سے بغاوت کر کے حکومت وقت کا وفادار بن گیا تھا۔ اس کے پاس دولت کے انبار اور خزانے اس قدر تھے کہ طاقت ور مردوں کی ایک جماعت اسکے خزانوں کی چابیاں اٹھاتی تھی۔ لیکن اپنی قوم کی غربت و افلاس اور زبوں حالی کے احساس سے اس کا دل خالی تھا۔ اس کی قوم نے اس کو سمجھایا کہ ’’اس خدا داد دولت سے آخرت کمانے کی فکر کر۔ غور و خوض کر کہ دنیا میں تیرا کس قدر حصہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر بے حد احسانات کیے ہیں تو بھی لوگوں کے ساتھ بھلائی کر۔ فتنہ و فساد سے گریز کر کیوں کہ اللہ تعالیٰ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ (سورہ القصص آیت نمبر 77) لیکن اسکا جواب یہ تھا کہ ’’یہ ساری دولت میرے علم و ہنر کا نتیجہ ہے‘‘ (سورہ القصص آیت نمبر 77) بالآخر عذاب الٰہی کے نتیجے میں وہ اپنے خزانوں اور محلات سمیت زمیں میں دھنسا دیا گیا۔ آج تک کسی جیالوجسٹ یا اسٹرانومست کو خبر نہ ہو سکی کہ اسے زمیں نگل گئی یا آسماں اچک کر لے گیا۔ اسلام کی نگاہ میں غربت ایک پیچیدہ مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک مصیبت ہے جس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کی انفرادی اور سماج کی اجتماعی زمہ داریوں کے حوالے سے ایسے اصول و ضوابط عطا کیے کہ جن سے غربت کا خاتمہ ہو اور خوشحالی رواج پائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ غربت اور لاچارگی ایمان کی بقاء کیلئے بھی سخت خطرناک ہیں۔ بالخصوص اس جگہ جہاں معاشرے میں دولت کی غلط اور غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں امیر اور غریب کا فرق انتہا کو پہنچ جائے۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’کاد الفقران یکون کفرا‘‘ (عن ابو نعیم بیقہی، طبرانی) کہ قریب ہے کہ غریبی کفر تک پہنچا دے۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺنے فرمایا ’’اللھم انی اعوذ بک من الکفر والفقر‘‘ (ابوداؤد) کہ اے اللہ تعالیٰ میں کفر اور افلاس سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دولت ایک انعام الٰہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ جس دولت کو دنیوی زندگی میں لوگ سامان راحت سمجھ رہے ہیں کہیں وہ آخرت میں وبال جان نہ بن جائے۔ دنیا کے ہر معاشرے میں چیرٹی ورک ہو رہا ہے کچھ نرم دل اورانسانیت کے غم گسار اپنی مرضی سے غریبوں کی مدد ضرور کرتے ہیں لیکن اسلام نے زکوٰۃکی صورت میں ایک مخصوص حصہ ہر صاحب ثروت مسلمان کے مال میں مقرر کردیا ہے۔ یہ اختیاری نہیں بلکہ لازمی طور پر ادا کرنا ہے۔ حکومت اسلامیہ کا بنیادی فریضہ ہے کہ نظام زکوٰۃ قائم کر کے معاشرے سے غریبی کا خاتمہ کرے۔ صدقہ فطر کے وجود کی بھی ایک حکمت یہی ہے کہ جو لوگ نادار اور غریب ہیں اور عید کی خوشیوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان کی مدد کرکے انہیں اس قابل بنا دیا جائے کہ وہ بھی عید کی خوشیاں انجوائے کر سکیں۔ علاوہ ازیں کئی ایک جرائم کے کفارہ کے طور پر غرباء اور مساکین کے دستگیری کا اہتمام کیا گیا۔ اپنے اعزہ و اقربا کے ساتھ حسن سلوک اور مالی معاونت کی تلقین کر کے خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی گئی۔ پڑوسیوں، راہ گیروں اور سفید پوشوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کی تعلیم دی گئی تاکہ افلاس اور تنگدستی سے چھٹکارہ پایا جا سکے۔ آج ہمارے مسلمان معاشرے اگر صرف صحیح معنوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا ہی فریضہ انجام دیں تو غربت و افلاس دیکھنے کو نہ ملے۔ قرون اولیٰ کے بیشمار ایسے واقعات ہماری تاریخی دستاویزات کی زینت ہیں کہ حقیقی اسلامی نظام معیشت کے نفاذ سے معاشرے خوشحال ہوئے۔ لوگ زکوٰۃ لے کر پھرتے تھے مگر لینے والا کوئی نہ ہو تا۔ دولت اور مادیت پرستی کی محبت ایک حد سے تجاوز کر جائے تو کئی ایک فسادات کو جنم دیتی ہے۔ خاندانوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ محبتیں ماند پڑ جاتی ہیں اور دلوں میں حسد و بغض جگہ پاکے کئی ایک معاشرتی فسادات کا سبب بنتے ہیں۔ آج ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ مذہب ہو یا سیاست ہر جگہ مادیت پرستی اخلاقی و روحانی اقدار کو دھندلا کر رہی ہے۔ معاشی نا ہمواری کئی ایک معاشرتی مسائل پیدا کرتی ہے۔ آج مسلم امہ کے پاس بے پناہ دولت کے ذخائر موجود ہیں۔ لیکن تقسیم اس حد تک غیر منصفانہ کہ ایک ایک حکمران اور سرمایہ دار اربوں ڈالر کا مالک تو دوسری طرف بیشمار بے کس، لاچار اور تنگدست نان شبینہ کو ترس رہے ہیں۔ خدا خوفی اور اللہ کی بارگاہ میں پیشگی کے عقیدہ کی کمزوری بظاہر اس کا سبب نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذات کے حصار سے نکل کر دوسروں کے غم بانٹنے کی طرف بھی رخ کریں۔ بے رحم مہنگائی نے غریب کے لیے جینا مشکل کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں دنیابھر میں طاغوتی جنگوں اور نا انصافیوں کے نتیجے میں بیشمار یتیموں، بیواؤں، بے کسوں اور کمزوروں کو ہماری مدد کی جتنی ضرورت آج ہے شاید کبھی نہ ہوئی ہو۔ تھرپارکر کے قحط ذدہ لوگ، شام کے مصیبت زدہ مہاجرین، بنگلہ دیش کے حالیہ سیلاب زدگان اور فلسطین و کشمیر کے مظلوم بہن بھائی اس نیلگوں آسمان کے نیچے ہمارے مدد کے منتظر ہیں۔ آؤ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان کو دنیوی آسائش دے کر اپنی آخرت سنوارنے کا سامان کر لیں۔ چھان مارے ہیں فلسفے سارے دال روٹی ہی سب پہ بھاری ہے

تازہ ترین خبریں

100اور1500روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈزرکھنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

100اور1500روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈزرکھنے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

گارنٹی سے کہتا ہوں یہ حکومت اگلے تیس دن نہیں دیکھے گی ، بڑا دعویٰ آگیا

گارنٹی سے کہتا ہوں یہ حکومت اگلے تیس دن نہیں دیکھے گی ، بڑا دعویٰ آگیا

عمران خان اُڑ رہے تھے اب انہیں زمین پر لایا جائیگا، تحریک انصاف سے مزید گرفتاریوں کی پیشنگوئی کر دی گئی

عمران خان اُڑ رہے تھے اب انہیں زمین پر لایا جائیگا، تحریک انصاف سے مزید گرفتاریوں کی پیشنگوئی کر دی گئی

آسمانی بجلی نے تباہی مچا دی، بڑا جانی نقصان ہو گیا ، افسوسناک خبر

آسمانی بجلی نے تباہی مچا دی، بڑا جانی نقصان ہو گیا ، افسوسناک خبر

ممنوعہ فنڈنگ کیس، ایف آئی اے بھی ایکشن میںآگیا، عمران خان کیخلاف بڑا اقدام اٹھا لیا

ممنوعہ فنڈنگ کیس، ایف آئی اے بھی ایکشن میںآگیا، عمران خان کیخلاف بڑا اقدام اٹھا لیا

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ کی گرفتاری کیلئے چھاپہ، گھر اصل میں کس کا نکلا؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ کی گرفتاری کیلئے چھاپہ، گھر اصل میں کس کا نکلا؟

شدید بارشوں کیلئے ہوجائیں تیار، کہاں کہا ں جم کر بادل برسیں گے؟ گرمی سے پریشان شہریوں کیلئے خوشخبری

شدید بارشوں کیلئے ہوجائیں تیار، کہاں کہا ں جم کر بادل برسیں گے؟ گرمی سے پریشان شہریوں کیلئے خوشخبری

شہباز گل کا جملہ قابل اعتراض تھا، عمران خان نے آخرکار اعتراف کر لیا

شہباز گل کا جملہ قابل اعتراض تھا، عمران خان نے آخرکار اعتراف کر لیا

وزارت داخلہ نے اے آر وائی نیوز کااین او سی منسوخ کردیا

وزارت داخلہ نے اے آر وائی نیوز کااین او سی منسوخ کردیا

دل دل پاکستان۔۔ ملی نغمہ پڑھتے ہوئے شرمیلا فاروقی کی ویڈیو وائرل

دل دل پاکستان۔۔ ملی نغمہ پڑھتے ہوئے شرمیلا فاروقی کی ویڈیو وائرل

سوات میں سکیورٹی ہائی الرٹ، داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹ قائم، چیکنگ شروع

سوات میں سکیورٹی ہائی الرٹ، داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹ قائم، چیکنگ شروع

سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ اہم خبر

سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ اہم خبر

فائز عیسی ٰکیس،اختیارات کا غلط استعمال کرنیوالے افسران مشکل میں پھنس گئے ،بڑااقدام اٹھالیاگیا

فائز عیسی ٰکیس،اختیارات کا غلط استعمال کرنیوالے افسران مشکل میں پھنس گئے ،بڑااقدام اٹھالیاگیا

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے سب کو حیران کردیا، ویڈیو وائرل

یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے سب کو حیران کردیا، ویڈیو وائرل