12:43 pm
قومی اتفا ق رائے کی ضرورت ہے

قومی اتفا ق رائے کی ضرورت ہے

12:43 pm

آرمی چیف جناب عاصم منیر نے کور کمانڈر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے (پیر کے روز) کہاہے کہ اس وقت ملک انتہائی نازک دور سے گزرہاہے۔ اضطراب اور بے چینی ہرسونظرآرہی ہے
آرمی چیف جناب عاصم منیر نے کور کمانڈر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے (پیر کے روز) کہاہے کہ اس وقت ملک انتہائی نازک دور سے گزرہاہے۔ اضطراب اور بے چینی ہرسونظرآرہی ہے‘ اس صورتحال کاتدارک کرنے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ ان کی کور کمانڈر کے اجلاس میں گفتگو عوام کے دلوں کی ترجمانی کررہی ہے۔ کیونکہ جب تک پاکستان میں ملک کے سیاسی وسماجی حالات کے پس منظر میں قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوگا‘تو اس وقت تک نہ تو ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکے گا اور نہ ہی ملکی معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی ترقی کرسکتی ہے۔ دراصل افواج پاکستان کو اس بات کاخطرہ ہے کہ اگر یہ سیاسی عدم ا ستحکام جاری رہتاہے تو اس صورتحال سے ملک دشمن عناصر پورا پورا فائدہ اٹھاسکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں ایسا ہوا ہے۔
میرے خیال کے مطابق پاکستان کی اکثریت پاکستان میں امن چاہتی ہے انہیں اس بات کاشدید احساس ہے کہ اگر سیاستدانوں کے درمیان اس ہی قسم کی رسہ کشتی جاری رہی تو ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔ جس کا نہ تو ملک متحمل ہوسکتاہے اور نہ ہی وہ طبقات جواس ملک کو مستحکم اور اس کی بقا کی خاطر دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں‘ایسا چاہتے ہیں ‘یہ آرمی کے جوانوں اور عوام کے درمیان باہمی حب الوطنی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گرد کسی بھی جگہ کا میاب نہیں ہوسکے اور آئندہ بھی نہیں ہوسکیں گے۔ لیکن اگر سیاستدان آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر موجودہ صورتحال کاذمہ دار قرار دیتے رہیں گے توقومی اتفاق رائے کی حب الوطنی پرمبنی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی۔اس لئے ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں کو ٹھنڈے دل سے سوچناچاہیے کیونکہ پاکستان ہے توہم ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے مولانا فضل الرحمن صاحب کا مدرسوں کے بچوں کے ساتھ دھرنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ کومتنازع بنادیاگیا تو پھر انصاف اور قانون کے تقاضے کون پورے کرے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر تنقید تو ہوسکتی ہے لیکن اس تنقید کی آڑ میں سیاسی انتشار پیداکرنا ملک کو تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف ہوگا۔ مثلاً مریم صفدر اپنے والد نوازشریف کی ایما اور ہدایت پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے‘ حالانکہ ان کا یہ مطالبہ نہ تو کسی قسم کاقانونی حیثیت کاحامل ہے ا ور نہ ہی یہ مطالبہ پاکستان کے عوام کی جانب سے کیا جارہاہے نیز یہ مطالبہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی بھی کررہی ہے جو مدرسوں کے بچوں کو جمع کرکے سپریم کورٹ کے سامنے لائی ہے۔ ماضی میں بھی مولانا صاحب ان ہی بچوں کے ’’ لشکر‘‘ کو لے کر عمران خان کی حکومت کے خلاف اسلام آباد میں جمع ہوئے تھے ‘اب تاریخ ایک بار پھر اس منظر کامشاہدہ کررہی ہے‘ لیکن اس دفعہ مولانا صاحب یہ سب کچھ ایک ’’ اسکرپٹ‘‘ کے تحت کررہے ہیں کیونکہ پاکستان کے باشعور افراد اس ناقابل تردید حقیقت سے واقف ہیں کہ نوازشریف اپنے مفادات کے لئے مولانا کو استعمال کررہاہے‘ جبکہ مولانا ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایسے امور انجام دینے لگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیاست کوہی نقصان پہنچ رہاہے اور مملکت خداداد کوبھی ۔
 تاہم مولانا فضل الرحمن اور مریم صفدر کو شائد اس حقیقت کاادراک نہیں ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے مطالبے پر  سپریم کورٹ یا پھر کسی کورٹ کے جج کو ہٹایانہیں جاسکتاہے۔ پاکستان میں تو کیا دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے‘اگر’’ سیاسی دبائو‘‘ کی وجہ سے ایسا ہوجاتاہے تو پھرعدالتیں کبھی بھی آزادی سے کام نہیں کرسکیں گی۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ حکومت کے اندر کچھ افراد موجودہ صورتحال کومزید خراب کرنے کی تہیہ کرچکے ہیں ‘ ان کی ٹی وی  پر تبصروں سے اس حقیقت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ عناصر پاکستان میں استحکام پیداکرنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ انتشار اور سیاسی عداوت کوہوا دے رہے ہیں ۔ چنانچہ اگر قومی اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش نہیں کی گئی جیساکہ آرمی چیف نے کورکمانڈر اجلاس میں کہاہے توپھر اس صورت میں ہم سب کو اس کے منفی نتائج نہ چاہتے ہوئے بھی بھگتنے کے لئے تیارہوجاناچاہیے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ باشعور افراد تباہی کے ضمن میں نوشتہ دیوار پڑھ رہے ہیں‘ لیکن اس کا تدارک کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔ یہ بڑے دکھ اورملال کی بات ہے۔ بقول احمدفراز
اب اگلے زمانے کے ملیں لوگ تو پوچھیں
جو حال ہمارا ہے‘ تمہارا بھی کبھی تھا؟
 

تازہ ترین خبریں

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے چیف الیکشن کمشنر سے قوم سے معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے چیف الیکشن کمشنر سے قوم سے معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

اڈیالہ جیل میں قیدی کے قتل سے متعلق جیل حکام کیجانب سے بیان جاری 

اڈیالہ جیل میں قیدی کے قتل سے متعلق جیل حکام کیجانب سے بیان جاری 

 وکرم سنگھ پرپاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام ، بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا

 وکرم سنگھ پرپاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام ، بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا

عمران خان اسمبلی پہنچ گئے؟سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا ،دیکھیں

عمران خان اسمبلی پہنچ گئے؟سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا ،دیکھیں

سی ڈی اے کی جانب سے دارالحکومت میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے کام تیز 

سی ڈی اے کی جانب سے دارالحکومت میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے کام تیز 

بلوچستان اسمبلی، عبدالخالق اچکزئی اسپیکر اور غزالہ گولہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے

بلوچستان اسمبلی، عبدالخالق اچکزئی اسپیکر اور غزالہ گولہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کےسینیٹر ز سینیٹ نشستوں سےمستعفیٰ 

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کےسینیٹر ز سینیٹ نشستوں سےمستعفیٰ 

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

صدر نے منتخب ایم این ایز کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا 

صدر نے منتخب ایم این ایز کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا 

  کسی بھی  احتجاج کی اجازت نہیں، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل، سیکیورٹی الرٹ جاری

کسی بھی احتجاج کی اجازت نہیں، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل، سیکیورٹی الرٹ جاری

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے الیکشن کا شیڈول تبدیل، کب ہو گا ؟ دیکھیں خبر میں

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے الیکشن کا شیڈول تبدیل، کب ہو گا ؟ دیکھیں خبر میں

 جعلی مشروبات تیارکرنے والی مشہور برانڈ کی فیکٹری پر چھاپہ،خوفناک انکشافات

 جعلی مشروبات تیارکرنے والی مشہور برانڈ کی فیکٹری پر چھاپہ،خوفناک انکشافات

58 فیصد پاکستانیوں کیجانب سے 8 فروری کا  پولنگ کاعمل کو شفاف قرار، سروے رپورٹ دیکھیں

58 فیصد پاکستانیوں کیجانب سے 8 فروری کا  پولنگ کاعمل کو شفاف قرار، سروے رپورٹ دیکھیں

پاور ڈویژن نے بجلی ترسیل کیلئے ترکی کا ماڈل اپنانے کا فیصلہ کر لیا 

پاور ڈویژن نے بجلی ترسیل کیلئے ترکی کا ماڈل اپنانے کا فیصلہ کر لیا