12:24 pm
مغرب اسلام سے خوفزدہ کیوں؟

مغرب اسلام سے خوفزدہ کیوں؟

12:24 pm

ابھی 76سال قبل جب پوری دنیامیں برطانوی شہنشاہیت کاڈنکابج رہاتھا،اس وقت برطانوی بڑے فخر سے کہاکرتے تھے کہ ہماری حدود سلطنت میں کبھی سورج
ابھی 76سال قبل جب پوری دنیامیں برطانوی شہنشاہیت کاڈنکابج رہاتھا،اس وقت برطانوی بڑے فخر سے کہاکرتے تھے کہ ہماری حدود سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا( گوآج اس کایہ حال ہوا ہے کہ وہاں کبھی کبھی سورج شرماتاہوادکھائی دیتاہے)۔ اُس وقت ایک مسلمان یورپ وامریکہ سے اس قدر خائف ومرعوب تھاکہ وہ سوچ تک نہیں سکتاتھا کہ وہ ان حکمراں اقوام کی سرزمین پراپنی بستیاں بسائے گااوران کواپنے مذہب کی طرف دعوت دے گا۔مسلمان ایک طرف ان کی سائنسی ترقی سے مرعوب تھے تودوسری طرف ان کی سامراجیت سے دم بخودلیکن آخرکاربرطانوی شہنشاہیت کاطلسم ٹوٹا اورسارے مسلم آبادی والے ممالک ایک ایک کر کے آزاد ہوتے گئے۔ دوسری عالم جنگ کے نتیجے میں ایشیا وافریقہ پرفرانس اوردیگریورپی اقوام کی گرفت بھی ڈھیلی ہوئی اور سارے غلام ممالک آزادی کی نعمت سے ہمکنارہوتے گئے۔گوایک طرف سوویت یونین کاعفر یت وسط ایشیاپر اپناآہنی پنجہ گاڑے رہالیکن عالم اسلام کے اکثرحصوں میں ایک طویل نینداورقیامت کی بے ہوشی کے بعدبیداری اورترقی کی لہرپیداہوگئی تھی۔ مسلمان اعلیٰ عصری تعلیم کی طرف مائل ہونے لگے تھے اوراستعماریت کی تخریب کاریوں کی تلافی میں سرگرم ہورہے تھے۔ کچھ تواستعماریت کاشاخسانہ تھاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سے لے کرمزدورمسلمان یورپ وامریکاکی طرف ہجرت کررہے تھے اورکچھ تعلیم وغیرہ کے لئے نقل مکانی کررہے تھے۔
 یہ رجحان20ویں صدی کے نصف اخیرمیں کافی شدت اختیارکرگیاجس کی وجہ سے دیکھتے دیکھتے یورپ وامریکہ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ نیزعالم اسلام میں پیداہونے والی بیداری کی وجہ سے مسلمانوں میں دینی دعوت کا مزاج اورعلیحدہ شناخت کا تصورعام ہوتاگیا۔اس سے بھی مسلمانوں کویورپ امریکہ کی سرزمین پر بہت سے ہمنواملتے گئے جن سے ان کی عددی طاقت میں اضافہ ہوتاگیا۔آج صورت حال یہ ہے کہ امریکامیں اسی لاکھ، فرانس میں ساٹھ لاکھ ، برطانیہ میں چوبیس لاکھ ،اس کے علاوہ کینیڈا، جرمنی اوریورپ کے دیگرملکوں میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔گزشتہ چند دہائیوں کے اندرہی یورپ کے قلب میں البانیہ،بوسنیاہرزیگوونیا جیسی مسلم ریاستیں اور مقدونیہ وبلغاریہ جیسی کثیرمسلم آبادی والی ریاستیں وجودمیں آچکی ہیں۔ چنانچہ یورپ وامریکہ جہاں ہمیشہ سے عیسائی ویہودی کلچرموجودتھااب وہاں اسلام ایسی صورت حال اختیار کر گیاہے کہ اسے کسی بھی صورت میں نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
نائن الیون کوامریکہ پرحملوں کاایک مثبت پہلو یہ رہاکہ مسلمان ایک بارپھرموضوع بحث بن گئے۔ پینٹاگون اورڈبلیوٹی سی پرحملہ آوروں کامذہب، تہذیب اوران کی تعلیم پوری دنیا خصوصاًامریکا ویورپ کی عوام کی توجہ ودلچسپی کامحوربن گئی۔تاریخ میں پہلی بار بھاری تعدادمیں قرآن کریم کے نسخے امریکی و یورپی مارکٹوں میں کثرت سے بکے اورختم ہوگئے۔ یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق پی ایچ ڈی کرنے والوں کا تانتا لگ گیااور یورپ وامریکہ کے سینکڑوں اداروں نے اسلامک اسٹڈیزکے شعبے قائم کیے۔اسلام یورپ و امریکہ میں پہلے ہی سے پنپ رہاتھا،ان حالات نے اسے کسی قدرمناسب آب وہواپہنچادی کہ اس کے پھلنے پھولنے کے ذرائع خودپیداہوگئے۔اس لیے آج یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مغرب میں اسلام سب سے زیادہ مقبول اورتیزی سے پھیلنے والامذہب بن گیاہے۔ گومسلمانوں میں اکثرتعداد ان کی ہے جوآبائی طورپرمسلمان ہیں اورمستقل وہیں سکونت اختیارکرلی ہے لیکن ان میں امریکی ویورپی مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی تعدادشامل ہے۔
مشرق سے مغرب کے خوف کی تاریخ کافی پرانی اورعیسائیت واسلام کی چشمک کی جڑیں خاصی گہری ہیں۔عہد فاروقی ہی میں مسلمانوں نے عیسائیت ویہودیت کے سب سے بڑے مرکز یروشلم وشام وغیرہ کوفتح کرلیاتھا۔دوسری صدی ہجری میں مسلمان یورپ کے آخری مغربی سرے پراندلس میں اسلامی حکومت کاعلم لہراچکے تھے جس میں آج کاپورا اسپین اورپرتگال وفرانس کا بڑاحصہ شامل تھا۔وہ توفرانس کے کچھ جیالوں نے مسلمان فوجوں کاراستہ روک دیا تھاورنہ نجانے یہ طوفان کب کاپورے یورپ کواپنی لپیٹ میں لے چکا ہوتا۔بعد میں سلطان محمدفاتح نے قسطنطنیہ فتح کیاجوکہ روم کے بعددنیاکاسب سے بڑاعیسائی مرکزتھااورصلیبی جنگوں کا حال توسب کومعلوم ہے جب اسلام وعیسائیت کی طویل ترین جنگ میں ایوبی حکمت وفراست نے عیسائیوں کو دھول چاٹنے پرمجبورکردیا۔اسلام اور عیسائیت کے درمیان اس طویل کشمکش نے تاریخی حیثیت اختیارکرلی۔صلیبی جنگوں کے گہرے زخم آج بھی اہل یورپ کے دل ودماغ میں اس قدرتازہ ہیں کہ عیسائی والدین، اساتذہ،میڈیا اورسیاست داں اسے اپنافرض سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے تئیں اپنے جذبات کواپنی نئی نسل تک بحفاظت پہنچائیں۔
صلیبیوں نے گوفوجی ودفاعی میدان میں اپنی شکست تسلیم کرلی لیکن ثقافتی وتہذیبی جنگ انہوں نے جاری رکھی۔عداوت ونفرت کی اس آگ کونام نہاد محققین اورمستشرقین نے خوب ایندھن فراہم کیااورمزعومہ تحقیق کے پس پردہ اسلامی تاریخ کومسخ کرنے اورمسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ کے اندر برپا ہونے والے اقتصادی انقلاب نے انہیں مزیدوسائل سے مالامال کردیاجس سے مغربی حکومتوں نے خاطرخواہ فائدہ اٹھایا۔ذرائع ابلاغ کی ترقی کے بعد اس مشن میں کافی تیزی آگئی۔ اسی دوران ایک اہم واقعہ یہ رونماہواکہ برطانیہ نے فلسطین میں جوکہ اس کی نوآبادیات تھاایک ناجائز اسرائیلی ریاست قائم کردی اور یہودیت وعیسائیت کی روایتی وتاریخی کشمکش کومسلمانوں کی طرف پھیردیا۔ یہودیوں کو، جنہیں تاریخ میں ہمیشہ مسلمانوں کے ہی دامن عافیت میں امن وسکون کی زندگی نصیب ہوئی، بڑے شدومدکے ساتھ یہ باورکرادیا گیاکہ مسلمان ہی ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
عالم عیسائیت اگرچہ فوجی محاذپراسلام کونہ مٹاسکا لیکن اس کااندازہ تھاکہ وہ اپنے جھوٹے پروپیگنڈوں ، تہذیبی یلغاراورثقافتی جنگ میں مسلمانوں پرضرور غالب آئے گا۔لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ اسلام ہرمحاذاورہرمیدان میں عیسائیت کے مدمقابل کھڑا ہواہے۔سوویت یونین کے تاروپودبکھرجانے کے بعداگرکوئی سیاسی،اقتصادی، سماجی اوراخلاقی نظام ہے جوعیسائیت اورمغربیت کوچیلنج کرسکے تووہ صرف اور صرف اسلام ہے۔آج اسلام،مسلمانوں خصوصاً عربوں کے خلاف نفرت وعداوت کاجوبازارگرم ہے وہ اسی ’’اسلامو فوبیا‘‘(اسلام سے خوف کی بیماری)کاایک حصہ ہے۔ اگرآج مغربی دنیااسلام سے خائف ہے تواس کایہ خوف بے بنیادنہیں۔اگروہ طالبان کی کمزورحکومت سے خائف تھی تومحض اس لیے کہ وہ ایک مضبوط ترسیاسی نظام کے قائل تھے ۔(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں

وزیراعظم کا انتخاب کل ، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات منظور

وزیراعظم کا انتخاب کل ، شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات منظور

وزیراعظم کا انتخاب: شہباز شریف اور عمر ایوب نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے 

وزیراعظم کا انتخاب: شہباز شریف اور عمر ایوب نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے 

ایم کیو ایم کو گورنر شپ سمیت دو وزارتیں ملنے کا امکان، کون کون سی ؟ دیکھیں 

ایم کیو ایم کو گورنر شپ سمیت دو وزارتیں ملنے کا امکان، کون کون سی ؟ دیکھیں 

 محمود اچکزئی کی  نامزدگی پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا ردِ عمل سامنے آ گیا 

 محمود اچکزئی کی  نامزدگی پر پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان کا ردِ عمل سامنے آ گیا 

پیپلز پارٹی کے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب

پیپلز پارٹی کے میر سرفراز بگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب

صدارتی انتخابات، آصف علی زرداری اور  محمود خان اچکزئی نے کاغذات جمع کرادیے

صدارتی انتخابات، آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی نے کاغذات جمع کرادیے

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کو سعودی عرب سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما کو سعودی عرب سے واپسی پر ایئرپورٹ سے گرفتار

بارش و برفباری کا سلسلہ کب تک رہنے والا ہے ؟آج02 مارچ  بروزہفتہ پاکستان میں مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال جانیں

بارش و برفباری کا سلسلہ کب تک رہنے والا ہے ؟آج02 مارچ بروزہفتہ پاکستان میں مختلف علاقوں میں موسم کی صورتحال جانیں

سنی اتحاد کونسل نے صدارتی امیدوار کا اعلان کر دیا

سنی اتحاد کونسل نے صدارتی امیدوار کا اعلان کر دیا

عدالت کی جانب سے یاسمین راشد کو خوشخبری مل گئی 

عدالت کی جانب سے یاسمین راشد کو خوشخبری مل گئی 

ایاز صادق ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب، حلف اٹھالیا

ایاز صادق ایک بار پھر اسپیکر قومی اسمبلی منتخب، حلف اٹھالیا

صحافی عمران ریاض کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

صحافی عمران ریاض کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا

 حضرت شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین کے عرس پر تعطیل عام کا اعلان کر دیا گیا ، کب ؟ دیکھیں

 حضرت شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین کے عرس پر تعطیل عام کا اعلان کر دیا گیا ، کب ؟ دیکھیں

پیپلز پارٹی کیجانب سے سرفراز بگٹی  وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد 

پیپلز پارٹی کیجانب سے سرفراز بگٹی  وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد