بین الاقوامی معاہدات اور ہماری ملّی ضروریات

بین الاقوامی معاہدات اور ہماری ملّی ضروریات

27 days ago.

جوں جوں بین الاقوامی معاہدات کا حصار تنگ ہوتا جا رہا ہے، ان معاہدات سے آگاہی اور ان پر بحث و تمحیص کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف علمی مراکز میں ان کے حوالہ سے آگاہی و بیداری کا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی ملک بھر کے اصحاب فکر و نظر کے شکریہ اور تبریک کی مستحق ہے کہ وہ اس فکری و علمی مہم کی قیادت میں پیش پیش ہے جس میں پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر حبیب الرحمان اور ان کے رفقا کی دلچسپی اور تگ و دو علما و طلبہ کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ اکادمی نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی 10 تا 12 دسمبر کو اس سلسلہ میں تین روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا جس سے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ و طلبہ نے استفادہ کیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی موضوع حقوق انسانی کا قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں تھا، اس دائرہ میں بین الاقوامی قوانین و معاہدات کے بہت سے پہلو زیربحث آئے اور جسٹس (ر) رضا خان، ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، ڈاکٹر حبیب الرحمن، ڈاکٹر حافظ عزیز الرحمان، ڈاکٹر عدنان خان، پروفیسر عطا المصطفٰی جمیل، پروفیسر عبد الرئوف کھٹانہ اور دیگر فاضل مقررین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی ایک نشست میں تفصیلی گفتگو کی۔ ان اصحاب فکر کی گفتگو میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی اہمیت، اس کے مختلف دائرے اور اس سلسلہ میں پاکستان کے اہل علم اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دینی و تہذیبی حوالوں سے مسلمانوں اور پاکستانی قوم کے تحفظات کو زیربحث لایا گیا، اور بین الاقوامی معاہدات کی تشکیل و نفاذ میں مغربی اقوام و ممالک کے دوہرے معیار اور طرز عمل کی طرف توجہ دلائی گئی جبکہ راقم الحروف نے حسب معمول بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں اپنا کیس ارباب علم و دانش کی عدالت میں ایک بار پھر پیش کیا جس کا خلاصہ چند نکات کی صورت میں درج ذیل ہے۔ 

فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور امریکی حکومت کا یو ٹرن

فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور امریکی حکومت کا یو ٹرن

2 months ago.

ایک قومی اخبار کی آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (135) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب چار روز قبل پومیو نے سال ہا سال سے چلی آنے والی امریکی پالیسی کے برعکس بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اب فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو خلاف قانون نہیں سمجھتا۔ اس بیان پر عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ 

وحدت امت اور تحفظ ختم نبوت ؐکے ضروری تقاضے

وحدت امت اور تحفظ ختم نبوت ؐکے ضروری تقاضے

2 months ago.

لاہور میں جامع العروۃ الوثقی کے نام سے اہل تشیع کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو آغا سید جواد نقوی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ مشترکہ دینی و قومی معاملات میں ملی مجلس شرعی کے فورم پر ان کا ہمارے ساتھ رابطہ رہتا ہے اور نقوی صاحب کے نائب علامہ توقیر عباس اجلاسوں میں ان کی اکثر نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عرصہ سے ان کا تقاضہ تھا کہ جامعہ کی سالانہ کانفرنس میں شریک ہوں مگر موقع نہیں بن رہا تھا۔ گزشتہ دنوں چیمبر آف کامرس گوجرانوالہ میں منعقدہ ہمارے ایک پروگرام میں آغا سید جواد نقوی تشریف لائے تو انہوں نے 17 نومبر کو منعقد ہونے والی وحدت امت ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی اور اپنے عزیز ساتھیوں حافظ امجد محمود معاویہ، حافظ نصر الدین خان عمر اور حافظ شاہد میر کے ہمراہ کانفرنس کی ظہر سے پہلے والی نشست میں شریک ہوا۔ جامعہ کا ماحول دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے یہاں بہت پہلے آنا چاہیے تھا اس لیے کہ علمی، فکری اور لٹریری ماحول جہاں بھی ہو ہمیشہ سے میری کمزوری چلا آرہا ہے۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

دستور کی عملی بالادستی

دستور کی عملی بالادستی

3 months ago.

(گزشتہ سے یثوستہ) اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے دو دو باریاں لیں مگر طرز وہی رہا کہ حکومت کی کرسی پر ہیں تو تمام اختیارات اور طاقت کو مٹھی میں رکھتے ہوئے مخالفین کو آزادانہ سیاسی زندگی اور کردار کے مواقع سے محروم کرنا اور اقتدار سے باہر ہیں تو برسراقتدار گروہ کو ہر قیمت پر اقتدار سے ہٹانا اور کسی طرح بھی آرام سے حکومت نہ کرنے دینا ان دونوں سیاسی قوتوں کی اولین ترجیح رہی اور بالآخر اسی کشمکش نے جنرل پرویز مشرف کی تشریف آوری کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں پوری قوم اور خاص طور پر سیاسی قوتوں کو ان اصلاحات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں ایک طرف جنرل پرویز مشرف ہیں اور دوسری طرف اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کے دو پلیٹ فارموں کی صورت میں ملک کی کم و بیش تمام اہم دینی و سیاسی جماعتیں ہیں جو ان اصلاحات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن عدالت عظمیٰ کی فراہم کردہ چھتری نے ان اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنا دیا ہے۔