مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

مختلف شعبوں میں علما ءاور وکلا ءکی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

18 hours ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اس موقع پر ایک معزز وکیل نے سوال کیا کہ کیا ان بین الاقوامی معاہدات سے نکل کر ہم بطور ریاست اپنا وجود قائم رکھ سکتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں معاہدات سے نکلنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں کم از کم ان سے واقف تو ہونا چاہیے اور قوم کی راہنمائی کرنے والے طبقات بالخصوص علما کرام، وکلا، سیاسی راہنماں، اساتذہ، قوم کے نمائندوں اور میڈیا کے پالیسی سازوں کو پورے ادراک اور آگاہی کے ساتھ ان معاہدات کے ایسے حصوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جن پر اسلامی تعلیمات، قومی مفادات اور ملکی وقار کے حوالہ سے ہمیں تحفظات درپیش  ہیں۔ پھر ان تحفظات پر متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے گفتگو کرنے اور انہیں اپنے مسائل و مشکلات سے آگاہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کچھ عرصہ قبل جو بات کی تھی اور اب ترکی کے وزیراعظم  طیب اردگان وہ بات کر رہے ہیں، اسے منظم طور پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کو اس طرف توجہ دینی چاہیے جبکہ علما کرام اور وکلا کو اس کا ماحول اور اس سلسلہ میں بیداری اور شعور پیدا کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن باغ کی اس نشست میں بعض محترم وکلا نے انتہائی اہم سوالات کیے جن کے جواب میں کچھ گزارشات میں نے پیش کیں۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 

علامہ محمد اقبالؒ  کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

11 days ago.

وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری  کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنمائو ں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے 9 فروری 1932ء  کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ مقالات اقبال سے لیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بانیان پاکستان کی مذہبیت اور تحریک پاکستان کے حوالہ سے ان کے دینی مقاصد کا معیار اور دائرہ کیا تھا۔ خدا کرے کہ ہم علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی ؒجناح کے خطبات و بیانات کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں اور ان سے اپنی قومی پالیسیوں میں راہنمائی حاصل کرنے کی کوئی عملی سبیل پیدا کریں، آمین یا رب العالمین۔   

معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

25 days ago.

غزوہ خیبر کے بعد مال غنیمت کی کثرت ہوئی اور سرسبز و شاداب علاقے مسلمانوں کی تحویل میں آئے تو مدینہ منورہ کے عام لوگوں کی زندگی میں بہتری کے آثار نمودار ہوئے اور تنگی و عسرت کے دن پھرنے لگے۔ یہ دیکھ کر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے باہم مشورہ کیا کہ رسول اللہﷺ سے تقاضہ کیا جائے کہ ہمارے حالات میں بھی کچھ بہتری آنی چاہیے اور خرچ اخراجات کا معاملہ پہلے سے کچھ سہولت والا ہونا چاہیے۔ سب ازواج نے مل کر جناب نبی اکرم ﷺسے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو نمائندہ اور متکلم بنایا۔ انہوں نے بڑی حکمت اور دانشمندی کے ساتھ ازواج مطہرات کی یہ درخواست حضورﷺ کے گوش گزار کی لیکن درخواست الٹی پڑ گئی۔ رسول اللہﷺ ناراض ہوگئے، اپنی بیویوں سے بول چال بند کر دی اور مسجد کے حجرہ میں گوشہ نشین ہوگئے۔ اتنے دن گزر گئے کہ شہر میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول اللہﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ آپﷺ کی ازواج میں حضرت عمرؓ کی دختر حضرت حفصہؓ بھی تھیں، حضرت عمرؓ یہ سن کر تڑپ اٹھے اور بے چینی و اضطراب کے عالم میں اس حجرے کا رخ کیا جس میں آنحضرتﷺگوشہ نشین تھے۔ بڑی مشکل سے اندر جانے کی اجازت ملی، سامنا ہوتے ہی بے ساختہ پوچھا کہ کیا آپﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضورﷺ نے نفی میں سر ہلایا تو حضرت عمرؓ الٹے پائوں واپس پلٹے، حجرہ سے نکل کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور لوگوں کو خوشخبری دی کہ طلاق والی افواہ غلط ہے۔ اس اطلاع پر لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور ان کے چہروں پر رونق واپس آئی۔  

سودی نظام پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

سودی نظام پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار

a month ago.

رمضان المبارک کے دوران معمولات تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس کا آغاز شعبان المعظم کے آخری ہفتہ سے ہی ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کچھ ضروری کام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس سال شعبان کے آخری ایام میں اسلام آباد کا ایک اہم سفر ہوا جس کے مشاہدات میں قارئین کو شریک کرنا ضروری تھا مگر تاخیر ہوگئی۔ شریعہ اکادمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے مفتیان کرام کے چھ روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کر رکھا تھا اور  مئی کو اس کا آخری روز تھا۔  ڈاکٹر مشتاق احمد اور  علی اصغر کا ارشاد تھا کہ میں اس میں ضرور حاضری دوں، چنانچہ تعمیل حکم میں حافظ محمد عثمان حیدر کے ہمراہ اسلام آباد پہنچا اور مذکورہ کورس کے شرکا سے ان کے موضوع پر گفتگو کے علاوہ انسدادِ سود کی مہم کے حوالہ سے شریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ایک مستقل نشست میں حاضری ہوگئی جبکہ وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس فدا محمد خان کے ساتھ مختصر ملاقات کا موقع بھی مل گیا جو مفتیان کرام کے کورس میں لیکچر کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے۔   

نہم جماعت کی کتاب سے عقیدہ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج!

نہم جماعت کی کتاب سے عقیدہ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج!

a month ago.

مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلامی عقائد و احکام کی تعلیم سے آراستہ کرنا کسی بھی مسلم ملک کی حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے اور نوآبادیاتی اور غلامی سے قبل ہزار بارہ سو سال تک مسلمان حکومتیں اس فریضہ سے عہدہ برآ ہوتی چلی آرہی ہیں، البتہ بہت سے مسلم ممالک پر استعمار کے تسلط اور نوآبادیاتی ماحول قائم ہونے کے بعد قابض غیر مسلم حکومتوں نے اسے اپنی ریاستی و حکومتی پالیسی سے خارج کر دیا ہے۔ جبکہ برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والے مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لیے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علما کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا اور دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا، جو آج بھی پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ مسلمان بچوں کو دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے اور ان کے عقیدہ و ثقافت کی حفاظت میں مصروف ہے۔   

مانسہرہ میں ناموس رسالت  ؐ’’  ملین مارچ‘‘

مانسہرہ میں ناموس رسالت ؐ’’ ملین مارچ‘‘

2 months ago.

ملک بھر میں جمعیت علما اسلام پاکستان کی تنظیم نو کا کام جاری ہے۔ رکن سازی کے بعد مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اور مرکزی و صوبائی جماعتی انتخابات کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ہی تحفظ ناموس رسالتؐملین مارچ کے عنوان سے اجتماعات بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایک درجن کے لگ بھگ شہروں میں کامیاب عوامی ریلیوں کے بعد اب 28 اپریل کو مانسہرہ میں بڑا عوامی مظاہرہ کرنے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں۔ بعض دوستوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی اور مجھ سے بھی مختلف مقامات سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان پے در پے عوامی مظاہروں کی آخر ضرورت کیا ہے؟ میں مولانا فضل الرحمٰن کی اس پالیسی کے بارے میں اس سے قبل اس کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہے اور ان کا رخ بھی صحیح ہے، البتہ رفتار کی تیزی پر میرے ذہن میں بھی اس حد تک تحفظ ضرور موجود ہے کہ ابھی شاید فائنل رائونڈ کا وقت نہیں آیا اور اس سے قبل بہت سا ہوم ورک باقی ہے۔ میرے خیال میں اس حوالہ سے دو تین باتوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔