12:45 pm
25 نومبر جمعۃ المبارک ۔ یومِ انسدادِ سود

25 نومبر جمعۃ المبارک ۔ یومِ انسدادِ سود

12:45 pm

۲۵ نومبر جمعۃ المبارک کو جماعتِ اسلامی، تنظیمِ اسلامی، متحدہ علماء کونسل، پاکستان شریعت کونسل، تحریکِ انسدادِ سود اور دیگر جماعتوں کی اپیل پر ملک بھر میں ’’یومِ انسدادِ سود‘‘ منایا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں ۱۷ نومبر کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی علماء کرام کی نشست میں کی جانے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ سود کے کاروبار کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اور واضح حکم دیا ہے کہ سودی کاروبار چھوڑ دو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی نظام ختم کیا تھا اور خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں ہماری معیشت میں سود کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ سود کا نظام مغرب نے شروع کیا اور چلتے چلتے جب ہم پر غیر مسلم حکومتیں آئیں تو ہمارا نظام بھی سودی ہوتا چلا گیا، صرف بینکاری میں نہیں بلکہ قومی معیشت کے تمام شعبوں تجارت وغیرہ میں سود آیا۔
جب ملک آزاد ہوا اور پاکستان بنا تو پاکستان کے بنیادی مقاصد میں اہم ترین مقصد غیر شرعی قوانین سے نجات اور شرعی قوانین کے نظام کا نفاذ تھا۔ چنانچہ مختلف شعبوں میں سے معیشت کے باب میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے جب اسٹیٹ بینک کا افتتاح کیا تو انہوں نے دوٹوک بات کہی تھی جو ریکارڈ پر ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی اصولوں پر معیشت دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے اپنے ماہرین سے توقع اور انتظار ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معیشت کا نظام استوار کریں گے۔ ان کا انتقال ہو گیا اور اب تک یہ بات پوری نہیں ہو سکی۔ قیام پاکستان کے مقاصد میں سے یہ بات تھی لیکن یہ بات نہیں مانی گئی اور سود کا نظام چل رہا ہے۔ ایک اس کا شرعی پہلو ہے، دوسرا یہ قیامِ پاکستان کے مقاصد میں سے ہے، اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ معیشت کے حوالے سے اس وقت جتنی بدحالی ہے کہ ہم قرضوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں، بیرونی اداروں اور باہر کے ملکوں کی ہدایات کے پابند ہیں، اس کی بنیادی وجہ سود ہے۔ سود سے نجات کے بغیر ہم بیرونی قرضوں کے جکڑ بندی سے نہیں نکل سکتے۔ یہ نظریاتی اور اعتقادی مسئلہ تو ہے ہی، لیکن عملی بھی ہے اور ماہرین معیشت اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری معاشی بدحالی کی بڑی وجہ سود ہے۔ سود کے نظام سے نجات کے بغیر ہم اس معاشی بحران سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے سودی نظام کے خاتمے کے لیے دو محاذوں پر جدوجہد ضروری ہے:ایک تو حکومت سے مطالبہ کہ یہ نظام ختم کرو۔ یہ مطالبہ مسلسل چل رہا ہے اور حکومتیں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک وعدے کرتی چلی آ رہی ہیں کہ ہم عملدرآمد کریں گے۔ ۱۹۵۶ء میں پہلا دستور آیا، اس میں سود کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں دوسرا آئین آیا، اس میں بھی سود کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس وقت جو دستور ہے وہ ۱۹۷۳ء کا دستور ہے، اس دستور میں صرف وعدہ نہیں ہے بلکہ حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے کہ کم سے کم عرصہ میں ملک سے سودی نظام ختم کر کے اپنی معیشت کو غیر سودی بنیادوں پر استوار کرے۔ یہ دستور ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا اور اب ۲۰۲۲ء ہے۔ اسے پچاس سال ہوگئے ہیں، مسلسل مطالبے اور وعدے چلتے آ رہے ہیں۔ ہماری جدوجہد کا دوسرا میدان عدالتی ہے۔ حکومت عمل بھی نہیں کر رہی اور انکار بھی نہیں کر رہی بلکہ وعدے اور ٹال مٹول کر رہی ہے۔ صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور میں وفاقی شرعی عدالت بنی جو کہ باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے۔ وفاقی شرعی عدالت علماء اور ججوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ حکومت اس سے پوچھے کہ فلاں قانون کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے، یا وہ خود محسوس کرے کہ فلاں قانون شریعت کے خلاف ہے، یا عوام میں سے کوئی درخواست دے، تو اس کا کام اس قانون کا جائزہ لینا ہے کہ یہ شریعت کے خلاف ہے یا نہیں۔ وفاقی شرعی عدالت فیصلہ دیتی ہے کہ فلاں قانون جس کے بارے میں ہمارے نوٹس میں بات لائی گئی ہے، وہ قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہدایت ہوتی ہے کہ اس کو اتنے عرصے میں ختم کرو۔ آگے عمل کرنا یا نہ کرنا حکومت کا کام ہے۔ جب وفاقی شرعی عدالت بنی تو اس وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ دس سال معیشت کو نہیں چھیڑیں گے، جب دس سال گزر گئے اور عام شہریوں کو یہ حق حاصل ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت میں جا کر کہیں کہ جناب! جتنے بھی سودی قوانین ہیں ان کو ختم کیا جائے، تو پھر بہت سی جماعتوں نے وفاقی شرعی عدالت میں جا کر اپیل دائر کی، ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ جماعتیں گئی تھی لیکن عدالت میں مسلسل کیس لڑنا مشکل ہوتا ہے اس لیے چلتے چلتے دونوں پارٹیاں رہ گئیں جنہوں نے آخر وقت تک کیس لڑا، ایک جماعت اسلامی اور دوسری محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی تنظیم اسلامی۔ پہلے تو اسلامی نظریاتی کونسل نے جائزہ لیا کہ فلاں فلاں قانون سودی اور شریعت کے خلاف ہے اس کی جگہ فلاں فلاں قانون آ سکتے ہیں، اس کا متبادل نظام اور ایک جامع رپورٹ دی۔ اس کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے ۱۹۹۰ء کے لگ بھگ فیصلہ دیتے ہوئے متعلقہ قوانین کو غیر شرعی قرار دیا،متبادل قوانین اور سسٹم دیا اور حکومت کو وقت دیا کہ اتنے عرصے میں اس کو نافذ کرو۔ (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

کون سے قیدیوں کی سزائوں میں کمی کافیصلہ کیاگیا ہے،تفصیلات اس خبر میں

کون سے قیدیوں کی سزائوں میں کمی کافیصلہ کیاگیا ہے،تفصیلات اس خبر میں

فیصل واؤڈا کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا بڑافیصلہ ،تفصیل جانئے اس خبر میں

فیصل واؤڈا کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا بڑافیصلہ ،تفصیل جانئے اس خبر میں

افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے،وزیرخارجہ

افغانستان میں پاکستان کے سفارتی عملے کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے،وزیرخارجہ

انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ کیلئے قومی ٹیم میں 2 سے 3 تبدیلیوں کا امکان

انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ کیلئے قومی ٹیم میں 2 سے 3 تبدیلیوں کا امکان

خیبرپختونخوا میں پینشن کا بوجھ آنیوالے دنوں میں کتنے ارب ہوجائیگا؟تفصیل اس خبر میں

خیبرپختونخوا میں پینشن کا بوجھ آنیوالے دنوں میں کتنے ارب ہوجائیگا؟تفصیل اس خبر میں

برطانوی اخبار نے شہباز شریف سے معافی کیوں مانگ لی؟جانئے اس خبر میں

برطانوی اخبار نے شہباز شریف سے معافی کیوں مانگ لی؟جانئے اس خبر میں

وفاقی وزیرنے عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا

وفاقی وزیرنے عمران خان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کردیا

تحریک انصاف کے رہنما کا اتحادی جماعت ق لیگ کے حوالے سے بڑا بیان سامنے آگیا

تحریک انصاف کے رہنما کا اتحادی جماعت ق لیگ کے حوالے سے بڑا بیان سامنے آگیا

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے ایک اور بڑابیان سامنے آگیا

امریکاکاپاکستان کے حوالے سے ایک اور بڑابیان سامنے آگیا

ایک اوربھارتی اداکارہ نے اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دیا

ایک اوربھارتی اداکارہ نے اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دیا

انگلینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان ٹیم کوبڑا دھچکا

انگلینڈ کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان ٹیم کوبڑا دھچکا

وفاقی کابینہ کااجلاس جاری،ایجنڈا کیاہے؟تفصیل اس خبر میں 

وفاقی کابینہ کااجلاس جاری،ایجنڈا کیاہے؟تفصیل اس خبر میں 

کس ملک کا سیکورٹی گارڈ اپنی فٹبال ٹیم کی جیت کیلئے دعائیں مانگتارہا؟

کس ملک کا سیکورٹی گارڈ اپنی فٹبال ٹیم کی جیت کیلئے دعائیں مانگتارہا؟

اہم ترین شہر کے بازار سے ایک ساتھ 10موٹرسائیکلیں چوری،جانئے اس خبر میں

اہم ترین شہر کے بازار سے ایک ساتھ 10موٹرسائیکلیں چوری،جانئے اس خبر میں