اصلی مخدوم

اصلی مخدوم

2 days ago.

(گزشتہ سےپیوستہ) میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اورعرض کیا’’ جناب اللہ کوکیسے راضی رکھاجاسکتاہے لیکن آپ نے موضوع ہی ڈی روٹ کردیا۔‘‘وہ مسکرائے اورمیری طرف اس طرح دیکھاجیسے فلسفی جاہلوں اوربے وقوفوں کی طرف دیکھتے ہیں۔وہ ذرادیرتک مجھے ایسی نظروں سے دیکھتے رہے اورپھربولے’’تم مجھے پہلے یہ بتاؤجب اللہ کسی شخص پرراضی ہوتاہے تووہ اسے کیادیتا ہے۔’’میں نے عرض کیا’’جناب میراعلم بہت محدود ہے،میں آپ ہی سے اس سوال کی وضاحت کی درخواست کرتاہوں۔‘‘وہ ذرا دیر رکے اورپھربولے ’’اللہ کی ذات جب کسی شخص پرراضی ہوتی ہے تووہ اس پررزق کشادہ کر دیتی ہے۔وہ اسے امن دیتی ہے، خوشی دیتی ہے،سکون دیتی ہے اوروہ اس کے اقتدارکو وسیع کردیتی ہے اورجب وہ ناراض ہوتاہے تویہ ساری چیزیں ریورس ہوجاتی ہیں،اقتدار مختصرہو جاتاہے، زندگی سے سکون خارج ہوجاتاہے،خوشی ختم ہوجاتی ہے،امن غارت ہوجاتاہے اوررزق دور ہو جاتا ہے اوروہ گھرہو،کمپنی ،فیکٹری،دکان یاپھرملک تمام برباد ہو جاتے ہیں۔‘‘میں خاموشی سے سنتا رہا، وہ بولے ’’اللہ خالق کائنات ہے وہ اس کائنات کاسب سے بڑاتخلیق کارہے اورانسان اس کی محبوب ترین تخلیق، چنانچہ جب تک کوئی شخص اس کی محبوب ترین تخلیق سے محبت نہیں کرتااللہ تعالی اس وقت تک اس سے راضی نہیں ہوتااورجس سے اللہ راضی نہ ہواس دنیامیں اس شخص کارزق،خوشی،سکون،امن اوراقتداروسیع نہیں ہوتا۔’’وہ رکے اوردوبارہ بولے’’اللہ نے انسان، جانور، پودے،جھیلیں اورپہاڑبنائے،اس نے کائنات کی ہرشے تخلیق کی لیکن انسان اللہ کی تخلیقی فہرست میں پہلے نمبرپرآتا ہے اور دنیا کا جوملک،معاشرہ،نظام اورشخص اللہ کی وضع کردہ ترجیحات کے مطابق اس کی تخلیقات سے محبت کرتاہے،وہ اس کی تخلیقات کی عزت کرتا ہے، انہیں ان کاجائزمقام دیتا ہے اللہ بھی اس سے اتناہی راضی ہوجاتاہے اوردنیامیں اسے اتناہی امن، سکون،خوشی،رزق اوراقتدارمل جاتا ہے، میں خاموشی سے سنتارہا۔

اصلی مخدوم

اصلی مخدوم

3 days ago.

بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پرکچھ کہنایالکھناآسان نہیں ہوتا،زبان وقلم کی ساری صلاحیتیں ناکافی لگنے لگتی ہیں۔خصوصاًایسے موضوعات جن کا تعلق ہماری ذاتی یاملی ناکامیوں سے ہو،وہاں ہماراخاص قومی مزاج خود پسندی اوررجحان راہ میں حائل ہوجاتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے دورمیں جب  انسان مادی ترقی کی معراج پرپہنچ چکاہے،مسلم دنیاکے تصورکے ساتھ ہی ایک ایسی شکست خوردہ قوم کی تصویرابھرتی ہے جواپنے جوہرسے ناآشنااور مغربی دنیاکی اسیرہے جس کاکوئی متعین مقصدہے نہ متعین پالیسی اورنہ منزل۔آج کوئی بھی مسلم ملک جدیدعلوم وتحقیقات کے میدان میں کسی قابل ذکر مقام پر نہیں کھڑا۔دنیابھرمیں مسلمان عالمی طاقتوں کے نرغے میں ہیں۔کہیں مسلمانوں کاوجودزنجیروں میں جکڑاہواہے توکہیں وہ نفسیاتی غلامی کا شکارہے کہ اندھی تقلیدسے آگے کچھ بھی سوچنے سے قاصرہے۔یہ ہماری موجودہ ملکی صورتحال کی ایک جھلک ہے۔’’بات تو سچ ہے مگربات ہے رسوائی کی‘‘

امریکی دوستی اوراس کاانجام

امریکی دوستی اوراس کاانجام

11 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) ان کے مطابق "جنرل سلیمانی افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کے حق میں تھے انہوں نے امریکیوں کو نقشے، طالبان اورالقاعدہ کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ القاعدہ کاایک سہولت کاربھی امریکاکے حوالے کیاجوایران کی حراست میں تھا۔ وہ ایران کی جانب سے افغانستان میں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار تھے ۔ جنرل قاسم سلیمانی نے اس کے بعد عراق میں بھی امریکا کے ساتھ مل کر اس شرط پرکام کیا کہ عراق میں ایران نواز ملیشیا اور ایسے تمام گروہ جن کا تعلق ایران کے ساتھ ہے، جن میں مجاہدین خلق بھی شامل تھے ان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور امریکا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے ۔ امریکی حملے کے بعد ایران میں ایک مضبوط حکومت جوکہ ایرانی اثر و رسوخ کے تحت ہو اس کو قائم کرنے میں بھی جنرل سلیمانی نے امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا ۔کروکرکے مطابق ’’حاجی قاسم ہمارے تعاون پر بہت خوش تھا۔‘‘اسی طرح عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی جنرل سلیمانی امریکاکے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ۔ عالمی سطح پر کئی آپریشن جن میں امریکا اور ایران کا مفاد مشترکہ تھا ان میں جنرل سلیمانی  نے امریکیوں کے ساتھ معاملات طے کئے اسی طرح شام اور یمن میں بھیجنرل قاسم سلیمانی کاہم ترین کردار تھا۔

نفرت واحترام کامعیار

نفرت واحترام کامعیار

18 days ago.

تقریباًدوہزارسال قبل یونان کے شہرا یتھنز کے لوگ اپنے حاکم خود منتخب کرتے۔آرٹ ادب فکر اور فلسفہ ان کااوڑھنااوربچھوناتھا۔ شہرکی ایک اسمبلی تھی جہاں لوگوں کے مسائل زیر بحث آتے لیکن404 قبل مسیح،سیارٹاکے جرنیل لینڈرنے وہاں کے چند آمریت پسندلوگوں کواکسایا،ان کی مددکی اور ایتھنز پر جمہوریت،عوام اوراسمبلی کی جگہ چندآمروں کی بادشاہی قائم کردی گئی۔عدالت جرنیل لینڈرکے سامنے جھک گئی اورروزاس عدالت سے ذاتی اور سیاسی مخالفت کی بنیاد پر لوگوں کوپھانسی کی سزادلوائی جانے لگی۔اس عدالت میں تاریخ کاایک ناقابل فراموش کردارسقراط پیش ہوا۔سقراط پرلوگوں کوعلم وآگہی کی تعلیم دینے اور نو جو ا نو ں کوگمراہ کرنے کامقدمہ قائم تھا۔جرنیل کی نامزداس مجبور عدالت نے اسے موت کی سزاسنا دی۔سقراط نے صرف اتناکہا،میں موت سے مغلوب ہورہاہوں اورتم بدی سے۔اسے تیس دن جیل میں رکھاگیا،پھراسے زہرکا پیالہ دیاگیاجواس نے سکون اور اطمینان سے ہونٹوں سے لگالیا۔میں نے تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کی،مجھے جرنیل لینڈرکانام ملا،سرکاری طور پر الزامات لگانے والے میلتس کانام ملالیکن تاریخ نے گوارا  نہ کیاکہ اس جج کانام محفوظ کرے جس نے ضمیرکی بجائے خوف کے زیراثرفیصلہ دیاتھا۔

چشم فلک کاایک منظر

چشم فلک کاایک منظر

26 days ago.

شمارلی کوریاکے شہر ’’سن شی آن‘‘کے عین وسط  میں ایک سٹیڈیم کے وسطی دروازے سے 25پولیس اہلکارایک خستہ حال بوڑھے کوبازؤں سے گھسیٹ کرلارہے تھے،بوڑھے کی ایڑیوں سے ایک لمبی لکیر بنتی جارہی تھی۔پولیس اہلکاروں نے بوڑھے کو سٹیڈیم کے درمیان ایک عارضی سٹیج پربنے پھانسی گھاٹ پر سہارا دیکرکھڑاکرکے اس کارخ تماشائیوں کی طرف کردیا ۔ سٹیڈیم میں پن ڈراپ خاموشی میں ڈیڑھ لاکھ لوگ دم سادھ کربیٹھے تھے۔بوڑھے کی داڑھی الجھی اوربال پریشان تھے،اس کی آنکھوں میں گہری اداسی اور چہرے پر دکھ تھا،پولیس اہلکاروں کے جتھے میں سے ایک سینئر افسرآگے بڑھا،اس نے جیب سے کاغذ نکالا ،بوڑھے کے جرائم باآواز بلند پڑھے اوراس کے بعداعلان کیا ’’معزز عدالت کے حکم پر75سالہ مسٹر کوسر عام پھانسی دے رہے ہیں‘‘ اس نے کاغذتہہ کیا،جیب میں ڈالا،سٹیج سے اترا اوراہلکاروں کوکاروائی مکمل کرنے کااشارہ دے دیا،پولیس اہلکاروں نے نیم مردہ بوڑھے کے گلے میں رسہ باندھ دیا،سٹیڈیم میں سیٹی کی آوازگونجی،اہلکار نے لیورکھینچا،بوڑھارسے پر تڑپااور ایک  منٹ بارہ سیکنڈ بعدٹھنڈاہوگیا،پھانسی کاعمل جوں ہی مکمل ہوا،سٹیڈیم میں بھگدڑمچ گئی،لوگ خوف کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے،پولیس نے بھگدڑپرقابوپانے کی کوشش کی لیکن ہجوم 6لوگوں کوکچل کرشہر کی گلیوں میں گم ہوگیا، اس بھگدڑ میں 34افرادشدیدزخمی ہوگئے۔

چڑھتے سورجوں کادوست

چڑھتے سورجوں کادوست

27 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) ’’فرنینڈ مارکورس‘‘22برس تک فلپائن میں امریکی مفادات کی جنگ لڑتارہا۔اس نے فلپائن سے کمیونسٹوں کوچن چن کرختم کردیا لیکن1986میں امریکاہی نے اس کی حکومت ختم کرادی،مارکوس امریکاآگیا،امریکا نے اسے پناہ تودے دی لیکن اسے وہ عزت اوروہ توقیرنہ دی جس کاوہ حق دارتھا،مارکوس نے باقی زندگی ہونولولوکے ایک چھوٹے سے مکان میں گزاری اوراسے ایک عام پناہ گزین کے برابروظیفہ ملتاتھا،1999 میں اسی بے بسی کے عالم میں آنجہانی ہوگیا۔1979 ہی میں امریکا نے رہوڈیشیا میں بشپ ایبل منروریوا کوموغابے اورنکوموکے مقابلے میں کھڑاکیا،بشپ امریکیوں کیلئے لڑتارہالیکن جب وہ لڑتے لڑتے کمزور ہوگیاتو امریکانے اس کی امدادسے ہاتھ کھینچ لیا۔صدام حسین کی کہانی تو پوری دنیاجانتی ہے۔انقلاب ایران کے بعد امریکا نے صدام کواستعمال کرنے کافیصلہ کیا،صدام نے امریکاکی ایماپر22ستمبر1980 کوایران پرحملہ کردیا،یہ جنگ20اگست 1988 تک 8سال جاری رہی اوراس میں دس لاکھ افرادہلاک اور20 لاکھ زخمی ہوئے۔صدام1990تک امریکا کادوست رہا لیکن پھر امریکانے تیل کے لالچ میں عراق پر حملہ کر دیا،اس جنگ میں86ہزارعراقی شہری شہیدہوئے، 2003میں امریکانے ایک بارپھر عراق پرحملہ کیا، صدام گرفتار ہوا اور امریکی ہدایات پراسے 30 دسمبر2006کو بغدادمیں پھانسی دے دی گئی۔