01:08 pm
آخری حل ، صرف ڈائیلا گ

آخری حل ، صرف ڈائیلا گ

01:08 pm

قا رئین کرام، گذ شتہ دنوں وطنِ عز یز کو جس ہولنا ک صورتِ حال کا سا منا کرنا پڑا، ا س نے خانہ جنگی جیسی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی تحریک انصاف (پی ٹی آئی)ہے جو صحیح یا غلط ، ہر طریقے سے اقتدار پر قبضے کیلئے بے تاب ہے تو دوسری طرف اتحادی (پی ڈی ایم)ہے جو ملک کو پی ٹی آئی کی دستبرد سے بچانے کیلئے اپنی دانست کے مطابق تمام آئینی و انتظامی اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ اس افسوسناک رسہ کشی سے ملک کو جو خطرات لاحق ہو چکے ہیں وہ قوم کیلئے لمحہ فکریہ اور باعث تشویش ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو ملنے والے ریلیف کے خلاف حکومت کی اتحادی جماعتوں (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی جمعیت علمائے اسلام نے عدالت عظمیٰ کے سامنے احتجاج کیااور دھرنا دیاجس کا مقام تبدیل کرنے کے سلسلے میں مولانا سے حکومتی وزرا کے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ حکومت کو انٹیلی جنس ذرائع نے خبردار کیا تھا کہ ریڈزون میں آمد اور عدالت کے عین سامنے دھرنے میں دہشت گرد اور شر پسند عناصر بھی جگہ بنا سکتے ہیں اس لئے دھرنے کا مقام تبدیل کیا جائے۔
حکومت کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی اور جمعیت کے قافلے ریڈ زون میں داخل ہو گئے۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور دوسری جماعتوں کے کارکنوں کے قافلے بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے۔ تاہم صورتحال سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات بھی کر لئے گئے۔ دھرنے کے روز عمران خان سمیت کچھ تو سیاسی لیڈروں کے چیختے چنگھاڑتے بیانات ذرائع ابلاغ کی زینت ہیں جو افراتفری میں اضافے کر رہے ہیں اور کچھ حکومت کی طرف سے 9مئی کو دفاعی اداروں اور قومی اثاثوں پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں، شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں کی پکڑ دھکڑ کی خبریں ہیں۔ جی ایچ کیو ،لاہور میں کور کمانڈرہائوس جو قائد اعظم کی ملکیتی عمارت ہے کو نذر آتش کر کے عظیم قائد کی قیمتی یادگار اشیا بھی راکھ کر دی گئیں۔ ریڈیو پاکستان پشاور کی بلڈنگ اور متعدد دوسری اہم عمارت کے علاوہ مختلف شہروں میں پولیس کی درجنوں گاڑیاں جلانے کے ملزموں کی شناخت اور پکڑ دھکڑ کی خبریں بھی اخبارات اور نشری اداروں کی زینت ہیں۔ اسی روز پارلیمنٹ کے اجلاس میں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی تحریک منظور کی گئی اور سپریم کورٹ کی طرف سے 14مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کرانے کے حکم کے بارے میں الیکشن کمیشن کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے فریقین کو دوبارہ مذاکرات کرنے کی ترغیب دی اور سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔ ایک تشویش ناک خبر یہ بھی ہے کہ پشاور میں قومی عمارتوں اور اثاثوں پر حملوں میں ملوث گرفتار شدگان میں افغان باشندے بھی شامل ہیں جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کے لیڈروں نے پیسے دے کر توڑ پھوڑ کرنے کیلئے کہا تھا، اس ناگفتی صورتحال میں امن و امان کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جو عملی طور پر پی ٹی آئی پر مشتمل ہے ملک بچانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت تو اس مقصد کیلئے اپنے موقف میں لچک کے اشارے دیتی رہی ہے مگر عمران خان کا رویہ عدالت عظمیٰ سے رعائتیں ملنے کے بعد مزید جارحانہ ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جس طرح ماضی میں سیاسی کشمکش ختم کرانے کیلئے نوابزادہ نصر اللہ خان اور سردار عبدالقیوم خان بیچ بچائو کراتے رہے ہیں اور متحارب فریق ان کی باتوں کو وزن بھی دیتے رہے، آج ان جیسی کوئی شخصیت ملک میں نہیں۔ ملک کی سلامتی قوم کا مفاد اور عوام کی پریشانیوں کا حل اس وقت وسیع تر مفاہمت اور صلح جوئی میں ہے۔ سیاسی فریقین کو چاہئے کہ وہ قوم و ملک کے مفاد کو اپنی ذاتی انائوں پر قربان نہ کریں اور مذاکرات کے ذریعے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر موجودہ حالات کو معمول پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔تاہم ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی سربراہی میں گزشتہ روز خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا ۔ حالیہ دنوں ملک کوکئی مہیب واقعات کا سامنا کرنا پڑاہے جس میں سب سے بھیانک واقعات مسلح افواج کی تنصیبات اور املاک پر حملوں اور افواجِ پاکستان کے شہدا سے منسوب یادگاروں کی بے حرمتی کے ہیں۔ سیاسی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات پر پاک فوج کا غم و غصہ جائز اور منطقی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سیاسی اشتعال انگیزی کے ان واقعات کا مقصد افواجِ پاکستان کو بدنام کرنا اور ردِعمل پر اکسانا تھا مگر پاک فوج کی جانب سے 9 مئی کے روز کی انتہائی اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل اور برداشت کا مظاہرہ افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ اعلیٰ تربیت اور نظم وضبط کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ایسے واقعات میں مسلح اہلکار انفرادی سطح پر بھی انتہائی ردِعمل کا مظاہرہ کر گزرتے ہیں مگر انتہائی اشتعال انگیزی کے باوجود افواجِ پاکستان کا میچور رِسپانس قابلِ داد ہے۔یہ تحمل اپنی جگہ سیاسی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں رونما ہونے والے وحشیانہ عمل کے منصوبہ سازوں محرکین اور ان گھناونے واقعات میں ملوث افراد کو ان کے کیے کی سخت سزا دلانا بھی ضروری ہے۔ اس قسم کے انتہا پسندانہ واقعات پر سخت قانونی کارروائی ریاست اور سماج کے امن اور سلامتی کیلئے ضروری ہے کیونکہ ریاست اور سماج کا توازن پائیدار قیامِ امن سے ممکن ہے ۔اگر سیاسی پریشر گروپ اپنے جتھے لے کر ریاست کے اداروں پر چڑ ھ دوڑیں اداروں کی بے توقیری کا سبب بنیں اور زمین پر فساد برپا کریں تو ریاست کا نظام برقرار رکھنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ قومی ادارے کسی ریاست کا طاقت کا مظہر ہوتے ہیں یہی طاقت سماجی امن و امان اور افراد کے حقوق کا دفاع کرتی ہے۔ جو ریاست اس شکوہ سے محروم ہوجائے شکست و ریخت کا سلسلہ وار عمل اس کا مقدر بن جاتا ہےچنانچہ 9 مئی کے افسوسناک واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ اس پہلو سے بھی اہم ہے کہ ریاست کے استحکام اور بقا کیلئے یہ ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر یہ اندیشہ رد نہیں کیا جاسکے گا کہ کل کلاں کوئی اور جتھا اٹھے اور ریاست کی علامتوں پر بلوہ کر دے ۔ ان ممکنہ خطرات کو محسوس کرتے ہوئے ان کا تدارک آج کرنا ہو گا اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ریاست اس کیلئے متحرک ہوجائے ۔اس تناظر میں خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس کا یہ فیصلہ برمحل معلوم ہوتاہے کہ نو مئی کو فوجی تنصیبات اور املاک کے خلاف گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو ریاست کے متعلقہ قوانین بشمول پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اس طرح قوی امید ہے کہ شر پسندی کے واقعات میں ملوث عناصر اپنے کیے کے انجام کو پہنچ سکیں گے اور ان کے انجام سے دوسرے عبرت پکڑیں گے۔ افواجِ پاکستان نے اب تک جس تحمل کا مظاہرہ کیا خبردار کرنے کیلئے یہ کافی ہونا چاہیے اب کسی بھی حالت میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنیوالے مجرموں یا حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے کسی تحمل کا مظاہرہ نہ کرنے کی پالیسی معقول معلوم ہوتی ہےمگر اس سے عوام کو خبردار کرنے کیلئے حکومت کو کچھ اقدامات کرنا چاہئیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی شخصیات اپنے اثر و رسوخ یا عوام کو چھوٹا موٹا مالی فائدہ پہنچا کر اپنے سیاسی مقاصد کیلئے فٹ سولجر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے سماج میں جہاں آبادی کا بیشتر حصہ معاشی مشکلات کا شکار ہے اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے سیاسی شعور بھی کم ہے سیاسی اثر و رسوخ ذاتی مجبوری یا معمولی مفاد کی وجہ سے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہو جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتاچنانچہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر سے عوام کو خبردار کرے اور محتاط رہنے کی تلقین کی جائے تا کہ کوئی دھوکے میں نہ مارا جائے اور اشتعال دینے والے بعد ازاں ان کی لاشوں پر سیاست نہ کرسکیں۔قوم اس وقت جس ہیجانی صورتحال میں مبتلا ہے اس کا ایک حل تو شرپسندی کو کچلنے میں ہے اور دوسرا سیاسی بے چینی کو حل کرنے میں۔ شرپسندی کی بیخ کنی تو قانون کے نفاذ سے موثر طور پر ہو جائے گی مگر ریاست میں صورتحال کو نارمل کرنے کا دوسرا بنیادی تقاضا ہم آہنگی پیدا کرنے اور سیاسی عدم استحکام کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے سے پورا ہو گا۔

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں