01:52 pm
عدالتی نظام میں اصلاحات اور متبادل مصالحتی نظام

عدالتی نظام میں اصلاحات اور متبادل مصالحتی نظام

01:52 pm

مقامی اخبار میں ۳۱ جولائی ۲۰۲۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:’’جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ ۷۰ سال سے پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات نہیں ہو سکیں۔ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کیلئے متبادل مصالحتی نظام متعارف کروانا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ متبادل مصالحتی نظام کے قیام کے بغیر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد قائم نہیں ہوگا۔‘‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ان دو معزز جج صاحبان کی مذکورہ گفتگو کی تفصیلات ہمارے سامنے نہیں ہیں مگر یہ چند جملے ہی ہماری موجودہ عدالتی، معاشرتی اور معاشی صورتحال کی عکاسی کے لیے کافی ہیں اور ان میں معانی اور معروضی حقائق کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد آزادی اور نظریۂ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ملک کے عدالتی، معاشی، انتظامی اور معاشرتی نظم و ماحول میں کچھ بنیادی تبدیلیاں ناگزیر تھیں جو ہم نہیں کر سکے، جس کے نتیجے میں دستور و قانون کے بہت سے اچھے اور مثبت فیصلوں میں پر عملدرآمد میں مسلسل رکاوٹیں موجود ہیں اور ہم اپنے کسی اچھے سے اچھے دستوری یا قانونی فیصلے کو بھی عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو پارہے، مثلاً: ۱۸۵۷ء میں برٹش استعمار نے اس خطہ کا اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کے قانون اور قانونی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا تھا، اس سے پہلے مغلوں کے دور میں یہاں اسلامی قوانین نافذ چلے آرہے تھے جن کی مرتب صورت فتاویٰ عالمگیری کے نام سے ریاست کے قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کے لیے قضا کا عدالتی نظام موجود تھا اور تعلیمی اداروں میں اس قانون کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی، مگر برطانوی حکومت نے جب قانون تبدیل کیا تو صرف قانون بدلنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس کے لیے نیا عدالتی اور تعلیمی نظام بھی رائج کیا جو نئے نظام کا ناگزیر تقاضہ تھا۔ اسلامی قوانین کی جگہ برٹش لاء، قضا کے نظام کی جگہ برطانوی جوڈیشری سسٹم، اور تعلیمی اداروں میں فتاویٰ عالمگیری اور دیگر شرعی احکام و قوانین کی بجائے برٹش لاء کی تعلیم لازمی قرار پائی۔ جس کی وجہ سے برٹش لاء نوے برس تک باضابطہ اور اس کے بعد اب تک بالواسطہ طور پر ملک میں رائج اور نافذ ہے۔ وہی برٹش لاء ہے، وہی عدالتی نظام ہے اور وہی قانون کی تعلیم کا دائرہ اور سسٹم ہے۔ ہم قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک سوائے رسمی اعلانات اور چند علامتی اصلاحات کے اضافہ کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکے۔ اگر ہم اس معاملہ میں اپنے پیشرو کی روایت پر قائم رہتے تو قرارداد مقاصد میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، قرآن و سنت کے قوانین کی بالادستی اور مسلم تہذیب و روایات کی پاسداری کا قومی عہد کرنے کے بعد نہ صرف قوانین بلکہ عدالتی نظام اور قانون کی تعلیم کے نظام میں بھی تبدیلیاں ضروری تھیں جبکہ ہم انگریزی قوانین، عدالتی نظام اور قانون کی تعلیم کے معاملہ میں انگریزی دور کے تسلسل پر تو قائم رہے۔ مگر نئے دستور و قانون کے تقاضوں کے مطابق قانونی تعلیم اور عدالتی نظام تبدیل کرنے میں انگریز کی روایت پر عمل کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکے اور اس کوتاہی کی سزا اب تک بھگت رہے ہیں۔ اس ستم ظریفی کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ دستور کے مطابق ملک میں قرآن و سنت کے قوانین کی عملداری ضروری ہے مگر فیصلہ کرنے والے جج صاحبان اور مقدمات میں وکالت کے فرائض انجام دینے والے وکلاء کے لیے کسی سطح پر بھی قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کی تعلیم لازمی نہیں ہے اور ایک دانشور کے بقول پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دستوری طور پر شرعی احکام و قوانین پر عمل کو ضروری قرار دیا گیا ہے مگر عدالتی نظام سے متعلقہ کسی شعبہ میں بھی قرآن و سنت اور شرعی احکام و قوانین کی تعلیم ضروری نہیں سمجھی گئی۔ اس کی ایک عملی مثال یہ ہے کہ قائد اعظم مرحوم نے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، دستوری معیشت کو اسلامی قوانین و تعلیمات کے مطابق چلانے اور غیر اسلامی سودی نظام کو جلد از جلد ختم کر دینے کی ضمانت موجود ہے۔ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت نے متعدد بار سودی نظام کے خاتمہ اور ملک کے معاشی نظام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تبدیل کرنے کے واضح احکام جاری کیے ہیں، حتیٰ کہ غیر سودی بینکاری کے قابل عمل بلکہ زیادہ محفوظ اور نفع بخش کا سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا جاچکا ہے، مگر ریاست کا تعلیمی نظام اسلام کے معاشی نظام و قوانین کی تعلیم اور معیشت کے اسلامی ماہرین کی تیاری کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

محکمہ موسمیات نے گرمی سےپریشان شہریو ں کو مزیدبارشوں کی نوید سنا دی

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ارشد ندیم کیلئے 50لاکھ روپے انعام کا اعلان

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پرویز الٰہی تو چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا آپکا کیا ہو گا،کس نے عمران خان پر طنز کر دیا؟

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پاک فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ، وزیر دفاع خواجہ آصف سے استعفیٰ طلب

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

پنجاب میں احساس راشن پروگرام شروع کرنیکی منظوری،ماہانہ کتنے پیسے ملیں گے ،غریبوں کے لیے خوشی کی خبرآگئی

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

ارب پتی تاجرکی نئی سستی ایئر لائن نے سروس کا آغاز کر دیا

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

دلہن کے لباس میں اس پیاری بچی کو پہچان سکتے ہیں؟ 99 فیصد چاہنے والے بھی اس معصوم بچی کو پہچان نہیں سکیں گے

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کاملکی حالات کے متعلق بڑادعویٰ

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

پیپلزپارٹی کا فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل ، بڑا چیلنج دیدیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

شہرقائد میں بادل ایک مرتبہ پھربرس پڑے ،کیامزیدبارش کاامکان ہے ،محکمہ موسمیات نے بتادیا

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

حکومت پی ٹی آئی کے خلاف اقدامات کیوں اٹھارہی ہے ،فواد چوہدری نے وجہ بتادی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

کامن ویلتھ گیمز، کس ملک کے 9 ایتھلیٹ اور منیجر روپوش ہوگئے ،کھیل کے میدان سے بڑی خبرآگئی

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا

عمران خان توشہ خانہ سےکچھ تحائف مفت میں بھی لےگئے تھے، الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس میںبڑا دعویٰ کردیاگیا