بھارت کاایک اوراوچھاوار

 بھارت کاایک اوراوچھاوار

9 days ago.

بھارت نے آج تک پاکستان کے وجودکودل سے اس لئے تقسیم نہیں کیاکہ برہمن سامراج کا مہابھارت کاخواب شرمندہ تعبیرنہ ہوسکاجس کی صدیوں سے تمنادل میں لئے ہوئے ہے۔ برہمن اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جس ملک کوبحرِہندکاپانی چھوکرگزرتا ہے وہ مہا بھارت کاحصہ ہے حالانکہ بھارت پرمسلمان حکمرانی کی چھاپ صدیوں پرمحیط ہے۔ قیامِ پاکستان نے ان کی آرزؤں پربری طرح پانی پھیردیا لیکن برہمن آج تک اس زخم کوبھلانہیں پایا، یہی وجہ ہے کہ آج سے چندسال پہلے تک بھارت میں یہ امید اور خواہش بہت جوان تھی کہ پاکستان ایک پکے ہوئے پھل کی مانندان کی جھولی میں آن گرے گا۔ اس میں امیداورخواہش کے الگ الگ پہلوتھے۔ بھارت کے دانشوروں اورسیاستدانوں کی امیدکی بنیادیہ تھی کہ پاکستان ایک قومی ریاست کی تعریف پراس لئے پورانہیں اترتا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں مذاہب سے نہیں۔ دوقومی نظریہ کی بنیادپر پاکستان وجودمیںآیا ہے اورمشترکہ بودو باش، زبان، ثقافت، تاریخی شعوراورمعاشی مفادات ریاستوں کے بننے اورٹوٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ پاکستان کی مختلف اکائیوں میں مذہب کے سواکوئی قدرمشترک نہیں کہ اس میں رہنے والوں کامذہب اسلام ہے۔  

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

11 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) یاد رہے اس پہلے بھی 1948 ء میں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ اٹیلی(26جولائی 1945ء تا 26 اکتوبر1951ء )نے جواہر لال نہرو کی دولت مشترکہ سے نکلنے اور روسی کیمپ میں جانے کی دھمکی پرفوری طورپرلارڈمانٹ بیٹن کویہ ذمہ داری سونپی کہ ہرحال میں پاکستان کے کشمیرپر ممکنہ حملے کے یقینی قبضے کوختم کرانے کیلئے فوری اقدام کئے جائیں جس کے نتیجے میں انہوں نے اس وقت کے پاکستانی وزیرِخارجہ سرظفراللہ کوٹیلیفون پربرطانوی وزیراعظم کا کشمیرپر حملے کی منسوخی کاذاتی پیغام پہنچایااورساتھ ہی اس بات کایقین بھی دلایا کہ نہرونے کشمیری عوام کوحقِ رائے دہی کایقین بھی دلایاہے۔اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی سوئے ہوئے تھے،ان کوجگاکرچوہدری ظفراللہ نے برطانوی وزیراعظم کی اس خواہش سے نہ صرف مطلع کیا بلکہ اس کوقبول کرنے پراصرار بھی کیا۔اس واقعے کی گواہی امت مسلمہ کی ایک مشہورجانی پہچانی شخصیت محمد اسدجن کی علمی اورفکری میدان میں گراں قدر خدمات اورپاکستان کے قیام اور تعمیر میں نمایاں خدمات سے ساری دنیاواقف ہے،اپنی کتاب میں ’’ہم نے کشمیرکیسے کھویا‘‘کے باب میں لکھاہے: ’’ہندوستان کے برطانوی حکمران،تحریک احمدیت کوبڑی پسندیدگی کی نظرسے دیکھتے تھے کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے پیرکاروں کو ہمیشہ برسرِ اقتداراسلامی یاغیراسلامی حکومت کی اطاعت اور فرمانبرداری کی سخت تاکیدکررکھی تھی،یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت کے مقتدر اصحاب، جماعتِ احمدیہ کے اراکین کی ہرطرح سے حمائت کرتے تھے۔ سر ظفراللہ بھی ایک بااثر قادیانی تھا،وہ تمام عمرانگریزوں سے زیادہ برطانیہ کے خدمت گزاررہا‘‘ آگے چل کرفرماتے ہیں ’’یہی سوچ کروہ پاکستانی افواج کو پونچھ سے ہٹا کر بین الاقوامی سرحد پر بھجوانے میں کامیاب ہوگیا۔یہ خطرہ ٹلتے ہی نہرو فوری استصواب رائے کرانے کے وعدے سے منحرف ہوگیا۔یہ اتنابڑاقومی المیہ تھاکہ جس کی تلافی نہیں ہوسکتی تھی۔پونچھ میں ہندوستانی افواج نے خود کومحفوظ کرلیاجبکہ پاکستان نے ایک نادرموقع کھودیا جو قوموں کی زندگی میں کبھی کبھارآتاہے۔‘‘

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

سلگتے کوہساراب جل رہے ہیں!

12 days ago.

 وادی کشمیر میں جاری ظلم وستم نے شکارے توپہلے ہی ویران کردیئے ہیں  اوراب نئی ممکنہ افتاد سے ریڑھی ٹھیلے والے بھی پیٹ پرپتھرباندھ کرمیدان کارزارمیں کودنے کیلئے کمربستہ ہوگئے ہیں کہ اب فیصلے کی گھڑی ہے اوروہ جان گئے ہیں گھرمیں چپکے سے دبک کربیٹھ جانے سے کیاموت ٹل جائے گی؟گزشتہ سات دہائیوں میں ان کی تیسری نسل جوان ہوگئی ہے لیکن ان کے عزم و استقلال میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے۔ برہانی شہیدکے بعدہرنوجوان اللہ کی برہان بن گیاہے۔ پاکستان اب بھی ان کی آنکھوں اوردل میں بسا ہوا ہے۔ کوہساروں،جنگلوں،شہروں اورگلی کوچوں میں پاکستان کی بقا ء کی جنگ لڑرہے ہیں ۔سیدعلی گیلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام ایک ’’ایس اوایس‘‘جاری کرکے متنبہ کردیاہے کہ انہیں خبرہوکہ ان کے پہلومیں کیا قیامت ڈھائی جارہی ہے اورمقبوضہ کشمیر کے مجبورومقہورباسیوں کے دلوں میں ایسے آتش فشاں پھوٹ پڑے ہیں جوسب کچھ جلاکرخاکسترکردیں گے۔امت مسلمہ کی کشمیرکی موجودہ تحریک آزادی  سے لاتعلقی اورغفلت کی مہر نے ان کے دلوں کی حرارت سلب کررکھی ہے۔ 

ضمیرفروش

ضمیرفروش

15 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) ان تمام کمپنیوں کاطریقہ واردات کمال کاہے۔ پہلے کسی بھی ملک کی قیادت کورشوت اورکمیشن کے ذریعے بددیانت بنایاجاتاہے اورجب ان کے پاس ناجائزآمدنی کاوافرحصہ جمع ہوجاتاہے توانہیں کالے دھن کوسفید کروانے کیلئے کاروبارکروایا جاتاہے۔جب وہ منافع خوری اورلوگوں کولوٹنے کے اس فن کے تمام اصول سیکھ جاتے ہیں توپہلے اندرونی طورپر بلیک میل کرکے کام نکلوائے جاتے ہیں،وہ یہ کام کرتے رہتے ہیں لیکن جب مطالبات بڑھ جائیں اوریہ ضمیرفروش ذرا ہچکچاہٹ دکھائیں توان کے سکینڈل منظرعام پرآنے لگتے ہیں۔کام چلتارہے توٹھیک وگرنہ انہیں گندے ٹشوپیپرزکی طرح گندگی کی ٹوکری میں پھینک دیاجاتاہے۔ان مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ اسلحہ ساز کمپنیوں کاہوتاہے کہ جنگ جاری رکھو،اپنے لوگوں کوآپس میں لڑائو۔کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی پھیلائو۔ گزشتہ سوسالوں میں دوبڑی اورکئی سوچھوٹی جنگیں لڑی گئیں۔پہلے جنوبی مشرقی ایشیامیں، پھر جنوبی امریکہ اوراب مسلم ممالک ہیں۔  

ضمیرفروش

ضمیرفروش

16 days ago.

کیاآپ جانتے ہیں کہ دنیاکے غریب اور پسماندہ ممالک کے حکمران،سیاستدان، جرنیل، صحافی،دانشوراور سول سوسائٹی کے علمبردارکیوں سستے داموں بک جاتے ہیں،ان کے ضمیروں کاسودا مغربی ممالک اور امریکہ کے سفارت خانوں میں کن مقاصدکے حصول کیلئے کیاجاتاہے،ان بکائوافرادکا انتخاب کیسے ہوتاہے اوران ضمیر فروشوں کوکیسے پہچاناجاتاہے، ان کی لالچ حرص اورہوس کوکیسے سہانے خوابوں کے ساتھ سجایا جاتا ہے؟ وکی لیکس کے انکشافات نے تو صرف دنیا کے اس بازاراورمنڈی سے متعارف کروایاہے جہاں بولیاں لگانے والے، وطن کاسودا کرنے والے، ننگ دیں وننگ ایمان اور ضمیر فروشوں کی کوئی کمی نہیں ۔اس نے چندحقائق سے پردہ اٹھایاہے جسے اس ملک کاہرباشعور شہری پہلے سے جانتا تھاکہ اس کی قوم کی تقدیرکوکب،کہاں اورکتنے میں بیچاگیااورکس شخص نے اپنی کیاقیمت وصول کی۔لیکن کیاآپ کوعلم ہے کہ یہ بازارآخرکیوں سجایاجاتاہے ،ان ضمیرفروشوں کی اس قدرعزت افزائی کیوں کی جاتی ہے؟

بدبوکا جوہڑ

بدبوکا جوہڑ

19 days ago.

باباجی کے دونوں اعتراض درست تھے،میں خود بڑے عرصے سے محسوس کررہاہوں،میری تحریر میں ایک بیزاری،ایک لاتعلقی سی آچکی ہے۔وہ تلخی،وہ آگ اوروہ سلگتاہوادردختم ہوتاجارہاہے جواس تحریر کی پہچان تھا۔ایساکیوں ہورہاہے؟میں اکثرخود سے سوال کرتا ہوں۔ ہربارمیںخودکویہی جواب دیتا ہوں،کوئی نیا مو ضو ع ، کوئی نیاایشونہیں۔میں نے بابا جی کوبھی یہی جوازپیش کیا۔میں نے انہیں بتایا ’’باباجی! مہنگائی پرکتنے کالم لکھے جاسکتے ہیں؟ بیروزگاری، جہالت اور بیماری پرکوئی کہاں تک لکھ سکتاہے؟ بدامنی،حکومتی رٹ،حکومتی بے حسی، لوٹ کھسوٹ، کرپشن،دفتری تاخیر،سرخ فیتہ اورسیاسی مکروفریب پرکتنے ٹن مضامین چھاپے جاسکتے ہیں؟ آخر انسانی دماغ کی بھی ایک حدہوتی ہے،آپ سیاپابھی ایک حدتک کرسکتے ہیں،بچہ ماں کوکتناپیارا ہوتاہے،بچہ مرجائے توماں بین کرتی ہے،روتی ہے چلاتی ہے لیکن کتنی دیر؟ایک گھنٹہ،ایک دن یاایک ہفتہ،آخربین چیخوں،چیخیں سسکیوں اور سسکیاں آہوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں،دلِ مضطرب کوچین آجاتاہے۔ایک ہلکی سی کسک،دردکی ایک تھوڑی سی آہٹ باقی رہ جاتی ہے۔  

موہن لال سے مودی تک؟

موہن لال سے مودی تک؟

29 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) مجھے گزشتہ دنوں میرے ایک مربی نے ان کشمیری پنڈتوں کی تاریخ پڑھنے کوکہاتومیرے ہاتھ موہن لال کاشمیری کی آب بیتی،گلوب اینڈ میل کی ایک پرانی رپورٹ اورکرسٹینالیمب کا2004ء میں لکھا ہواکالم اکٹھے پڑھنے کااتفاق ہوا،گلوب اینڈمیل نے انکشاف کیا’’کابل شہرگناہوں کی دلدل بن چکاہے، شہرمیں جسم فروشی کے سینکڑوں مراکزکھل چکے ہیں، وزیر اکبرخان اورشہرنوکے جدیدعلاقوں میں درجنوں نائٹ کلب ہیں۔افغا ن قانون کے مطابق شراب نوشی جرم ہے لیکن شہرمیں شراب عام ہے‘‘۔کرسٹینالیمب نیویارک ٹائمزمیں اپنے کالم میں لکھتی ہیں کہ’’کابل شہرمیں ایک سابق افغان عمرنے دولاکھ ڈالرسے’’پی کاک‘‘کے نام سے ریستوران کھولاجس کاسوئمنگ پول مارٹینی شراب کے گلاس کی مانند ہے ،اس ریستوران میں شراب کے ساتھ حرام گوشت بھی ملتاہے،پی کاک کے علاوہ وہاں برطانیہ کے  باشندوں نے ایلبوروم کے نام سے کاک ٹیل باراورتھائی ریستوران بھی کھولا ہے۔پورے شہرمیں شراب اورعورت عام ہے جسے افغان پسندیدگی سے نہیں دیکھ رہے،حالت یہ ہے طالبان کے مخالف بھی آج ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں،کیاامریکہ نے یہ جنگ اس لئے لڑی تھی کہ وہ یہاں شراب خانے،ریستوران اوررقص گاہیں تعمیرکرسکے‘‘۔  

موہن لال سے مودی تک؟

موہن لال سے مودی تک؟

a month ago.

تقریباًدوصدیاں پہلے کشمیر کی خوبصورتی سے متا ثر ہوکرکچھ ہندوپنڈتوںنے مستقل رہنے کی درخواست کی تواس وقت کشمیری مسلمانوں نے اپنے حسن سلوک سے ان کو صدقِ دل سے خوش آمدیدکہااوراس طرح آہستہ آہستہ مزیدہندوافرادبھارت سے کشمیرمیں پہنچناشروع ہوگئے اوراس طرح یہ تمام ہندوافراد کشمیری پنڈت کے نام سے بلائے جانے لگے۔ بدھ سنگھ جوایک لٹاپٹا جاگیر د ا ر تھااس نے بھی اپنے کنبے کے کچھ افرادکے ساتھ کشمیر میں پناہ لی۔ابھی وہ جوان ہی تھاکہ اس نے ایک انگریزافسر مانسٹوٹ کے پاس ملازمت حاصل کرلی اورپھراس کے ساتھ ہی دلی منتقل ہوگیا۔دورانِ ملازمت دلی قیام کے دوران 1812 ء میں اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جس کانام اس نے موہن لال رکھا۔بدھ سنگھ ایک جہاں دیدہ شخص تھالہٰذا جب1828ء میں انگریزنے فارسی کالج دلی میں انگلش کی کلاسیں شروع کیں توبدھ سنگھ نے اپنے بیٹے موہن لال کووہاں داخلہ دلادیاجہاں موہن لال کے نام کے ساتھ کاشمیری کااضافہ کردیاگیا۔  

نیٹوکاکڑاامتحان

نیٹوکاکڑاامتحان

a month ago.

اٹلانٹک کے اردگردپھیلے ملکوں کااتحادایک بارپھر اپنایوم پیدائش منارہاہے سردجنگ سے لے کرآج تک ان چالیس سالوں میں اس اتحادنے یورپ میں امن کو یقینی بنایاہے اور سکیولر ازم کوتحفظ فراہم کیاہے سویت یونین جب بکھررہاتھااس وقت نیٹواتحادنے ہی یورپ کومستحکم رکھتے ہوئے بے مثال خوشحالی اورامن کویقینی بنایا۔نیٹوکے سابق برطانوی ایمبیسٹر،لندن تھنک ٹینک اوریورپین لیڈرشپ نیٹورک کے موجودہ ممبرسرآدم تھامس کے مطابق یہ اتحادایک پرعزم ومستحکم ارادے کوظاہرکرتاہے اٹلانٹک ملکوں کایہ اتحادیورپ میں بے مثال امن واستحکام کی وجہ سے مطمئن اورخوش ہے، یورپی ممالک امن وخوشحالی کیلئے نیٹوکے کردارکواہم گردانتے ہیں اورنیٹوکواک نعمت کے طورپرسمجھاجانا چا ہیے۔    یہ اتحاداب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے بہت جلد نیٹو کے 30ارکان ہوں گے اوریہ930ملین لوگوں کی سرحدی حفاظت کاذمہ دارہوگا۔نیٹوممالک کے پاس دنیاکی نصف جی ڈی پی ہے جبکہ ان کے دفاعی اخراجات 55فیصدہیں۔پچھلے سال کانفرنس میں نیٹوممالک کے پاس کرنے کے کام کی ایک لمبی لسٹ موجودتھی اوریہ اتحادنئے مراکزکھولنے کیلئے بھی پرجوش ہے۔  

فرعون کا ستون!

فرعون کا ستون!

a month ago.

شانزے لیزے کاجب نام لیاجاتاہے توفوراپیرس کی طرف نگاہ اٹھتی ہے جوفرانس کادارالخلافہ ہے۔شانزے لیزے دنیاکی خوبصورت اورمہنگی ترین شاہراہ ہے،یہ سڑک سینکڑوں سال پہلے فرانسیسی با د شا ہو ں نے اپنی چہل قدمی کیلئے بنائی تھی،یہ سڑک فرانسیسی کاریگروں نے چھوٹے چھوٹے پتھرجوڑکرمکمل کی تھی اوریہ پتھرآج تک قائم ہیں،شانزے لیزے دنیاکی پہلی فیشن سٹریٹ بھی کہلاتی ہے۔دنیاکے مہنگے ترین برانڈزکے شورو مز،ریستوران، فیشن سٹوراوردنیابھرکی خوبصورت یادگاراشیاکاڈھیرلگاہواہے۔یہ سڑک ’’پلاس ڈی لاکنکورڈ‘‘سے شروع ہوتی ہے اورسڑک کے وسط میں سب سے بڑاچوک ہے جس کے عین درمیان میں ایک مخروطی ستون ہے یہ ستون ہزاروں سال پہلے ماہرمصری کاریگروں نے تراشاتھاجب مصرمیں فرعون کی حکومت ہوتی تھی،یہ وہی فرعون ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دورمیں خدائی کادعوی کیا،حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے ساتھ اس کامقابلہ ہوااوروہ اوراس کی فوج دریائے نیل میں غرق ہوگئی اورآج تک فرعون کی لاش مصر کے میوزیم میں عبرت کیلئے موجودہے۔