02:13 pm
سپر ٹیکس،غریب کی قربانی

سپر ٹیکس،غریب کی قربانی

02:13 pm

یہ مہنگائی سرمایہ دار کا کیا بگاڑ لے گی۔ یہ صرف کمزور، غریب کی ہی قربانی مانگتی ہے، اسی کی کمر توڑتی ہے۔ وزیراعظم میاں محمدشہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت کا آسان شکار عوام ہیں۔ وہ دعوئوں کے باوجود ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ کہنے اور کرنے میں یہی فرق ہے ۔ قول و فعل میں یہی تضاد ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے ، بیوقوف بنانے کا یہی طریقہ ہے۔ کرسی تک پہنچنے کے لئے جتن پھر غبن۔ ہوائی اعلانات کے بعد لوگوں کے گلے پر کند چھریاں۔ پی ٹی آئی نے اس حکومت کوامپورٹڈ کا خطاب دیا ہے ۔ بڑی صنعتوں پر سپر ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کے فوری بعدسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔اس میں حصص کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھنے میں آیا۔ ابتدا میں ہی کراچی سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 2 ہزار پوائنٹس تک گر گیا۔
حکومت کاتمام بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کے اعلان پر مارکیٹ نے منفی ردِ عمل دیا کیوں کہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام کارپوریٹ سیکٹر کے منافع کو بری طرح متاثر کرے گا۔ 10 فیصد سپر ٹیکس کے ساتھ پاکستان کا کارپوریٹ انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکس ملا کر 50 فیصد سے زائد ہوجانے کا خدشہ ہے۔ سرمایہ کاروں کا ٹیکس 55 فیصد سے بڑھ جانا ان کے لئے زیادہ منفی نتائج رکھتا ہے مگر اس کا زیادہ نقصان کم آمد طبقے کو ہو گا۔ بعض سرمایہ دار کہتے ہیں کہ ٹیکس کی یہ شرح نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور پاکستان کی تاریخ میں بھی بلند ترین شرح ٹیکس ہے ۔ وزیراعظم نے قوم کو بجٹ میں کئے گئے اقدامات پر اعتماد میںلینے کی کوشش کی اور بڑی صنعتوں بشمول سیمنٹ، سٹیل، چینی، تیل اور گیس، کھاد، ایل این جی ٹرمینلز، ٹیکسٹائل، بینکنگ، آٹو موبائل، کیمیکلز، مشروبات اور سگریٹ پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا۔ وزیر سمجھتے ہیں کہ مال دار قربانی دیں گے۔’’ تاریخ گواہ ہے کہ ہر چیلنج اور مشکل حالات میں غریبوں نے قربانی دی ہے، آج صاحبِ حیثیت افراد کو اپنا حق ادا کرنا ہے۔‘‘۔اگر سگریٹ کی صنعت کا 60 فیصد سیکٹر ٹیکس ادا کرتا ہے، 40 فیصد ٹیکس نہیں دیتا تویہ ریاست کا کام ہے کہ ٹیکس جمع کرے۔سگریٹ اشیائے ضروریہ نہیں۔ عیاشی کے سامان پر ٹیکس لگنا چاہیئے۔ تمباکو نوشی کا کوئی فائدہ نہیں۔ نقصانات ہی نقصانات ہیں۔حکومت ٹیکس جمع کرنے کے لئے تمام ڈیجیٹل ٹولز کو بروئے کار لانے کا اعلان کرتی ہے مگر خود اس سے ناواقف ہے۔ اگر اسے آگاہی ہوتی تو کوئی ٹیکس سے نہ بچ سکتا۔ ، عام شہری کو ٹیکس کے بوجھ سے بچانے کے لیے ٹیکس جمع کیا جانے کا اعلان ہو رہا ہے مگر اس ٹیکس کے رگڑے میں عام آدمی ہی آتا ہے۔ اس ملک کا شہری ہر چیز پر ٹیکس نہیں بلکہ دوہرا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ وہ غنڈہ ٹیکس بھی ادا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ ٹیکس حکمرانوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ ٹیکس کے پیسے عوام پر استعمال کرنے کی باتیں بھی گمراہ کن ہیں۔ اگر سیمنٹ، سریا کے سرمایہ داروں پر ٹیکس لگے گا تو وہ اسے عوام کو منتقل کر دیں گے۔ غریب آدمی دو کمرے تعمیر کرنے سے بھی محروم ہو جائے گا۔ فیکٹری مالک مصنوعات تیار کرنے کے بعد اسے کئی گنا منافع کے ساتھ فروخت کرتا ہے۔ زرعی سیکٹر جس میں فلوری کلچر اور سری کلچر بھی شامل ہے، کو ٹیکس فری قرار دینے کی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ کسی بھی حکومت نے ملکی پیداوار کو بڑھانے کے لئے کام نہیں کیا۔ زرعی زمین پر سوسائٹی تعمیر کرنا سنگین جرم ہے۔ مگر اس جرم میں حکمران خود شامل ہوتے ہیں یا پارٹی فنڈ کے نام پر رشوت وصول کی جاتی ہے۔ جہاں ہرے بھرے کھیت کھلیان ہوں، قومی پیداوار میں اضافہ ہو، وہاں آج بے ہنگم تعمیرات ہیں۔ مزید پر کام جاری ہے اور جاری رہے گا۔ یہ کون لوگ ہیں جو قوم کو بھکاری بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت اگر کھاد، بیج، ادویات ، زرعی مشینری پر ٹیکس لگائے گی تو کون اناج پیدا کرنے کی ترغیب پائے گا۔ حکمران خود ملک کو دانے دانے کا محتاج بنا رہے ہیں۔ انہیں صرف کرسی، اقتدار، عوام کے ٹیکسوں پر پلناہے۔ جب بھی ضرورت پڑی یہ لوگ فوری طور پر اپنی تنخواہ، مراعات میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ جس کا عوام کے لئے حاصل صفر ہے۔ شہباز شریف حکومت میں اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ چالیں چل رہے ہیں۔ انہوں نے آپس میں سیاسی جنگ چھیڑرکھی ہے۔ عوام کی قیمت پر یہ سب ہو رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے مارنا تھا ورنہ ان کے پاس ریلیف کا کوئی فارمولہ ہوتا تا کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔ زراعت اور صنعت کی ترقی کو یکسر نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو مثبت نتائج کی توقع کرنا حماقت ہو گی۔ یہ لوگ میثاق معیشت کا رٹہ لگا رہے ہیں پہلے انہیں بیوروکریسی کو قوم کا درد محسوس کرانے کے اقدامات کرنا ہیں۔ بیرونی قرضے نہ لینے کے نام پر آپ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ، مگر بیرونی قرضے بھی حاسل کرنے میں لگے ہیں۔ ٹیکسوں پر ٹیکس لگانے سے سرمایہ دار نقصان برداشت نہیں کرتا ۔ وہ ایک پیسہ بھی نقصان نہیں کر تا بلکہ ایک سو روپے کی چیز کو دو سو روپے میں فروخت کرنے کا فن جانتا ہے۔ معیار بھی اس کا مسئلہ نہیں۔ شہبا زشریف حکومت نے سرکاری اخراجات میں بھی کمی نہیں کی ہے۔ اہلکارسرکاری مشینری، دفاتر، گاڑیاں ذاتی مصروفیات کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ان کا گھر اور دفتر کا خرچ بھی سرکاری، سفر اور علاج بھی سرکاری، شاپنگ بھی سرکاری، یعنی تمام معمولات زندگی سرکاری۔ ایسے میں یہ مہنگائی سرمایہ دار کا کیا بگاڑ لے گی۔ یہ صرف کمزور، غریب کی ہی قربانی مانگتی ہے، اسی کی کمر توڑتی ہے۔

تازہ ترین خبریں

وہ نوجوان لڑکی جس نے وراثت میں ملنے والی 7ہزار کروڑ مالیت کی فرم چلانے سے ہی انکار کردیا

وہ نوجوان لڑکی جس نے وراثت میں ملنے والی 7ہزار کروڑ مالیت کی فرم چلانے سے ہی انکار کردیا

پڑوسی ملک میں انتہائی حیران کن چوری کی واردات، چور سرنگ کھود کر ٹرین کا انجن ہی چرا لے گئے

پڑوسی ملک میں انتہائی حیران کن چوری کی واردات، چور سرنگ کھود کر ٹرین کا انجن ہی چرا لے گئے

دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا

دلہن کی انتہائی معصومانہ خواہش جسے پورا کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑگیا

بورہونے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے ملازم کو نکال دیا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کیا فیصلہ ہوا؟ جانیں

بورہونے کی وجہ سے کمپنی نے اپنے ملازم کو نکال دیا، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو کیا فیصلہ ہوا؟ جانیں

مدینہ سے آئے تو قرآن پاک کا ترجمہ کر لیا ۔۔ کوریا کے اس لیکچرار کے ساتھ کیا ہوا جو یہ دین اسلام کی ہی خدمت میں مصررف ہو گئے

مدینہ سے آئے تو قرآن پاک کا ترجمہ کر لیا ۔۔ کوریا کے اس لیکچرار کے ساتھ کیا ہوا جو یہ دین اسلام کی ہی خدمت میں مصررف ہو گئے

خاتون جج کو آن لائن میٹنگ کے دوران سگریٹ نوشی مہنگی پڑگئی، بڑی سزا مل گئی

خاتون جج کو آن لائن میٹنگ کے دوران سگریٹ نوشی مہنگی پڑگئی، بڑی سزا مل گئی

اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ ، پی ٹی آئی کے اہم رہنما کا پارٹی چھوڑنے کا عندیہ

اسمبلیوں سے استعفوں کا معاملہ ، پی ٹی آئی کے اہم رہنما کا پارٹی چھوڑنے کا عندیہ

بینکوں میں رقوم رکھوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

بینکوں میں رقوم رکھوانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

یکم سے چاردسمبرتک چھٹیاں۔۔سرکاری ملازمین کی توموجیں لگ گئیں

یکم سے چاردسمبرتک چھٹیاں۔۔سرکاری ملازمین کی توموجیں لگ گئیں

حکمراں اتحاد کےلیے بری خبر۔۔پی ٹی آئی نے پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق کردی

حکمراں اتحاد کےلیے بری خبر۔۔پی ٹی آئی نے پنجاب اور کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق کردی

کریتی سینن بالی وڈ کے کس معروف اداکار کو ڈیٹ کر رہی ہیں؟ ورون دھون نے بتا دیا

کریتی سینن بالی وڈ کے کس معروف اداکار کو ڈیٹ کر رہی ہیں؟ ورون دھون نے بتا دیا

’تحریک عدم اعتماد کا جسے شوق وہ لے آئے‘

’تحریک عدم اعتماد کا جسے شوق وہ لے آئے‘

ہم آخری حد تک جائیں گے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کپتان کے اعلان کے بعد ن لیگ بھی میدان میں آگئی

ہم آخری حد تک جائیں گے ،اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کپتان کے اعلان کے بعد ن لیگ بھی میدان میں آگئی

سیلاب متاثرین سے متعلق بین اسٹوکس کے اعلان پر وزیراعظم شہباز شریف بھی بول پڑے،کیاکہا،جانیں

سیلاب متاثرین سے متعلق بین اسٹوکس کے اعلان پر وزیراعظم شہباز شریف بھی بول پڑے،کیاکہا،جانیں