02:48 pm
ایم ایس سی پاس’’خطیب انحراف!‘‘

ایم ایس سی پاس’’خطیب انحراف!‘‘

02:48 pm

میری عادت ہے کہ میں کسی کو نظر انداز نہیں کرتا۔ میرا واسطہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے رابطہ کرنے والے قسم قسم کے لوگوں سے پڑتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو فقط وقت ضائع کرنے والے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کام کے بھی نکل آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اکثریت یہ سوال ضرور پوچھتی ہے کہ ’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب قسم کا سوال گفتگو کے آغاز ہی میں وہ لوگ بھی پوچھ لیتے ہیں، جن سے آپ کی بالکل پہلی بار بات ہو رہی ہوتی ہے۔ مجھے اس سوال سے انتہائی چڑ ہے ایک تو یہ سوال لایعنی سا ہے دوسرا یہ ذو معنی اور مبہم بھی ہے کہ آپکو پتہ ہی نہیں چلتا کہ پوچھنے والا کاروبار کے بارے میں پوچھ رہا ہے یا وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس وقت آپ کیا کر رہے ہیں؟
ان دونوں صورتوں میں بعض اوقات آپ جو کر رہے ہوتے ہیں وہ بتانے کے قابل بھی نہیں ہوتا یا آپ سچ بولتے بھی ہیں تو آگے سے جواب میں وہ صرف یہ لکھتے ہیں، ’’اچھا!‘‘ اس رولے کے باوجود ان رابطہ کرنے والوں میں کچھ لوگ اعلی تعلیم یافتہ اور آپ کے کام کے بھی نکل آتے ہیں۔ چند روز پہلے ایک 31سالہ اکبر علی نامی (فرضی نام ہے) لڑکے نے رابطہ کیا جس نے بتایا کہ اس نے پنجاب یونیورسٹی سے طبیعات میں ایم ایس سی کی ہے۔ اس نے اپنا تعارف بڑے مرعوب اور پراثر انداز میں کروایا اور ساتھ ہی میسنجر پر اپنی یونیورسٹی کی ڈگری بھیج دی۔ اس لڑکے کی گفتگو بڑی مدلل اور عالمانہ لگ رہی تھی۔ وہ لڑکا اتنا چالاک تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ مجھے واٹس ایپ پر لے آیا۔ میں اس وقت انتہائی مصروف تھا۔ اس کے باوجود اس نے کم و بیش مجھے پندرہ بیس منٹ تک اپنے ساتھ جوڑے رکھا۔ لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ’’مجلس‘‘ پڑھتا ہے’’چلے‘‘ لگاتا ہے’’دم درود‘‘ کرتا ہے’’کل‘‘ اور ’’چالیسویں‘‘ وغیرہ پر جاتا ہے اور بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کرتا ہے۔ یہ میرے لئے ایک حیران کن انکشاف تھا! اس کے ثبوت میں اس نے مجھے اپنی تقریروں کے اشتہارات اور ویڈیوز وغیرہ بھی بھیجیں۔ اس کی تقاریر روایتی قسم کی جذباتی تقاریر تھیں جس پر اجتماع میں موجود لوگ عموماً عش عش کر اٹھتے ہیں۔ آپ گوگل کریں تو آپ کو ’’مولوی ٹوکا‘‘ اور اس انداز کے دوسرے بہت سے جذباتی قسم کے مقررین مل جائیں گے جو ایسی جگہوں پر مجمع لوٹنے کا فن جانتے ہیں۔ حالانکہ وہ عموماً مدرسوں کے پڑھے ہوتے ہیں یا وہ سرے سے ان پڑھ ہوتے ہیں۔ یہ ساری واردات ڈالنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا ’’گزشتہ برس میرے والد گرامی انتقال کر گئے تھے ایک ماہ بعد ان کی برسی ہے جس پر وہ ایک بڑا مذہبی اجتماع کروانا چاہتے ہیں۔‘‘ اس نے مجھے بتایا کہ اس اجتماع پر 4لاکھ سے 5لاکھ روپے خرچ آئے گا جبکہ اس کے پاس تین لاکھ روپے ہیں۔ تب اس نے مجھ سے دو لاکھ روپے اس نیک کام میں حصہ ڈالنے کے لئے مانگ لیئے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ وہ لڑکا واقعی فزکس میں ایم ایس سی ہے یا نہیں۔ تاہم ہمارے درمیان بہت سے ایسے طلبا ہیں جو اپنی تعلیم اور قدرتی صلاحیتوں کے برعکس پیشوں میں کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اصل تعلیم اور پوٹینشل سے ’’انحراف‘‘کرتے ہیں!ہمارے ہاں ’’کنڈر گارٹن‘‘ سکولوں کا کوئی تصور نہیں جہاں ماہرین نفسیات بچوں کی تربیت اور مستقبل کی منصوبہ بندی ان کی بنیادی ذہانت کے مطابق کر سکیں۔ اگرچہ یہ بات میرے لئے اتنی نئی اور حیرت انگیز نہیں جتنی میرے لئے یہ بات حیران کن ہے کہ ایک طالب علم نے فزکس میں ایم ایس سی پاس کی اور اس نے سائنس دان بننے، نئی تھیوریز تخلیق کرنے یا محض پروفیسر بن کر رزق حلال کمانے کی بجائے اسلام کے کسی ایک مسلک یا فرقے کا روایتی پرچارک بننے کو ترجیح دی اور اسی کو اپنا پیشہ بنا لیا!! اکبر علی بلا کا ذہین تھا، وہ موقع کی مناسبت سے گفتگو کرتا رہا۔ میں نے جب ’’مذہب‘‘ ’’سائنس‘‘ اور ’’مسلم احیا‘‘کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا، ’’مذہب کی تجدید نہ ہوئی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے‘‘ وہ مذہبی دھونس، دھاندلی اور انتہا پسندی سے نالاں نظر آیا۔ اس نے کہا مذہبی معاشرے دنیا بھر میں غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ہمارے ہاں گھٹن کا ماحول ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم مذہب کی تشکیل نو کریں۔ اس کے یہ خیالات بہت سنجیدہ تھے جن سے میں متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے سوچا وہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود آخر اس کام میں کیوں آیا ہے؟ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ مہینے کے کتنے روپے کما لیتا ہے تو اس نے بتایا کہ وہ ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تک آسانی سے کما لیتا ہے۔ آغاز میں ایک فزکس کا لیکچرر سرکاری کالج یا یونیورسٹی میں بھرتی ہو کر کتنی تنخواہ لیتا ہو گا؟ شائد زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار سے نوے ہزار ہو گی۔ اگر اس طرح تقریریں اور وعظ کرنے، جلسے اور مجلسیں پڑھنے سے اسے ہر ماہ چار سے پانچ لاکھ روپے ملتے ہوں تو بھلا وہ ’’لیکچرر شب‘‘ میں کیوں یخ مارے گا چاہے اس سے مذہبی منافرت اور فرقہ واریت ہی کیوں نہ پھیلتی ہو۔ میری اکبر علی سے دو روز قبل بات ہوئی تھی۔ آج میں اتفاقا ًاس موضوع پر یہ کالم لکھ رہا تھا کہ اس نے مجھے دوبارہ میسج کیا اور اپنے اگلے پروگرام کا اشتہار واٹس ایپ کر دیا جس میں تاریخ اور وقت درج تھا۔ اس نے مجھے بڑے خلوص سے دعوت دی کہ میں بھی اس کے پروگرام میں شرکت کرنے آئوں۔ وہ ایم ایس سی پاس کا ناٹک کر رہا تھا یا وہ واقعی یہ ڈگری رکھتا تھا؟ وہ جس ’’کنفیوزڈ سوسائٹی‘‘ میں رہتا ہے شائد اپنے اس پیشے کی حقیقت وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔