03:54 pm
مواصلاتی اور نشریاتی دہشت گردی

مواصلاتی اور نشریاتی دہشت گردی

03:54 pm

اس سے پہلے صحافی اور دیگر پیشہ وارانہ آداب کی بات کی جاتی تھی لیکن ٹیکنالوجی میں ناقابل یقین ترقی نے سوشل میڈیا کو اس قدر موثر بنا دیا ہے کہ عملاً آج یہی ہمارا ذریعہ نشرو اشاعت اور ابلاغ عامہ کاذریعہ دکھائی دیتاہے۔ قارئین کرام! جان لیجئے کہ حیران کن طور پر انسانی تاریخ کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کی اقدار کی ترویح و ترقی کے بجائے رو ز بروز ان میں انحطاط آیا ہے … عقلی اور فطری طور پر تو یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی صورت حال ہے کیونکہ معاشی خوشحالی‘ معلومات کا عام ہونا ‘ مواصلاتی ٹیکنالوجی کا فروغ اور دیگر بہت سے عوامل کو ہمارے تہذیبی ‘ فکری اور علمی لیول کو مزید اونچا کرنا چاہیے تھا مگر معاملہ الٹ گیا … آج ہمارا معاشرہ اور ملک اخلاقی پستی اور علمی اور فکری انحطاط کے اس خوفناک اور بھیانک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں افراتفری‘ مفاد پرستی‘ نفسانفسی اور ذاتی و ادارتی انا اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ قارئین کرام‘ قلم اٹھانے سے پہلے ہر بار راقم مثبت سوچ اور امید دلانے کا اعادہ اور ارادہ کرتا ہے لیکن جب میں اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات اور حالات کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم پتھر کے زمانے کی سوچ اور عمل رکھنے والے لوگ ہیں … نجانے کیوں سنسنی‘ دروغ گوئی‘ الزام تراشی‘ جارحانہ انداز‘ چرب زبانی اور نجانے کیا کیا … ان سب کو ہمارے عوام بہت انہماک اور توجہ کے ساتھ نہ صرف سنتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ایسے طرز عمل کو Like اورCommentبھی کیا جاتا ہے‘ بالفاظ دیگر ان حرکات کو دل کی گہرائی سے داد بھی دی جاتی ہے ‘ پذیرائی بھی کی جاتی ہے۔
ایک بات کو ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کرنے اور سمجھنے کی اشد اور شدید ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص ‘ اینکر یا صحافی جب بھی کسی دوسرے شخص ‘ سیاست دان یا دیگر شخصیت کے بارے میں اس کی ذاتی زندگی کے متعلق کوئی بھی خفیہ معلومات یا پہلو عوامی سطح پر افشاء کرتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ ایسا کرنے والا ایک اچھا انسان نہیں ہے اور اس نے صحافتی اور مواصلاتی اخلاقیات اور آداب کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے اور وہ بھی محض اپنے چینل کی ریٹنگ کو بڑھانے کیلئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے… قارئین کرام‘ ذرا سوچیئے اور اندازہ لگائیں کہ ایک یوٹیوبر اپنے خود ساختہ چینل پر بیٹھ کر کسی ’’فحش نجی وڈیو‘‘ پر پورا پروگرام کر ڈالے ‘ کیا یہ کسی بھی شہری کی عزت آبرو اور ساکھ پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے؟ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ سب سے زیادہ حرمت ایک مسلمان کی جان‘ مال اور اس کی عزت ہے۔ ہماری آج کی سیاست کا محور جماعتوں کے نظریات اور منشور نہیں بلکہ خفیہ آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کی نیچا دکھانے کی اس دوڑ میں ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں دکھائی دیتا ہے… گھر کی تربیت کا فقدان‘ کتاب سے قطع تعلق‘ دین سے دوری‘ یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے ہمیں اخلاقی پستی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے مگر راقم کی نظر میں معاشی بحران اور بدحالی نے اس صورتحال میں سب سے زیادہ اہم اور نمایاں کردار ادا کیا ہے … معاشی خوشحالی کے حصول میں ہمارے خودساختہ برائے نام صحافی اپنے نجی یوٹیوب چینلرز کو مالی فوائد کے حصول کیلئے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ان کے الفاظ سے کسی کی عزت اور اس کی ساکھ کو کتنا نقصان پہنچتا ہے … نظام میں عدم استحکام‘ ریاستی رٹ کے فقدان اور سیاسی Polarization اور تعصب کے فروغ میں جتنا کردار ہمارے سوشل میڈیا نے اینکرز کے توسط سے ادا کیا ہے و ہ اپنی مثال آپ ہے ۔ نجی چینلز پر ہونے والے ٹاک شوز میں بھی جس بے د ردی‘ دلیری اور جان فشانی سے لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں وہ ایک قابل رحم اور انتہائی دردناک صورتحال ہے۔ راقم کو اس بات سے قطعی طور پر انکار نہیں کہ کرپٹ سیاست دانوں اور مفاد پرست ‘ خودغرض حکمرانوں اور دیگر ریاستی اور سیاسی شخصیات اور افراد کو بے نقاب ہونا چاہیے اور عوامی سطح پر پبلسٹی ہونی چاہیے مگر اس عمل میں ذاتی اور نجی خفیہ معلومات کا سہارا لے کر ریٹنگ بڑھانا کسی بھی صورت ایک ناقابل معافی مجرمانہ فعل اور مواصلاتی اور نشریاتی دہشت گردی سے کم نہیں … بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے محض ’’ذرائع‘‘ کو بنیاد بناکر کسی بھی من گھڑ خبر کی تشہیر بھی ایک انتہائی مکروہ عمل ہے ۔ قارئین کرام اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر اس مواصلاتی اور نشریاتی دہشت گردی کا مقابلہ کریں … اس لئے حدود و قیود کا تعین کریں ‘ یہ کام تو دراصل ہمارے ریاستی اداروں کا ہے کہ وہ اس بابت ضروری قانون سازی کرنے کے بعد اس پر سختی سے عملدرآمد کروائیں مگر ان کی تمام تر توجہ نئے سپہ سالار کی تعیناتی ‘ توشہ خانہ اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مہم‘ انا کی جنگ میں مصروف دکھائی دیتی ہے ان کیلئے نہ تو قانون سازی کیلئے وقت ہے اور نہ قوم سازی کیلئے …


تازہ ترین خبریں

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی