01:05 pm
مسئلہ کشمیر اور دو قومی نظریہ

مسئلہ کشمیر اور دو قومی نظریہ

01:05 pm

پاک و ہند کی تقسیم دو قومی نظریہ کی بنیاد پر کی گئی۔اس کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ سہولت دی گئی کہ جن لوگوں نے موجودہ پاکستان میں آنا ہے وہ بخوشی پاکستان آ سکتے ہیں۔ پھر دنیا گواہ ہے کہ پاکستان کے لوگوں نے ان مہاجرین کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔دو قومی نظریہ کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی اور وہ پاکستان کا حصہ تھی لیکن ہندو اور انگریز کی منافقانہ چال کی وجہ سے اس خطے میں انڈین فوج اتار کر وہاں قبضہ کر لیاگیا۔ ان کشمیریوں کے دل آج بھی آزاد کشمیر اور پاکستانیوں کے ساتھ بحیثیت مسلمان دھڑکتے ہیں۔ لیکن ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے وجہ سے مجبور ہیں۔
ان کا آج بھی مطالبہ ہے کہ ہمیں حق خود ارادیت دیا جائے اور پاکستان ان کی ہمہ وقت حمایت کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ میں آج کے کالم میں دو قومی نظریہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں دو قومی نظریہ کیسے ظہور پذیر ہوا۔ اس کی تاریخ کتنی پرانی ہے۔ ہندوؤں نے دو قومی نظریہ کو سبو تاژ کرنے کے لئے کیا کیا حربے استعمال کیے اور مسلمانِ ہند نے دو قومی نظریے کو سبوتاژ کرنے کی ہندوؤں کی مکارانہ چالوں کو کس طرح نیست و نابود کیا۔ مسلمانانِ ہند کے عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح نے دو قومی نظریے کو اجاگر کرنے کے لئے دلائل سے کیسے پروان چڑھایا اور اس بات کو سچ ثابت کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں۔دو قومی نظریہ پر بہت سی کتابیں منظرِ عام پر موجود ہیں مگر یہاں قاری کی دو قومی نظریہ سے مکمل آگاہی کے لئے چند حالات و واقعات لکھنے ناگزیر ہیں تاکہ دوقومی نظریہ سے پوری واقفیت اور محبت کا جذبہ پیدا ہو۔مسلمانانِ ہند ہندوستان پر صدیو ں سے حکمرانی کرتے آئے تھے۔انگریزوں کے ہندوستان چھوڑنے کے بعد حکومت کرنا ان کا حق تھا۔ کیونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھین کر تقریباً دو سو سال تک ہندوستان میں اپنے قدم جمائے رکھے۔کبھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں اور کبھی براہِ راست تاج برطانیہ کے زیر اثر ہندوستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔دو قومی نظریہ کے ارتقاء کی تاریخ بہت قدیم ہے۔مگر طوالت میں جانے سے بہتر ہے چند درخشندہ واقعات کو ہی ذہن نشین کیا جائے۔دو قومی نظریہ کی بنیاد بننے والے یہ سنہری واقعات ہماری ماضی کی تاریخ کی میراث ہیں۔جب فاتح سندھ محمد بن قاسم نے دیبل کی فضاؤں میں اللہ و اکبر کی صدائیں بلند کیں۔ جب مجدد الف ثانی نے اکبر کے دین الٰہی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔جب ہندوستان میں کئی سو سال شاہانہ حکومت کرنے والے مغلیہ خاندان کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر اپنے سر کو نیچے کئے ہوئے سوچوں میں گم اپنے ماضی میں کھو جاتے ہیں۔اپنے ارد گرد مایوسی، ناکامی اور اپنا سب کچھ لٹ جانے پر تصویر غم بنے دکھائی دیتے ہیں اور مسلمانوں کی حکومت کا چراغ گل ہو جاتا ہے تو ایسے میں سر سید احمد خان مسلمانوں کے لئے مسیحا بن کر دو قومی نظریہ کو پروان چڑھانے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کرتے نظر آتے ہیں۔مسلمان جو شاہانہ ٹھاٹھ اور جاہ و حشمت سے ہندوستان کے حاکم تھے۔1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد محکوم ہوئے تو انگریز اور ہندو سامراج نے مل کر مسلمانوں کا استحصال کرنا شروع کر دیا۔ مسلمان زبوں حالی اور تاریکی کے گڑھے میں گرتے گئے۔ ان کے اقتصادی، معاشرتی، مذہبی، سیاسی، لسانی اور تعلیمی حقوق پر جب ڈاکہ ڈالا گیا تو ان میں دو قومی نظریے کا احساس پیدا ہوا۔جب ان کے حقوق پامال ہوتے عرصہ بیت گیا تو انہیں احساس تشخص پیدا ہوا کہ ایسی آئیڈیالوجی کو اپنایا جائے جس کی منزل روشن اور تابناک ہو۔ وقت کی ضرورت بھی پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ اپنے کھوئے ہوئے ملی تشخص کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے دو قومی نظریہ ہی منزل مراد ہے۔دو قومی نظریہ اس سفر میں کئی منازل طے کرتا رہا۔مختلف ادوار میں اس نے مختلف قسم کے مراحل طے کیے لیکن منزل پاکستان کے راستے میں ا س کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ ہندوستان میں رہنے والی دو قومیں ہندو اور مسلمان دو جدا جدا قومیں ہیں۔ ان کے رہن سہن کے طریقے ان کے رسم رواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ایک قوم، ایک خدا، ایک رسولؐ اور اللہ کی واحدانیت پر یقین رکھتی ہے تو دوسری قوم ذات پات کی قائل اور لاتعداد بتوں کی پجاری ہے۔ دو قومی نظریہ کو 1930ء کے خطبہ آلہ آباد سے بہت زیادہ پذیرائی ملی اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی تاکہ مسلمان اپنے علیحدہ وطن میں پوری آزادی کے ساتھ اپنے اسلامی اصولوں سے زندگی بسر کر سکیں۔ دو قومی نظریہ کو اپنی ابتداء سے لے کر منزل پاکستان تک پہنچنے کے لئے کئی دشوار گزار، کٹھن اور بل کھاتی وادیوں سے گزرنا پڑا۔اس دوران انگریز کی استعماریت اور کانگریس کی چالیں دو قومی نظریے کوسبو تاژ کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں اور مسلمان ہندو کی فریب کاریوں اور انگریز کی ریشہ دیوانیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہندوئوں نے سوچے سمجھے منصوبے سے دو قومی نظریے کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی دو قومی نظریے کو ختم کرنے کی ساری چالیں ناکام نظر آتی ہیں اور دو قومی نظریہ عالمِ طفولیت سے عالمِ شباب کی طرف پروان چڑھتا نظر آتا ہے۔ یہ نظریہ تند و تیز ہواؤں ہندوستان کی سیاسی فضاؤں کبھی اپنے اور کبھی غیروں کی جفاؤں کا مقابلہ کرتا اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔دو قومی نظریہ اصل میں منزل پاکستان کی بنیاد ہے اور بیسویں صدی عیسوی میں حالات اس قسم کے تھے کہ مسلمانوں کو اپنی منزل کا حصول ناگزیر تھا اور وہ منزل تھی ’’آزادی‘‘۔جب ہندوؤں نے دیکھا کہ مسلمانوں میں سیاسی تشخص بیدار ہو چکا ہے اور دو قومی نظریہ باوجود دبانے کے پروان چڑھ رہا ہے تو ہندو لیڈروں نے مسلمانوں کو چکنے چپڑے نعرے ’’ہندو مسلم بھائی بھائی‘‘ کے خوشامدی نعروں سے آزادی کا راستہ روکنے کیلئے روڑے اٹکائے ۔ اس دوران کانگریس میں مسلمانوں کی شمولیت کو دعوت دی گئی۔کبھی میثاق لکھنؤ میں وقتی طور پر جداگانہ انتخاب کے اصول کو تسلیم کیا،کبھی تحریک خلافت میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کا عندیہ اور پھر موقع پا کر علیحدگی اختیار کی۔کبھی سودیشی تحریک میں حصہ لیا، اور کبھی تحریک عدم تعاون میں شمولیت کی۔کبھی انگریز کے خطابات واپس کرنے کا عندیہ دیا اور مسلمانوں کو بھی مجبور کیا کہ آپ بھی خطابات واپس کریں، کبھی مسلمانوں کے سکولوں میں جا کر انہیں انگریزی تعلیم حاصل نہ کرنے کے مشورے، کبھی ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں مسلمانوں کو انگریز سے بد ظن کیا اور کبھی مسلمانوں کو تحریک ہجرت میں چکنی چپڑی باتوں سے مجبور کیا کہ مسلمان انگریز حکومت کے خلاف ہندوستان سے ہجرت کر جائیں، ’’نہ ہوگا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘‘ ۔ مسلمان چونکہ ہندوستان میں حملہ آور ہو کر فاتح کی حیثیت سے آئے تھے اور وہ یہاں کے مستقل باشندے نہیں تھے اور ہندوؤں کی خواہش تھی کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہی وطن ہو۔ کشمیریوں کو آج بھی اسی جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا