12:50 pm
فریب خوردہ معاشی ترقی اورپاکستان کی مشکلات

فریب خوردہ معاشی ترقی اورپاکستان کی مشکلات

12:50 pm

پاکستان کی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیاں جولائی 2019ء میں شروع کئےگئےآئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کیلئے کی جارہی ہیں۔ پاکستان ایک قرض خورریاست ہےاگرآئی ایم ایف کاپروگرام بحال نہیں ہوتاتوپاکستان ڈیفالٹ کرسکتاہے۔غیرملکی گرانٹس ‘پروجیکٹس سےمتعلقہ مادی اورتکنیکی معاونت‘ممالک سےانفرادی طورپراوربین الاقوامی مالیاتی اداروں سےغیرملکی قرضے‘رقم حاصل کرنےکیلئےبین الاقوامی سطح پرٹرم بانڈزکی فروخت اوربیرون ممالک سے پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم شامل ہیں۔ حکومت اب پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے کچھ نئے قرضوں کابندوبست کرتی ہے۔ یہ عمل ملک کوڈیفالٹ ہونےسے بچاتا ہے اور ملک کو مزید قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔معیشت کا پہیہ چالو رکھنے کیلئے غیر ملکی ذرائع پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔
تمام ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک بین الاقوامی اداروں سے قرض کی مے لیتے ہیں اور قرض اور بدحالی کی زنجیروں میں مقید ہو جاتے ہیں۔ ہمارےسامنےسب سے اہم سوال یہ ہے کہ غیرملکی قرضوں پر انحصار کی حد کیاہے اور قرض کے طور پرلی گئی رقوم کااستعمال کیسے کیاجاتا ہے؟ کیا یہ فنڈز تکنیکی ترقی‘صنعت کاری اور معاشی ترقی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔اگر عملی طور پرایساکیاجاتا تو ملک نہ صرف بغیرکسی پریشانی کے قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں ہوتا بلکہ معاشی طور پرخود کفیل بھی ہوسکتا تھا۔غیر ملکی قرضوں اور امداد کابنیادی مقصد معیشت کوخودکفیل اورخودمختاربنانا ہوتا ہے۔ پاکستان نے 1950ء کے آغاز سےہی غیرملکی قرضےاورگرانٹس حاصل کرناشروع کی تھیں۔1954 تا 1955 میں ہم نے امریکی سرپرستی قبول کرلی تھی۔1950 تا1965 پاکستان کو ملنے والی مختلف قسم کی مالی امداد میں گندم ‘کھانے پینے کی اشیا ‘باقاعدہ کثیر سالہ گرانٹس ‘ قرضے‘ تعلیم اور انسانی ترقی کیلئے گرانٹس‘ پانی کے ڈیموں کی تعمیر کیلئےمالی امداد‘ ملٹری گرانٹس و سیلز شامل تھیں۔ پاکستان کویہ مالیاتی تعاون امریکہ ‘مغربی ممالک اور بین الاقوامی تعاون سےحاصل ہوا تھا۔1963 ء میں چین نےبھی پراجیکٹس سےمتعلق مالی امداد فراہم کی تھی۔بعد میں 1970 ء میں چین نے پاکستان کی سویلین اور ملِٹری سے متعلقہ صنعت کاری میں تعاون کیاتھا۔سوویت یونین نے 1968.69 میں پاکستان کو کچھ اسلحہ فراہم کیا تھا 1971 ء کے بعد کراچی کے قریب سٹیل مل کا قیام روسی تعاون کی وجہ سےممکن ہواتھا۔ ایوب خاں‘یحییٰ خان‘ ضیاالحق اور پرویزمشرف کی حکومتوں میں زیادہ طور پر قرضوں اور گرانٹس کی صورت میں زیادہ امداد حاصل ہوئی تھی۔ پاکستان کا جھکائو چین کی طرف سے ایوب خان کے آخری دور سے شروع ہو کر 1970 ء تا1980ء کی دہائیوں میں ایک مثبت رحجان کی صورت اختیار کرگیاتھا۔1965 ء کی پاک بھارت جنگ نےمغربی ممالک اور امریکہ کے رویے میں منفی تبدیلی پیدا کر دی تھی۔1971 ء کی پاک بھارت جنگ نے پاکستان کو بالکل کنگال کر دیا تھا۔عرب ریاستوں نے جو تیل کی دولت سے مالا مال تھیں ہماری معاشی بحالی میں ہماری مدد کی‘ امریکہ اور مغربی ممالک پاکستان کی بے بسی کا محتاط انداز سے نظارہ کرتے رہے۔1980 ء کی دہائی میں سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی یلغارنے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کردیا تھا۔اس عرصے میں پاکستان کو اعلانیہ اور غیراعلانیہ غیرملکی امداد ملی تھی۔پاکستان کوامریکہ کی زیرقیادت دہشت گردی کے خلاف نام نہادجنگ میں تعاون کی وجہ سے پاکستان پر امداداورتعاون کےدروازے کھول دیئےگئےتھے۔ضیاالحق حکومت اورپرویزمشرف کی حکومتوں نے فنڈزکو داخلی اور خارجی بحران پرقابو پانےکیلئے بے دریغ استعمال کیا‘ اقتصادی اور صنعتی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی بجائے اپنی حکومتوں کیلئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا۔ایوب خان کے برعکس ضیا الحق اور پرویز مشرف نے اپنےاقتدار کو استحکام دینے کیلئے غیرملکی فنڈزکو استعمال کیا۔اگریہ مارشل لائی حکومتیں معیشت کومضبوط کرنےکیلئے استعمال کرتیں تو پاکستان معاشی طورپرمستحکم معیشت کاملک بن سکتا تھا۔اس غیر منصفانہ عمل نےشہری آبادی کےایک محدود حصے کوخوشحالی سے ہمکنارکر دیا تھا۔ ریاستی سطح پر غیرملکی گرانٹس کو بے دریغ استعمال کے رحجان میں صدچنداضافہ ہواتھا۔ حرام و حلال کی تمیزختم ہوگئی تھی۔ملک کے متمول طبقوں میں وسائل سے زیادہ خرچ کرنےکی عادت پختہ ہوگئی تھی۔تاجر اشرافیہ کےایک طبقے نے اس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔پاکستان میں دو کاروباروں میں بڑھوتری دیکھنے کو ملی تھی۔ پاکستان مزدوروں کو بیرون ملک بھیج کر اور پراپرٹی کاکاروبار کرکے لوگوں نےخوب مال بنایا تھا۔ایک اور ہوشیار طبقے نے جنم لیا جو فری لانسر کے طور پر انتظامیہ سے مل کر لوگوں کے کام نکلواتے تھے یعنی اپنی کاریگری دکھا کر حکومتوں سے ٹھیکے حاصل کرنےمیں معاونت کرتے تھے۔گزشتہ تین دہائیوں میں لوگ معمول سے ہٹ کر بہت امیر ہوگئے ہیں۔ان لوگوں نے اپنی دولت کے بل بوتے پر سیاسی اثر ورسوخ خریدنے میں بےدریغ مال استعمال کیا۔ہرسیاسی جماعت کو سیاسی برتری حاصل کرنے کیلئےمال ودولت کی ضرورت ہوتی ہے سیاسی جماعتوں کیلئے امراہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں۔تنظیم سازی کیلئے ملک کی معتبر جماعتیں امرا کی خدمات ٹکٹوں اورعہدوں کے عوض خرید لیتی ہیں۔ 1980 ء کی دہائی کے آخر میں انتہا پسندی اپنے عروج پرتھی ‘ بندوق کا کلچر باعث فخر تھا اور 2004 ء میں ملک میں دہشت گردی اورتشدد کے بڑھنے سے اس (ریاست) کےمفادات کےبڑےحصے پر کمپرومائز کر لیا گیا تھا۔حکومتی اشرافیہ کے ایک معتبر حصے اور ان کے ہمنوائوں کی معیشت میں ترقی انتہائوں کو چھونے لگی اور پاکستان کی معیشت قرضوں کی ہمہ گیر دلدل میں پھنس چکی ہے۔

تازہ ترین خبریں

ڈالر کی قدر بڑھنے سے  ملک میں مہنگائی کا طوفان  آئے گا ، شوکت ترین

ڈالر کی قدر بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا ، شوکت ترین

ملک کو تباہ کرنے والوں کا محاسبہ انتہائی ضروری ہے ، اسحاق ڈار نے تجویز دیدی

ملک کو تباہ کرنے والوں کا محاسبہ انتہائی ضروری ہے ، اسحاق ڈار نے تجویز دیدی

صوبے، پاکستان ریلوے کی زمین  واپس کریں،خواجہ سعد رفیق کی اپیل

صوبے، پاکستان ریلوے کی زمین واپس کریں،خواجہ سعد رفیق کی اپیل

فواد کی پیشی پر پولیس اہلکاروں سے کوئی تکرار نہیں ہوئی ،حبہ چوہدری کا بیان آگیا

فواد کی پیشی پر پولیس اہلکاروں سے کوئی تکرار نہیں ہوئی ،حبہ چوہدری کا بیان آگیا

بھارتی اداکار انو کپور کو سینے میں شدید تکلیف ، اسپتال داخل

بھارتی اداکار انو کپور کو سینے میں شدید تکلیف ، اسپتال داخل

آئی ایم ایف  معاہدہ  اسی ہفتے طے پا جائے گا، جلد  مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، شہباز شریف

آئی ایم ایف معاہدہ اسی ہفتے طے پا جائے گا، جلد مشکل حالات سے باہر نکلیں گے، شہباز شریف

پرویز الٰہی کا فیصل چوہدری کوفون، فواد کی گرفتاری سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

پرویز الٰہی کا فیصل چوہدری کوفون، فواد کی گرفتاری سے متعلق بیان پر معذرت کرلی

وزیراعظم شہبازشریف نے گرین لائن ٹرین سروس کا افتتاح کردیا

وزیراعظم شہبازشریف نے گرین لائن ٹرین سروس کا افتتاح کردیا

مفتاح اسماعیل نے بھی فواد چوہدری گرفتاری کی مخالفت کردی

مفتاح اسماعیل نے بھی فواد چوہدری گرفتاری کی مخالفت کردی

لال حویلی کو آج ہی واگزار کرایا جائے گا،ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک بورڈ

لال حویلی کو آج ہی واگزار کرایا جائے گا،ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر وقف املاک بورڈ

آصف  زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کر رکھی ہے ،ثبوت موجود ہیں، شیخ رشید

آصف زرداری نے عمران خان کو قتل کرنے کی سازش کر رکھی ہے ،ثبوت موجود ہیں، شیخ رشید

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو  کام سے روکا جائے ، پی ٹی آئی نے تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج  کردی

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کو کام سے روکا جائے ، پی ٹی آئی نے تعیناتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

فرخ حبیب کیخلاف مقدمہ درج، ایف آئی آر کو بہت ہی ماٹھی کہانی  قرار دیدیا

فرخ حبیب کیخلاف مقدمہ درج، ایف آئی آر کو بہت ہی ماٹھی کہانی قرار دیدیا

بتائیں کس قانون کے تحت عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا؟  اسد عمر 

بتائیں کس قانون کے تحت عمران خان کو گرفتار کیا جائے گا؟  اسد عمر