01:51 pm
عقیدہ ختم نبوتﷺ

عقیدہ ختم نبوتﷺ

01:51 pm

نبوت کے جس سلسلے کا آغاز حضرت آدم ؑسے ہوا تھا۔اس کا اختتام ہمارے آقا و مولا حضرت محمدﷺ پر ہوا،آپ کو خاتم النبیینﷺ کا تاج پہنایا گیا اور دین کو کامل و مکمل کر کے نبوت کے سلسلے کو آپﷺ پر ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا۔رسول اللہﷺ کی نبوت اتنی کامل ہے کہ جس میں قیامت تک کسی نئے نبی کی نہ ہی گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت ہے۔اس لئے رسول اللہﷺ کے بعد قیامت کی صبح تک نہ کسی کو شرعی نبوت دی جائے گی اور نہ ہی کسی کو غیر شرعی نبوت دی جائے گی۔یعنی رسول اللہﷺ کے بعد نبیوں کی تعداد میں کسی ایک نبی یا رسول کا اضافہ نہیں ہوگا۔ اسی عقیدے کو عقیدہ ختم نبوتﷺ کہا جاتا ہے، حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟؟ آپﷺ نے فرمایا:میں وہی اینٹ ہوں اور نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔‘‘ (مسلم:حدیث نمبر 5961) اللہ رب العزت نے نبوت کی ابتدا سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی او راس کی انتہا محمد عربی ﷺکی ذات اقدس پر فرمائی، آنحضرت ﷺپر نبوت ختم ہو گئی، آپ ﷺ آخر الانبیا ہیں، آپﷺ کے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا، اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدہ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کیے گئے ہیں اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتاآیا ہے، کہ آنحضرت ﷺ بلاکسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ،رحمت عالم ﷺ کی احادیث متواترہ (دو سودس احادیث مبارکہ)سے یہ مسئلہ ثابت ہے، ختم نبوت اسلام کے ان بنیادی اور اساسی عقائد میں سے ہے جن پر اسلام کی مضبوط اور مرتفع عمارت استوار ہے،قرآن وسنت، اجماع امت،تصریحات خلف اور تحقیقات سلف کی روشنی میں یہ بات قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ حضرت آدم سے شروع ہونے والا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا کرام کا مبارک سلسلہ آنحضرتﷺ پرختم ہوچکا اور اب آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قیامت کے درمیان اس سلسلے کا کوئی فرد نئی وحی کے ساتھ خلق کی طرف مبعوث نہیں ہو سکتا۔
یہ عقیدہ تمام عقائد اسلامیہ، توحید،رسالت، قیامت، قضا وقدر،وجود ملائکہ اور حقانیت کتب سابقہ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کی اسی اہمیت کی وجہ سے اس کا تحفظ تمام تر اصول دین سے زیادہ ضروری ہے۔عقیدہ ختم نبوت نے پوری امت مسلمہ کو وحدت کی لڑی میں پرویا ہوا ہے،رب کائنات کی طرف سے جب تمام زمین و زماں،مکین و مکاں اور سارا جہاں آنحضرت ﷺ کی نبوت عامہ کے تحت ہے اور قیامت تک کسی نئے نبی کی آمد اور بعثت کا تصور موجود نہیں تو نبی اور وحی ایک ہونے کی وجہ سے امت متحد اور متفق نظر آتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ ودفاع کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام ؓکی کل تعداد259 ہے۔ (رحمت للعالمین، ج2،ص:213) اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ودفاع کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ سیدنا صدیق اکبر کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعین کی تعداد بارہ سو ہے (ختم نبوت کامل، ص: 304، حصہ سوم)رحمت عالم ﷺ کی زندگی کا گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لیے جام شہادت نوش کر گئی، اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، انہی حضرات صحابہ کرامؓ میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجی ؓکی شہادت کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں،حضرت حبیب بن زید انصاریؓ کو آپﷺ نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب کو کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمدﷺ اللہ کے رسولؐ ہیں؟ حضرت حبیب نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ)بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیب نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں، تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے او رمسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا،حتیٰ کہ حبیب بن زید کی جان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کر دیا گیا۔ حضرت ابو مسلم خولانی جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے اور یہ امت محمدیہ(علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرما دیا ،جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آتش نمرود کو گلزار بنا دیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکاردو عالم ﷺ کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے، لیکن سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لیے مجبور کیا کرتا تھا، اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانیؓ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اوراپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلم ؓنے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمدﷺکی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلمؓ نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی، او ر حضرت ابو مسلمؓ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آگ کو بے اثر فرما دیا اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے، یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اوراس کے رفقاء پر ہیبت سی طاری ہو گئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلا وطن کر دو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروں کے ایمان میں تزلزل نہ آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلا وطن کر دیا گیا، یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہواکہ آفتاب رسالتﷺ روپوش ہو چکا ہے، آنحضرت ﷺ وصال فرماچکے تھے اور حضرت صدیق اکبرؓ خلیفہ بن چکے تھے، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبویﷺ کے دروازے کے پاس بٹھائی اوراندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کر دی، وہاں حضرت عمر ؓ موجود تھے۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے او رجب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو ان سے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابو مسلم ؓنے جواب دیا،حضرت عمر ؓنے فورا پوچھا اللہ کے دشمن (اسود عنسی)نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا اورآگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابو مسلم ؓنے فرمایا ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، اتنی دیر میں حضرت عمرؓ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی، انہوں نے فورا فرمایا میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابو مسلم خولانیؓ نے جواب دیا جی ہاں!حضرت عمرؓنے یہ سن کر فرطِ مسرت ومحبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبرؓ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہؐ کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔


تازہ ترین خبریں

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

ساڑھے 5 سال بعد سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

آل پارٹیز کانفرنس کیلئے حکومتی سنجیدگی حیران کن ، شاہ محمود قریشی

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

ضمنی الیکشن،چوہدری نثار کا اپنے بیٹےتیمور علی خان کو میدان میں اتار نے کا فیصلہ

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

میگا ایونٹ میں شریک ٹیموں ،آفیشلز کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ مل گیا،غیر ملکی کمنٹیٹرز ، مبصرین وی آئی پی قرار

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے گریبان پرہاتھ ڈالیں گے، شاہدخاقان عباسی کی دھمکی

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

بھارتی اداکارہ راکھی ساونت کے شوہر عادل درانی گرفتار

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ،  43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، 43پی ٹی آئی ا یم این ایز کے استعفےمنظور کرنے کا حکم معطل

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ، اموات آٹھ ہزار کے قریب ، بارش کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

آئی ایم ایف اور پی ڈی ایم حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے حقوق پامال کرنے کی تیاری کرلی، ہیومن رائٹس واچ کا انکشاف

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

پاکستان سے یومیہ 50لاکھ ڈالر افغانستان سمگل، بلوم برگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ ترکیہ ملتوی

سائنسدان2 ہزار  سال پرانی  نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

سائنسدان2 ہزار سال پرانی نباتی خاتون کا چہربنانے میں کامیاب ہوگئے

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

ہزاروں لوگوں نے رجسٹریشن کرائی،ہم جیل بھرو تحریک شروع کر چکے ہیں، فواد چوہدری

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق

الیکشن ایک ساتھ ہونے چاہیں،بار بار انتخابات سے ملک انتشار کا شکار ہوگا،خواجہ سعد رفیق