03:54 pm
قوم جواب کی منتظرہے

قوم جواب کی منتظرہے

03:54 pm

چین اوراسرائیل تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ لکھاجاچکاہے،زیادہ ترمعاشی اورسیاسی تعلقات کے حوالے سے لکھاگیا ہے ،چین اسرائیل سکیورٹی تعلقات کے حوالے سے لوگ کم ہی جانتے ہیں۔چین اوراسرائیل کے سکیورٹی تعلقات کاآغازجون1967ء کی جنگ کے بعدہوا،اس وقت روسی اسلحے کی بھاری کھیپ اسرائیلی فوج کے ہاتھ لگی تھی۔یہ اسلحہ شکست خوردہ عرب افواج سے قبضے میں لیاگیاتھا،اسرائیل کوروسی اسلحے کے خریدارکی تلاش تھی،چینی افواج بھی روسی اسلحہ استعمال کرتی تھیں، جس کے بعداسلحے کی فروخت کے حوالے سے اسرائیل اورچین میں خفیہ مذاکرات کاآغازہوا۔فروری1979ء میں اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے بیجنگ کے مضافات میں موجود فوجی اڈے کاخفیہ دورہ کیا۔وفدکی قیادت یہودی ارب پتی ساؤل ایسنبرگ کررہے تھے۔ ساؤل ہولو کاسٹ کے دوران یورپ سے شنگھائی فرارہوگئے تھے،جس کے بعدانہوں نے مشرقی ایشیاء میں بڑامالیاتی کاروبار کھڑا کیا ۔ سائول چین یاایشیائی ممالک میں کاروبارکرنے و الے پہلے یورپی تاجرتھے،جس نے اسرائیلی اسلحے میں چین کی دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردارادا کیا، یہاں تک کہ انہوں نے بیجنگ آنے والے پہلے اسرائیلی وفد کے سفرکے لئے جہاز بھی فراہم کیا۔ سائول اسرائیلی اسلحے کے بارے میں جانتے تھے کیونکہ وہ ایشیائی ممالک سے ہونے والے گزشتہ معاہدوں سے واقف تھے۔
امیربوہبوٹ اورکاٹزکے مطابق چینیوں کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں کے بعد سائول اسلحہ خریداری کی فہرست لے کر اسرائیل واپس لوٹے جس میں میزائل، آرٹلری، گولہ باروداوربکتربند کی خریداری شامل تھی، انہوں نے اسرائیلی حکومت پرچین وفد بھیجنے پربھی زوردیا۔اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے وفد بھیجنے کی تومنظوری دے دی مگر اسلحے کی فراہمی کامعاملہ اپنے وزیردفاع ایزرپر چھوڑدیا۔وزیردفاع ایزرنے ذاتی طورپرمنظوری دی کہ اسرائیلی کمپنیاں کون سااسلحہ چین کوفروخت کرسکتی ہیں اور کون سااسلحہ ناقابل فروخت ہے۔ اس کے اگلے برس اسرائیلیوں نے چین کے کئی اضافی دورے کیے، جس میں اسرائیلی ایئرفورس کے طیاروں کاخفیہ استعمال بھی کیاگیا۔اس کے بعد چینی براہ راست اسرائیلی حکومت سے رابطے میں آگئے۔چین ایک باراسلحہ خریداری کی فہرست کوحتمی شکل دے کراسرائیلی وفدکوفراہم کردیتا،جس کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع سے لی جاتی۔چین کو1981ء میں اسلحے کی پہلی کھیپ ٹینک کے گولہ بارودکی شکل میں فراہم کی گئی،یہ کھیپ انتہائی خفیہ طورپر بھجوائی گئی،جس کے بعددونوں ممالک کاایک دوسرے پراعتمادبڑھ گیا۔ چینی حکام چند تصاویراورویڈیوزدیکھنے کے بعد کروڑوں ڈالرکے اسلحہ خریداری کے معاہدے کرنے کے لئے تیارہوگئے مگرانہوں نے اسرائیل جانے سے انکارکردیا۔ پیٹربرٹون کے مطابق اس دوران اسرائیل نے ہزاروں چینی ٹینکوں کی جدید کاری کی۔اکتوبر1984ء میں چینی قومی دن کی پریڈمیں ان نئے ٹینکوں نے حصہ لیالیکن یہ نہیں بتایاگیاکہ ان ٹینکوں کی جدید کاری کس ملک میں ہوئی ہے۔ان تعلقات کے حوالے سے رازداری قائم رکھنے کی شرط اسرائیل نے نہیں بلکہ چین نے عائد کی تھی کیونکہ چین مشرق وسطی کے ممالک سے تعلقات خراب ہونے کے ڈرکی وجہ سے اسرائیل کوبطورریاست تسلیم نہیں کرناچاہتاتھا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان خفیہ تعلقات کاسلسلہ1990ء تک جاری رہا۔اس دوران بیجنگ اورتل ابیب میں دونوں ممالک کے غیر سرکاری مشن موجودتھے۔اسرائیلی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ شبتائی شیوت کے مطابق چین اوراسرائیل میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے ایک برس بعداکتوبر1993ء میں اسرائیلی وزیراعظم رابن نے پہلی بارچین کا سرکاری دورہ کیا، اسرائیلی وزیراعظم نے چینی صدرجیانگ ژی من سے ملاقات کی۔یہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات تھی، اس ملاقات کے دوران اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ نے اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی،یہ دونوں ممالک کے انٹیلی جنس سربراہان کی پہلی سرکاری ملاقات تھی۔اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ کے مطابق انہوں نے وزیراعظم رابن کومشورہ دیاکہ اسرائیل کوچین سے معاملات طے کرنے کے لئے حکمت عملی تیارکرنی چاہیے،کیونکہ چین مستقبل میں بین الاقومی سطح پراہم کردارادا کرے گا۔ اکیسوی صدی کے ابتدائی برسوں جولائی 2000ء میں اسرائیل امریکی دبائو پرچین کے ساتھ جدید کاری کے دستخط شدہ معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر مجبو ر ہو گیا،اس معاہدے کے اسرائیل چین سے پیسے بھی وصول کرچکاتھا،ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جدیدایئربورن ٹریکنگ سسٹم (فیلکن طیارے)فراہم کیے جانے تھے،یہ منصوبہ ہائی ٹیک اسرائیلی ایویونکس پرمبنی تھا،جس کو چین میں روسی ساختہ طیارے پرنصب کیاجاناتھا۔ امریکی ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہونے کے باوجود امریکا کواس معاہدے پرشدید اعتراض تھا۔اس کے بعد کئی برسوں تک چین اوراسرائیل تعلقات تلخی کا شکارہوگئے۔اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق1990ء سے2001ء کے درمیان اسرائیل نے چین کو 356 ملین ڈالرکااسلحہ فروخت کیا،جس میں ہارپی،بغیرپائلٹ طیارے، مختصر فاصلے کے فضامیں مارکرنے والے میزائل (پیتھون) شامل تھے،ان میزائلوں کوبعدمیں چین نے پی ا یل آٹھ کے نام سے بناناشروع کردیا۔ 2004ء میں امریکہ نے اسرائیل کوبغیرپائلٹ طیارے چین کوواپس کرنے سے روک دیا۔(جاری ہے)


تازہ ترین خبریں

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت مستردکردی گئی

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ترکی ،شام تباہ کن زلزلے سے ہونے والی ہلاکتیں اور مناظر دماغ کو سن کر رہے ہیں، شہباز شریف

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

ملک کے بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا امکان

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات، اہم فیصلہ آج ہو گا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان   حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

توشہ خانہ کیس ، عدالت نے عمران خان حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا   اجلاس آج  ہوگا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا

ترکیہ   میں زلزے  نے تباہی مچا دی ،  سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ میں زلزے نے تباہی مچا دی ، سات روزہ سوگ کا اعلان

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، ہلاکتیں 1300 سے زائد، ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

اے پی سی کیلئے پی ٹی آئی کو دعوت نامہ نہیں ملا، فواد چوہدری

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

مشکل وقت میں  درکار  انسانی امداد پیش کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان  کا  ترکیہ ،شام زلزلے پر افسوس کا اظہار

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی

کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ،7 کی بجائے 9فروری کو ہوگئی