01:22 pm
اسلام یامغربی جمہوریت؟

اسلام یامغربی جمہوریت؟

01:22 pm

(گزشتہ سے پیوستہ) ’’یہ لوگ رسالتِ محمدیہؐ پرایمان لاکرحلقہ مومنین میں شامل ہوئے ہیں ،انہیں اسلام نے ایک امت قراردیا ہے‘‘ (سورۃ البقرہ ۔۱۴۳) ’’بعدازاں انہیں آپس میں تفرقہ پیداکرنے یعنی فرقوں اورپارٹیوں میں بٹ جانے سے منع فرمادیا ہے‘‘۔ (سورۃ آل عمران ۔۱۰۳) نیزمغربی جمہوریت میں عوام اقتداراکثریتی پارٹی کے نمائندگان کوتفویض کرتے ہیں لیکن اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اوروہ اپنااقتدار کسی نمائندہ کوتفویض نہیں کرتا۔چنانچہ اس حقیقت کی وضاحت کیلئے خودزبان نبویؑ سے کہلایا گیاکہ : ’’کیاتم لوگ چاہتے ہوکہ میں خداکے سواکسی اورحاکم کی طلب اورجستجوکروں حالانکہ اس نے اپنی کتاب نازل کردی ہے‘‘(سورۃ انعام۱۵)۔
اس مقام پرواضح ہوجاتا ہے کہ خداکی حکومت کے معنی اس کی کتاب کی حکومت ہے توپھر خداکی حکومت کیلئے انسانی نمائندگی یاخدائی اختیارات کی تفویض کانظریہ خودبخودباطل ہوجاتا ہے۔مزید وضاحت کیلئے ان سادہ مثالوں پر آپ ذراغور فرمائیں توبات اورکھل کرسامنے آجائے گی کہ اسلام ایک خداکی حاکمیت کاقائل ہے جب کہ جمہوریت کابنیادی فلسفہ اکثریت کی جماعت کی حکمرانی ہے۔ اسلام رسالت کے ذریعے ہدایت الٰہی کاعلمبردار ہے ،جمہوریت ہدائت الٰہی کے فلسفے کوسرے سے تسلیم نہیں کرتی بلکہ ہرقسم کی قانون سازی اوراس کے نفاذکواپناحق سمجھتی ہے۔اس کے نزدیک دعویٰ ،جوابِ دعویٰ کے ٹکراؤ سے جونتیجہ درآمدہوتا ہے بس وہی نسخۂ ہدائت ہے جوزمانے کے ساتھ پیہم بدلنے والی چیزہے۔ اسلام آخرت میں خداکے سامنے دنیاواعمال کی جوابدہی پر اپنے سارے نظام فکرکی بنیادرکھتا ہے‘ جمہوریت سرے سے آخرت‘جزاوسزا، جنت ودوزخ کوتسلیم ہی نہیں کرتی۔اسلام تمام انسانوں کوبنی آدم ؑ کی اولادکی حیثیت سے مساوی اوربھائی بھائی قراردیتا ہے جبکہ جمہوریت انسانیت کوکئی طبقوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف لڑنے اورختم کرنے پرابھارتی ہے۔ انسان اخلاقی قدروں کوانسانی حسن کالازمی جزوقرار دیتا ہے لیکن جمہوریت اخلاق کواضافی اورقابل ترمیم واضافی چیز سمجھتی ہے۔اسلام معاشرے میں مردواورخاندان کو بنیادی اہمیت دیتا ہے ،جمہوریت انہیںتحلیل کرکے ایک ریاستی معاشرے میں بالکل بکھیردیتی ہے۔الغرض یہ دو الگ الگ طرزِ حیات ہیں اوران میں باہمی بنیادی طور پر کوئی بھی قدرمشترک نہیںکہ ان میں باہمی جوڑ لگایا جاسکے۔ اس کھلی ہوئی متناقض اصطلاح کواختیارکرنے اورالحاد کے ساتھ ایمان کاجوڑلگانے کی ایک مجبوری ان حضرات کیلئے کچھ مقامی حالات بھی ہوتے ہیں ۔جن قوموں میں انہیں اقتدارپرقبضہ کرناہوتا ہے ان کے عوام اپنے دین ومذہب سے جذباتی لگاؤ اورتعلق رکھتے ہیں ۔یہ وہی مجبوری ہے جوایک مسلمان قومی لیڈر کولاحق ہوئی تھی تواس نے اپنی بے پردہ بیگم سے کہاتھا کہ ہمیں جس علاقے کادورہ کرناہے وہاں تمہیں برقعہ اوڑھناپڑے گااورجب بیگم نے اپنی روایتی بے پردگی کے سبب یہ رجعت پسندی اختیار کرنے سے انکارکردیا تواس نے دباؤ ڈالتے ہوئے صاف کہہ دیا تھاکہ’’یہ تمہیں بہرصورت کرناپڑے گاکیونکہ وہاں کے لوگ بہت متشدد مذہبی ہیں‘‘۔ گویا خدا اوررسول کاحکم یااسلامی شعاراس وقتی پردے کاباعث نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی ضرورت تھی جوبرحال وقتی طورپرمقامی حالات کے مطابق پوری ہونی چاہئے تھی ۔ ایسے لوگ نہ تواسلام کاحقیقی علم رکھتے ہیں ،نہ اسے ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے دیکھتے اورتسلیم کرتے ہیں اورنہ ان کے خیال میں اسلام دنیاکے مسائل کاکوئی حل پیش کرتا ہے،اس لئے زمانے کی چلتی ہوئی کسی بولی کاپیوند اسلام کے ساتھ لگا کروہ اپنی قوم کو بھی خوش رکھناچاہتے ہیں اورزمانے کی ہواکے رخ پربھی اڑناچاہتے ہیں تاکہ کوئی انہیں قدامت پسند اور’’جامدملا‘‘خیال نہ کرے۔ان کا حال یہ ہوتا ہے اگر زمانے میں آمریت کارواج ہو جائے تواسلام کے اندرسے خدا اوررسول کی اطاعت کے ساتھ اولیاء الامر کی اطاعت کے وجوب کی دفعہ نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں اوریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سارااسلام آمریت ہے اور خلفاء راشدین بھی تمام آمرتھے اوراگرزمانے میں اشتراکیت کاغلبہ ہوجائے تویہ بھی حضرت ابوذر غفاریؓ کے تقویٰ وبے نفسی کی مثال سامنے لاکرمالی مساوات اور’’ارض اللہ‘‘کاٹکراپیش کرکےقومی ملکیت کاتصورسامنے رکھ دیتےہیں کہ دیکھو اسلام تو سراسر اشتراکیت ہی ہےاوراگر اشتراکیت میں تھوڑاساخوفِ خداشامل کردیاجائے تو بالکل خالص اسلام بن جاتا ہے۔اگر سوشلزم کی بات چل پڑےتو اسلام کی رفاہی عوامی خدمات کی کچھ مثالیں سامنے رکھ کراسلام کوجدیدسوشلزم کاقدیم ایڈیشن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس پربس ذراسی نظرثانی کی ضر ورت ہے اوراگرجمہوریت کاچرچاہو تومساوات انسانی اورخلفاء پرتنقید کی مثالیں بتاکر اسے مغربی جمہوریت کامکمل چربہ ثابت کردیتے ہیں۔یہ پوزیشن بالکل ویسی ہے جوسپٹنک کے فضائی خلامیں اڑنے پرہندوستان کے برہمنوں نے کوئی ویددکھاکراختیارکی تھی کہ ویدمیں سپٹنک کاثبوت موجودہےجہاں جنگ مہابھارت میں بھیم کے ہاتھ سے پھینکے ہوئے ہاتھی کاذکرموجودہے جواتنی بلندی پرگیاکہ خلاء میں جاداخل ہوااوراب تک خلاء میں پروازکررہاہے۔ سب جانتےہیں کہ اسلام خودایک مکمل نظام زندگی ہے اوربس اس کاآخری ایڈیشن لانے والے وہ آخری نبیؐ ہیں جواسے تمام انسانی ضرورتوں کیلئے آخری نسخہ کیمیااورنظامِ زندگی کے طورپرلائے ہیں۔یہ نظام تمام عصری تقاضوں کونہ صرف پوراکرنے والابلکہ انسان کی تمام مشکلات اورالجھنوں کورفع کرنےوالا ہے۔آج انسانیت کاسب سےبڑامسئلہ قومی کشمکش اوربین الااقوامی جنگیں ہیں جواسے تباہی کے کنارے کی طرف لے جارہی ہیں ۔ چھوٹےچھوٹے ناتمام اورناقص نسخےبلکہ ٹوٹکے جومغربی تہذیب زخم خوردہ انسانوں کیلئے تجویز کر رہی ہے ان میں ہر نسخہ پہلے سے بڑھ کر تباہی پھیلانے والا ثابت ہواہے۔سرمایہ داری کاعلاج بن کر اشتراکیت آئی لیکن وہ اس سے بڑھ کر انسانونں کوغارت کرکےاپنے ہی گھر کے دامن میں نیست ونابود ہوگئی۔ آج دنیابھرمیں انسان مغربی تہذیب اوراس کےعطائی نسخوں سےہلاکت کے بسترپرپڑاہواہے اور اس انتظار میں ہےکہ کب کوئی ہائیڈروجن بم یاایٹم بم پھٹ کرانسانیت کومکمل تباہی کے غارمیں دھکیل دے گا۔سوشلزم تودنیاکے دوعظیم فتنوں میں سےایک فتنہ ثابت ہوکراپنے ہی خنجرسے خودکشی کرچکا۔آج سے کچھ عرصہ قبل کوئی سوشلزم کی ایسی المناک موت کے بارے میں تصوربھی نہیں کرسکتاتھا لیکن پھر بھی اسلام کے علمبرداروں نے اس کی پیش گوئی کردی تھی کہ ’’سوشلزم کوماسکومیں اورسرمایہ دار جمہوریت کولندن پیرس اور نیویارک میں پناہ نہیں ملے گی ۔‘‘دنیانے دیکھ لیاکہ ایک فتنہ اپنے انجام کوپہنچ گیااب جلدیابدیر دوسرے فتنے کی باری ہے اوراس وقت تمام مصائب کے مداواکیلئے اسلام ہی آخری پناہ گاہ ہوگاکیونکہ اسلام ہی اپنی ذات میں مکمل جامع خودکفیل اورساری انسانی مشکلات کاواحدحل ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ،آزمودہ طرزِحیات ہےجس نےاپنے اصولوں پرخالص معیاری اندازمیں ایک طویل عرصے تک ایک خالص اسلامی ریاست چلاکر دکھائی جودنیاکیلئے زمین پرخداکی سب سےبڑی رحمت تھی اورپھرمعمولی دستوری تغیرکےساتھ مدت درازتک ایسی حکومتیں چلائی ہیں جن میں افلاس کی کوتاہیوں کے باوجود جرم وافلاس‘ظلم وزیادتی کی کم سے کم مثالیں ملتی ہیں اوران کامقابلہ آج کامہذب اورترقی یافتہ دوربھی بالکل نہیں کرسکتا۔ان کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمارایسی نہ تھی ۔مجرم خوداعتراف کرتے اورحکمران تک عدالت کے کٹہرے میں طلب کرلئےجاتے تھے۔ان کے معاشرے میں بھوکے ننگے لوگوں کے لشکر چیونٹیوں کی طرح بازاروں میں چلتے اورہرشخص سے چمٹے نظرنہ آتے تھے جیسے دورجدیدکے تقاضوں نے پیداکردیئے ہیں۔ان کے ہاں اشیاء صرف کی قیمتیں نہائت کم تھیں جب کہ اس ترقی یافتہ دورمیں بنیادی ضروریات بھی وصال صنم کادرجہ اختیار کرگئیں ہیں۔ دراصل یہی وہ نظام زندگی ہے جس کا علمبردار بن کرمسلمان ملکوں کے سربراہوں کواٹھناچاہئےتھا ۔جس چیزکی دنیا کو تلاش اورطلب ہے وہ اسلام کے اندرمکمل طور پر موجودہے اور شائد ہی کسی دورمیں انسانیت اسلام کے اصولوں کیلئے اتنی پیاسی اور حاجت مندتھی جتنی آج ہے۔ ہماراکام تویہ ہونا چاہئے تھاکہ مشرق ومغرب کی ساری مرعوبتیں چھوڑ کراسلام کوایک نظامِ حیات اورنظریہ زندگی لیکر اٹھتے،پہلےخوداس پرعمل کرتے اورپھرساری دنیا کو اس کی دعوت دیتےکہ ہمارےسارے دکھوں کا علاج صرف اسلام میں ہے۔ہمیں بین الاقوامی برادری کی اگرضرورت ہے تویہ بھی صرف اسلام عطاکرسکتا ہے اوراپنےدورعروج میں جب اس پرعمل کیاگیاتومراکش سے لے کر چین تک اس کی عملاً تصویر دیکھنے کوملی۔

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں