01:19 pm
بابوئوں سیاستدانوں کےوعدے اورلوٹ مار

بابوئوں سیاستدانوں کےوعدے اورلوٹ مار

01:19 pm

انتخابی مہم کے دوران بجلی یونٹ مفت دینے کی بات ہوتی رہی ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ۲۰۱۸ سے ۲۰۲۳ تک پانچ سالوں کے دوران صو بہ بلو چستان میں بابو اور سرکاری افسران ،نیزمختلف محکمہ جات کے ملازمین اور سیاستدان آپس کی ملی بھگت سے سات کھرب ستائیس ارب روپے ہضم کر گئے۔ پوچھتا ہوں کہ کیااس ملک کا کوئی والی وارث نہیں؟ اور یہ بجلی مفت دینے کےوعدے کن سے کر رہے ہیں؟ ان ہی سے تو جن کا پیسہ جن کا حق انہوں نے بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر صوبے، ہر شہر ، ہر دیہات میں لوٹا ہے۔ اچھا چلیں مان لیا کہ یہ اپنے وعدوں پہ عمل کریں گے مگر کوئی پوچھے کہ کیا آئی ایم ایف اپنا بوریا بستر اُٹھا کرچلاجائے گا؟ کیا قرضے ختم ہوجائیں گے اور دودھ و شہد کی نہریں بہنے لگیں گی؟ آخر ہوگا کیا کہ جس کی بنیاد پرایسےوعدے کیےجارہےہیں؟ اورذرازراعت کا بھی سن لیجئے ۔ سب جانتے ہیں کہ ہماری زراعت کادارومدار موسمیاتی تبدیلی پہ ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں موسمیاتی تبدیلی کے لیے مناسب بجٹ نہیں رکھا جاتا۔کئی جگہوں پر اب اولے کئی گنا بڑے پڑے، یہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے دو شعبوں آبی ذخائر اور زراعت پر بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ تیسرے ملک کے طور پرسامنےآیاہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہماری زراعت کا شعبہ بہت پیچھےچلا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے ہمارے نہری نظام کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارے یہاں بیجوں پرکوئی تحقیق نہیں ہورہی ہے۔ آنے والے وقت میں پانی کے ریزروائر ختم ہوجائیں گے، گلیشئر ختم ہوجائیں گے۔ بیس برس بعد ہماری آبادی چالیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہے اور مزدوروکسان مسائل سے عاجز آکر اپنی جان دے رہے ہیں۔ غربت کا سلسلہ چل رہا تھا اور چل رہا ہے اور یہ سلسلہ نہ رک رہا ہے اور نہ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پھر بھی دعویٰ یہ کیاجارہاہے کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے، ترقی کررہا ہےحالانکہ ترقی صرف بابو،جاگیردار اور سرمایہ دار کررہے ہیں۔
ہمارے تعلیمی ڈھانچے کےجو نتائج سامنے آرہے ہیں وہ افسوسناک ہیں اور المناک صورتحال یہ ہےکہ ہماراتعلیمی نظام لارڈمیکالے کابنایا ہوا جو صرف نظام کے کلرک پیدا کرتا ہے۔ سرمایہ داری نظام معیشت معاشرے میں ایک خاص طبقے کی اجارہ داری قائم کر کے 98 فیصد طبقے کو محروم معیشت بناتا ہےاور یہ نظام سماج میں غربت و افلاس اور بیروزگاری پیدا کرتا ہے، سوسائٹی کو آگے بڑھانے کے بجائے عالمی سامراج کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتا ہے۔ اصل مسائل سے فرار ہمارا مجموعی مزاج بن چکا ہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سب اچھا کی رٹ ہے اور عوامی مسائل کاحل کسی کےپاس نہیں۔ عوام کےاندر پیداہونےوالی یہ بے چینی کی کیفیت، مایوسی کایہ عالم اوردلوں میں پلنےوالا یہ غم و غصہ کس انجام کو پہنچے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اگر بروقت اس جانب توجہ نہیں دی گئی اور اس مسئلے کے سد باب کے لیے سرکارکی سطح پرکوشش نہیں کی گئی، توخدشہ ہے کہ یہ حالات ملک کی تصویر نہ بدل دیں۔ تمام سیاسی لیڈروں کی ناکامی کی بڑی وجہ ہمارا انتخابی نظام ہے جو جاگیر دارانہ اورسرمایہ دارانہ ہے۔ اس انتخابی نظام میں صرف وہی لوگ منتخب ہو سکتے ہیں جن کے پاس کروڑوں روپے ہوں۔ مالدار امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرکے ایوانوں میں پہنچتے ہیں، لہٰذا ان کی پہلی ترجیح عوام نہیں بلکہ مال اور آنے والے انتخابات ہوتے ہیں۔ وہ پانچ سال انتخابات پر خرچ کیے ہوئے مال کو دوگنا، تین گنا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات پر عوام کے اربوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ عدالتی اور پولیس اصلاحات کسی سیاسی رہنما کے خطاب کا موضوع نہیں بنتا۔ عوام کو حشرات الارض سمجھ لیا گیا جن کا مسئلہ صرف پیٹ کی بھوک ہے گویا پچاس سال پہلے کی سیاست بھی اسی نکتے کے گرد گھوم رہی تھی اور آج کی سیاست کا محور بھی یہی نکتہ ہے۔ عوام ان سیاست دانوں کے نزدیک مٹی کے مادھو ہیں، جنہیں لایعنی اور بے معنی وعدوں سے بہلایا جا سکتا ہے۔ بابو اورسیاست دان بھی یہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں جھوٹے وعدوں پر کوئی گرفت نہیں ہوتی ہے، اس لیے وعدے کرتے جاؤ اور عوام کےزخموں پرنمک چھڑکتےرہو۔ عوام نےانھی میں سے سامنے آنے والے لوگوں کو ووٹ دینا ہے جب ہر سیاسی جماعت ایک سے بڑھ کر ایک خوشنما خواب دکھانے لگے تو عوام کہاں جائیں۔ اُن کی چکا چوندسے متاثر نہ ہوں تو کیا کریں۔ پاکستان کے جمہوری سیاسی نظام میں عوام محض انتخابات کے دوران ہی شریک سفر نظر آتے ہیں پھر اس کے بعد عوام اور ان کے منتخب کردہ حکمرانوں کے درمیان ایک نہ عبور ہونے والی دیوار حائل ہوجاتی ہے۔ اقتدار اور بیوروکریسی کی بےحس راہ داریوں میں حکمرانوں کو عوام، ان سے کیے گئے وعدے اور دکھائے جانے والے سارے خواب یاد نہیں رہتے۔ اقتدار کی ان دیکھی بہت ساری مجبوریاں عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے بن جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے شہر انفرااسٹرکچر کی عدم دستیابی کے باعث گونا گوں مسائل کا شکار ہیں۔ اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور غربت ہے اس لیے اُن سے نجات کےلیےوعدے کیےجارہے ہیں، پاکستان میں سیاسی جماعتیں عموماً بلند و بانگ دعوے کرتی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کرنا مشکل ہوتا ہے، درحقیقت دنیا جمہوری سیاست کو عمومی طور پر عوامی مفادات کے تحفظ کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں عوامی بہبود اور ریاستی ترقی کے منصوبوں کے ساتھ عوامی حمایت کے حصول کے لیے انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ اکثریت کی حمایت مل جانے پر حکومت کی تشکیل کرتی ہیں اور پھر اپنے منشور اور وعدوں کے مطابق حکومتی دورانیے میں ان کی تکمیل کرتی ہیں۔ جمہوری سیاسی نظام میں انتخابات کےموقع پر سیاسی جماعتوں، بالخصوص حکمران سیاسی جماعتوں کا سیاسی اورعوامی احتساب ان کے منشور اور وعدوں کی روشنی میں کیاجاتاہےمگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہ ہی وہ موقع ہے جس میں عوام کو اپنے اور ریاست کے بہتر مستقبل کے لیے ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کراپنے سیاسی شعور کو بروئےکار لانا ہوگا سیاسی قائدین سے ان کے وعدوں کی روشنی میں ان کا محاسبہ کر نا ہوگا۔ یہ روایت ایک بار بھی اگر جڑ پکڑ جائے تو یقین جانیے پھر سیاسی قائدین کی جانب سے کیے جانے والے وعدے محض وعدے نہیں رہیں گے بلکہ ان کا پورا کیا جانا بھی ضروری قرار پائے گا۔ سیاسی لیڈر اتنے بڑے بڑے وعدے تو کر رہے ہیں لیکن عوام اور میڈیاان سے پتہ کریں کہ بڑے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ سیاسی لیڈر جو مرضی وعدے کرتے رہیں جب تک آئی ایم ایف کا معاہدہ برقرار ہے یہ اپنی مرضی سے سبسڈی تک نہیں دے سکیں گے۔ منصوبوں کے لیے خطیر رقم چاہیے۔ قرض تو پہلے ہی اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کی قسط دینے میں ہمارا بجٹ متاثر ہوجاتا ہے۔ عوام کو سہولت دینا ہرحکومت کی یقینی طور پرترجیح ہوتی ہے۔ ماضی میں حکومتوں نے کئی وعدے پورے کیے بھی ہیں، لیکن بیشتر صرف وعدے ہی رہ گئے عملی طور پر کسی کو کچھ نہیں مل سکا۔ گزشتہ 15 سال کے دوران کسی قومی یا صوبائی اسمبلی نے مفاد عامہ کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی، اگر انتخابی نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو اگلے انتخابات میں بھی روایتی چہرے اور ان کی اولادیں ہی منتخب ہوکر آجائیں گے اور عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں