12:43 pm
سندھ بلدیاتی انتخابات اور پی ٹی آئی کی واپسی

سندھ بلدیاتی انتخابات اور پی ٹی آئی کی واپسی

12:43 pm

کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی  انتخابات کا دوسرا مرحلہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔بلدیاتی انتخابات کا یہ مرحلہ بے پناہ پس و پیش شش و پنج اور
کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی  انتخابات کا دوسرا مرحلہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔بلدیاتی انتخابات کا یہ مرحلہ بے پناہ پس و پیش شش و پنج اور اونچ نیچ سے گزر کر آیا۔ متعدد بار انتخابات ملتوی ہوئے کبھی بارش اور سیلاب کی وجہ سے کبھی سیکورٹی کے بہانے اور کبھی حلقہ بندیوں کے اِشکال کی بنا پر یہاں تک کہ ایم کیو ایم نے انتخابات کی رات بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کی ترغیب دی۔ قابلِ غور امر ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں ہوئی مگر بلدیاتی جمہوری اداروں کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ قومی سطح کی سبھی سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کی شراکت دار ہیں مگر جمہوریت کی بنیاد کہلانے والے نظام کے لئے ان جماعتوں کی بے دلی باعث حیرت ہے۔ بلدیاتی اداروں کے انتخابات سے قومی سیاسی جماعتوں کی بیزاری کی وجہ سوائے اس کے کیا ہو سکتی ہے کہ سیاسی مائنڈ سیٹ صوبائی اور قومی سیاست کے ڈھانچے میں بلدیاتی اداروں کو ناپسندیدہ شریک سمجھتا ہے اور اس کے لئے تقسیم اختیارات سے گھبراتا ہے۔ اس غیر حقیقت پسندانہ سیاسی رویے نے ملک میں جمہوری نظام  سیاسی قیادت عوامی حقوق اور شہری آبادی کی ترقی اور اصلاح کے معاملات کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ بلدیاتی نمائندے کسی قوم کے لئے سیاسی قیادت کی نرسری قرار دیے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں اس نظام کی جڑیں مضبوطی سے لگنے نہیں دی گئیں،چنانچہ ہم حقیقی سیاسی قیادت پروان چڑھانے کے اس متبادل نظام سے محروم ہیں اور اس کا نقصان عام شہری سے لے کر سیاسی جماعتوں تک محسوس کیا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کو حقیقی لیڈر شپ کے جس بحران کا سامنا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ملکی آبادی میں قریب 70 فیصد نوجوان ہیں مگر سیاسی قیادت میں نوجوانوںکا حصہ خاصا کم ہے اور جو نوجوان سیاست میں ہیں وہ بھی سیاسی تربیت کے مراحل سے کم ہی گزر کر آئے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں قیادت کے خلا کو جس انداز سے پُر کرنے کی روایت ہے وہ اپنے آپ میں غیر جمہوری طرزِ عمل ہے اور اس سے جمہوری روایت کی پاسداری کی توقع نہیںکی جاسکتی۔ ملک میں جمہوری ثقافت کو فروغ دینے کے لئے اس رویے کو تبدیل کرنا ہو گا۔ یہ تبدیلی ہماری قومی ترقی اور شہری حقوق کی رسانی کے لئے بھی ضروری ہے۔ بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ انعقاد اور جمہوریت کی نرسری کی نگہداشت ہمارے سیاسی ماحول کو اس تبدیلی سے ہم کنار کر سکتی ہے جو معیاری جمہوریت یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔اس کے لئے بلدیاتی انتخابات کو التوا میں ڈالنے کا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ جس طرح اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کو جواز بنا کر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد بھی انتخابات نہیں ہونے دیے یا کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی انتخابات کو مزیدالتوا میں ڈالنے کے جو حیلے کیے گئے  یہ رویہ جمہوری سوچ کا آئینہ دار نہیں۔ اگر اسلام آباد میں آبادی میں اضافہ ہوا تو حکومت نے یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کا عمل بروقت کیوں مکمل نہیں کر لیا یا کراچی میں حلقہ بندی پر جو اعتراض جڑے گئے اس معاملے میں کو کیوں بروقت سلجھایا نہیں جا سکا؟ سیاسی جماعتوں کو یہ سارے کام بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد ہی کیوں یاد آتے ہیں؟ بلدیاتی انتخابات کے معاملے میں سیاسی جماعتوں کو ذمہ دار رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی انتخابات آئین پاکستان کا تقاضا ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے قرار دیتا ہے کہ ہر ایک صوبہ مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی  انتظامی اور مالیاتی ذمہ داری اور اختیارات مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرے گا۔ آئین کی اس شق پر خوش دلی سے عملدرآمد یقینی بنا کر ملک عزیز میں سیاسی جمہوری بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اب آتے ہیں کالم کے دوسرے حصے کی جانب۔ تو قارئین کرام،پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور نگران سیٹ اَپ کے لئے قومی اسمبلی جانے کا عندیہ دیا گیاہے۔ گزشتہ برس اپریل میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے اجتماعی استعفوں کا اعلان کر دیا تھامگر استعفوں کا یہ معاملہ بذات خود ایک بڑا سیاسی تنازع بن گیا اور معاملات عدالتوں تک گئے۔ اسی مقدمے کے دوران22 دسمبر کو چیف جسٹس آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو پارلیمان میں واپس جاکر اپنا کردار ادا کرنے کا مشورہ دیاکہ عوام نے انہیں پانچ سال کے لئے منتخب کیا تھا اور پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی ارکان پارلیمنٹ کا اصل فریضہ ہے۔گزشتہ برس جولائی میں پی ٹی آئی کی جانب سے نیب ترامیم کے خلاف حکم امتناع کی درخواست سماعت کرتے ہوئے بھی عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کو یہی صائب مشورہ دیاکہ منتخب نمائندگان کی حیثیت سے پارلیمان میں یہ معاملات اٹھائیں کہ پارلیمان کا کوئی متبادل نہیں۔ جمہوری نظام میں حزبِ اختلاف کا کردار توازن اور محاسبے سے عبارت ہے۔ 
حزب اختلاف کا فریق جہاں حکومت کے کام کاج پر کڑی نظر رکھتا ہے وہیں درست فیصلوں میں رہنمائی بھی کرتا ہے۔ ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں حزبِ اختلاف اپنی یہ ذمہ داری پوری توجہ اور جانفشانی سے ادا کرتی ہے برطانیہ کی حزبِ اختلاف تو متبادل کابینہ بھی تشکیل دیتی ہے مگر ہمارے ہاں سیاسی دلچسپی کا محور حکومت سازی تک محدود ہے؛ چنانچہ حزبِ اختلاف کے مفید اور موثر کردار کی عدم موجودگی سے جو خلا پیدا ہوتا ہے اس کے اثرات پوری شدت کے ساتھ ہمارے ہاں موجود ہیں۔ اس کی بہت واضح صورت موجودہ حکومت کے دور میں دیکھنے میں آئی جسے پارلیمان میں موثر حزبِ اختلاف کا ساتھ نہیں مل سکا۔ ہر چند کہ مخالف سیاسی جماعت پارلیمان سے باہر پوری آب و تاب کے ساتھ متحرک رہی مگر یہ کردار حکومتی سطح پر قومی مفاد میں نہیں ڈھالا جاسکا نتیجے کے طور پر اس سال بھر میں ملکی معیشت پیداوار برآمدات سماجی اطمینان اور احساسِ تحفظ غرض تنزل کی ہمہ گیر صورت نظر آتی ہے۔ اگر مخالف سیاسی جماعت پارلیمان کے اندر رہ کر اپنا کردار ادا کر تی تو ممکنہ طور پر سیاسی بے یقینی کی صورتحال مختلف ہوتی۔ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کو خیر باد کہہ دینے کا فیصلہ بادی النظر میں پی ٹی آئی کے لئے مثبت سیاسی مضمرات کا حامل بھی نہیں لگتا اور اگر ایسا ہے بھی تو یہ سیاسی مفاد کسی جماعت کو عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دیتا، چنانچہ اس سال بھر کے دورانیے میں اگر ملکی مسائل میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری میں حزبِ اختلاف کی جماعت کو بھی اپنا حصہ قبول کرنا چاہیے۔ اب پی ٹی آئی اگر قومی اسمبلی میں کردار ادا کرنے کا عندیہ دے رہی ہے تو یہ سراسر سیاسی مفاد کی خاطر اٹھایا جانے والا قدم دکھائی دیتا ہے حالانکہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پی ٹی آئی کو بہت پہلے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت تھی۔ سیاسی دماغ لگانے کے لئے لوہا گرم ہونے کا انتظار کرتے ہیں مگر یہاں جو کچھ ہوا اس میں ذمہ داریوں سے فرار کے منفی اثرات بڑے واضح ہیں۔ آج پاکستان ایک برس پہلے کی پوزیشن سے بھی کہیں پیچھے جاچکا ہے۔ ملک دیوالیہ پن کے خطرے سے دوچار رہا عوام مہنگائی کی چکی میں پستے چلے گئے پاکستان کی صنعتی پیداواری صلاحیت دم توڑ گئی مگر ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے نبرد آزما رہیں۔ ملک کے ان ناگفتہ بہ حالات پر پارلیمان کے اندر سوال اٹھتے تو شاید کوئی حل بھی نکل آتا مگر بد قسمتی سے یہاں سب کچھ پارلیمان کے باہر ہوتا رہا۔ اب جبکہ خرابی کا عمل کافی شدت اختیار کر چکا ہے پی ٹی آئی کے لئے عدم اعتماد کی تحریک اور نگران سیٹ اَپ کے سوا پارلیمان میں دوسرا کوئی رول باقی نہیں رہ گیا۔
 


تازہ ترین خبریں

سپیکر میری مانیں تو اپوزیشن لیڈر بدل لیں ، فواد چوہدری کا پرویز اشرف کو مشورہ

سپیکر میری مانیں تو اپوزیشن لیڈر بدل لیں ، فواد چوہدری کا پرویز اشرف کو مشورہ

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ،  43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، 43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری