12:42 pm
معاشی اضطراب اور سیاسی رہنمائوں کی بے حسی 

معاشی اضطراب اور سیاسی رہنمائوں کی بے حسی 

12:42 pm

قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی امور کی وزارت کی طرف  سے بتایا گیا ہے کہ الیکشن کروانے کیلئے 60 ارب درکار ہیں
قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی امور کی وزارت کی طرف  سے بتایا گیا ہے کہ الیکشن کروانے کیلئے 60 ارب درکار ہیں جس کا انصرام کرنا مشکل نظر  آرہا ہے۔ پاکستانی قوم نے سیاسی  جماعتوں میں بٹ کر اپنی اپنی مرضی کے سیاسی دیوتا تعمیر کر لئے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں پر کوئی تبصرہ کرے یا ان کی کسی پالیسی سے اختلاف کرے تو اس جماعت کے کارکنان کی  آنکھوں سے شعلے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ ہر تنقید کرنے والا دانشور مخالف نہیں ہوتا ۔ہم تبصرہ کرنے والے کے حوالے سے جذباتی ہوکر اسے دشمنوں کی صفوں میں دھکیل دیتے ہیں ۔سیاست تو برداشت اور اپنے موقف کو دلیل سے پیش کرنے کا نام ہے۔ قاسم علی شاہ بنیادی طور پر ایک معلم اور موٹیویشنل سپیکر ہے ۔ انہوں نے کتابوں کے مطالعے اور دنیا بھر کے دانشوروں کے فقرے سے اپنے آپ کو مزین کر رکھا ہے ۔جو جس فیلڈ میں محنت کرتا ہے رب کائنات اسے اپنے فطری اصولوں کے مطابق  کامیابی سے نوازتا ہے ۔قاسم علی شاہ کا سوال کرنے کا ایک خاص اسلوب ہے جو ان کی ذات کا حصہ بن چکا ہے ۔ انہوں نے مختلف لوگوں کی تربیت کیلئے قاسم علی فائونڈیشن بنا رکھی ہے انہی سیاست دانوں سے مکالمے کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا مکمل ادارک نہیں ہے کہ سیاست دانوں پر جان فدا کرنے والے اپنے اپنے قائدین کے بارے منفی ریمارکس سننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔قاسم علی شاہ نے عمران خان کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے جب یہ سوال پوچھا کہ اگر میرے پاس وہ سارے لوازمات بڑی گاڑی‘ بڑا گھر مال و دولت کی فراونی نہ ہو تو کیا مجھے(عام کارکن) کو ٹکٹ مل سکتا ہے ۔اصل میں یہ سوال اپنی ذات کو مثال بناتے ہوئے عام غریب سیاسی کارکنان کیلئے تھا۔ اگر ہم پورے مکالمہ کا جائزہ لیں تو محسوس کریں گے کہ قاسم علی شاہ دوران گفتگو زیادہ پر اعتماد نہیں تھے ۔محسوس ہو رہا تھاکہ وہ عمران خان کی شخصیت کے سحر سے متاثر ہو چکے تھے ۔قاسم علی شاہ نے انٹرویو کے بعد جو باتیں اور تبصرہ کیا ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنان کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔تحریک انصاف کے ڈیجیٹل مجاہدین نے قاسم علی شاہ کو آسمان سے اٹھا کر زمین پر دے مارا ہے ۔ قاسم علی شاہ کا یہ کہنا کہ عمران مغرورہے اور دوسروں کیلئے اسی دنیا میں جنت دوزخ کا فیصلہ کرنے والا ہے واقعتا یہ الفاظ قابل گرفت ہیں۔  اگر قاسم علی شاہ ان الفاظ کی بجائے بہتر الفاظ استعمال کرتا تو کارکنان کی درگت سے بچ جاتا ‘ اس کا یہ کہنا کہ پرویز الٰہی معاملہ فہم سیاست دان ہیاور شہباز شریف معتدل سیاست دان ہے ۔ عمران خان سے ان کا تقابل کرنا مناسب نہیں ہے ۔قاسم علی شاہ کے انٹرویوز کو کسی سازش کا حصہ قرار دینا خلاف حقیقت ہے ۔ایک موٹیویشنل سپیکر نے اپنی ذات میں چند مزید سنہری پر لگانے کی کوشش کی ہے۔ محترم ہارون الرشید سے لے کر  رئوف کلاسرا تک سب عمران خان کے خیر خواہوں نے بلاضرورت  انٹرویو کو زیادہ اہمیت دے دی ہے۔ عمران خان کو اگر مخالفین کا بدترین پروپیگنڈہ نقصان نہیں پہنچا سکا تو قاسم علی شاہ کس باغ کی مولی ہے ۔ اب ہم اگر پاکستان کی معاشی صورت حال پر غور کریں تو مایوسیوں کے سیاہ بادل ہم پر چھا ئے ہوئے ہیں ۔ پاکستان  کو کئی مرتبہ سنہری مواقع میسر آئے ہیں کہ ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔  امریکی کہتے ہیں کہ ہم نے گرانٹ کی صورت میں پاکستان کو 90بلین ڈالرز ادا کئے ہیں۔ گرانٹ کا مطلب قرض نہیں ہوتا بلکہ مدد اور خیرات ہوتی ہے ۔ امریکی گرانٹ کے حوالے سے ہمارا یہ کہنا ہے کہ ہم نے ساری گرانٹ کی رقم جنگ میں خرچ کر لی تھی ۔ہم اب تک صرف بیرونی دنیا کے 130 ارب ڈالر تک مقروض ہیں ۔ اب ہماری معاشی صورت حال اتنی مخدوش ہو چکی ہے سابق قرض کی بمع سود ادائیگی کئے دوبارہ کشکول گدائی دنیا میں گھما رہے ہیں ۔ اگر ہم بطور پاکستانی اپنے رویوں اور طرز عمل پر غور کریں تو ہمارا کوئی دنیا میں ثانی نہیں ہے۔ تکبر اور غرور ہمارے حکمرانوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ دنیا سے قرضے اور رعائتیں ہم اپنی مرضی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی شرائط پر لینا چاہتے ہیں۔
 یورپی یونین نے کمال مہربانی کرتے ہوئے پاکستانی برآمدکندگان کو جی پلس کا سٹیٹس برسوں سے دے رکھا ہے تاکہ پاکستان اپنی اشیا برامد کے ذریعے ان مارکیٹوں سے زیادہ سے زیادہ ڈالر کما سکے۔ ہمارے سیاسی اکابرین  سے زیادہ نام نہاد مذہبی اکابرین  یورپی یونیں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نے یوکرین اور روس کے مابین جنگ میں کسی کا ساتھ نہی دیا ہے اور غیر جانبدار رہ کر اپنی خارجہ پالیسی کو ازاد کر لیا ہے ۔اخلاقی اصولوں کے مطابق جارح ملک کی کسی حد تک مذمت کرنا بنتا تھا ۔پاکستان بھارتی جارحیت سے زخم خوردہ ملک ہے اس حوالے سے بھی ہم پر ذمہ داری تھی کہ ہم جارح ملک کی مذمت کرتے بے شک ملفوف اور ملبوس الفاظ میں کرتے۔ چین ہمارے لئے سی پیک لایا ہم نے سی پیک کو سست روی کا شکار کردیا۔(جاری ہے)
 


تازہ ترین خبریں

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ،  43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، 43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق