01:30 pm
جدید مواصلاتی اور بچوں کی تربیت کا نظام 

جدید مواصلاتی اور بچوں کی تربیت کا نظام 

01:30 pm

جدید مواصلاتی نظام نے تہذیب و تمدن کو صدیوں کی بجائے لمحوں میں تبدیل کر دیا ہے،جدید مواصلاتی نظام نے ایک طرف ہمیں سہولتوں اور آسانیوں سے آشنا کیا ہے تو دوسری
جدید مواصلاتی نظام نے تہذیب و تمدن کو صدیوں کی بجائے لمحوں میں تبدیل کر دیا ہے،جدید مواصلاتی نظام نے ایک طرف ہمیں سہولتوں اور آسانیوں سے آشنا کیا ہے تو دوسری طرف ہماری تہذیب و تمدن،ثقافت و کلچر کو گہرے چرکے لگائے ہیں،انٹر نیٹ , موبائل فون ہماری زندگیوں کا جزو لاینفک بن چکا ہے اس جدید  سہولت کی ہولناکیوں سے بچنا دنیا کا مشکل ترین کام بن چکا ہے،جدید دور کی مائیں بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اسے موبائل سے آشنا کر دیتی ہیں،پہلے یہ کام ٹی وی کی سکرینوں سے حاصل کیا جاتا تھا اب یہ کام ٹچ موبائل کی سکرینوں سے حاصل کیاجاتا ہے  اوسط درجے اور غربت کی لائن سے نیچے رہنے والوں کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ہاتھ میں ٹچ موبائل ہے اس طرح امیر و غریب کافرق کئے ہر پاکستانی کے گھر میں ایک  موبائل  ضرور ہوتا ہے،ہمارا معاشرتی ڈھانچہ اور سماجی نظم انٹر نیٹ کی زد میں ہے،  ہمارے ہاں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، والدین کے بچوں کی تربیت کے حوالے سے اثرات روز بروز کم ہو رہے ہیں بچوں کی ذہنی ساخت بنانے کے لئے انٹر نیٹ کا کردار موثر رول ادا کررہا ہے،بچوں کی تربیت کے لئے  ماں باپ کے کردار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔والدین کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ بچوں کو انٹر نیٹ اور فون کے استعمال سے پیدا ہوبے والی قباحتوں اور خرابیوں کے تدارک کیلئے  ذہنی طور تیار کریں ۔بطور والدین ہمارا بنیادی فریضہ ہے کہ ہم  کم عمر بچوں اور بچیوں کو موبائل سے دور رکھیں۔
بل گیٹس نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کو 18 سال کی عمر سے پہلے موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ،ہم اپنے ذرائع آمدن سے معصوم بچوں کوموبائل فون خرید کر خود دیتے ہیں اور خطرناک دنیا کے سپرد کر دیتے ہیں .انسان کا بچوں کی دلجوئی کرنے والا یہ بظاہر معصومانہ عمل زندگی کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے ،موبائل فون کے ذریعے دوستیوں کا ایک لامتناہی سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔ ایف آئی اے کی برانچ سائبر کرائم کاریکار چیک کریں تو آپ اس بد ترین حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ کس طرح  موبائل فون اور انٹر نیٹ کے ذریعے دوستوں نے کس طرح بالخصوص ہزاروں لڑکیوں سے  بدسلوکی  کا نشانہ بنایا ہے، ابتدا میں یہ انٹر نیٹی دوستیوں کی وباء  صرف شہروں تک محدود تھی اب اس انٹر نیٹی بیماری نے دور دراز دیہاتوں تک رسائی حاصل کر لی ہے،موبائل فون کی دوستی کا آغاز انتہائی شریفانہ انداز ہوتا ہے۔تعریف و توصیف کے بعد باہمی پارسائی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے آہستہ آہستہ پرہیز گاری اور شرافت کا خول اتر جاتا ہے اور باہمی مشترکہ موضوعات پر گفتگو کاآغاز ہوتا ہے، ایف آئی اے کے مطابق بعض اوقات مرد حضرات بھی بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اکثر اوقات اس کا نشانہ معصوم بچیاں اور خواتین بنتی ہیں  ۔ہمارے لئے از بس ضروری ہے کہ کم عمر بچوں کو اور خاص طور پر بچیوں کو موبائل کی سہولت  فراہم کرنے سے باز و ممنوع رہیں ،اگر سکول کے ساتھ رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو توماں باپ میں کسی کا بھی موبائل فون استعمال کیاجاسکتا ہے ۔آج کل کمپیوٹر اور انٹر نیٹ تعلیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے بچوں کو ان کے استعمال سے روکنا ممکن نہیں ہے، والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عقابی نگاہوں سے بچوں کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے رہیں اور بچوں کو ایسی جگہ کمپیوٹر استعمال کرنے کاموقعہ فراہم کریں جس جگہ پر ان کی تسلی بخش نگرانی کی جاسکے ۔بچوں کو زمانے کے حالات اور واقعات سے مسلسل آگاہ کرتے رہیں۔فون اور انِٹر نیٹ کے درست استعمال اور اس سے منسلک خطرات اور برائیوں سے آگاہ کرتے رہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ خود بھی ان کے لئے  فون کے استعمال مثالی نمونہ بنیں اور اپنی اولاد کے لئے  رب العالمین سے دعا کریں۔ میڈیا کردار قابل رشک نہیں ہے وہ آزادی اور انسانی حقوق کے نام پرنوجوانوں کو گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں  اور معاشرے میں ان کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں ،جب میڈیا ان کو آزادی کے متوالے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے تو بگڑے ہوئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
 اول تو کم عمر بچیوں کو فون استعمال کرنے کی اجازت بالکل نہیں ملنی چاہیے اگر مجبوری ہو تو والدین کی اخلاقی ذمہ داری ہے اپنے  سامنے محدود فون استعمال کرنے کی ہنگامی حالات میں اجازت دی جائے ،دور دراز دیہات میں رہنے والی بچیاں فون پر ہونے والی نقب زنی سے زیادہ جلدی متاثر ہو جاتی ہیں ۔ہمارے ملک میں لادین اور سیکولر طبقہ انسانی حقوق کے نام قانونی اور اخلاقی مدد دینے کے لئے  بالخصوص میڈیا میں کود پڑتا ہے اور گھر سے بھاگنے والی بچیوں کو معاشرے میں ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے ،ملک میں ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس میں 22 سال سے کم عمر لڑکیوں بغیر  وارث کی موجودگی کے شادی کی اجازت نہ دی جائے ہماری  عدالتیں بھی قانون کی پیروی کرتے ہوئے محض بالغ ہونے کی بنا پر  والدین کی موجودگی میں  آزادی کے نام پر معصوم بچیوں کو معاشرے کے غلیظ ترین اور اوباش لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ اس  محبت کے نام پر  لڑکیوں سے دھوکہ دہی کے نام پر  معاشرے میں موجود تمام طبقات سے منسلک لوگوں کے ساتھ واقعات ہو رہے ہیں، جدید انگریزی  سکولوں اور پرائیویٹ اداروں نے جدید تعلیم کے نام پر مخلوط تعلیم کے ادارے کھول رکھے ہیں ۔ بچیاں شعوری طور پر بھی بالغ ہو جاتی ہیں لیکن زیادہ خرابی وبربادی کے وہ تعلیمی ادارے سبب بنتے ہیں جہاں پر 17 تا 18 سال کی بچیاں جدید تعلیم کے نام پر مخلوط اداروں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔روز مرہ  چونکا دینے والے واقعات والدین اور معاشرے کی آنکھیں کھول دینے کے لئے  کافی ہیں۔اس سلسلے میں ہر خاندان کو اپنے معصوم بچوں کے بارے میں مکمل احتیاط کرنی چاہیے ۔ اگر کوئی خاندان یافرد محض جدیدیت کے نام پر اپنی معصوم بیٹیوں کو مخلوط تعلیمی اداروں کے بھیڑیا نما  انتظامیہ کے سپرد کر دیتے وہ بلا کم و کاست اپنے لئے ذلت و رسوائی کا سامان خرید لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ  تمام والدین کو ایسی ذلت آمیزآزمائش سے بچائے۔
 


تازہ ترین خبریں

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

قتل  ہوا  تو  ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید   کا دعویٰ

قتل ہوا تو ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید کا دعویٰ

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات  کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

شیخ رشید  اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

شیخ رشید اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

کوہاٹ تاندہ  ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم  کی لاش 6 روز بعد  نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

کوہاٹ تاندہ ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم کی لاش 6 روز بعد نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج