12:22 pm
اسلامی جمہوریت میں مذہبی جماعتیں مسترد کیوں؟

اسلامی جمہوریت میں مذہبی جماعتیں مسترد کیوں؟

12:22 pm

کون کہتا ہے کہ عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے،حلقہ NA-13 بٹ گرام سے جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد یوسف کو 21291ووٹ ملے تو اسی حلقے میں راہ حق پارٹی کے
کون کہتا ہے کہ عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے،حلقہ NA-13 بٹ گرام سے جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد یوسف کو 21291ووٹ ملے تو اسی حلقے میں راہ حق پارٹی کے مولانا عطاء محمد دیشانی نے 17806ووٹ حاص کئے۔ یوں ایک دوسرے کے مدمقابل دونوں مذہبی رہنمائوں کے مجموعی حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد تقریباً39097بنی، ان دونوں مذہبی شخصیات کے اس ’’آپسی اتحاد اور محبت کی‘‘ وجہ سے ایک تیسرے امیدوار محمد نواز خان 32164 ووٹ لے کر سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، جھنگ میں ایک ہی جماعت سے وابستہ مذہبی شخصیات یعنی ’’نواب زمانہ‘‘ اور ’’شہزادوں‘‘ کے درمیان سیٹوں کے حصول کی دوڑ لگی تو ان کی ’’آپسی محبت‘‘ ان کے چاہنے والوں کی محنت سے سوشل میڈیا پر چھلکنے لگی، اس ’’آپسی محبت‘‘ کا مزہ انہوں نے بھی 8فروری والے دن چکھ لیا، اور ’’سیٹوں‘‘ کی اس دوڑ کے مقابلے کی وجہ سے ملک بھر میں ان کے کارکنوں کے دلوں میں مدمقابل شخصیات کے حوالے سے جو دوریاں پیدا ہوئیں، یہ نقصان اس کے علاوہ ہے۔
’’محترمہ جمہوریت‘‘ کی زلفوں کی اسیر مذہبی جماعتوں نے اس مرتبہ پوری طاقت سے ’’جمہوریت‘‘ کو ’’اسلام‘‘ بنانے کی کوشش کی، لیکن یار لوگ کہتے ہیں کہ جس ’’محترمہ جمہوریت‘‘ کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے کے لئے بعض مذہبی شخصیات نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا، سوکالڈ اسی ’’اسلامی‘‘ جمہوریت نے مذہبی جماعتوں کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا، سوال تو بنتا ہے کہ اگر یہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ تھی تو پھر اسلام آباد کی سڑک پر جس کی گاڑی سے اسلحہ اور شراب برآمد ہونے کے مناظر ٹی وی چینلنز نے لائیو دکھائے تھے، وہ ایک دفعہ پھر مولانا فضل الرحمن جیسے مرد قلندر کو شکست دینے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟ کیا ’’اسلامی جمہوریت‘‘ میں ایسا ممکن ہے؟ جو سسٹم سیکولر اور لبرل ازم کو سپورٹ کرے، آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور دیگر کفریہ طاقتوں کے دبائو پر پارلیمنٹ سے متنازعہ اور غیر اسلامی قانون سازی کے لئے پلٹ پلٹ کر حملے کرے، جس سسٹم میں امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے، جس سسٹم کو خود سیاست دان، اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی قرار دیں، اس ’’اخلاطونی‘‘ جمہوری سسٹم کو ’’اسلامی‘‘ جمہوری سسٹم قرار دینا ’’چاند‘‘ کو زمین پر گھسیٹنے کے مترادف ہے، جس طرح کفریہ طاقتوں کے دبائو پر قادیانی فتنے کو ’’اسلامی‘‘ تسلیم نہیں کیا جاسکتا، ایسے ہی ملک میں رائج بوسیدہ افلاطونی جمہوری سسٹم کو بھی ’’اسلامی‘‘ تسلیم کرنا ممکن ہی نہیں، ممکن ہی نہیں، ملین ڈالرز کا سوال یہ بھی کہ مولانا فضل الرحمن گزشتہ چار، پانچ سالوں سے جس طرح سے سیاست کے آسمان پر چھائے ہوئے تھے اور ان کی سیاسی حرکیات و کردار سے عوام مطمئن بھی نظر آرہے تھے، اس حقیقت سے ہر عقلمند واقف ہے، مگر 8فروری کے انتخابات میں ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ سے بھی کم سیٹیں ان کے حصے میں آئیں تو کیوں؟ کیا اسے بھی خود ساختہ ’’اسلامی‘‘ جمہوریت کا حسن سمجھ لیا جائے؟
کہاں کی جمہوریت، کون سی جمہوریت، اور کہاں ہے جمہوریت؟ جہاں سرے سے جمہوریت ہی نہ ہو، وہاں ’’بوسیدہ مغلوبے‘‘ کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے والے آپ ہی اپنی ادائوں پہ غور کریں، ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، شاعر مشرق نے فرمایا تھا:
اس راز کو اِک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اِک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
8 فروری کے انتخابات چیخ چیخ کر عقلمندوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل کا پاکستان کیسا ہوگا؟ صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ 73 کا آئین اسلامی ہے، یقینا 73کا آئین ’’اسلامی‘‘ ہے، لیکن پچاس سال گزرنے کے باوجود آئین میں موجود اسلامی شقوں اور درج ہدایات کے مطابق پاکستان میں اسلامی فلاحی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ کون نہیں جانتا کہ 73کے اسلامی آئین کی موجودگی کے باوجود اسلام آباد کے حکمران وطن عزیز کو ’’سیکولر‘‘ بنانے کی سازشوں میں ملوث رہے، آئین میں درج اسلامی شقوں اور متحدہ مجلس عمل کے شدید احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ سے حقوق نسواں کے نام پر غیر اسلامی بل منظور کروایا گیا، آئین میں درج اسلامی شقوں کے باوجود، پارلیمنٹ میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں، ٹرانس جینڈر یعنی ہم جنس پرستی جیسی غلیظ قانون سازی بھی پارلیمنٹ سے کروائی گئی، فروری 2024ء میں بھی جمہوری حسن اپنے جوبن پہ ہے، کس طرح سے ’’آزاد‘‘ کو بغیر کسی ’’جہاز‘‘ کے ہی ’’اڑان‘‘ بخشی گئی یعنی اوپر نیچے، ن لیگ، پیپلزپارٹی اور آزاد ممکن ہے کہ اسلامی ٹچ کے لئے جے یو آئی کا ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ بھی شامل کرلیا جائے، یعنی:
آ، عندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلائوں ہائے دل
کیا اسے بھی ’’اسلامی‘‘ جمہوریت کی حکومت تسلیم کرلیا جائے؟ اصلی اور خالص پاکستان تب ہی بنے گا، جب یہاں پر اسلامی فلاحی معاشرہ قائم ہوگا اور حکمرانوں سے ’’آئین‘‘ کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کے عوام کی اسلامی تربیت کی جائے، پاکستان کا مملکتی مذہب اسلام ہے مگر اس سب کے باوجود جب تخت اسلام آباد پر بیٹھنے والے حکمران ملک کو سیکولر بنانے کی سرتوڑ کوششوں میں لگ جاتے ہیں تو اس سے مسلمانوں میں بے چینی کی فضاء پیدا ہوتی ہے، اسلامی آئین ہونے کے باوجود جب غیر ملکی دبائو پر عقیدہ ختم نبوتﷺ کے خلاف پارلیمنٹ کے ذریعے دھونس، دھاندلی اور لالچ کے ذریعے چور دروازوں سے قانون سازی کروانے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو پھر ان سازشوں کا توڑ کرنے کے لئے مسلمان مظاہرے کرتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں، حتیٰ کہ تحریک لبیک کے کارکنوں کو دسیوں کی تعداد میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنا پڑتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی سمیت ساری مذہبی اور مسلکی جماعتیں مل کر بھی بدنامہ زمانہ آسیہ ملعونہ کی نہ رہائی اور نہ ہی اس ملعونہ کا ملک سے باہر جانا روک سکتی ہیں، یقینا پاکستان میں مسلح جدوجہد کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ ضرورت، مگر آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام نفاذ اسلام کی کوششوں کو تو کوئی نہیں روک سکتا، کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے نظام اسلام نافذ کروایا جاسکتا ہے، یہ خاکسار نہ چاہتے ہوئے بھی اس بات کو نیم دلی سے تسلیم کرتا چلا آرہا تھا، مگر 8فروری کے انتخابی رزلٹ نے میرے جیسے سیاست و جہاد کے طالب علم کے چودہ طبق روشن کر دئیے ہیں، اس مرتبہ قومی اسمبلی میں مذہبی جماعتوں کے حجم کو جس طرح سے مزید محدود کر دیا گیا، وہ بذات خود ان مذہبی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہے، پارلیمنٹ میں موجود مذہبی سیاسی جماعتیں آئین میں موجود اسلامی شقوں کی محافظہ اور پہرے دار رہی ہیں اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی انتھک اور بے داغ سیاسی جدوجہد نے پارلیمنٹ کی عزت اور توقیر کو بڑھایا ہے، مگر جب اسی پارلیمنٹ کے ذریعے آئین اور اسلام سے متصادم بل پاس کئے جاتے ہیں تو یہ کام کرنے والے پارلیمنٹ کو بے وقعت اور بے توقیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پاکستان کو ہر حال میں نظام اسلام کی ضرورت ہے، اگر نظام اسلام عملاً پاکستان میں نافذ ہوگیا تو نہ صرف یہ ملک ترقی و خوشحالی کی پٹڑی پر چڑھ جائے گا ، بلکہ یہاں امن و امان کی فضاء بھی قائم ہو جائے گی۔
 

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں