01:21 pm
برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

01:21 pm

بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں آباد یہودی قبائل دس محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے بحیرۂ قلزم پار کیا تھا اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اس میں غرق ہوا تھا جس سے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک یہودی عالم نے امیر المومنین حضرت عمرؓ سے کہا کہ آپ کے قرآن کریم میں ایک آیت ایسی ہے کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اسے عید کا دن بنا لیتے۔ پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے تو اس نے کہا ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ والی آیت جس میں دین کو مکمل کر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کریمہ یوم العرفہ یعنی حج والے دن نازل ہوئی تھی اور وہ دن جمعہ کا دن تھا۔ گویا ہمارا تو وہ پہلے سے ہی عید کا دن ہے۔
یہ ایک خوشگوار تاریخی حقیقت ہے کہ ۱۹۲۴ء میں اسلام کے نام پر چار صدیوں سے قائم عالمی ریاست ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کے خاتمہ کا اعلان کر کے ریاست اور مذہب کا جو رشتہ بظاہر توڑ دیا گیا تھا اس کے بعد ربع صدی سے بھی کم وقت میں یہ رشتہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے عالمی منظر پر دوبارہ پوری دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوگیا تھا۔ اس لیے ۱۴ اگست کا دن ہمارے لیے یوم آزادی بھی ہے اور اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کی تجدید کا دن بھی ہے۔ اور ان دونوں حوالوں سے ہمیں اس سال چودہ اگست کے تاریخی موقع پر اپنے عزم و ارادہ اور عمل و کردار کا جائزہ لیتے ہوئے تجدید عہد کے مرحلہ سے گزرنا ہے۔ آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں، اور ہم قومی خواہش اور مسلسل اجتماعی کوشش کے باوجود اسے اپنی گردن سے اتارنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو کام اور فیصلے پہلے وائسرائے اور وزارت امور ہند کے ٹائٹل کے ساتھ ہمارے کھاتے میں ڈالےجاتے تھے وہ اب عالمی کنونشنز اور بین الاقوامی قوانین کے عنوان سے ہمارے گرد اپنا حصار تنگ کرتے جا رہے ہیں اور ہماری پاس بے بسی کے ساتھ ان کے پیچھے گھسٹتے چلے جانے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔ نہ صرف بین الاقوامی معاملات بلکہ قومی اور داخلی امور میں بھی ہماری قومی خودمختاری سوالیہ نشان کی زد میں ہے اور اب تو یہ معاملات ’’ریموٹ کنٹرول‘‘ سے بڑھ کر ’’روبوٹ کنٹرول‘‘ کے دائرہ میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی قسم کی صورتحال ریاست، سوسائٹی اور عقیدہ و تہذیب کے باہمی تعلق کی بھی ہے۔ اب سے پون صدی قبل ہماری زبانوں پر عام طور پر یہ باتیں ہوتی تھیں کہ ہم ایک الگ عقیدہ رکھتے ہیں، ہماری تہذیب دیگر ہم وطنوں سے مختلف ہے اور ہم اپنی قومی و معاشرتی زندگی کو اپنے عقیدہ، دین اور تہذیب و ثقافت کے دائرے میں از سرِ نو تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کے لیے الگ وطن ہماری قومی ضرورت ہے، اور ہم ایک الگ اور آزاد ریاست کے بغیر اپنے ملی و قومی مقاصد کی طرف پیشرفت نہیں کر سکتے لیکن جب اس بنیاد پر ایک الگ ریاست قائم ہو گئی اور متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرا لینے کے بعد ہم نے اپنے نئے آزاد ملک کے دستور کی بنیاد بھی انہی مذکورہ مقاصد و عزائم کے حوالہ سے طے کر دی تو اب ہمارے دماغوں میں یہ سوال گھسیڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا اسلامی تہذیب کا کوئی الگ وجود بھی ہے؟ اور کیا مذہب و عقیدہ کا سوسائٹی اور ریاست کے ساتھ کوئی تعلق بھی ہوتا ہے؟ حتیٰ کہ اس قسم کے بے ہودہ سوالات کے لیے ذہنوں میں جگہ بنانے کی خاطر ہم نے قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ جیسے مخلص قائدین پر یہ الزام لگانا بھی ضروری سمجھ لیا ہے کہ وہ اگر اسلام کا نام لیتے تھے اور تحریک پاکستان میں اسلامی تہذیب و تمدن اور عقیدہ و ثقافت کا اکثر ذکر کرتے تھے تو ریاست اور سوسائٹی ان کے پیش نظر نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ صرف مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ باتیں کہہ دیا کرتے تھے، اور وہ اسلام کے نام پر اسی قسم کی نئی لامذہب ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھے جو نوآبادیاتی تسلط کے نتیجے میں ہمارے اردگرد دنیا میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں