پراعتمادروس اورمشرقِ وسطی

پراعتمادروس اورمشرقِ وسطی

8 days ago.

امریکااورتہران کے درمیان تعلقات شام میں شروع ہونے والی جنگ کے بعداس وقت مزید خراب ہوگئے جب امریکانے ایٹمی معاہدے کو منسوخ کیاجبکہ روس اور ایران کے تعلقات اس وقت سے مضبوط ہیں جب سے شام میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ فوجی تعاون کررہے ہیں۔ ماسکو کا شام میں بڑھتاہوااثرورسوخ یہ بتاتاہے کہ امریکا اورایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں روس کی پوزیشن کومستحکم کرے گی یاکم ازکم اتناتوہو گاکہ روس امریکا کی ایک ڈرائونی تصویر دنیاکے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔عالمی رہنما اور امریکاکے اتحادی واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر نظرثانی کرنے پرمجبورہوجائیں گے۔قاسم سلیمانی کی ہلاکت کابدلہ  لینے کیلئے امریکی اڈے پرایرانی میزائل حملے سے قبل ہی پیوٹن نے بشارالاسد ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پرامریکی فضائی حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی شدیدمذمت کی  تھی اورعالمی سطح پراس وقت روس اپنے حق میں بہترہوتی صورتحال کاانتظارکررہاہے۔  

دشمن قیامت کی چال چل گیا

دشمن قیامت کی چال چل گیا

13 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) سعودی عرب کے حوالے سے پہلے یہ اطلاع آئی کہ شاہی خاندان کی تین اہم شخصیات کوگرفتارکر لیاہے پھرکہاگیاکہ یہ تینوں افراد سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گرفتارشخصیات میں سے ایک سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیزکے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز،دوسرا بھتیجاشہزادہ محمد بن نائف اورتیسرا کزن شہزادہ نواف بن نائف شامل ہیں ۔ نیویارک ٹائمزکے مطابق شاہی خاندان کے ان افرادکو ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر گرفتار کیا گیاہے اوران پرشاہ اورولی عہدکوہٹانے کے لئے بغاوت کی منصوبہ بندی کاالزام عائد کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں سزائے موت یاعمر قیدکی سزا دی جاسکتی ہے۔ سعودی حکام نے شہزادوں کو حراست میں لیے جانے پرکوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا۔اس سے قبل 2017میں بھی محمد بن سلمان کے احکامات پرسعودی شاہی خاندان کے کئی اراکین اوروزراکو گرفتار کیاگیاتھاجبکہ اس وقت کے وزیر داخلہ محمد بن نائف کوبھی عہدے سے ہٹاکرنظربند کردیاگیا تھا۔ 

بھارت میںشہریت ترمیمی بل

بھارت میںشہریت ترمیمی بل

17 days ago.

بھارت میںشہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج میں نوجوان اورخاص طورپرلڑکیاں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہیں۔ان احتجاجی مظاہروں میں اب تک پولیس تشدد سے متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ بیس سالہ طالبہ پرییا بھی اِن مظاہروں میں حصہ لیتی ہیں لیکن انھیں پولیس تشدد سے زیادہ اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ان کے والد کوان کی سرگرمیوں کا علم نہ ہوجائے اور وہ ان کی تعلیم بند نہ کروادیں۔ پرییااپنے والدکے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ مسلمانوں سے اتنی نفرت کرتے ہیں کہ اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دارمسلمانوں کوسمجھتے ہیں۔میں نے کئی بار ان سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہربار وہ مجھے کالج سے نکالنے اورمیری شادی کردینے کی دھمکی دے کربات ختم کردیتے ہیں۔ پرییاکے والد انہیں واٹس ایپ پرفیک ویڈیواور تصاویربھیجتے رہتے ہیں لیکن جب وہ انہیں ان ویڈیواورتصاویرکی تصدیق کیلئے ویب سائٹس کے لنک بھیجتی ہیں توانہیں ان ہی دھمکیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔اس وجہ سے انہوں نے اپنے سیاسی نظریات کواپنے والدین سے چھپایا ہوا ہے۔ پرییااپنے سیاسی نظریات کااظہارٹویٹرپرکرتی ہیں۔ان کاکہناہے کہ ان کے والدین کوان کے ٹویٹراکائونٹ کاعلم نہیں ہے۔  

احترامِ نسواں

احترامِ نسواں

18 days ago.

ابتداکے یہ خوشگوارنتائج جب انتہائی درجے کوپہنچے توان کی صورت انتہائی مسخ ہوچکی تھی، جب عورت نے گھربارچھوڑکرمعاش ومعاشرت کوترجیح دیناشروع کی تووہ انتہائی تلخ حقائق سے دوچار ہوئی۔اب فطرت کے عائدکردہ کام یعنی بچوں کی پرورش اورتعلیم وتربیت تواسے کرناہی تھے مگرجب مردکی برابری اختیارکرکے فطرت کی مشیت کی نفی کی اورمعاش جیساکام بھی ازخود اپنے کاندھوں پر اٹھایاتواسے معلوم ہونے لگاکہ اسے مردکی برابری کے دھوکے میں مردکے مقابلے میں دوہری ذمہ داریاں اداکرناپڑرہی ہیں چنانچہ اس کے بعدوہ مادرانہ ذمہ داریوں سے گریز کی راہ اختیارکرنے لگی جس کانتیجہ یہ برآمدہواکہ مغربی معاشرہ تتربترہو گیا۔اب مغربی گھرویران مگرسڑکیں،کلب،ہوٹل اور دفاتربارونق ہوگئے، بچے  ماں کی ممتا سے محروم ہوکرجب بے بسی کی زندگی گزارتے ہیں تووہ’’بے حس‘‘تیارہوتے ہیں۔بیمار بوڑھے والدین ہمدردی کے دوبول کوترستے ہیں،مشرقی معاشروں کی طرح انہیں ’’تراشیدہ ہیرا‘‘سمجھ کراہم خاندانی معاملات میں ان سے رائے طلب نہیں کی جاتی،نہ ان کو’’قیمتی گوہر‘‘کی حیثیت دی جاتی ہے بلکہ جوانی میں عیش ونشاط سے بھرپورزندگی گزارکر جب وہ بڑھاپے کی جانب گامزن ہوتاہے تواسے غیرضروری قرار دے کر’’اولڈایج ہومز‘‘کی طرف دھکیل دیا جاتاہے۔ 

رحمتیں کیسے نازل ہوں؟

رحمتیں کیسے نازل ہوں؟

23 days ago.

ہرصبح سینکڑوں ایسے پیغامات ملتے ہیں جس میں قارئین اکثرخاصے غصے میں جھنجلائے پاکستان کی سلا متی کے بارے میں بڑے پریشان کن سوال کرتے ہیں اس بات کی تکراررہتی ہے کہ تم ہروقت اس زخم خوردہ کاماتم کرتے رہتے ہو۔اس کے لٹ جانے کامنظرپیش کرکے خودتوپتہ نہیں روتے ہوکہ نہیں مگرہمیں رلاتے رہتے ہو۔ کیابات ہے کہ چندحروف تسلی کے یاچند امید بھری باتیں کیوں نہیں کرتے؟یہ محبت بھری شکایات جب ان کومیری طرح مایوسی کے اس لق دق صحرامیں پریشان کرتی ہیں تویہ جی بھرکرمجھ سے لڑتے جھگڑے ہیں کہ چلوٹھیک سہی مگراس کاجوحل تم تجویز کررہے ہواس پر عملدرآمدکب ہوگا اور اس پرکوئی کان بھی دھرے گاکہ نہیں؟میں ان کے یہ تمام مطالبے سن کرحیرت میں گم ہوجاتاہوں کہ مدتوں جس شان و شوکت اور عظمت رفتہ کے لٹ جانے کامیں ماتم کر رہا ہوں، جن اقدارکی تباہی کاہرروز نوحہ لکھتا ہوں اس کے اسباب کی نشاندہی بھی تو کرتا ہوں، اس کااپنی عقل کے مطابق علاج بھی تجویز کرتاہوں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ واپسی کاسفرکیسے ہو؟  

کوئی ہے جوان کی فریاد سنے؟

کوئی ہے جوان کی فریاد سنے؟

26 days ago.

وہ افراد جوجنگی جرائم کامطالبہ کرتے نہیں تھکتے وہ بھی دراصل من پسند ٹرائل چاہتے ہیں۔وہ ہرگزنہیں چاہتے کہ تمام مجرموں کوبلاتخصیص گرفتار کرکے کٹہرے میں کھڑاکردیاجائے خواہ ان پرکوئی الزام ہویانہ ہو۔وہ ان طاقتورحلقوں کی تادیب نہیں چاہتے جن سے انہیں فنڈزملتے ہیں یا جوان سے ہتھیارخریدتے ہیں،یایواین کے بل اداکرتے ہیں۔مثال کے طورپریہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ رفعت الاسد کئی عشروں سے یورپ میں رہ رہا تھا۔ان پراس وقت سے ہی حمہ میں شہریوں کوہلاک کرنے کاالزام تھاتاہم وہ لندن میں پرتعیش زندگی بسر کرتے رہے۔یہی نہیں دنیاکے بیشترملکوں کے حکمران جواپنے اپنے ممالک کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ہیں لندن میں نہ صرف ان کی عظیم الشان جائیدادیں ہیں بلکہ وہ آج بھی یہاں شاہانہ زندگی ہی گزارتے ہیں۔ان میں غالباً دنیاکے ہر براعظم کے حکمران شامل ہیں۔ میں نے اس وقت بھی یہ سوال اٹھایاتھاکہ اسکاٹ لینڈ یارڈکئی برس سے برطانیہ میں پرسکون زندگی گزارنے والے رفعت الاسد کی طرف کیوں نہیں دیکھتی،آخراس میں کیاچیزحائل ہے؟