کوتاہی کاازالہ کرلو

کوتاہی کاازالہ کرلو

a day ago.

 عجیب بندہ رب تھاوہ، بہت گہرا بہت پرت تھے اس کے،ہرپل نیارنگ لیے‘کبھی موسیقی کی محفل میں کبھی مسجدمیں کبھی کسی درگاہ پراورکبھی کسی خانقاہ میں کبھی تلقین شاہ اورکبھی گڈریا‘رنگ ہی رنگ پرتیں ہی پرتیں‘ نیاپل نیاروپ اورنیاآہنگ اورآخری عمرمیں وہ پی ٹی وی کامشہورپروگرام زاویہ کرنے لگا۔یہ زاویہ کیاہوتاہے؟ پھر کبھی بات کریں گے۔ اپنی کتاب بابا صاحبامیں انہوں نے اپنے ایک بابے جناب سائیں فضل شاہ کاتذکرہ بہت عقیدت اور محبت سے کیاہے۔جی بالکل صحیح پہچانا آپ نے،میں اشفاق احمدکی بات کررہاہوں، داستان سرائے والے اشفاق احمد۔ثمود کے لوگ اپنے تئیں تکبرکے مارے ہوئے لوگ تھے جوپہاڑوں کوتراش کر ان میں نہایت خوب صورت محلات تعمیرکرتے تھے۔وہ ایک بگڑی ہوئی قوم تھی،دولت کی فراوانی اورایک سرسبزو شاداب بڑے سے علاقے کے مالک ہونے نے ان میں بڑی خرابی پیداکی تھی۔ان تک خداکا پیغام پہنچانااوران کوراہِ راست پرلاناحضرت صالح  ؑکو سونپا گیا۔  

آئی ٹی کی جنگ

آئی ٹی کی جنگ

5 days ago.

اکیسویں صدی میں تجارتی تنازعات میں سب سے اہم ٹیکنالوجی کے شعبے میں سبقت لے جانے کی جنگ ہوگی۔ یہ جنگ مصنوعی ذہانت سے لے کرنیٹ ورکنگ کے آلات تک تمام شعبہ جات کواپنی لپیٹ میں لے گی اورنیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کواس جنگ میں بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔چِپ کی صنعت ہی وہ صنعت ہے جہاں امریکہ اپنی سبقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف چین اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے کیلئے سرتوڑکرششیں کررہا ہے۔یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں۔اسی لیے گزشتہ G-20اجلاس میں ٹرمپ اورصدرشی کے درمیان یہ تنازعہ برقراررہا،وہ اس لیے کہ کمپیوٹرچِپ کواس وقت ڈیجیٹل معیشت اور قومی سلامتی کے امورمیں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔کاریں ٹائروں پرچلنے والے کمپیوٹرکی شکل اختیارکرچکی ہیں،بینک وہ کمپیوٹربن چکے،جورقم کی نقل وحرکت کاباعث بنتے ہیں ۔ فوجیں اپنی جنگیں لوہے کے ساتھ ساتھ سلی کون سے بھی لڑرہی ہیں۔امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک کوریا اورتائیوان کی صنعتوں کواس جدیدشعبے پرغلبہ حاصل ہے جبکہ چین ابھی بھی High-End Chips کیلئے دوسرے ممالک پر انحصار کرتاہے۔چین کی نیم موصل( سیمی کنڈکٹر) کی درآمدکاخرچ تیل کی درآمدکے خرچ سے بھی زیادہ ہے۔فروخت کے لحاظ سے دنیا کی پندرہ بڑی کمپنیوں میں ایک بھی چینی کمپنی شامل نہیں ہے۔  

اجل کافرشتہ

اجل کافرشتہ

8 days ago.

جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تووہ عجیب سے فریب میں مبتلاہوجاتاہے،اونگیاں بونگیاں مارنے لگتاہے،عجیب سے خبط میں پڑجاتاہے۔وہ منظرکے قریب نہیں جاتا،اسے تخیل کے کیمرے سے زوم لگاکرقریب لاتاہے اورپھرپندونصائح شروع کردیتا ہے ۔اس کے بالکل سامنے جوکچھ ہورہاہوا سے نہیں دیکھتا اور جو دورکہیں ہو رہاہواس سے پنجہ آزمائی شروع کر دیتاہے۔اپنے اندرکی دھڑکتی کوٹھی کونہیں ٹٹولتا، دوسروں کے عیب گنوانے لگتا ہے۔ پتا ہو نہ ہو، معلوم ہو نہ ہو‘بس ہر جگہ،ہرمجلس میں اپنی پٹاری کھول کرنیا سنپولیا نچانے لگتاہے ۔بھائی نے ایک دن یہ کہہ دیا کہ باتیں اتنی کرتاہے لیکن وہ نمازکیوں نہیں پڑھتا ؟ توباباجی نے بہت غصے میں اس کابازوتھام کر کہا: تجھے کب سے اورکیوں اس کی نمازکی فکر ہوگئی؟ کیا تیری نمازٹھیک ہوگئی ہے تیری عاقبت سنورگئی ہے جودوسروں کی سوچنے لگاہے، دوسرے کا تو شاید تجھ سے پوچھاجائے نہ پوچھاجائے،تجھ سے تیراتوپوچھا جائے گا ،توکیاتواپنابیڑاپارلگاچکا؟تیری نیاکنارے لگ گئی؟محبت کادریارواں تھاان میں۔  

وادی گماں میں بسنے والو!

وادی گماں میں بسنے والو!

15 days ago.

وادی گماں میں بسنے والو!اس گماں میں،اس دھوکے میں،فریب میں مت رہناکہ تم ہروقت باوضورہتے ہو،اچھے کپڑے پہنتے ہو،نمازیں اداکرتے ہو،نفلی روزوں کابھی اہتمام کرتے ہوتورب کواس سے کچھ ملتاہوگا،اسے بندگی کرانے کی کوئی خواہش ہے،رب کی عزت میں کوئی اضافہ ہوتاہوگااوراگر تم بغاوت کرتے ہوئے،فرائض نہیں اداکرتے تواسے کوئی نقصان ہوتا ہو گا وہ رنجیدہ ہوتاہوگا،ایسا قطعی نہیں ہے۔ ساری کائنات اس کے سامنے سجدہ ریزہوجائے تواس کی بڑائی بیان نہیں ہوسکتی اورساری کائنات باغی ہوجائے تواسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس حکم کی تعمیل کرتے چلے جا ئوشکرکے ساتھ عاجزی کے ساتھ ،اپنی تمام تربے بسی کے ساتھ ، توبس تمہاراہی فائدہ ہے۔ فلاح پاؤگے،مانتے چلے جا ؤ گے توامن پائوگے،سکون وراحت پاؤگے۔ بغاوت کرو گے توزندگی جہنم بن جائے گی،سکون وقرارکھو بیٹھو گے، اعتبارجاتارہے گا، نفسانفسی مچے گی،کوئی کسی کی نہیں سنے گا،بس پھنس کے رہ جائوگے اس تارِ نفس میں اوردھوکے میں فریب میں۔  

اپنے خالق کوپہچان

اپنے خالق کوپہچان

22 days ago.

خودکومخلوق سمجھتے ہیں اورخالق کونہیں پہچان سکے۔ چلتی پھرتی تصویریں اپنے مصورکونہیں پہچان پائیں۔ بندہ بشراپنے پالنے والے سے بے خبرہے۔خوش قسمتی سے اپنے رب کوتوایک مانتاہے لیکن بدقسمتی سے اس کی ایک نہیں مانتا۔رب کاذکرتوبہت کرتاہے اس پریقین نہیں رکھتا۔اپنے جگری دوست کی بات کا تو اعتبار کرتاہے اورخالق کوبھول جاتاہے۔خالق نے کہاہے کہ میں ہوں رزاق، بس سن لیتاہے مگررزاق تووہ دفتر کو مانتاہے،اپنی دکان کومانتاہے،اپنے ٹھیلے کو سمجھتاہے، اپنے کارخانے کوسمجھ بیٹھاہے۔سبب کے بغیربھی وہ مالک دے سکتاہے،یہ نہیں مانتا،تھوڑی سی تکلیف آجائے توآہ وزاری کرتاہے۔شکر کرناتو سیکھاہی نہیں مگرکوئی یاددہانی کرائے توبہت کم شکراداکرتاہے اورشکوہ شکایت بے پناہ۔ کسی حال میں بھی توخوش نہیں ہے یہ۔سمجھتاہے کہ بہت داناہے بینا ہے لیکن کہاں ہے دانا،کہاں ہے بینا!تھڑدلاہے،بے ہمت اورجلداکتاجانے والا‘ بندے تووہ ہیں جوخالق پرایسا یقین رکھیں جیسے کہ صبح سورج کے نکلنے کا،رات کوچاندتاروں کا۔ایسایقین رکھنے والاہی توبندہ کہلانے کامستحق ہے۔یہ بندہ کہلاناکوئی معمولی بات نہیں۔رب کوخوش رکھناہے تو بندے بنو،رب نے جوکہہ دیااس پرایسایقین کرلوکہ پھرتمہیں کوئی خدشہ نہ ستائے۔رب نے کہہ دیاتوبس یہ ہوکررہے گا۔سورج توہوسکتاہے کل نہ طلوع ہو۔وہ بھی تومخلوق ہے ناں لیکن رب کی بات ہے اٹل،رب کاوعدہ ہے سچا۔بس وہی ہے خالق ومالک،کھلانے والاپالن ہار۔  

نام میں کیارکھاہے؟

نام میں کیارکھاہے؟

25 days ago.

مغرب اب تک عرب دنیاکوسمجھنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔اس وقت شام میں بھی ہم اپنی مرضی کے چھوٹے چھوٹے نسل پرستانہ نقشوں کوبروئے کارآتے ہوئے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔بشارالاسد کاآبائی علاقہ قرداح ایک بھیانک تصویرپیش کرتاہے۔اب پھرذہنوں میں سوال ابھررہاہے کہ کیابشار الاسد کی (علوی)کمیونٹی اقتدار پرقبضہ برقراررکھنے میں کامیاب ہوگی جبکہ وہ ملک کی آبادی میں بارہ فیصدہے؟ہم نے عراق کے بارے میں بھی غلط اندازے قائم کیے تھے۔ آپ کویادہوگاکہ مغرب کے دانشورعراق میں شیعوں کو سب سے نیچے،سنیوں کووسط اورکردوں کوبلندی پررکھاکرتے تھے۔لبنان کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔وہاں آبادی مختلف علاقوں میں بٹی ہوئی ہے اور مغرب کے جاری کردہ نقشوں میں یہی سب کچھ بیان کیاجاتارہایعنی سب سے نیچے شیعہ،مشرق میں شیعہ اورسیدون اورٹریپولی میں سنی اوربیروت کے مشرق او رشمال میں عیسائی۔آج تک مغربی دنیاکے کسی نقشے میں بریڈ فورڈ(برطانیہ)کی آبادی کوعیسائی اورمسلم کے روپ میں تقسیم نہیں کیاگیا۔کسی نقشے میں واشنگٹن کی آبادی کوسفید فام اورسیاہ فام میں منقسم نہیں دکھایاگیاکیونکہ اس سے تو یہ تاثرملے گاکہ مغرب کی آبادی کونسل اورقبیلے کی بنیادپرتقسیم کیاجاسکتاہے۔ صرف عرب دنیاہماری طرف سے پیش کی جانے والی لسانی اورنسلی تقسیم کے میرٹ پرپوری اترتی ہے!  

’’ہارے بھی توبازی مات نہیں‘‘

’’ہارے بھی توبازی مات نہیں‘‘

29 days ago.

باوجوداس کے کہ آپ اپنے اندرایک جزیرہ ہیں لیکن یہ جزیرہ انسانوں کی دنیامیں آباداوران کے درمیان واقع ہے۔کسی نے کہاہے کہ ہم فکرمند نہیں ہوں گے تو بھوکے مرجائیں گے،اوراگرفکر کرتے رہیں گے توپاگل خانے میں جاکرفوت ہوجائیں گے۔زندگی ان دنوں اس قدرمشکل ہوگئی ہے کہ ہمیں ڈھنگ سے فکرکرنا بھی نہیں آتا۔ہم دشمن حملہ آوروں کی فکرکرتے رہیں گے اوراپنے پڑوسی کی کارکے نیچے آکردب کرمرجائیں گے۔ہم ہوائی جہازکے کریش سے خوفزدہ رہیں گے اورسیڑھی سے گرکرفوت ہوجائیں گے۔ہم دوسروں سے ورزش نہ کرنے کی شکائت کرتے رہیں گے اورگھر کے سامنے لگے ہوئے لیٹربکس میں خط ڈالنے کیلئے گیراج سے کارنکالیں گے۔ہم فکرمندی کے فن سے بھی ناآشنا ہو گئے ہیں اورہم صحیح فکرکرنابھی بھول گئے ہیں۔ فکر کرنا ایک اچھی بات ہے اوراس سے بہت سے کام سنور جاتے ہیں۔بچے پل جاتے ہیں،گھرچلتے ہیں، دفتر کا نظام قائم ہوتاہے، بزرگوں کی نگہداشت ہوتی ہے۔ فکرمندی ایک صحت مند اقدام ہے،یہ کام کرنے پراکساتی ہے،لیکن سب سے ضروری فکراپنی روح کی ہونی چاہئے اورسب سے اہم فیصلہ یہ ہونا چاہئے کہ ہم اپناابد کہاں گزاررہے ہیں اورکیسا گزاررہے ہیں۔یہ سوچناچاہئے کہ اگرہمیں ساری دنیاکی دولت مل جائے اورہماری روح میں گھاٹاپڑجائے،توپھریہ کیساسوداہے؟  

افغان بھارتی آبی سازش

افغان بھارتی آبی سازش

a month ago.

نئی دہلی کابل کوایک ایسے ڈیم کیلئے فنڈفراہم کررہاہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کی جانب پانی کے بہاکوکم کرناچاہتاہے۔اس پروجیکٹ سے ممکنہ طورپر ایک نئی خلفشارکاآغاز ہو سکتا ہے۔افغانستان کے اکثر علاقوں کواس وقت فصل کی کاشت کیلئے مطلوبہ بارش اور برفباری میں60فیصدکمی کاسامناہے۔کابل کو آبادی میں تیزرفتاراضافہ،شدیدخشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نئے آبی منصوبوں کی فوری ضرورت ہے لیکن سیاسی اعتبار سے اس منصوبہ کی تکمیل آسان نہیں۔ پاکستان  اورافغانستان کاسرحدی علاقہ انتہائی پیچیدہ اور تنازعات سے پرہے۔دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اختلافات کوحل کرنے کا کو ئی قانونی فریم بھی موجود نہیں۔اس سب کے باوجود ضلع چہارآسیاب اوردریائے کابل کے سنگم پر شہتوت ڈیم کی تعمیرکاجلدآغازہونےوالاہے۔اس ڈیم میں146 ملین کیوبک میٹرپانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجودہوگی ،جس سے کابل کے20لاکھ افراد مستفید ہوں گے اور 4000ہیکٹررقبے کوسیراب کیاجاسکے گا۔اس ڈیم سے کابل کے مضافات میں واقع ایک نئے شہردیہہ سبزکوپینے کاپانی میسرآئے گااورکئی دہائیوں پرمحیط تباہ کن جنگ کے بعد افغانستان ہا ئیڈ رو پاور سے اپنی معیشت کوبجلی فراہم کرنے کے قابل ہوسکے گالیکن اس منصوبے سے خدشہ ہے کہ دریائے کابل کے بہامیں تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے زیریں علاقوں کوپانی کی کمی کاسامناہوگا۔ معتبرذرائع کے مطابق شہتوت اوردیگرزیرغورڈیم کی تکمیل سے پاکستان کو 17،16 فیصد تک پانی کی کمی کاسامنا ہوسکتاہے۔ 

ہم سب مجرم ہیں

ہم سب مجرم ہیں

a month ago.

ہاں حالات توخراب ہیں،بہت خراب ‘ لیکن کیوں ہیں؟میں نہیں جانتا، سوچتا ضرورہوں اورمیں اس نتیجے پرپہنچا ہوں کہ میں اصل نہیں ہوں جعلی ہوں۔ایک کشتی کی بجائے بہت سی کشتیوں میں سوارہوں۔ایک راستہ چھوڑکربہت سے راستوں پرگامزن ہوں۔ ادھورااورنامکمل ہوں میں۔میں اپنا اعتماد کھوبیٹھاہوں اورسہاروں کی تلاش میں ہوں۔میں اتناتوجانتاہی ہوں کہ بیساکھیوں سے میں چل تولوں گالیکن دوڑنہیں سکوں گاپھربھی بیساکھیوں کاسہارا...!میں گلے اورشکوے شکائت کرنے والابن گیاہوں‘مجھے یہ نہیں ملا، میں وہ نہیں پاسکا،ہائے اس سماج نے تومجھے کچھ نہیں دیا،میرے راستے کی دیواربن گیا ہے۔میں خودترسی کا شکارہوں،میں چاہتا ہوں کہ ہرکوئی مجھ پرترس کھائے،میں بہت بیچارہ ہوں،میراکوئی نہیں۔میں تنہاہوں،مجھے ڈس رہی میری اداسی‘ ہائے میں مرگیا ،ہائے میں کیاکروں، میں مجسم ہائے ہوں۔میں کیاہوں،میں کون ہوں مجھے کچھ معلوم نہیں۔ عجیب سے مرض کاشکارہوں میں۔بس کوئی مجھے سہارادے،کوئی میراہاتھ تھامے،کوئی مری بپتاسنے......بس میں اورمیری کاچکر۔میں اس گرداب میں پھنس گیاہوں اورنکلنے کی کوشش کی بجائے اس میں غوطے کھارہاہوں۔میں حقائق سے آنکھیں چراکرخواب میں گم ہوں۔ہرشے بس مری دسترس میں ہوجبکہ میں جانتاہوں کہ میں کن کہہ کرفیکون نہیں دیکھ سکتا،پھر بھی...!