12:20 pm
حقوق نسواں اوراسلام

حقوق نسواں اوراسلام

12:20 pm

معاشرے کیلئے عورت کی اہمیت کااندازہ نپولین بوناپارٹ کے اس قول سے ہوتاہے’’تم مجھے اچھی مائیں دو،میں تمہیں اچھی قوم دوں گا‘‘۔ عورت کی گودمدرسے کی مانندہے،یہاں انبیاء نے بھی پرورش پائی،صدیقین وشہدانے بھی، مجاہد جرنیلوں اورغازیوں نے بھی‘ جوتاریخ میں اپنانام سنہری حرفوں میں ثبت کراگئے،اسی گودمیں پرورش پانے والوں نے چنگیزخان،ہلاکوخان اورہٹلربن کر،تاریخ انسانی میں ظلم کے سیاہ باب بھی رقم کئے۔
وہ خواتین جنہوں نے بعدمیں آنے والے تازہ ادوارمیں افغانستان، کشمیر، چیچنیا، بوسنیا، فلسطین اوراراکان میں محمودغزنوی،صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم اورٹیپوسلطان جیسے لاکھوں ’’دشمن کو بچھاڑنے والے‘‘ پیداکئے، دشمن کواس فکرمیں مبتلاکرگئیں کہ اگرمسلم خواتین ایسے ہی شیردل تیار کرتی رہیں تودنیاسے ان کے مقاصد کا بوریا بستر گول ہوجائے گا چنانچہ انہوں نے مسلم معاشروں میں جال پھینکنے کاپلان بنایااورخواتین کواحیائے اسلام کے راستے سے دورکرنے کیلئے،انہیں خانہ داری،بچوں کی تعلیم وتربیت اورمجاہد صفت افراد تیارکرنے کےکاموں سےبیزارکرکے آزادی نسواں کاشوشاچھوڑا۔ایسی تحریکیں وجود میں آئیں جوعورت کیلئے فطرت کے ودیعت کردہ کاموں کوعورت پرظلم اوراس کااستحصال قرار دینے لگیں۔ آزادی نسواں کے نام پرتفریخ ونشاط کی محفلیں سجانا شروع کیں،انہیں فیشن پرستی،بے پردگی کے بعدعریانی کی راہ پرگامزن کرناشروع کیا،چادراور چاردیواری کودورِقدیم کی علامت قراردے کراس قیدو بندسے باہرآنے کی راہ سجھائی جانے لگی۔وہ علامتیں جوعورت کی صفت وعصمت کی نگہبان تھیں، تہذیب ِجدید میں عورت کی آزادی کے نعروں کےشورمیں ان پرخوب فقرے کسے گئے۔ان کوعورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ اوردقیانوسیت قراردے کرعورت کوان سے نفرت دلائی گئی، پھرمساواتِ مردوزن کازہر گھول کر،معاشی ذمے داریاں بھی ان کے نازک کاندھوں پرڈالنے کی کوششوں کاآغاز ہوا۔یہ تہذیبِ ابلیس کاجال تھا، جس نے مسلم عورت کواپنے چنگل میں جکڑلیااور پھرٹی وی ،فلم اورڈش ایسے ہتھیارثابت ہوئے جن کی آمدکے بعدتہذیبِ جدیدکے نعرہ مساوات مردوزن کوکھل کھیلنےکاموقع ملا۔ مسلم عورت کوگھرسے باہرنکال کرشمع محفل بنانے اورمردکی برابری کی راہ سجھانےمیں مغرب کاہاتھ تھا۔اس کاخیال تھاکہ جب تک مسلم معاشروں کی عورت کونہ بگاڑاجائے اس وقت تک مسلم دنیاکااولاًخاندانی اورثانیاًمعاشرتی نظام نہ بگڑے گااورجب تک مسلم دنیا معاشرتی زبوں حالی اورٹوٹ پھوٹ کاشکارنہ ہوگی اس وقت تک’’نیوورلڈآرڈر‘‘کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتاچنانچہ ابتدائی اقدام کے طورپر’’خواتین کے حقوق وآزادی‘‘کے درپردہ’’خاتون بگاڑ‘‘ تحریکیں شروع کی گئیں اورمسلم خاتون کوبھی مغرب کی خاتون کی طرح استحصال کی راہ پرڈال دیاگیا۔اس آوازپر’’روشن خیال‘‘بیگمات نے لبیک کہا،عورت سے متعلق قوانین اسلامی پر تنقیدیں کی گئیں ، اپنی مرضی کی تاویلیں ایجادکی گئیں، عورت پرعائداسلامی حدودوقیود(جوحقیقت میں صنف ِنازک ہونے کے ناتے، بعض ذمے داریوں سے اسے عہدہ براکرتے ہیں،اوربعض احتیاطوں کا پابندبناکراسے شرف ومرتبہ عطا کرتے ہیں) کو عورت پرظلم قراردیاگیا،اوراسلامی لبادہ جو خود انہوں نے اتارکردورپھینک دیاتھادیگرخواتین کو بھی اسے اتارپھینکنے کامشورہ دے کرمغرب کے اس پروگرام کوبڑھ چڑھ کرکامیاب بنایا۔مغرب کی جس عورت کی پیروی کی راہ پرمسلم عورت کو گامزن کیاجارہاہے کیاوہ کامیاب ہے؟ یورپ کی خواتین کی آزادانہ سرگرمیوں سے متاثرہوکر،تہذیبِ جدیدمیں آزادی نسواں اور مساوات،مردوزن کے نام پرعوت کو گھر چھوڑ کر باہرکی راہ اختیارکرنے کی جوترغیب دلائی جارہی ہے وہ راہ مغرب کی عورت نے اس وقت اختیارکی تھی جب وہاں صنعتی انقلاب برپا ہوا۔ اشیاکی قیمتیں بڑھیں توکم آمدنی والے افرادکیلئے گزارہ کرنامشکل ہوگیا۔اس عالم میں عورت کسبِ معاش میں مردکاہاتھ بٹانے کیلئے میدان میں نکل کھڑی ہوئی۔ابتدامیں اس نے محسوس کیاکہ اسے پہلے کی بہ نسبت معاشرے میں حیثیت ومقام حاصل ہواہے۔اس نےمعاشی کاموں سے مردکو سہارادیناشروع کیااوردوسری طرف معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے لگی۔ابتدا کے یہ خوشگوارنتائج جب انتہائی درجے کوپہنچے تو ان کی صورت انتہائی مسخ ہوچکی تھی، جب عورت نے گھربارچھوڑکرمعاش ومعاشرت کو ترجیح دیناشروع کی تووہ انتہائی تلخ حقائق سے دوچارہوئی ۔ اب فطرت کے عائد کردہ کام یعنی بچوں کی پرورش اورتعلیم وتربیت تواسے کرناہی تھےمگرجب مردکی برابری اختیارکرکے فطرت کی مشیت کی نفی کی اورمعاش جیساکام بھی ازخود اپنے کاندھوں پراٹھایا تو اسے معلوم ہونے لگاکہ اسے مردکی برابری کے دھوکےمیں مردکےمقابلے میں دوہری ذمے داریاں اداکرناپڑرہی ہیں چنانچہ اس کے بعدوہ مادرانہ ذمے داریوں سے گریزکی راہ اختیارکرنے لگی جس کانتیجہ یہ برآمدہواکہ مغربی معاشرہ تتربترہوگیا۔اب مغربی گھرویران مگر سڑکیں،کلب،ہوٹل اوردفاتربارونق ہو گئے، بچے ماں کی ممتا سےمحروم ہوکرجب بےبسی کی زندگی گزارتےہیں تووہ’’بےحس‘‘ تیار ہوتے ہیں۔ بیماربوڑھے والدین ہمدردی کے دوبول کوترستے ہیں، مشرقی معاشروں کی طرح انہیں ’’تراشیدہ ہیرا‘‘سمجھ کراہم خاندانی معاملات میں ان سے رائے طلب نہیں کی جاتی،نہ ان کو’’قیمتی گوہر‘‘کی حیثیت دی جاتی ہے،بلکہ جوانی میں عیش ونشاط سے بھرپورزندگی گزارکرجب وہ بڑھاپےکی جانب گامزن ہوتاہے تواسے غیرضروری قرار دے کر’’اولڈایج ہومز‘‘کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ خاندانی نظام تلپٹ ہوگیاہے،افرادِخانہ کے مابین محبت والفت کے جذبات کوئی معنی نہیں رکھتے۔گھرکے سکون کوٹھوکرمارکرجب عورت باہر نکلی توہزاروں ہولناک نگاہوں کاشکارہوئی۔ بےحیائی عام ہوئی اورپھرایسی بے حیاتہذیب نے جنم لیاکہ شرافت کالبادہ تار تارہوگیا۔ماد ی ونفسانی خواہشات کی دوڑسے بھرپورمگرالفت ومحبت سے عاری اس جرائم زدہ معاشرے کے بچوں میں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔بچے اپنی تنہائیوں کاغم’’منشیات‘‘‘ سے مٹاتے ہیں یاوالدین ان پریہ احسان کرتے ہیں کہ انہیں ’’چائلڈ کیئر سینٹرز‘‘ میں داخل کرکے اپنی خلاصی کرلیں۔ عورت کسی بھی موقع پرہمدردی کی مستحق نہیں ہوتی۔ مغربی مردآج بھی یہی چاہتے ہیں کہ عورت ہرمعاملے میں ان کاصادرکیاہواحکم تسلیم کرے اور ہرحال میں گھریلواورمعاشی ذمے داریاں ادا کرے۔ (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں

توشہ خان، نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی  عمران خان سے 12 سوالات کا جواب مانگ لیا

توشہ خان، نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے 12 سوالات کا جواب مانگ لیا

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر  بل منظور ،حق میں 60 اور  مخالفت میں صرف 19 ووٹ پڑے

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور ،حق میں 60 اور مخالفت میں صرف 19 ووٹ پڑے

مذاکرات کی راہ میں  صرف ایک فریق رکاوٹ  ، ہمیں میثاق جمہوریت پر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا  ، راناثنا اللہ

مذاکرات کی راہ میں صرف ایک فریق رکاوٹ ، ہمیں میثاق جمہوریت پر مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا ، راناثنا اللہ

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں  الیکشن  کا معاملہ ،  سماعت کرنے والا  سپریم کورٹ کا  لارجر بینچ ٹوٹ گیا

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کا معاملہ ، سماعت کرنے والا سپریم کورٹ کا لارجر بینچ ٹوٹ گیا

لاہور ہائی کورٹ نے  بغاوت کے  قانون کی شق 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیدیا

لاہور ہائی کورٹ نے بغاوت کے قانون کی شق 124 اے کو آئین سے متصادم قرار دیدیا

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل  کا معاملہ ، پی ٹی آئی نے مخالفت کا اعلان کردیا

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کا معاملہ ، پی ٹی آئی نے مخالفت کا اعلان کردیا

لکی مروت تھانہ صدر پر دہشت گردوں کا حملہ ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید، ملزمان فرار

لکی مروت تھانہ صدر پر دہشت گردوں کا حملہ ، ڈی ایس پی سمیت 4 اہلکار شہید، ملزمان فرار

امریکی تحفظات کے باوجو د ،سعود ی  عرب  شنگھائی تعاون تنظیم  کا رکن بنے گا

امریکی تحفظات کے باوجو د ،سعود ی عرب شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنے گا

توشہ خانہ کیس،عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور ،سماعت29 اپریل تک ملتوی

توشہ خانہ کیس،عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور ،سماعت29 اپریل تک ملتوی

عدلیہ کے حوالے سے حکومتی قانون سازی کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں، لطیف کھوسہ

عدلیہ کے حوالے سے حکومتی قانون سازی کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں، لطیف کھوسہ

عدلیہ سے متعلق قانون سازی کا از خود نوٹس کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اعترازاحسن

عدلیہ سے متعلق قانون سازی کا از خود نوٹس کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اعترازاحسن

پاکستان میں قانو ن کی حکمرانی نہیں ، ملک فسطائیت کی طرف دھکیل دیا، عمران خان

پاکستان میں قانو ن کی حکمرانی نہیں ، ملک فسطائیت کی طرف دھکیل دیا، عمران خان

خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

حکومت ملک میں خانہ جنگی چاہتی ہے ،یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا، شیخ رشید

حکومت ملک میں خانہ جنگی چاہتی ہے ،یہ کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا، شیخ رشید