12:23 pm
انتخابی نتائج اور قومی استحکام کے تقاضے

انتخابی نتائج اور قومی استحکام کے تقاضے

12:23 pm

 انتخابات کے بعد کامنظرنامہ قدرے پیچیدہ ہے۔ صد شکر کہ دہشت گردی کے بے پناہ خطرات کے باوجود پولنگ کا دشوار مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا
 انتخابات کے بعد کامنظرنامہ قدرے پیچیدہ ہے۔ صد شکر کہ دہشت گردی کے بے پناہ خطرات کے باوجود پولنگ کا دشوار مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا ۔ قانون نافذکرنے والے ادارے بشمول افواج پاکستان کی کارکردگی لائق تحسین رہی۔  پاکستان کے بدخواہ انتخابات کو دہشت گردی کے ہتھیار سے سبو تاژ کرنے میں ناکام رہے۔ پولنگ بہتر انداز میں مکمل کروانے کے باوجود الیکشن کمیشن نے نتائج کے اعلان میں بے حد تاخیر کی ۔ اس تاخیر نے الیکشن کا مجموعی تاثر خراب کیا ہے۔ ہارنے والے امیدوار اور واویلا مچانے کی عادی جماعتیں اس تاخیر کو بنیاد بنا کر انتخابات کی شفافیت پر اعتراض کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تمام اعتراضات کا جواب دے کر ناقدین کے منہ بند کرے۔ بصورت دیگر ناقدین مسقبل قریب میں تشکیل پانے والی پارلیمان اور حکومت کو  طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے رہیں گے۔
 انتخابی نتائج خصوصاً شکست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہماری سیاسی قیادت کا ماضی قابل رشک نہیں۔ سن ۲۰۱۳ کے الیکشن کے بعد پی ٹی آئی نے پینتیس پنکچر کا واویلا مچایا ۔ لانگ مارچ اور دھرنے کے ذریعے طویل احتجاج کیا ۔ تاہم جب معاملہ عدالتوں میں پہنچا تو  دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کئے جاسکے ۔ سن ۲۰۱۸ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی فتح کو دھاندلی کا نتیجہ قرار دے کر مسلم لیگ نون ، پی پی پی ، جے یو آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں مشغول رہیں۔ بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں تحریک انصاف کے بانی اور اس وقت منتخب قرار پانے والے وزیر اعظم عمران خان کو سلیکٹڈ کا خطاب دیا ۔ حیرت انگیز طور پر جن انتخابات کو پی پی پی کی قیادت دھاندلی زدہ قرار دیتی رہی انہی انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانی والی اپنی جماعت کی سندھ حکومت کو عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کے طور پہ پیش کرتے رہے۔  مسلم لیگ نون اور جے یو آئی نے بھی انتخابات کے متعلق دوغلی حکمت عملی کی روش اختیار کی ۔ اس  غیر جمہوری طرز سیاست نے عدم استحکام کو فروغ دیا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کو زیر کرنے میں ضائع ہوتی رہیں جبکہ اہم قومی مسائل مسلسل نظرانداز ہوتے رہے۔ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں انتہائی منقسم عوامی رائے سامنے آئی ہے۔ فی الحال کوئی جماعت دو تہائی تو کجا سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر پائی۔ گو مسلم لیگ نون نے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ تو کر دیا ہے لیکن اس کے مقابل آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ بھی کافی وزن رکھتا ہے کہ اس کے حمایت یافتہ آزاد اراکین مجموعی طور پہ نون لیگ اور پی پی پی سے زیادہ ہیں۔  صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے واضح برتری حاصل کی ہے اور بظاہر صوبائی حکومت کی تشکیل میں اسے کسی دقت کا سامنا نہیں ہوگا ۔  پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ کامیاب اراکین کی تعداد قابل ذکر ہے۔  یہ صورتحال  پی ٹی آئی کی سیاسی بصیرت اور فعالیت کا بھی بڑا امتحان ہے۔ اپنے آزاد اراکین کی اسمبلی میں جماعتی شناخت ، وزرائے اعلیٰ اور وزیر اعظم کے لئے متفقہ امیدواروں کا اعلان بہت اہمیت کا حامل ہوگا ۔ ماضی میں وزرائے اعلیٰ کے متنازعہ انتخاب کے حوالے سے پی ٹی آئی کی صفوں میں کافی انتشار بھی پیدا ہوا اور بانی پی ٹی آئی تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ صاف دکاھئی دے رہا ہے کہ قومی اسمبلی میں کوئی بھی جماعت تن تنہا حکومت سازی کرنے کی سکت نہیں رکھتی ۔ بحرانوں میں گھرے پاکستان کے لئے یہ منقسم نتائج اچھا شگون تو نہیں تاہم  منتخب سیاسی قیادت محاذ آرائی پہ اتفاق رائے کو ترجیح دیتے ہوئے اتحادی حکومت کو تشکیل د ینے کی راہ اپنائیں تو ملک کو استحکام کی راہ پہ ڈالا جاسکتا ہے۔ عوام نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کر دیا ہے۔ 
سندھ اور خیبر پختونخوا میں بالترتیب  پی پی پی اور پی ٹی آئی واضح برتری لے چکی ہیں پنجاب اور وفاق میں منقسم رائے عامہ کی وجہ سے حکومت سازی کے عمل میں کافی زیادہ سیاسی جوڑ توڑ متوقع ہے۔ سیاسی قیادت کے کاندھوں پہ یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جمہوری روایات کے مطابق ایک دوسرے کی فتح کو کھلے دل سے تسلیم کریں ۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں ۔ عوام سے کئے گئے سنہری وعدوں کی تکمیل پہ توجہ مرکوز کریں ۔ نتائج پہ اعتراضات کے حل کے لئے الیکشن کمیشن اور عدلیہ سے رجوع کر کے جمہوری و قانونی راہ اپنائیں ۔ احتجاج آئینی حق ہے لیکن اسے پرامن رکھیں ۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ احتجاج کا مطلب یہ  ہر گز نہیں کہ احتجاج کرنے والوں کا موقف بنا کسی ثبوت کے درست تسلیم کرنا عدلیہ اور الیکشن کمیشن پہ لازم ہے۔ قومی اداروں پہ بے جا تنقید ، سوشل میڈیا پہ گالم گلوچ اور پرتشدد مظاہرے ملک میں عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے منقسم نتائج دراصل نادان سیاسی قیادت کی اشتعال انگیزی اور ہٹ دہرمی پہ مبنی طرز سیاست کا ہی شاخسانہ ہے۔ بہتر ہوگا کہ گلیوں بازاروں میں انتشار پھیلانے کے بجائے منتخب نمائندے پارلیمان میں اپنے جوہر دکھائیں ۔ قومی اتفاق رائے پیدا کر کے ملک کو استحکام کی راہ پہ ڈالیں ۔ اپنے ووٹرز کی ترجمانی کریں ۔ عوام نے آپ کو سیاسی مخالفین کو کچلنے اور قومی اداروں سے محاذ آرائی کرنے کا نہیں بلکہ اپنے مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا انعقاد

پی ٹی آئی  نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، وجہ سامنے آ گئی

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

مشکلات سے کبھی مایوس نہیں ہوئے،جو ناکامی سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا، نواز شریف 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

پاکستانی گلوکارہ شازیہ منظور نے ٹی وی شو میں مذاق کرنے پر کامیڈین کو تھپڑدے مارے ،دیکھیں ویڈیو 

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ  سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے  لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

یوٹیلٹی سٹورز اشیاء ضروریہ عام مارکیٹ سے بھی مہنگے داموں فروخت کرنے لگے ،قیمتوں میں فرق دیکھیں اس خبر میں

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

مریم نواز اچھی اور قابل وزیراعلیٰ ثابت ہوں گی،ن لیگی قائد نواز شریف کا دعویٰ 

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ  کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

ملک میں صدارتی الیکشن کس تاریخ کو ہونیوالے ہیں ؟دیکھیں خبرمیں

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے باہر سیاسی جماعتوں کا احتجاج، کارکنان گرفتار،ٹریفک نظام درہم پرہم 

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

سندھ اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا،کراچی میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ،دیکھیں خبر

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث   خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

راولپنڈی، گیس لیکج کے باعث خوفناک دھماکہ، تفصیل جانیں

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

پابندی کے باوجود میں بسنت منانے پر  سینکڑوں افراد کو گرفتارکر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے لیے تازہ ترین پارٹی پوزیشنز شیئر کر دیں گئیں 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

حمزہ شہباز کو مرکز میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ،دیکھیں تفصیل 

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں

تعلیمی اداروں میں26 فروری کو تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری،تفصیل خبر میں