01:00 pm
صدر‘ چیف جسٹس‘ آرمی چیف کا اجتماعی کردار

صدر‘ چیف جسٹس‘ آرمی چیف کا اجتماعی کردار

01:00 pm

14مئی کا بہت مشکل دن ترکیہ میں انتخاب کی مصروفیت اور پاکستان میں عدم انتخابات کی مصروفیت میں گزر ہی گیا ہے۔ بہت ہفتے پہلے اہل تصوف اور اہل نجوم 14 مئی کے دن کو بہت متنازعہ‘ اختلافی‘ غیر نتیجہ خیز بتاتے رہے ہیں۔ ترکیہ میں بہت عمدہ صدارتی مقابلے ۔ طیب اردوان بظاہر اخلاقی طور پر توجیت ہی چکے ہیں مگر آئینی طور پر نہیں۔ آئینی طور پر انہیں28مئی کو دوبارہ انتخابی دنگل میں کودنا ہوگا۔ یہی فرق ہے اخلاقیات و سیاسیات اور آئینی حدود و قیود کا۔ پاکستان میں بھی اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سچ مچ ہو جاتے تو بھی وہ غیر موثر ہی رہتے‘ اس کے نتائج مکمل طور پر متنازعہ ہوتے‘ کسی کو بھی اکثریت حاصل نہ ہو پاتی اور یوں ساری انتخابی مشق ضائع ہی جاتی۔ یوں انتخابات کا نہ ہونا اس سے بہتر رہا جتنا ہو جانے کے بعد سرپھٹول اور نیا بھنور اور نئی دلدل کی صورت میں ہوتا ہے۔
جہاں عمران خان کی شخصی قوت ارادی ‘ قوت عمل‘ استقامت کا مکمل اعتراف رہا ہے وہاں یہ بھی اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ وہ مدبر سیاست دان‘ دور اندیش اور مستقبل راہنما نہیں ہیں ان میں صبر موجود نہیں۔ صرف حکمران بن جانا ہی تدبر اور فراست کی واضح علامت نہیں ہے حکومت تو اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے (پہلے صدر سکندر مرزا پھر صدر جنرل ایوب کی خوشامد کرکے) بھٹو نے بھی لے لی تھی وہ اگر مدبر سیاست دان‘ دور اندیش وژن کے حامل ہوتے تو یحییٰ خان کو شراب و شباب کے کنویں میں اتار کر شیخ مجیب کا دشمن نہ بناتے اور خود انہیں ڈھاکہ پر حملہ آور ہونے کی شہ بھی نہ دیتے۔ خود بھی اس وقت اقتدار ہرگز نہ لیتے۔ تدبر و فراست اگر محض اقتدار میں آجانے سے مل جاتا تو نواز شریف اسٹیبلشمنٹ‘ خاکی مدد سے ‘ آئینی مدد سے بھی‘ کتنی بار اور مدت اقتدار میں آتے رہے مگر بعد ازاں کبھی جنرل جہانگیر کرامت‘ کبھی جنرل جنجوعہ‘ کبھی پرویز مشرف‘ کبھی راحیل‘ جنرل باجوہ سے بار بار سینگ نہ پھنساتے‘ ممبئی واقعہ میں بھارتی زبان نہ بولتے‘ بلکہ پاکستانی اور اسلامی مفادات کے جو ’’ان کہے‘‘ تقاضے رہے ہیں انہیں دیکھ کر خاموش رہتے‘ جس طرح حافظ محمد سعید بہت سی ناراضگیوں کے باوجود بھی مستقل خاموش ہیں۔ خدا ان مظلوموں کی مدد کا سامان پیدا فرمائے۔ (آمین) چیف جسٹس عمر بندیال مکمل طور پر آئینی چیف جسٹس ہیں۔ وہ جسٹس کیانی کا دلیرانہ آج کا روپ ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے جسٹس اطہر من اللہ کا بطور چیف جسٹس ہائی کورٹ بہت ہی عمدہ معیار‘ کردار رویہ رہا ہے۔ افسوس ان کے بعد یہاں کافی زیاد ہ انحطاط اور زوال آچکا ہے اس کی ایک مثال عمران خان کا ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر سے جبری طور پر اغوا کنندگان کے ہاتھوں میں اسیر ہو جانا تھا۔ چیف جسٹس عمر بندیال نے اس حوالے سے بعد ازاں جو کچھ بھی کیا ہے اس میں مکمل طور پر آئینی‘ سیاسی‘ اخلاقی عدالتی بہت معیاری‘ عمدہ تاریخ مرتب ہوئی ہے۔ 14 مئی کے دن سپریم کورٹ کے باہر مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز نے جو کچھ بھی کر دیا ہے اور کہہ دیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ جبکہ میری التجاء نما خواہش اور درخواست ہے کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس14مئی کے دن انتخابات نہ کرانے کی توہین عدالت کی سزا وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے ان ارکان کو ہرگز نہ دیں جن کی زبانیں سپریم عدالت اور ہائی کورٹ کے خلا ف زہر اگلتی رہی ہیں اور آگ برساتی رہی ہیں ‘ معیاری اخلاقی سیاست کو نیست و نابود کرتی رہی ہیں ۔ چیف جسٹس درگزر سے کام لیں‘ صبر کریں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور عوام کے سپرد کر دیں اور خود بھنور‘ دلدل سے نکلنے اور پاکستان و عوام کو نکالنے کے لئے ایک دوسرے آئینی چیف ‘قانونی ‘ اخلاقی طور پر دست اور برحق منصب رکھتے ہیں۔ ان میں اتفاق رائے‘ مفاہمانہ سوچ کا آنا بند گلی اورآپس میں سرپھٹول کرتی سیاست میں شائد کوئی نئی کھڑکی‘ نیا روشن دان کھول دے جہاں سے روشنی‘ امید‘ راستہ ‘ حل اچانک سامنے آجائے۔ ورنہ تو سب کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر جنرل عاصم منیر ذاتی وسیاسی مقاصد نہ بھی رکھتے ہوں، انہیں ذاتی اقتدار کا شوق بھی نہیں تو کم ازکم وہ جنرل وحید کا کڑ تو ضرور بن سکتے ہیں۔ آپس میں لڑتے حکمرانوں اور اپوزیشن کے شر سے قوم کو کچھ مد ت کے لئے نجات دلاسکتے ہیں۔ شٹ اپ کہہ سکتے ہیں۔ اخلاقی اور سیاسی انداز کا مختصر مدت کاغیر محسوس انداز کا نئے انداز میں ڈنڈا گھماتا نئی فضا‘ نیا ماحول نافذ کرسکتے ہیں اور ایسا کرنے سے پہلے انہیں ایک دوسرے آئینی‘ قانونی اخلاقی چیف (عمر بندیال) کو لازماً محبت سے‘ پیار سے‘ التجاء کرکے ہمسفر بنانا ہوگا۔ اس وقت تین آئینی کردا ر ہیں ۔ پہلا صدر مملکت عارف علوی کا‘ دوسرا چیف جسٹس عمر بندیال کا‘ تیسرا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا۔ یہ تینوںو ہ شخصیات ہیں جنہیں ’’مریخ‘‘ کی حاکمانہ انوکھی فیصلہ سازی کی قوت‘ مدد‘ حمایت آج حاصل ہے۔ اگر یہ تینوں مل جائیں تو ہمارے لئے روشنی‘ امید کی نئی دنیا آباد کرسکتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کے کندھوں پر وزن‘ بوجھ‘ ذمہ داری تو بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس وقت بھی لامحدود نہیں جنرل ایوب‘ جنرل ضیاء‘ جنرل مشرف کا طرح کا۔ عمران خان اور اس کی پارٹی کے لوگ بہت سے معاملات میں غلط ہیں۔ آرمی تنصیبات پر عوامی غیض و غضب کا اظہار‘ سیاسی عدم فراست کا بھی آئینہ دارہے۔ بطور خاص ایم ایم عالم کے طیارے اور شہدائے کی علامات کے حوالے سے‘ عمران خان اور ان کے سنجیدہ فکر رفقاء کو اس حوالے سے غیر مشروط طور پر بہت مثبت ‘ تعمیری رویہ‘ کردار پیش کر دینا چاہیے ان کی ذاتی سیاسی ضرورت بھی آج یہی ہے کہ وہ فوج ‘ عسکری‘ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے مثبت ‘ تعمیری رویہ اپنائیں۔ دونوں چیفس اور صدر پاکستان مل کر کچھ مدت کے لئے مکمل غیر سیاسی ‘ مختصر ترین نئی کابینہ کا بہت عمدہ گلدستہ تیار کرکے قوم کو دے دیں۔ نئے انتخابات کچھ مدت بعد ماحول‘ فضا‘ ٹھنڈی اور صاف ہو جانے کے بعد آپشن بنائیں۔ امریکی نژاد‘ زلمے خلیل زاد کون ہوتے ہیں ہمارے اندرونی معاملات میں بیان بازی کرنے والے‘ مداخلت کرنے والے اور آرمی چیف کے حوالے سے نامناسب سے مطالبات کرنے والے؟

تازہ ترین خبریں

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے چیف الیکشن کمشنر سے قوم سے معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے چیف الیکشن کمشنر سے قوم سے معافی مانگنے اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

اڈیالہ جیل میں قیدی کے قتل سے متعلق جیل حکام کیجانب سے بیان جاری 

اڈیالہ جیل میں قیدی کے قتل سے متعلق جیل حکام کیجانب سے بیان جاری 

 وکرم سنگھ پرپاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام ، بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا

 وکرم سنگھ پرپاکستان کے لیے جاسوسی کا الزام ، بھارتی فوج نے گرفتار کر لیا

عمران خان اسمبلی پہنچ گئے؟سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا ،دیکھیں

عمران خان اسمبلی پہنچ گئے؟سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا ،دیکھیں

سی ڈی اے کی جانب سے دارالحکومت میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے کام تیز 

سی ڈی اے کی جانب سے دارالحکومت میں پانی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے کام تیز 

بلوچستان اسمبلی، عبدالخالق اچکزئی اسپیکر اور غزالہ گولہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے

بلوچستان اسمبلی، عبدالخالق اچکزئی اسپیکر اور غزالہ گولہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کےسینیٹر ز سینیٹ نشستوں سےمستعفیٰ 

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کےسینیٹر ز سینیٹ نشستوں سےمستعفیٰ 

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

صدر نے منتخب ایم این ایز کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا 

صدر نے منتخب ایم این ایز کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا 

  کسی بھی  احتجاج کی اجازت نہیں، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل، سیکیورٹی الرٹ جاری

کسی بھی احتجاج کی اجازت نہیں، وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ العمل، سیکیورٹی الرٹ جاری

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے الیکشن کا شیڈول تبدیل، کب ہو گا ؟ دیکھیں خبر میں

اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے الیکشن کا شیڈول تبدیل، کب ہو گا ؟ دیکھیں خبر میں

 جعلی مشروبات تیارکرنے والی مشہور برانڈ کی فیکٹری پر چھاپہ،خوفناک انکشافات

 جعلی مشروبات تیارکرنے والی مشہور برانڈ کی فیکٹری پر چھاپہ،خوفناک انکشافات

58 فیصد پاکستانیوں کیجانب سے 8 فروری کا  پولنگ کاعمل کو شفاف قرار، سروے رپورٹ دیکھیں

58 فیصد پاکستانیوں کیجانب سے 8 فروری کا  پولنگ کاعمل کو شفاف قرار، سروے رپورٹ دیکھیں

پاور ڈویژن نے بجلی ترسیل کیلئے ترکی کا ماڈل اپنانے کا فیصلہ کر لیا 

پاور ڈویژن نے بجلی ترسیل کیلئے ترکی کا ماڈل اپنانے کا فیصلہ کر لیا