کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

4 days ago.

بھارت کا انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے یکطرفہ طورپر مقبوضہ کشمیر سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کی تمام اقوام نے مسترد کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی قرارداوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے سے کشمیر کا فیصلہ جوں کا توں موجود ہے جس کو بالاآخرکشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا ہے پاکستان اور بھارت دونوں اس مسئلے پر ایک فریق ہیں دراصل بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق یہ فیصلہ کر کے خطے میں جنگی جنون کو ہوا دی ہے مقبوضہ کشمیر کی عوام نے بھارت کے وزیر اعظم کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی اس طرح چین نے بھی بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لداخ چین کا حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کا ایک تھوڑا سا حصہ بھی چین کے پاس ہے ترکی نے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کو اپنے تعاون اور حمایت کا بھرپو ریقین دلایا ہے ۔ خود بھارت کی 70کے قریب بڑی سیاسی پارٹیوں نے جس میں کانگریس بھی شامل ہے نریندرا مودی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے بھارت کی حزب اختلاف کی ان سیاسی پارٹیوں کا خیال ہے کہ بھارت کے اس غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں اس وقت پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت ختم کر دی ہے اور اپنے سفارت خانے کے status کو کم کر دیا ہے سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے اس طرح اس وقت جنوبی ایشیا  میں انتہا پسند مسلم دشمن بھارتی وزیر اعظم کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی بھی وقت ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔   

 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

9 days ago.

آخر کار حزب اختلاف کی سینیٹر سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ سے ہٹانے کی تمام کوششیں نامراد اور ناکام ثابت ہوئیں، انہیں پوری قوم کے سامنے شرمندگی اور ہزیمت کا سامان کرنا پڑاہے۔ حزب اختلاف کی سازش یہ تھی کہ وہ سنجرانی کو سینیٹ میں اکثریتی ووٹوں کے ذریعہ ہٹاکر بعد میں قومی اسمبلی میں عمران کی حکومت کو بھی گرانا چاہتے تھے لیکن انسان کچھ سوچتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ اب حزب اختلاف ان سینیٹرز کو تلاش کر  رہی ہے جنہوں نے ان کے امیدوار حاصل بزنجو کو ووٹ نہیں دیا تھا لیکن اس تلاش مہم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا جن سینیٹرز نے ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا یہ سمجھ چکے تھے کہ بلاول زردار ی، شہباز شریف جیل میں قید آصف زرداری اور نواز شریف کے مشوروں سے یہ ساز باز کر رہے تھے تاکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز ختم ہو جائیں۔ ان کا جمہوریت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ سازشیں اور جوڑ توڑ کر کے جمہوری اداروں مثلاً سینیٹ اور قومی اسمبلی کی جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہمیت اور افادیت کو بے توقیر اور بے اثر کرنا چاہتے تھے۔ مزید برآں ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کو تحفظ دیا جائے چنانچہ جن سینیٹرز کا ضمیر بیدار اور جاگ رہا تھا اور جو اس سازش کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں حزب اختلاف کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ اسلام آباد کے باخبر صحافی سمجھ رہے تھے کہ سینیٹ کے چیئرمین سنجرانی کو ہٹانے کے پیچھے حزب اختلاف کے کیا عزائم ہیں ۔   

پاکستان امریکہ اور ایران

پاکستان امریکہ اور ایران

20 days ago.

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ ہر لحاظ سے کامیاب و کامران رہا ہے اس دورے سے پاک امریکی تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ۔2018 سے لے کراب تک (یعنی عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل) تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے خصوصیت کے ساتھ افغانستان کے مسئلہ پر دونوں ممالک کی سوچ منطق اور رویے میں واضح فرق نظر آرہا تھا لیکن جب پاکستان نے افغانستان کے مسئلہ پر امیریکہ کی حمایت کرتے ہوئے افغان طالبان کو امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے مذاکرات میں مدد کی تو پاک امریکی تعلقات میں خوشگوار تعلقات کا آغاز ہو ا ۔ امریکہ نے پاکستان کی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرانے میں مدد کی نہ صرف تعریف کی بلکہ امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی پاکستان افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لیے امریکہ کی مدد کرتارہے گا ۔ عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ سے ، نیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست ملاقات کرنے کے بعد جہاں ان دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں وہیںافغانستان کے مسئلہ کو حل کرنے میں مزید پیش رفت ہو سکے گی ۔ واضح رہے کہ افغانستان کے مسئلہ کے حل سے پاکستان کا اندرونی اور بیرونی استحکام جڑا ہو ا ہے ۔ اگر یہ مسئلہ افغان طالبان، افغان عوام اور امریکہ کی سوچ اور خواہش کے مطابق حل ہو جاتا ہے تو سب سے زیادہ فائدہ افغانستان کے عوام اور پاکستان کے عوام کو پہنچے گا ۔ مزید برآں پاکستان نے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیںجس کو اب امریکی قیادت تسلیم کر رہی ہے ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے ۔ پاکستان کو اس جنگ میں 150 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ 80 ہزار فوجی اور عوام نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جس میں آرمی پبلک سکول کے بچے بھی شامل ہیں تاہم اب عمران خان کے دورے کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں جب کہ جنوبی ایشیامیں قیام امن کی خواہشات بھی پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں جس میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے ۔ امریکی صدر نے کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کا پوری دنیا کے امن پسند ممالک نے خیر مقدم کیا ہے ۔ پاکستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضہ کے خلاف تحریک آزادی کے نمائندوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار ادا کرنے کی اور تعریف کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر اس 70 سالہ مسئلہ کو کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کی کوشش کریں گے۔اقوام متحدہ کے علاوہ خود بھارت کی ماضی کی قیادت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ا ستصواب رائے کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہیے کیونکہ یہ واحد مسئلہ ہے جس کی وجہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہو پارہے ہیں نیز اس مسئلہ کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں جس میں فریقین کا زبردست نقصان ہوا تاہم اب حالات بدل رہے ہیں عمران خان نے بڑی دلیل کے ساتھ پاکستان کا موقف امریکی صدر کے سامنے پیش کیا ہے جس کے نتائج بہت جلد جنوبی ایشیا کے افق پر نظر آئیں گے۔  

’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

27 days ago.

عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس ، دہشت گرد اور سینکڑوں انسانوں کے قاتل سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہاہے کہ وہ رہا نہیں ہو گااس سے متعلق کیس پاکستان میں چلے گا اور پاکستان کے قوانین کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے سے جہاں پاکستان کی عدالتوں بشمول فوجی اور سول کا وقار بلند ہو ا ہے وہیں یہ بات بھی طے پا گئی ہے کہ فوجی عدالت نے کلبھوشن کو جاسوسی اور دہشت گردی کے ارتکاب کے سلسلے میں جو فیصلہ صادر کیا ہے اس پر کسی بھی قسم کا منفی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے باالفاظ دیگر فوجی عدالت کا فیصلہ جو پاکستان آرمی ایکٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے قانون کے مطابق ہے اس طرح عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے پاکستان کو زبردست اخلاقی و قانونی فتح حاصل ہوئی ہے اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے جہاں تک کلبھوشن کو قو نصلر تک ر سائی دینے کا معاملہ ہے پاکستا ن نے اس سے اتفاق کیا ہے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان نے انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے کلبھوشن کی فیملی کو اس سے ملاقات کرائی تھی پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر کے ماہرین اور دانشوروں نے سراہا تھا ۔  

 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

a month ago.

پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں عوام میں تعلیم کی کمی ہے جیسا کہ دیگرپسماندہ ممالک میں دیکھا جا سکتا ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی شعو ر پیدا ہوتا ہے ، اگر تعلیم کا معیار کمزور یا ناقص ہے تو سوچ بھی اسی ہی طرح کی پیدا ہوگی جس میں منفی پہلو نمایاں ہو گا۔ پاکستان میں صحافت کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ آزادی ہے، یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا پا پرنٹ میڈیا میں جس طرح آج تبصرے اور خبریں شائع کی جارہی ہیں وہ غیر معمولی آزادی کا مظہر ہیں ۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک خصوصیت کے ساتھ بھارت ، بنگلہ دیش، اور افغانستان میں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتابلکہ بنگلہ دیش میں آزادی صحافت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ اگر کوئی صحافی حسینہ واجد کے خلاف یا پھر بھارت کے خلاف کچھ آزادی کے ساتھ لکھنا چاہتا ہے تو اس کو فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔یہی صورتحال بھارت میں پائی جاتی ہے ۔ اگر کوئی صحافی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کرنے سے متعلق کچھ حقائق تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اس صحافی اور اخبار پر نریندرا مودی کی حکومت اس کو بلیک لسٹ کرکے سرکاری اشتہار سے محروم کر دیتی ہے یہ صورتحال پڑوسی ملک افغانستان میں بھی پائی جاتی ہے جہاں کا نظم و نسق امریکہ کے ہاتھ میں ۔پاکستان میں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کچھ صحافی جو چاہیں اخبارمیں بغیر کسی سیاق و سباق کے لکھ دیتے ہیں بلکہ اس کی خبر سے متعلق حکومت کے کسی ذمہ دار فرد سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ 

مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

2 months ago.

آرمی چیف جنر ل جاوید باجوہ  نے گزشتہ دنوں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مالیاتی بد حالی کا بحران ان ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر ماضی میں مالیاتی بد نظمی کو ٹھیک کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جاتا تو صورتحالی ایسی نہ ہوتی جوکہ آج ہے۔ آ ج پاکستان کو اقتصادی شعبے میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کو ہم سب کو مل کر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اقتصادی خرابی کے اثرات ملک کی سیکورٹی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اگر اقتصادیات مستحکم ہے  تو اس کے اثرات ملک کے تمام شعبوں پر اچھے مرتب ہوتے ہیں ۔ جنرل صاحب کی اس گفتگو سے کون انکار کر سکتا ہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے اگر مالیاتی شعبے کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی ہوتی تو یقینا حالات اتنے دگر گوں نہ ہوتے جو آج ہیں ۔ اقتصادی شعبے کو بہتری کے لیے موجودہ حکومت نے جس قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ عسکری قیادت اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔  

شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

2 months ago.

گزشتہ ہفتہ شمالی وزیرستان میں چار فوجی افسران شہید ہوئے یہ افسران فوجی گاڑی میں معمول کے مطابق ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی سٹرک پر نصب شدہ ایک دیسی ساخت کے بم سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے یہ افسران شہید ہو گئے جب کہ پانچ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریب ہی ملٹری اسپتال میں علاج کے لیے منتقل کر دیا ہے۔ شہید ہونے والے افسران کو تمام تر فوجی اعزازت  کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں دفن کر دیا ہے۔  اس المناک واقع  کے دو دن کے بعد پھر اس طرح کا واقع پیش آیا  جس میں دو سولجر اور دیگر افراد زخمی ہوئے ۔دہشت گردی کے یہ تمام واقعات افغانستان کی سرحد کے قریب پیش آئے ہیں جہاں افواج پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے فینسنگ کر رہی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات کیوں پیش آرہے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت حد تک دہشت گردی اور اس سے وابستہ عناصر کا قلع قمع کر دیا ہے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت بھارت کے تابع ہو چکی ہے بھارت ہی کے ایما پر افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس اور ’’ را‘‘  سے تنخواہ ملتی ہے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر بھارت نواز عناصر دہشت گردی کروانے کے لیے دہشت گردی کی تربیت دے کر شمالی وزیرستان اور اس کے قرب وجو ار میں بھیجتے۔ گزشتہ ہفتہ دہشت گردی کے اس قابل مذمت واقع میں یہی عناصر شامل ہیں جو افغانستان کے راستے شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے تھے اور اس مذموم کاروائی کا ارتکاب کیا جس میں پاکستان کے چار فوجی افسران شہید ہوئے۔  

کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

3 months ago.

 آصف علی زرداری نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے وہ اس تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانا کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے یہ ان کا حق بنتا ہے لیکن عوام اس حقیقت سے باخوبی واقف ہیں کہ مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے معروف زرداری اپنی کر پشن کو بچانے کے لیے تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے یعنی بلاول زرداری کو بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف بدعنوانیوں کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات رک سکیں لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ عوام زرداری کا ساتھ دیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بے تحاشا کر پشن کا ارتکا ب کیا ہے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک کی دولت کو ناجائز طریقے سے بیرون ممالک منتقل کیا ہے ۔ زردار ی کے خلاف تیس کیسسز کے سلسلے میں آٹھ کیسسز میںکرپشن ثابت ہو چکی ہے چنا نچہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انہیں ’’تحریک ‘‘ چلانے سے قبل ہی گرفتار کر لیا جا ئے دوسری طرف عوام عدلیہ سے التماس کر رہے ہیں کہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف فیصلہ سنایا جائے تاکہ جہاں ایک طرف ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جا سکے تو دوسری طرف انہیں سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ یہ عناصر ایسا گھنائو نا کام نہ کر سکیں تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ زرداری عوام کا کوئی اور نہ ہی ان حکومت کا انداز جمہوری تھا وہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کر پشن کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں سندھ کے عوام بھی ان کو اس ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔  

انہیں کام کرنے دیں

انہیں کام کرنے دیں

3 months ago.

عمران خان کی حکومت کو دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیاہے۔ بقول خود ان کے انہیں جو نظام حکومت ورثے ملا ہے‘ اس میں کرپشن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ خزانہ خالی تھا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ چنانچہ حکومت کو چلانے کے لئے سعودی عرب‘ یو اے ای ‘ اور چین سے مالی مدد لی گئی‘ جس کی وجہ سے تھوڑا بہت سہارا ملا ہے ‘ اب حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے‘ ماضی کی حکومتیں بھی13مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں‘ قرضہ لیا تھا تاکہ گلشن کا کاروبار چل سکے ‘قرضہ ہر غریب ملک لیتا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور آمدنی کم ‘ اس لئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے اور حکومت چلانے کے لئے قرضہ لیا جاتا ہے ‘پاکستان میں سابقہ حکومت نے قرضہ لیکر اس کو ترقیاتی کاموں میں موثر اندا ز میں استعمال کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا تھا۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی‘عمران خان کی حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے پٹرول اور اس کی مصنوعات پر ٹیکس لگا کر آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کئے جارہے ہیں لیکن یہ حکمت عملی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی ‘اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں صنعت سازی کو فروغ دیا جائے اورسرمایہ کاروں کوا عتماد میں لے کر اور کچھ ترغیبات دے کر معیشت کی شرح نمو میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے ‘عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر معیشت میں تھوڑی بہت بہتری آسکتی ہے‘ لیکن اس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور افراط زرمیں بھی ‘ جو عوام کے لئے غیر معمولی مشکلات کا سبب بن رہا ہے ‘ جیسا کہ دیکھنے میں آرہا ہے۔  

آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

4 months ago.

پاکستان کی ماضی کی تمام حکومتوں نے اٹھارہ سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف جاکر قرضہ لیا ہے اور اس کو اتارا بھی ہے‘ قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن قرضے کی رقم بنیادی طورپر اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے‘ لیکن پاکستان کی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اس کو ترقیاتی کاموں میں صرف نہیں کیا ہے بلکہ یہ پیسہ کرپشن کی نظر ہوگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک میں ان چند ممالک میں شمار ہوتاہے جنہوںنے آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرضہ لیا واپس بھی کیا، لیکن ترقی کے آثار معدوم رہے۔ اب عمران خان کی حکومت دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے‘ سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کسی حدتک آئی ایم ایف کو پاکستان کے لئے قرضہ دینے کے لئے راضی کرلیا تھا، لیکن انہیں ان کے عہدے سے سبکدوش کردیا گیاہے، ان کی جگہ حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ کا عہدہ دیا گیاہے، اس امید کے ساتھ کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسد عمر کی موخر شدہ گفتگو کو آگے بڑھا ئیں گے اور نرم شرائط پر پاکستان کے لئے قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حفیظ شیخ کا تعلق کسی زمانے میں ورلڈ بینک سے رہاہے۔ وہ پی پی پی کی حکومت میں بھی شامل رہے تھے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے واقعی ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس کے ذریعہ موجودہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی وقوع پذیر ہوسکے۔

ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

4 months ago.

کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عوام کے لئے تفریحی مقامات کی منصوبہ بندی نہ ہونا ایک المیہ ہے، عوام تفریح کے لئے کہاں جائیں؟ ان کی پہنچ سی ویو اور ہاکس بے تک ہے، جہاں وہ چھٹیوں کے دن جاکر اپنا دل بہلا سکتے ہیں اور کچھ دیرکے لئے کراچی کی ٹریفک کے شوروغل سے نجات بھی حاصل کرسکتے ہیں‘ کھیل کے میدان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے بچے اور نوجوان گلی کوچوں میں کرکٹ اور فٹ بال کھیل کر اپنا دل بہلاتے ہیں۔ بسا اوقات اس ہی دوران کسی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ناقابل تردید حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے صوبہ سندھ کی باگ ڈور پی پی پی کے ہاتھ میں ہے جس کو اس بات پر بڑا ناز ہے کہ اس کی سندھ اسمبلی میں عدوی اکثریت ہے لیکن قانون سازی اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے کا جذبہ مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی سمیت سند ھ کے شہروں میں ذرائع حمل ونقل کی صورتحال انتہائی خراب وخستہ ہے، ہاکس بے اور سینڈاسپٹ کراچی سے تقریباً چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر دو قدیم تفریح مقامات ہیں، جہاں کراچی کے علاوہ اندورن سندھ سے ایک کثیر تعداد تفریح کے لئے یہاں آتی ہے لیکن ہاکس بے روڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔  

بلاول زرداری کا واویلا

بلاول زرداری کا واویلا

4 months ago.

بلاول زرداری اپنے والد زرداری کومبینہ کرپشن کیسز میں بچانے کے لئے واویلا کررہاہے ‘ حکومت وقت کے خلاف بے تکی باتیں کررہاہے ، اور اس غریب‘ مفلس‘ معاشی وسماجی طورپر محروم عوام کو یہ جھوٹا عندیہ دے رہے ہیںکہ حکومت ان کے خلاف سیاسی انتقام لے رہی ہے  اور ’’اٹھارویں‘‘ ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے‘ یہ سراسر جھوٹ ہے، نیب کا زرداری خاندان اور ان کے دوستوں کے خلاف کارروائیاں نہ تو سیاسی انتقام ہے اور نہ ہی اسکا تعلق اٹھارویں ترمیم سے ہے۔ نیب زرداری اور ان کے خاندان کے خلاف مبینہ سرکاری فنڈز کی خردبرد اورمنی لارنڈرنگ سے متعلق انصاف اور عدل پر مبنی کارروائیاں کررہی ہے۔ تقریباً 100ارب روپے کی چوری آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں سے منسوب ہے‘ بلاول زرداری اس حقیقت سے واقف ہیں ۔ اپنے قریبی دوستوں سے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے والد منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں‘ لیکن وہ کھل کر یہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ  ان کا خرچہ پانی بند ہوجائے گا اور بڑی جائیدادوں سے بھی محروم کردیا جائے گا۔   وہ بڑھ چڑھ کر اپنے والد کی ’’حمایت‘‘ حاصل کرنے کے لئے عمران خان کی حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے ’’مقاصد‘‘ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، نیب ان سے ایک ایک پائی کا حساب لے گی، کیونکہ ان کی معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہوا ہے‘ زرداری اور بلاول دونوں مل کر حکومت کے خلاف ’’تحریک‘‘ چلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ٹرین مارچ کے دوران بھی بقول بلاول اور ان کے ساتھیوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہے‘ لیکن ٹرین مارچ محض ایک پکنک ثابت ہوئی ۔ بلاول ٹرین کے ڈبے پر لٹک کر تفریحی موڈ میں نظر  آئے‘ منظر کے  مزے لے رہے تھے۔   وہ سندھ کے غریب و مفلس عوام کے دکھوں سے آگاہ ضرورہیں لیکن ان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ بلاول زرداری غریبوں کا استحصال کرنااچھی طرح جانتے ہیں غریب عوام ان کو دیکھنے یا باتیں سننے ضرور آجاتے ہیں (پیسے لے کر) لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کے والد نے مبینہ چوری چکاری کے ذریعہ دولت کمائی ہے بلکہ بقول سابق صدر مشرف صاحب زرداری نے فیکٹریوں اور گھروں کو (کلفٹن کے ایریامیں) دھمکیوں سے خریدا ہے۔ سندھ کے سارے لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں۔  

مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

5 months ago.

وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان نے باجوڑ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر مودی سے بات چیت کرسکتے ہیں‘  لیکن ڈاکوئوں سے نہیں۔ ان کا اشارہ نواز شریف اور زرداری کی طرف تھا۔ دونوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کا پیسہ بے دریغ لوٹ کر اپنی تجوریوں کو بھرا ہے  اور ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت ملک کو معاشی طورپر کمزور کیا ہے۔ آج عمران خان کی حکومت کو جن اقتصادی مسائل کا سامنا ہے  اسکی سب سے بڑی وجہ وہ لوٹ کھسوٹ ہے جو ان دونوں نے اپنے دور اقتدار میں کی ہے‘ نیز ملک کو بے پناہ قرضوں میں جکڑ دیاہے جس سے نکلنے کے لئے موجودہ حکومت ہاتھ پائوں ماررہی ہے لیکن فی الحال اس سے نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اس لئے مملکت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اور آئندہ کرپٹ سیاست دانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نواز شریف اور زرداری سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے۔ نیز انہیں عبرتناک سزا ئیں بھی دی جائیں تاکہ کوئی دوسرا آئندہ اس قسم کی حرکتیں نہ کرسکے۔