12:23 pm
معلق پارلیمنٹ 

معلق پارلیمنٹ 

12:23 pm

عمران خان کی الیکشن 2024 ء کے نتائج کے حوالے سے آرٹیفیشئل انٹیلی جنس کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے
عمران خان کی الیکشن 2024 ء کے نتائج کے حوالے سے آرٹیفیشئل انٹیلی جنس کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں وہ وفاق میں پی ٹی آئی کو ملنے والی 170 نشستوں کا ذکر کر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف میاں محمد نواز شریف نے بھی وکٹری سپیچ کی ہے کہ یہ انتخابات نون لیگ نے جیت لئے ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ غیرسرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔ لیکن چونکہ نتائج کا سرکاری اعلان تا دم تحریر دیر سے کیا جا رہا ہے یا ابھی تک نہیں کیا گیا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ مغربی دنیا میں پاکستان کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی بی سی نے اپنے تبصروں میں پاکستان میں ہونے والے انتخابات اور دیر سے اعلان کئے جانے والے نتائج کو بوگس قرار دیا ہے۔ امریکی کانگرس مین روخانہ نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ رگنگ کے ذریعے پاکستان میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہ کرے۔ ڈیموکریٹک مشی گن کی کانگرس خاتون راشدہ ٹی لیب نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہمیں پاکستانی عوام کا ساتھ دینا چایئے کیونکہ ان کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ عوام کو موقع ملنا چاہیئے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پاکستان کو ڈالروں میں دی جانے والی امداد ہمیں بند کر دینی چاہیے۔ اسی طرح ٹیکساس سے کانگرس مین گریگ کاسر نے کہا کہ الیکشن کے روز فون سروس بند کرنا قابل مذمت ہے۔ کانگرس خاتون ڈینا ٹائٹس نے بھی کہا کہ جمہوریت کے لئے آزادانہ حق رائے دہی ضروری ہے جو پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں نہیں دیا گیا ہے۔ موجودہ الیکشن کی مذمت کرنے والے دیگر امریکی نمائندگان میں بریڈ شرمین، سینیٹر بن کارڈن، جیکوئین کاسٹرو اور الحان عمر،اومان سوسان وائلڈ اور جاسمین کراکٹ شامل ہیں۔ ان سب ممبران نے امریکی حکومت سے استدعا کی ہے کہ وہ پاکستانی الیکشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے۔
حالیہ الیکشن کے بارے یہ برطانوی اور امریکی تبصرے مقتدرہ اور حکومت پاکستان کے خلاف اور پی ٹی آئی اور اس کے اس چیئرمین کے حق میں آئے ہیں جس نے امریکہ کو ’’ہرگز نہیں‘‘کہا تھا۔ یہ ساری آرا پاکستان کے الیکشن میں ہونے والی سیاسی بدعنوانی کے خلاف ہیں جو الیکشن 2024ء میں روا رکھی گئی ہے اور جس کے خلاف پی ٹی آئی کے نامزد چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
مرکز میں الیکشن 2024 ء کے نتائج انتہائی غیر واضح ہیں کیونکہ وہاں سب سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے حاصل کی ہیں جو خود حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اوپر سے مبینہ دھاندلی کے الزامات بھی ہیں اور نتائج بھی معلق پارلیمنٹ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو شروع دن سے ہی احتجاج کا شکار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اٹلی کا مکاولی یاد آتا ہے جس نے پندرہویں صدی عیسوی کے وسط میں اٹلی کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا جب اٹلی تاریخ کے بدترین سیاسی دور سے گزر رہا تھا، ملک کی اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال دگرگوں تھی اور ملک سرکاری سرپرستی میں ظلم کی چکیوں میں پس رہا رہا تھا۔ ہماری سرکار کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اسے حافظ صاحب کی سرپرستی میں خود ہی اس معلق پارلیمنٹ کا پیغمبرانہ حل پیش کرنا ہے۔
یہاں سیاستدانوں، اسٹیبلشمنٹ اور عوام کے سیکھنے اور سمجھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے کہ ’’تخریب کے پردے میں ہی تعمیر ہے ساقی، شیشہ کوئی پگھلا ہے تو پیمانہ بنا ہے۔‘‘ یہ الیکشن ہمیں استحکام، خوشحالی اور امن کی طرف لے جانے کا باعث بھی بن سکتا ہے کہ تعصب، تقسیم، بغض و عناد اور باہم سیاسی تصادم کو بھلا کر مرکز میں اکثریتی جیتنے والے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی کے نام سے حکومت سازی کی دعوت دی جائے کہ ان کا نمائندہ لیڈر اور سیاستدان جیل میں ہے تو تب بھی وہ ملک کا مقبول ترین سیاسی لیڈر بن کر ابھرا ہے۔ جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے کہ عوام کے اس فیصلے کو ریاست بھی کھلے دل سے تسلیم کرے۔ اس متنازعہ الیکشن کو غیر متنازعہ بنانے کی یہی ایک صورت ہے کہ پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے تاکہ معلق پارلیمنٹ کی یہ صورت اپنے انجام کو پہنچے اور حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے کے قابل ہو سکے۔ یہ ملک 62ہزار ارب روپے کا پہلے ہی مقروض ہے۔ پی ٹی آئی احتجاج کے راستے پر چل پڑی تو سیاسی عدم استحکام بڑھے گا اور ملک پہلے سے زیادہ معاشی عدم کا شکار ہو جائے گا۔
جس الیکشن پر اس غریب اور مقروض قوم کے 47 ارب روپے خرچ ہوئے، اسے دو دن تک نتائج ہی نہیں مل رہے۔ اگر ایسا کرنا تھا تو اس غریب عوام کو یہ 47 ارب کا چونا کس کھاتے میں لگایا گیا؟ اس وقت مہنگائی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان کو قرض فراہم کرنے کی کڑی شرائط رکھی ہیں۔ نومئی کے واقعات نے اسٹیبلشمنٹ کو وہ موقع فراہم کر دیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، تحریک انصاف کے سیاسی رہنماں کو ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا، ان سے پریس کانفرنسیں کراوئی گئیں، ان سے معافی نامے لکھوائے گئے، جس کے عوام کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور جس کا نتیجہ دو بڑی سیاسی جماعتوں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کا شکست دینا ہے۔
تاریخی طور پر یہ مصدقہ بات ہے کہ پاکستانی عوام کی ماضی میں دیکھنے کی صلاحیت بہت لمبی اور مضبوط نہیں ہے اور عوام فوری طور پر ہونے والے واقعات اور تضادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اگر معاشی صورتحال بھی ناگفتہ بہ ہو تو عوام کا سارا جھکائوزیر عتاب سیاسی جماعت کی طرف ہو جاتا ہے۔ اس تمام صورتحال کا فائدہ تحریک انصاف کو ہوا، جس کے سامنے اب اسٹیبلشمنٹ کو بھی جھکنا چایئے کیونکہ یہ عوام کے ووٹ کا فیصلہ ہے۔
انتخابات کے بعد بعد اب مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کا مرحلہ ہے۔ انتخابات کے نتائج کے مطابق پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان میں بلترتیب نون لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے آزاد منتخب پارلیما ن کی پوزیشن واضح ہے مگر مرکز میں کوئی بھی سیاسی جماعت اکیلے حکومت نہیں بنا سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار قومی اسمبلی کے لیئے آئے نتائج پر مختلف پہلوں سے روشنی ڈال رہے ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ یہ نتائج اسٹیبلشمنٹ کی عین مرضی کے مطابق آئے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک کو ایسی واضح اکثریت حاصل ہو جاتی کہ وہ آگے چل کر اس کے لیئے مسائل کھڑے کرتی۔ 
اسلام آباد میں ریاست کے ذہن میں نئی حکومت سازی کے منصوبے گھوم رہے ہیں، تو راقم کو ان معلق جمہوری نتائج کے بارے غیر مسلموں سے منسوب تین کہاوتیں یاد آ رہی ہیں’’ہر کچھ سالوں بعد مظلوموں کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کہ ظالموں کا کون سا طبقہ اب ان کا نمائندہ ٹھہرے گا، اور پانچ سال ان کا استحصال کرے گا‘‘(کارل مارکس) ’’اگر ووٹنگ سے واقعی کوئی فرق پڑتا تو وہ ہمیں کبھی ووٹ نہ ڈالنے دیتے‘‘ (مارک ٹوین)۔ ’’جب آپ دو برائیوں میں سے کم تر برائی کا انتخاب کرتے ہیں تو بھی آپ برائی ہی چن رہے ہوتے ہیں‘‘ (رالف نیڈر)۔
 

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں