01:50 pm
 دیوالیہ ہونے سے بچا جا سکتا ہے

دیوالیہ ہونے سے بچا جا سکتا ہے

01:50 pm

سری لنکا شدید معاشی بحران کا شکارہو کر دیوالیہ ہو گیا۔سابق صدر گوٹابایا راجا پاکسے ملک سے فرار ہو گئے۔ اراکین اسمبلی نے دو ہفتہ قبل 20 جولائی کو رانیل وکرما سنگھے کو نیا صدر منتخب کیا۔ وکرما سنگھے نے دنیش گناوردینا کو وزیرِاعظم مقرر کیا۔ انہیں ورثے میں ایک ایسی معیشت ملی جس میں 59 فیصد کی ریکارڈ مہنگائی ہے۔ کرنسی کی قدر نصف ہوچکی ہے اور غذائی اشیا اور ایندھن جیسی بنیادی ضروریات کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ ملک میں تقریباً تمام معاشی سرگرمیاں رک چکی ہیں۔پاکستان کا بھی سری لنکا سے تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔اتحادی حکومت بتا رہی ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، انہوں نے بچا لیا۔ اتحادی اب الیکشن کمیشن کے فیصلے پر شادمان ہیں۔ یہاں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے ، وہ سابق حکومت کو ہر منفی نتیجے کی وجہ قرار دیتی ہے۔ سارا ملبہ سابق پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ بچ جائے۔ سری لنکا کی طرح پاکستان میں بھی حکومتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین کو تنخواہیںدے رہی مگرسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی کرنسی یا زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو چکے ہیں جو درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔
سری لنکا کی طرح پاکستان سخت معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے۔ یہاں بھی حکمرانوں پر فوری حرکت میں آنے اور معاملات کو درست کرنے کا دباؤ ہے۔یہاں بھی آگے کا راستہ بہت دشوار ہوگا۔ معیشت کو دوبارہ درست سمت پر لانے کے لئے ملک کو ماضی کی ان پالیسیوں کو ترک کرنا ہوگا جو معاشی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ مگر نقصان کا سبب بننے والی پالیسیوں کی نشاندہی ضروری ہے۔ یہاں بھی چند معاشی چیلنجز ایسے ہیں جن پرخصوصی توجہ دینی ہوگی۔ یہ چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عوام کی فوری ضروریات کو پورا کرنا ہر حکومت کی اولین یرجیح ہوتی ہے۔ اگر ملک میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو جائے، آپ کے پاس درآمدات کے لئے زرمبادلہ ہی نہ ہو تو کیا ہو گا۔ اس لئے پہلے تو قومی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ جو اشیاء ملک میں دستیاب نہیں، وہ باہر سے منگوا کر ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کا تناسب 4.7 فی صدہے۔ سری لنکا کی جی ڈی پی شرح نموکا تناسب 4.2 فیصدتھا اور دیوالیہ ہو گیا۔ سری لنکا کے نئے صدرنے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی کہا کہ ان کی ترجیح یہ ہوگی کہ عوام 3 وقت کا کھانا کھا سکیں۔سری لنکا میں غذائی افراطِ زر ہے اور بنیادی غذائی اشیامہنگی ہوچکی ہیں۔ چاول کی قیمت 160 فیصد، گندم کی قیمت 200 فیصد اور چینی کی قیمت 164 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔معاشی ماہرین نے صورتحال یوں سمجھائی ہے کہ کم از کم تنخواہ پر کام کرنے والے ایک پری اسکول ٹیچر کو ایک کلو چینی اور ایک کلو آٹا یا چاول خریدنے کے لیے اپنی ایک دن کی تنخواہ سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اگر اسے خوش قسمتی سے گیس سلنڈر دستیاب ہوجائے تو اس کے لیے مہینے بھر کی تنخواہ کا نصف سے زائد حصہ ادا کرنا پڑے گا۔ دیگر اہم مسائل میں اخراجات زندگی بھی شامل ہیں۔ تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ ذرائع نقل و حمل بحال نہیں۔ ایندھن کی قلت کی وجہ سے نجی بس سروسز بند ہورہی ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر ایک مشکل کام بن گیا ہے۔ مسافر دروازے اور کھڑکیوں سے لٹک کر یا سامان کے ڈبے میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن اور بجلی کی فراہمی کو بحال کرنے کے لیے غیر ملکی زرِمبادلہ کی ضرورت ہے تاکہ ایندھن درآمد کیا جائے لیکن مشکلات کا شکار معیشتوں کو قرض دینے والے آئی ایم ایف کی جانب سے امداد ملنے میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں۔ جب تک نئے صدر مزید امداد کے لیے بھارت اور چین کو قائل نہیں کرتے تب تک معاشی مشکلات جاری رہیں گی اور سری لنکا میں زندگی معمول پر نہیں آئے گی۔پاکستان بھی امداد کے لئے دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سری لنکا کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اب ایسا ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ بنیادی ضرورت کی اشیا کی کمی ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سری لنکا سیاحوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ اس دوران بیرونِ ملک مقیم سری لنکن شہریوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر میں کمی آئی ہے کیونکہ انہیں سری لنکن کرنسی جسے روپیہ کہتے ہیں پر اعتماد نہیں رہا۔اس کے برعکس سمندر پار تارکین وطن پاکستانی یہاں ترسیلات زر بھیج رہے ہیں ۔ جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔شہباز شریف کی حکومت عدم استحکام کا شکار ہے۔ اسے بجٹ خسارہ کم کرنے کی فرصت نہیں۔ سری لنکا کے گزشتہ برس کُل اخراجات ملک کے کُل محصولات سے 240 فیصد زیادہ تھے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے 91 فیصد زیادہ رقم درکار تھی۔ نوٹ چھاپنے سے یہ فرق کچھ کم تو ضرور ہوا لیکن اس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔سری لنکا کے موجودہ بحران کی بنیادی وجہ کئی دہائیوں سے جاری مالی بے ضابطگیاں ہیں جہاں اخراجات بہت زیادہ تھے اور محصولات بہت کم۔پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے۔ روپے کی قدر کم ہوئی ہے۔ آج ایک تسلی بخش خبر ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ قدرے سنبھلا ہے۔ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ بجٹ خسارہ نوٹ چھاپنے سے کم نہیں ہوتا۔ پاکستان پر جون2018ء میں 76ارب ڈالر کا بیرونی قرض تھا جو سٹیٹ بینک کے مطابق مارچ2022ء میں بڑھ کر 101ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ اس عرصہ کے دوران صرف وفاقی حکومت کا قرض 65ارب ڈالر سے بڑھ کر 82ارب ڈالر تک پہنچا ہے۔ سری لنکا پر تقریباً 51 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا تھا اور اس کے پاس قرضے کی ادائیگی کے لیے زرِمبادلہ نہ تھا۔ حکومت نے اپریل کے مہینے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی روک دی ۔ جس سے ملک ڈیفالٹ کرگیا تھا۔پاکستان اس بحران سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف کی مدد پر انحصار کر رہا ہے۔مگر آئی ایم ایف کی شرائط پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ پٹرول اور بجلی ، گیس مہنگی کر دی گئی ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے بعد عالمی بینک سے قرض لینے کی راہ کھلی ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر ہی سٹیٹ بینک کی خود مختاری میں اضافے، بدعنوانی سے لڑنے اور قانون کی حکمرانی کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ معیشت میں بہتری سیاسی استحکام لانے پر منحصرہے۔ انتشار کا شکار ملک معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا۔اگر ملک میں تمام سیاسی قوتیں پارٹی مفادات سے بالا تر ہو کر کام کریں تو ملک کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ ملک اس معاشی ابتری سے نکل سکتا ہے۔ ورنہ اس کا انجام سری لنکا جیسا ہونے کے خدشات کم نہیں ہو سکتے۔

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا