نوشتۂ تقدیر

نوشتۂ تقدیر

8 days ago.

سارے سامراجی الٹے لٹک جائیں،ایک دن کشمیریوں کوآزادہوناہے اوراس خطہ فردوس سے بھارتی استعمارکورخصت ہونا ہے۔یہی نوشتہ تقدیرہے لیکن کوئی اندھاتقدیرکالکھانہ پڑھ سکے تواس میں کسی کاکیاقصور۔ اندھے کااندھیراتوروشنی کاراستہ نہیں روک سکتا! ہزاروں سال گزرگئے لیکن ان عقل کے اندھے انسان نے کچھ نہیں سیکھا،اب بھی وہ نہیں جانتا۔اگرچہ طاقت کی ایک منطق ہوتی ہے،وقتی طورپرجوغالب آسکتی ہے لیکن اصل قوت توسچائی کی ہوتی ہے، قراراورقیام اسی کوہے،اسی کیلئے حقیقی غلبہ اوردوام ہے۔ہزارتدبیروں سے بھی اس اصول کونہیں بدلاجا سکتاکہ اقلیت تادیراکثریت پرحکومت نہیں کرسکتی، خاص طورپرایسی اکثریت جوسرجھکانے اورسپرانداز ہونے پرتیارنہ ہو۔72برس گزرگئے لیکن آزادی کاجذبہ پہلے سے زیادہ جواں اورہمت پہلے سے زیادہ بیباک!نامورمرخ ٹائن بی نے بہت پہلے کہاتھاکہ جارح اقوام کی قسمت کے ستارے ہمیشہ ڈوب جاتے ہیں۔یقین نہ ہوتوافغانستان ہی کودیکھ لیں۔روس جوایک عالمی طاقت کی بناپرچندگھنٹوں میں دنیاکے کئی ملکوں کو تاراج کرکے اپنی ہیبت کاسکہ منواچکاتھالیکن یہ ا پنے پڑوسی افغانستان میں ایک ایسی فاش غلطی کربیٹھاکہ آج تک اپنے زخموں کوسہلارہاہے۔ امریکا نے ایسی ہی حماقت کی،وقت سے کچھ نہ سیکھااوراب اسی سرزمین سے نکلنے کے راستے ڈھونڈرہاہے۔

جلوۂ بے باک

جلوۂ بے باک

10 days ago.

ہرصبح سینکڑوں ای میل اورخطوط ایسے بھی ملتے ہیں جس میں قارئین اکثرخاصے غصے میں جھنجلائے پاکستان کی سلا متی کے بارے میں بڑے پریشان کن سوال کرتے ہیں،فون پربہت دیرتک اس بات کی تکراررہتی ہے کہ تم ہروقت اس زخم خوردہ کاماتم کرتے رہتے ہو۔اس کے لٹ جانے کامنظرپیش کرکے خودتوپتہ نہیں روتے ہوکہ نہیں مگرہمیں رلاتے رہتے ہو۔کیابات ہے کہ چندحروف تسلی کے یاچندامیدبھری باتیں کیوں نہیں کرتے؟یہ محبت بھری شکایات جب ان کومیری طرح مایوسی کے اس لق دق صحرامیں پریشان کرتی ہیں تو یہ جی بھرکرمجھ سے لڑتے جھگڑتے ہیں کہ چلوٹھیک سہی مگراس کاجوحل تم تجویز کررہے ہواس پرعملدرآمدکب ہوگا اور اس  پرکوئی کان بھی دھرے گاکہ نہیں؟میں ان کے یہ تمام مطالبے سن کرحیرت میں گم ہوجاتاہوں کہ مدتوں جس شان و شوکت اور عظمت رفتہ کے لٹ جانے کامیں ماتم کر رہا ہوں،جن اقدارکی تباہی کاہرروزنوحہ لکھتاہوں اس کے اسباب کی نشاندہی ،اس کااپنی عقل کے مطابق علاج بھی تجویزکرتاہوں کہ اپنی انہی گم گشتہ اقدارکی طرف لوٹ جانے میں ہی ہماری عافیت ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ واپسی کاسفرکیسے ہو؟

’’پھریہ لوگ مرکیوں گئے؟‘‘

’’پھریہ لوگ مرکیوں گئے؟‘‘

17 days ago.

کائنات کی وسعتوں سے ایک سیارچہ نکلا،خلا میں لہرایااورسیدھازمین کی طرف دوڑپڑا۔زمین کے قریب پہنچ کر ٹھٹکا،رکا ،سیکنڈکے ہزارویں حصے میں کچھ سوچا،اپنے زاویئے میں ’’پوائنٹ‘‘کالاکھواں حصہ تبدیلی کی،شاں شاں کرتاہوازمین کے قریب سے گزرا اورکائنات کے کسی اندھے غارمیں گم ہوگیا۔یہ وا قعہ 13جون2002ء کووقوع پذیرہوا۔ امریکہ کواس واقعے کی خبر16جون2002ء کوہوئی جب سیارچے کوگزرے ہوئے تین دن گزرچکے تھے۔ناساکے حساس آلات نے پہلی باراس قیامت کی نشاندہی کی،خلائی تحقیق کے ماہرین کی ٹانگیں برف ہوگئیں، کچھ دیرکیلئے ناساکاسربراہ آنکھیں جھپکنا بھول گیا، دونوں ہاتھوں سے اپنے سرکوتھام کراس رپورٹ کوپڑھ رہاتھاتواس کی پسینے سے شرابورناک کے اوپرلگی ہوئی عینک اس کی گودمیں آن گری۔ایساہونابھی چاہئے تھاکیونکہ دنیاکی تاریخ میں زمین سے انتہائی قریب سے گزرنے والایہ پہلا سیارچہ تھا۔یہ زمین سے ایک لاکھ تیس ہزا ر کلو میٹر کے فاصلے سے گزراتھا۔خلاء میں اس فاصلے کوبال برابر دوری سمجھاجاتاہے۔  

اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتاہے؟

a month ago.

غورکرنے والے اگرغورکرتے توانہیں ادراک ہو کر رہتاکہ کشمیرکوئی بوجھ نہیں بلکہ ایک اثاثہ ہے۔ پچھلی سات دہائیوں سے کشمیریوں نے سفاک برہمن کواپنے  سینے کی دیوارپرروک رکھاہے،کیاان کی کوئی قیمت نہیں؟ اختلافِ رائے میں کوئی حرج نہیں۔آخری پیغمبر محمد ﷺ کواپنے پیروکاروں سے مشورہ کرنے کاحکم دیاگیاجن کاتکیہ کلام ہی یہ تھا‘ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں اورقرآنِ کریم فرقانِ حمید آنجناب حضوررسولِ اکرم ﷺ کی اس روش کوان کی عظمت اوربلندی کی دلیل ٹھہراتاہے۔چینی مفکر ماؤزے  تنگ کے مصداق’’ سو پھول کھلنے دیں‘‘ میرے آقا کے فرمان ہیں۔جہاں تہاں سے ہزاروں آوازیں اٹھتی ہیں بالآخران میں ایک آہنگ ابھرتاہے مگریہ کیاقرینہ ہے کہ خودپاعتمادہی باقی نہ رہے۔ اپنامقدمہ کتناہی سچاہو،آپ ہمیشہ اپنی قوم پہ شرمندہ اورشرمسارہی رہیں۔جنابِ علیؓ ابی ابن طالب نے ایسی ہی کسی ساعت میں ارشادکیا ’’مصیبت میں گھبراہٹ  ایک دوسری مصیبت ہے‘‘۔  

دعایابددعا۔۔۔؟

دعایابددعا۔۔۔؟

a month ago.

ماہِ ستمبرمیری ماں کی43 ویں برسی کامہینہ! اس دفعہ بھی یہ ماہ ودن لندن میں خاموشی سے گز ر گئے  ، پہلے یہ دن اپنے آبائی شہرفیصل آبادمیں گزراکرتے تھے گھرکے وسیع صحن میں جہاں میری ماں خیرات کی دیگیں اورقربانی کاگوشت بانٹا کرتی تھی وہیں پراب اس کی برسی کی دیگیں محلہ میں برتائی جاتی ہیں۔سامنے برآمدہ میں محلہ کی عورتیں قرآن خوانی اور کھجور کی گٹھلیاں پڑھتی ہیں اوربعدمیں دعاکے بعدکھانے کے دوران میری ماں کی بے شمارنیکیوں کے ذکرکے ساتھ ایک لمبی آہ بھرکرایک اورسال گزرجانے کااعلان ہوجاتاہے۔میں صبح سو یرے  قبرستان میں اپنی والدہ محترمہ اوردوسرے عزیزواقارب کی قبروں پرپھولوں کی چادریں چڑھاکرگویااپنے دل کی تسلی کیلئے ہرسال یہ عمل دہراتاتھااورواپس آنے سے پہلے اس خاموش مٹی کی ڈھیری کے پاس کچھ وقت کیلئے بیٹھ کراپنی تمام دل کی باتیں کرنے بیٹھ جاتاتھا، میں اسے اب بھی اپنے ارد گردڈھونڈتاہوں،چپکے چپکے پکارتاہوں مگروہ مجھے کہیں نظرنہیں آتی۔  

یوم دفاع

یوم دفاع

a month ago.

مزاحمتی قوت گرتے ہوؤں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوؤں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اور ساحل پرلاپٹختی ہے،بیمارکوبیماری سے جنگ میں فتح یاب کر تی ہے(اللہ کے حکم سے ) بجھتے د یئے کی لوبجھنے سے پہلے تیزہوجاتی ہے،کیوں؟شایددیادیرتک جلنا چاہتاہے۔ یہ اس کی مزاحمت ہے۔اندھیروں کے خلاف کبھی کوئی مسافر کسی جنگل میں درندوں کے درمیان گھرجائے توتنہاہی مقابلہ کرتاہے کہ اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک ناتواں مریض جوبسترسے اٹھ کرپانی نہیں پی سکتا،ناگہانی آفت کی صورت میں چھلانگ لگاکر بستر سے نیچے کودسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض میں وہ مزاحمتی قوت موجودتھی جس کااس کو خودبھی اندازہ نہیں تھا۔ خطرے کے احساس نے اس قوت کوبیدارکر دیا۔ یہی وہ قوت ہے جوکمزوروں کوطا قتورسے ٹکرادیتی ہے،کبوترکے تن نازک میں شاہین کا جگرہ پیدا ہو جاتاہے،چیونٹی ہاتھی کے مقابلے میں اترآتی ہے،مظلوم کی آنکھیں قہربرساتی اورسلگتے انگارے شعلہ جوالہ بن جاتے ہیں۔