نفاذ اسلام کے دستوری اداروں کو درپیش خطرہ !

نفاذ اسلام کے دستوری اداروں کو درپیش خطرہ !

20 days ago.

 گوجرانوالہ میں  کے ایک اخبار26 ستمبر  2019 ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے! جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کی طرف سے اداروں کی تشکیل نو کے حوالہ سے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت اور ہیئت تبدیل کرنے کی سفارش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کو چیف ایگزیکٹو اور بورڈ آف گورنر کے سپرد کرنا 1973 ء کے آئین کی خلاف ورزی ہے، اصلاحات کمیٹی کی سفارش کو واپس لیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے وزارت سائنس کی طرف سے بھیجے گئے قمری کیلنڈر کا معاملہ وزارت مذہبی امور کے سپرد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور رویت ہلال کمیٹی کے اشتراک سے وحدت رمضان و عیدین کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ کونسل نے کہا کہ پاکستان کے بہتر امیج کو اجاگر کرنے کے لیے مذہبی آزادی کے لیے خصوصی سفیر تعینات کیا جائے۔ حکومت کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ ملک بھر کی سیاسی و قومی قیادت کو اعتماد میں لے کر کشمیر پر قومی موقف اور بیانیہ تشکیل دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے دو روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے ڈاکٹر عشرت حسین کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے اور اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کمیٹی نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں 1973 ء  کے آئین کی دفعات 228 تا 231 کو نظر انداز کیا ہے، کونسل کی ہیئت و حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی آئین سے انحراف ہو گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کے ذریعے اسلامی قوانین کے نفاذ کے مقصد کے حصول کے لیے غیر دستوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے پر امن اور آئینی طریقوں کا موثر میکنزم پیش کیا گیا ہے، اسی میکنزم سے محرومی پاکستان کے آئندہ معاملات کے لیے تشویشناک صورتحال کا باعث بنے گی۔  

سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

25 days ago.

حرمین شریفین اور حجاج کرام و معتمرین کی مسلسل خدمت کی وجہ سے سعودی عرب پورے عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالہ سے سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی و یکجہتی کا اظہار بلاشبہ ہمارے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی و ملی امور میں راہنمائی کے لیے مسلمانوں کا سعودی عرب بالخصوص رابطہ عالم اسلامی اور سعودی علما و مشائخ کی طرف متوجہ رہنا بھی فطری امر ہے، چنانچہ  1974ء کے دوران جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ درپیش تھا تو رابطہ عالم اسلامی کی ایک متفقہ قرارداد نے اس معاملہ میں بنیادی راہنمائی فراہم کی تھی جو10  اپریل1974ء   کو اس کے مکہ مکرمہ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی، اور اس میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج ایک کافر اور اسلام سے باغی گروہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب کے مشائخ عظام و علما کرام نے مختلف مواقع پر امت مسلمہ کی راہنمائی کی ہے جس کی بدولت اہل اسلام کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملی ہے۔

سابق صدر  مشرف کی کشمیر پالیسی اور موجودہ حالات

سابق صدر  مشرف کی کشمیر پالیسی اور موجودہ حالات

30 days ago.

جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور صدارت میں بھارت کے دورہ کے موقع پر مسئلہ کشمیر کے بارے میں جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس پر ہم نے 26 جولائی 2001 کو شائع ہونے والے کالم میں اظہار خیال کیا تھا، جسے آج کے حالات میں ایک بار پھر پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے کامیاب دورے سے واپس آگئے ہیں اور ان کے دورے کے مختلف پہلوئوں پر قومی اور بین الاقوامی پریس میں گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ جس رات جنرل پرویز مشرف آگرہ سے واپس اسلام آباد آئے صبح کے اخبارات کی جلی سرخیوں میں دورے کو ناکام قرار دے کر بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ ایک دو روز کے بعد دورے کو ناکام کی بجائے نامکمل کہنا شروع کر دیا گیا۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دورہ نامکمل تھا نہ ناکام، بلکہ صدر مشرف نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جو وہ اس دورے سے حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ آگرہ سے اپنے مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹے ہیں۔ 

برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

a month ago.

تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر ایک بات عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور کبھی کبھار نجی محافل میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے مگر اب اس احساس میں قارئین کو شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے، وہ یہ کہ ہر استعمار کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ ہم نے برطانوی استعمار کے تحت دو صدیاں گزاری ہیں، ایک صدی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماتحتی میں اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ تاج برطانیہ کی غلامی میں گزار کر 1947 سے آزاد قوم کی تختی اپنے سینے پر لٹکائے ہوئے ہیں۔مقامی آبادی کے مختلف طبقوں اور گروہوں سے کام لینا ہر استعمار کی ناگزیر ضرورت ہوتی ہے، کچھ سے ظاہری طور پر اور کچھ سے مخفی دائروں میں کام لیا جاتا ہے۔ تاریخ برطانوی استعمار کا مزاج یہ بتاتی ہے کہ جن سے خفیہ طور پر کام لیا جائے ان کی رازداری برقرار رکھی جائے،ان کی عزت اور بھرم پر کوئی حرف نہ آنے دیا جائے اور کام لے چکنے کے بعد بھی ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے مثلا خفیہ سرکاری دستاویزات کو مورخین و محققین کے لیے عام کرنے میں کم از کم تیس سال کے وقفہ کا ایک مقصد یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ خفیہ طور پر استعمال ہونے والے اپنی زندگی میں رسوا نہ ہونے پائیں جبکہ برطانوی استعمار کے لیے مختلف حوالوں سے استعمال ہونے والے خاندانوں اور گروہوں کے ساتھ اب بھی ان کے سابق آقاؤں کے اچھے مراسم دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک گروہ کے سربراہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خدا جانے کس ترنگ میں آکر ملکہ وکٹوریہ کے نام ایک عرضداشت میں خود کو برطانیہ کا خودکاشتہ پودا لکھ دیا تھا اور اسے اپنی کتابوں میں شائع بھی کر دیا تھا جسے اب تک ان کا گروہ بھگت رہا ہے، ورنہ عام طور پر ایسا نہیں ہوا۔

تبدیلی کا مثالی فارمولا

تبدیلی کا مثالی فارمولا

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  سب سے پہلے انہوں نے ذاتی زندگی کو یکسر تبدیل کیا اور شہزادگی کے دور میں وہ سہولت اور تعیش کے جن معاملات کے عادی ہو گئے تھے، انہیں ترک کر دیا۔ ان کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے دور کے انتہائی خوش پوش افراد میں سے تھے، عمدہ ترین لباس پہنتے اور کوئی لباس ایک بار سے زائد ان کے جسم سے نہ لگ پاتا، حتی کہ ایک دور میں جب وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے، ان کا ذاتی سامان تیس اونٹوں پر لاد کر دمشق سے مدینہ منورہ جایا کرتا تھا، اور ان کے علم و تقویٰ کے باوجود ان کے معاصرین ان کی اس ذاتی نفاست پسندی اور خوش پوشی پر تنقید کیا کرتے تھے مگر خلافت سنبھالتے ہی ان کا مزاج تبدیل ہو گیا، خلافت کی عمومی بیعت کے بعد جامع مسجد سے نکلتے ہوئے انہیں شاہی گھوڑوں کا دستہ سواری کے لیے پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میری سواری کے لیے خچر کافی ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں اپنی ذات اور اہل خاندان پر اتنی سختی کی کہ ان کے نانا  حضرت عمرؓ بن الخطاب کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گئی اور اسی لیے انہیں عمرؓ ثانی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

نیتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر

نیتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر

a month ago.

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے،انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔  اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں،ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیںاور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ خطہ کو بھارت میں شامل کیے جانے کے اعلان پر عالمی قوتوں،بین الاقوامی اداروں اور حلقوں کے ڈھیلے ڈھالے ردعمل کو دیکھ کر اسرائیلی وزیراعظم کو بھی حوصلہ ہوا ہے اور انہوں نے یہ مبینہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بحث کو بھی ہمارے ہاں وقفہ وقفہ سے زندہ رکھنے کی کوشش سوشل میڈیا پر دکھائی دے رہی ہے جس کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ شاید کسی وقت داؤ لگ جائے۔

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

3 months ago.

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا بلکہ اس کی طرف سے عملی جواب یہ ہے کہ بھارتی دستور میں مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کرنے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے جس سے بھارتی دستور کی رو سے کشمیر متنازعہ خطہ نہیں رہے گا  جبکہ کشمیری عوام پر گزشتہ ستر سال سے بھارتی فوج کے مسلسل بڑھتے ہوئے مظالم پر عالم اسلام خصوصاً پاکستانی قوم مضطرب اور بے چین ہے، مختلف ادوار میں اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی مگر بھارتی ہٹ دھرمی اور اقوام عالم میں اس کے اثر و رسوخ کے باعث معاملہ ہر بار کھٹائی میں پڑتا رہا۔ اب ایک بار پھر اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اس سلسلہ میں توجہ دلانے اور کشمیری عوام کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کے بھرپور اظہار کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہوگا جو اس سلسلے میں قومی طرز عمل اور عزم کا اعادہ کرے گا۔