12:41 pm
انتشارکی آگ

انتشارکی آگ

12:41 pm

پاکستان کے لبرلزاس بات پربضدہیں کہ پاکستان میں جنس کچھ زیادہ ہی حساس موضوع ہے اورپاکستانیوں کی رگِ جنس کی حساسیت کااندازہ یہیں سے لگالیجیے کہ اگرعورت نے ذرا ساماڈرن لباس پہنا ہوا ہوتووہ فوراً پھڑک اٹھتی ہے جبکہ لندن کے بازاروں میں میمیں نیم برہنہ بھی پھرتی رہیں توکوئی دربدرپھرنے والے میرخوارکی طرح پوچھتا بھی نہیں۔کسی کو یہ جرأت نہیں کہ راستہ روک کر اسے خداکاخوف دلاکر شرم دلاناشروع کر دے ۔ لبرلزکویقین ہے کہ پاکستان اس دن مغرب کے ہم پلہ ہوجائے گا،جس دن یہاں نیم برہنہ عورتیں آزادی کے ساتھ گھوم پھرسکیں گی اورانہیں سوائے مچھروں کے کسی کاخوف نہ ہوگا۔خیریہ ان کے ذہنِ رساکی کارستانی ہے،اسے سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بہت سے مضمرات اور اثرات ہیں جو بذات خودمغربی معاشروں میں دیکھے اورمحسوس کیے جاسکتے ہیں لیکن مجھے کبھی کبھی اس بات کاشدت سے احساس ہوتاہے کہ لبرل یا تو بہت سطحی سوچ رکھتے ہیں یاپھرسوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے ٹیسٹ کیس بناتے ہیں۔سطحی اس لیے ہے کہ درج بالاموازنے میں انتہائی بیدردی کے ساتھ کسی مشترک بنیادکو نظراندازکیاجاتا ہے ۔کسی بھی مشترک بنیادکے بغیردوچیزوں کاموازنہ انتہائی سطحیت کاحامل ہوگایا سوچاسمجھامنصوبہ،مثلا:دو مختلف پس منظررکھنے والے طالب علموں سے ایک جیسے نتائج کی توقع رکھنا عبث ہے۔ایک طرف آپ چونیاں کے سرکاری سکول اوردوسری طرف شہرکے اعلیٰ ترین انگریزی میڈیم سکول کے دو طالب علموں کوآمنے سامنے لابٹھائیں اورپھرانگریزی زبان میں کسی ٹیسٹ کی بنیادپرانہیں پرکھیں تویہ سراسر ناانصافی ہوگی۔استثنااپنی جگہ،لیکن یہاں موازنہ کسی صورت بھی مناسب نہیں۔
اسی طرح دومعاشروں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے،ہمیں ضرورکسی مشترک بنیادکومدنظر رکھنا چاہیے،مثلاًاگرآپ برطانیہ اور پاکستانی معاشرے میں انگریزی بولنے کے معیارکا موازنہ کریں گے تویہ انتہائی شرمناک بات ہوگی،یاآپ فرانس میں رہنے والوں اورافریقہ میں رہنے والوں کی رنگت کاموازنہ کرنے بیٹھ جائیں گے توآپ کوسوائے بیوقوف کے کچھ اورنہیں کہاجاسکتایاآپ پاکستان کواس لیے شرمناک قراردیں کہ یہاں سور کاگوشت سرعام نہیں ملتاتوآپ کی عقل کاماتم ہی کیا جاسکتاہے۔ہرمعاشرے کااپنا تانابانااور بنیادی اجزاہوتے ہیں،گویادومختلف معاشرے جومختلف عقیدوں،معاشرتی اقدار،تصورات اور جذبات کے ساتھ سانس لیتے ہوں،ان پربیک قلم کوئی ایک حکم لگانا ناانصافی ہوگی۔ برطانوی معاشرہ شخصی آزادی کے سیکولر تصورات پریقین رکھتاہے اورپچھلے دوسوسالوں سے ان تصورات کے تحت مستقل زندگی گزاررہاہے ۔ انہیں بچپن سے لبرل آزادیوں کے تصورات عملی طورپرپڑھائے اورسکھائے جاتے ہیں۔پھروہ اپنے ، گھر، سکول،کھیل کے میدانوں،تفریح گاہوں میں ان تصورات کوعملی طورپروقوع پذیرہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ اس لیے ان کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ ایک عورت کھلاگریبان یانیم برہنہ لباس پہنے،بازاروں اورگلیوں میں سے گزرے۔ پھرجنس ان کے لئے بچپن ہی سے ایک عام اورسستی سی شے بن جاتی ہے،اس لیے ان میں نظری لذت انگیزی کاوہ پہلو،جوکسی شے کے اسرارسے پیداہوتا ہے،وہ بھی مفقودہوتاہے ، اگرچہ یہاں بھی اختلاف موجودہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی معاشرہ کے بنیادی اجزامیں اسلامی عقیدہ ایک اہم جزوہے۔ان کی اکثریت،جوابھی مغربی تہذیب یاسیکولرتصورات سے متاثرنہیں ہوئی، کے تصورات یاپسندناپسند اسلام سے جڑے ہوئے ہیں۔انہیں اپنے گھرسے مذہبی روایات اورشرم وحیاکاایک خاص تصوربچپن سے ملتاہے، جوان کی معاشرتی اقدارکاجزو ہے۔ انہیں بچپن سے بتایاجاتاہے کہ ستر پوشی کے ایک خاص معنی ہیں،اس لیے انہیں جب کوئی عورت نیم برہنہ لباس میں دکھائی دیتی ہے توان کاردِعمل کسی انگریزکی نسبت بالکل مختلف ہوسکتاہے۔اوّل انہیں اس چیزکی عادت نہیں،دوم جنس ان کے لئے کوئی عام اورسستی سی شے نہیں اورسوم نظری لذت انگیزی کاپہلولازماًاپنی جگہ موجودہے توان دونوں معاشروں کا موازنہ یاتوسطحی ہوگایاسوچاسمجھا منصوبہ ۔ سطحیت کااندازہ توآپ نے کرلیاہوگالیکن سوچا سمجھا منصوبہ کیسے کہاجا سکتا ہے،تو اس کے لئے پہلے چند گزارشات سمجھ لیجیے! مسلم معاشروں میں عقیدے،تربیت اور معاشرتی اقدارسے جنم لینے والی سوچ کا،جب نظام اورقانون کی سطح پردی جانے والی لبرل آزادی سے سامناہوتاہے تواس کانتیجہ لازماًانتشارکی صورت میں نکلتاہے۔مسلم معاشروں میں،کچھ اوپرنیچے کے فرق کے ساتھ، پچھلے قریباًدوسوسالوں سے مغربی سیکولرعقیدے سے نکلنے والے قوانین اورتصورات رائج ہیں۔جنہیں تعلیم اورمیڈیاکے ذریعے عام کیاگیاہے۔حکومتی سپورٹ کے باوجود،اکثریت ان تصورات کوناپسندکرتی ہے لیکن چندفیصدلوگ ان سے متاثربھی ہوئے ہیں جنہیں میڈیا میں نمایاں جگہ دی جاتی ہے،اس طرح وہ لوگ مزیدلوگوں کومتاثرکرنے کی کوششوں کاحصہ بن جاتے ہیں۔ یہ کسی معاشرے کوبدلنے کوایک ارتقائی عمل گردانتے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک رینڈاے کارپوریشن کی رپورٹ سول ڈیموکریٹک اسلام میں اسی ارتقائی عمل کوتیزکرنے کے لئے اقدامات تجویزکیے گئے ہیں۔ اس اقلیتی لبرل طبقے کی پروجیکشن اوربہتر وسائل سے مالامال کرنے کی تجاویزموجودہیں تاکہ وہ بتدریج مسلم معاشروں کولبرل اورسیکولربناسکیں ۔ یہی وہ سوچاسمجھامنصوبہ ہے جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیاتھا۔قصہ مختصراس طرح کی حکمت عملی سے معاشرہ ایک انتشارکی آگ میں سلگنے لگتاہے،جس کامشاہدہ ہمارے ہاں عام طورپرکیا جاتاہے۔ایک طرف قندیل بلوچ اور دعا زہراکی حمایت میں بولنے والے لوگ موجودہوتے ہیں اوردوسری طرف اسے سخت ناپسند کرنے والی اکثریت بھی۔ گویاایک ہی معاشرے میں دومختلف عقیدے،نظریہ حیات اورنکتہ ہائے نظرپیدا ہو جاتے ہیں۔لوگ ہرواقعے کودومختلف عینکوں سے دیکھنے لگتے ہیں،جس کے نتیجے میں معاشرے میں عدم رواداری اورتضادنمایاں ہو جاتاہے۔یہ رائے کانہیں بلکہ نقطہ نظرکا اختلاف ہے جومعاشروں کوتباہی کی طرف لے جاتاہے۔ آخراس انتشارسے نکلنے کاطریقہ کیاہے؟کس طرح معاشرے کواس انتشارسے بچایاجاسکتاہے؟ تواس کاجواب سادہ ساہے کہ اس انتشارسے نکلنے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ معاشرہ کسی ایک عقیدے کودل وجان سے قبول کرلے۔ ایک ہی عقیدہ عملی اور نظری طورپرلوگوں کی زندگی کاحصہ ہو۔لوگ ایک واقعے کوایک ہی نقطہ نظرسے دیکھیں اوراس کے اچھے برے پہلوپربحث کریں۔ صرف یہی وہ حل ہے جومعاشرے کواس انتشارسے نکال سکتاہے،جس میں آج مسلم معاشرے سلگ رہے ہیں۔میرے خیال میں مسلمانوں کی اکثریت کا شعوری طورپرسیکولرعقیدے کواختیارکرنا ناممکنات میں سے ہے۔مسلمان اپنے عقیدے سے چاہے جذباتی طورپرہی سہی،بڑی مضبوطی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے کامل طورپرمسلم معاشروں کاسیکولرعقیدے میں ڈھل جاناناممکن ہے۔اس لیے واحدصورت یہی ہے کہ مسلم معاشروں میں قانونی اورفکری سطح پرعقیدہ اسلام ہی واحد بنیادہو ۔پھرہی یہ ممکن ہے کہ مسلم معاشرے یکسوہوکرمادی اورروحانی ترقی کی ان منازل کی طرف قدم بڑھاسکیں جوان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں وہ اس انتشارکی آگ میں ہمیشہ سلگتے رہیں گے۔

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا