کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

18 days ago.

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا بلکہ اس کی طرف سے عملی جواب یہ ہے کہ بھارتی دستور میں مقبوضہ کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کرنے کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے جس سے بھارتی دستور کی رو سے کشمیر متنازعہ خطہ نہیں رہے گا  جبکہ کشمیری عوام پر گزشتہ ستر سال سے بھارتی فوج کے مسلسل بڑھتے ہوئے مظالم پر عالم اسلام خصوصاً پاکستانی قوم مضطرب اور بے چین ہے، مختلف ادوار میں اس سلسلے میں پیشرفت ہوئی مگر بھارتی ہٹ دھرمی اور اقوام عالم میں اس کے اثر و رسوخ کے باعث معاملہ ہر بار کھٹائی میں پڑتا رہا۔ اب ایک بار پھر اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اس سلسلہ میں توجہ دلانے اور کشمیری عوام کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کے بھرپور اظہار کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج ہوگا جو اس سلسلے میں قومی طرز عمل اور عزم کا اعادہ کرے گا۔   

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

23 days ago.

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلما حضرت مولانا مفتی عبدالواحد ہم سب کے مخدوم تھے، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے استاذ محترم تھے اور بیک وقت تبلیغی جماعت اور جمعیت علماء اسلام کے اکابرین میں شمار ہوتے تھے۔ وہ رائے ونڈ کی شوریٰ میں اہم مقام رکھتے تھے اور جمعیت علماء اسلام میں مولانا مفتی محمود کے نائب کے طور پر مرکزی ناظم تھے۔ ان کا ذہن دونوں طرف یکساں چلتا تھا، دونوں کو وقت دیتے تھے اور دونوں حلقوں میں انہیں احترام اور عقیدت کا مقام حاصل تھا۔ انہوں نے جمعی علما اسلام کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں الیکشن بھی لڑا تھا، میں ان کی انتخابی مہم کا انچارج تھا اور  مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ان کی نیابت و خدمت بھی میری ذمہ داری تھی۔ اسی طرح مرکزی جامع مسجد دونوں کا مرکز تھی، شب جمعہ کا اجتماع یہیں ہوتا تھا اور حوض کے ساتھ والا کمرہ جو آج کل میرا دفتر ہے، تبلیغی جماعت کے مقامی بزرگوں کا مسکن ہوا کرتا تھا۔   

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

25 days ago.

1988 ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑمنڈی سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے۔  رسمی علیک سلیک اور حال احوال پوچھنے کے بعد میں نے پادری صاحب سے استفسار کیا کہ مغربی سوسائٹی میں مذہب کی معاشرہ سے لاتعلقی اور اس کے اثرات مثلاً عریانی و فحاشی، شراب، زنا ، سود اور جواء وغیرہ کے مسلسل فروغ کے بارے میں ایک مذہبی راہنما کے طور پر آپ کی رائے کیا ہے اور آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مذہبی حوالے سے میں اسے غلط سمجھتا ہوں مگر امریکی دستور میں اس سب کچھ کی گنجائش موجود ہے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ میرے علم میں ہے، میں صرف مسیحی مذہب اور اس کی نمائندگی کرنے والے ایک ذمہ دار راہنما کی رائے معلوم کرنا چاہتا تھا۔ میرا اگلا سو1ال یہ تھا کہ آپ اس سوسائٹی میں مذہب اور بائبل کی نمائندگی کرتے ہیں تو مسیحی مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہونے والے ان کاموں کی روک تھام کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ سنڈے کو ہماری مذہبی مجلس ہوتی ہے جس میں ان کاموں سے میں لوگوں کو منع کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آپ کا سامنا ہوگا تو کیا آپ اپنی اس کارکردگی پر انہیں مطمئن کر پائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ مشکل ہے مگر میں اس کے سوا اور کیا کر سکتا ہوں؟  

مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں

مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں

29 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) عقائد، عبادات اور اخلاق کے علاوہ تجارت، خلافت، جہاد، دوسری اقوام سے تعلقات، صنعت، زمینداری، حدود و تعزیرات، نظامِ عمل، نظامِ عدالت، معاشرت اور دیگر اجتماعی شعبوں کے بارے میں حدیث اور فقہ کی کتابوں میں مفصل اور جامع ابواب موجود ہیں جن کے تحت محدثین اور فقہا نے احکام و ہدایات کا بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ لیکن ان ابواب کی تعلیم میں ہمارے اساتذہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ہمارے اساتذہ کے علم اور بیان کا سارا زور کتاب الطہارت اور صلو کے جزوی مباحث میں صرف ہو جاتا ہے، جبکہ خلافت و امارت، تجارت و صنعت، جہاد، حدود و تعزیرات اور اجتماعی زندگی سے متعلق دیگر مباحث سے یوں کان لپیٹ کر گزر جاتے ہیں جیسے ان ابواب کا ہماری زندگی سے کوئی واسطہ نہ ہو یا جیسے ان ابواب کی احادیث اور فقہی جزئیات منسوخ ہو چکی ہوں اور اب صرف تبرک کے طور پر انہیں دیکھ لینا کافی ہو۔  

آرمی چیف اور وفاقی وزرا کیساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

آرمی چیف اور وفاقی وزرا کیساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

a month ago.

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم  شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علما ء کرام کی 16 جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کارروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے تو میں نے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے رابطہ کر کے کہا کہ میں ان معاملات میں خود کو وفاق المدارس کے دائرے میں سمجھتا ہوں اس لیے وفاقوں کی قیادتوں کی موجودگی میں میری شرکت کی زیادہ ضرورت شاید نہیں ہے۔ خیال تھا کہ وہ کچھ ڈھیلی بات کریں گے تو گنجائش مل جائے گی مگر انہوں نے اصرار کیا کہ مجھے ضرور حاضر ہونا چاہیے، اس لیے میں پہنچ گیا۔   

غلامی کے مسئلے پر ایک نظر

غلامی کے مسئلے پر ایک نظر

a month ago.

غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی، انہیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں ہزاروں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ غلامی کے جواز اور عدم جواز پر امریکی دانشوروں میں صدیوں تک بحث جاری رہی حتی کہ شمال اور جنوب کی تاریخی خانہ جنگی کے اسباب میں بھی ایک اہم مسئلہ غلامی کا تھا۔ یہاں تک کہ 1865 ء میں امریکہ میں قانونی طور پر غلامی کے خاتمہ کا فیصلہ کیا گیا۔ برازیل میں 1888 ء میں غلامی کو ممنوع قرار دیا گیا۔ نیپال نے 1926 ء میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا اور 1949 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا بھر میں غلامی کی مکمل ممانعت کا اعلان کیا جس کے بعد اب دنیا میں غلامی کی کوئی صورت قانونی طور پر باقی نہیں رہی۔  

سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

2 months ago.

ہفتہ کے روز ایران سے واپس گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں مگر دوحہ سے لاہور کی فلائیٹ پانچ گھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ سے اسباق میں حاضری نہیں ہو سکی۔ سفر کی مدت میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے نیا روٹ قطر ایئرویز کے ذریعے تہران سے دوحہ اور وہاں سے لاہور کا ترتیب پایا۔ دوحہ میں اسٹاپ سات گھنٹے کا تھا مگر فلائٹ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے بارہ گھنٹے تک پھیل گیا جو میرے لیے آزمائش سے کم نہیں تھا۔ میرے ٹخنوں میں ایک عرصہ سے درد  رہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے ،اللہ بھلا کرے گوجرانوالہ کے ایک نوجوان حافظ محمد صدیق کا جو گلاسگو سے آرہا تھا اور اسی فلائٹ سے اسے بھی لاہور آنا تھا، اس نے مجھے پہچان لیا اور بتایا کہ وہ گوجرانوالہ کے مولانا حافظ ریاض انور گجراتی  کا شاگرد ہے اور ان کے ہاں میرے بیانات سنتا  رہتا ہے، پھر وہ جہاز میں سوار ہونے تک مسلسل میرا سہارا بنا رہا، اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔