منی لانڈرنگ اور پاکستان کی اقتصادیات 

منی لانڈرنگ اور پاکستان کی اقتصادیات 

3 days ago.

اس حقیقت سے پاکستان کے تمام باشعورافراد واقف ہیں کہ سیاست دانوں ، بیوروکریسی اور تاجروں  میں سے بعض افراد نے پاکستان کا پیسہ خفیہ طور پر پاکستان سے باہر بھیجا جس کی وجہ سے پاکستان اس وقت اقتصادی بحران کا شکار ہوگیاہے۔ جن سیاست دانوں نے منی لانڈرنگ کی ہے ان میں مبینہ طور پر میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف زرداری کے علاوہ دیگر سیاست دان بھی شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت میاں نواز شریف اور آصف زرداری جیلوں میں بند ہیں اور پس دیوار زنداں بیٹھ کر ملک و ملت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ ابھی تک ان دونوں سے ناجائز طور پر کمائی ہوئی دولت واپس نہیں لی گئی ہے حالانکہ اس وقت حکومت وقت اس ضمن میں بہت کوششیں کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ان عناصر کی دولت سوئٹزر لینڈ ، بحرین، لندن، دبئی، ابو ظہبی اور امریکہ کے بینکوں میں رکھی ہوئی ہے لیکن ان ممالک نے اس ناجائز دولت کو پاکستان کو واپس بھیجنے میں تعاون نہیں کیا ہے  اسی لئے یہ ناجائز دولت ہنوز باہر کے ملکوں میں جمع ہے‘ مزید براں ان کرپٹ سیاست دانوں نے باہر کے ملکوں میں جائیدادیں بھی بنائی ہوئی ہیں جن کا تذکرہ اخبارات میں تسلسل کے ساتھ آتا رہتا ہے ۔ 

طالبان ، امریکہ اور ستم رسیدہ کشمیری 

طالبان ، امریکہ اور ستم رسیدہ کشمیری 

20 days ago.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں افغان طالبان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں شروع ہونے والے مذاکرات اچانک منسوخ کردیئے تھے جس پر پوری دنیا کو بڑی حیرت ہوئی تھی کیونکہ افغان طالبان اور اشرف غنی کے مابین مذاکرات کا یہ فائنل راؤنڈ تھا جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کررہے تھے۔ ان مذاکرات کے ذریعے جہاں افغانستان میں امن قائم ہوتا وہیں امریکہ بھی افغانستان سے اپنی فوج سمیت نکل جاتا لیکن مذاکرات کی منسوخی کے بعد یہ آرزو پوری نہیں ہوسکی۔ آئندہ کیا افغان طالبان اور امریکہ مابین مذاکرات ہوں گے ؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی امریکی انتظامیہ اس سلسلے پر کسی قسم کے خیالات کا اظہار کررہی ہے تاہم عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ جلد یا بدیر افغان طالبان سے مذاکرات شروع کردے گا کیونکہ افغانستان میں گذشتہ 18سال سے امریکہ کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ساری دنیا میں یہ تاثر پایا جارہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار چکا ہے۔ اب صورتحال نہ امن کی ہے اور نہ جنگ کی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوجاتے تو سب سے زیادہ فائدہ افغان عوام کو اور پاکستان کو پہنچتا لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات نہ صرف معطل ہوئے بلکہ ایک بار پھر پاکستان کو افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا ہے جیسا کہ بالائی سطور میں لکھا ہے کہ پاکستان امریکہ اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے زور دے رہا ہے کیونکہ اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے توسب سے زیادہ تقویت پاکستان کو ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت امریکہ سے ملتمس ہے کہ مذاکرات کا دور دوبارہ شروع کیا جائے۔اسی طرح اس خطے کے دیگر ممالک مثلاً ایران روس اور چین کی بھی یہی خواہش ہے کہ امریکہ افغان طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرے تاکہ ایک طرف امریکہ کی فوج افغانستان سے چلی جائے تو دوسری طرف اس پورے خطے کو امن کی صورت میں معاشی ترقی کے بےپناہ امکانات میسر ہوں ۔ 

ایک اور بابری مسجد

ایک اور بابری مسجد

27 days ago.

جب سے نریندر مودی نے بھارت میں وزیراعظم کا منصب سنبھالا ہے یعنی 2014ء سے، مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ مسلمان دشمنی کی انتہا کر دی کوئی دن ایسا نہیں جاتا ہے جب بھارت کے کسی شہر یا گائوں میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو تنگ نہ کرتے ہوں بلکہ گائے کو ذبح کرنے کے جھوٹے الزامات لگا کر اسے قتل بھی کر دیتے ہیں،یہی حالات بھارت میں مساجد کے بھی ہیں جہاں نریندر مودی کے احکامات پر ان مساجد کو محض اس لئے شہید کیا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔اسی قسم کا معاملہ وارنسی (بنارس ) میں وقوع پذیر ہو رہا ہے جہاں یہ قدیم مسجد گیانواپی کو شہید کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہ قدیم مسجد ایک مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی یہ من گھڑت الزامات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ الزامات آر ایس ایس کے کارکن بڑے تواتر کے ساتھ لگا رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا ہے کہ کچھ غنڈوں نے رات کی تاریکی میں اس مسجد کے احاطے میں چند مورتیاں چھپا دی تھیں تاکہ انتہا پسند جاہل ہندوئوں کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہاں کسی زمانے میں ایک مندر تھا جس کو مسلمان حکمرانو ں نے توڑ کرمسجد بنائی تھی لیکن جلد ہی وارنسی کی پولیس کے ذریعے مقامی کورٹ میں یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ مورتیاں کسی سازش کے تحت رات کی تاریکی میں مسجد کے احاطے میں چھپائی گئی تھیں تاکہ مسجد کی جگہ مندر بنانے کا جواز پیش کیا جاسکے لیکن عدالت نے اس جھوٹ کو پکڑ لیا اور تحقیقات کے ذریعے ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے یہ مذموم سازش کی تھی در اصل یہ عناصر جن کا تعلق بی جے پی سے تھا ہندو مسلم فسادات کرانا چاہتے تھے۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق برکھادت کا اعتراف 

مقبوضہ کشمیر سے متعلق برکھادت کا اعتراف 

2 months ago.

برکھادت بھارتی صحافی ہیں بھارت میں اپنی قابلیت اور ذہانت کی بنیاد پر بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا اور واپس دہلی آکر تبصرہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی روزمرہ کی بنیاد پر زبردست پامالی ہو رہی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ظلم و تشدد وہاں کا قانون بن چکا ہے کشمیریوں کے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک کیا جارہا ہے، بھارت کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پریشر ککر جیسی بن چکی ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ اسی طرح کا تبصرہ مشہور بھارتی ٹی وی چینل NDTSنے کیا ہے اور کہا ہے کہ مودی کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق یکطرفہ فیصلہ کشمیریوں کو قبول نہیں ہے وہ اس کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے تاآنکہ مودی اپنا فیصلہ واپس لے لے۔ اسی قسم کے تبصرے برطانوی اور امریکی اخبارات نے بھی کیے ہیں،ان اخبارات میں مقبوضہ کشمیر میں اپنے نمائندوں سے بات چیت کر کے وہاں صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر انسانیت سوز ظلم کیے جارہے ہیں جن کو فوراً بند ہونا چاہیے۔ اس ظلم میں بھارت کی قاتل فوج اور انتہا پسند مسلم دشمن تنظیم RSSبھی شامل ہے،اس صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں کسی وقت بھی ایک بڑا دھماکہ ہو سکتا ہے جس کو مودی سنبھال نہیں سکے گا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو لگے ہوئے چھبیس روز ہو چکے ہیں، سرینگر میں اشیائے خوردونوش ختم ہو چکی ہیں ہر طرف خوف و ہراس کا سایہ پھیلا ہوا ہے، بھارت کی قابض فوج نے جگہ جگہ چیک پوسٹ قائم کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے آمدورفت کا سلسلہ تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ اس تکلیف دہ اور ناگفتہ صورت حال کے پیش نظر وہاں کے وکلاء نے کرفیو کو توڑتے ہوئے عدالت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں لیکن جج صاحبان تاریخیں بڑھا کر ان مقدمات کو بے اثر بنارہے ہیں ۔   

کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

کیا بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے ؟ 

2 months ago.

بھارت کا انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے یکطرفہ طورپر مقبوضہ کشمیر سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے اس کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کی تمام اقوام نے مسترد کردیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی قرارداوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے سے کشمیر کا فیصلہ جوں کا توں موجود ہے جس کو بالاآخرکشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہونا ہے پاکستان اور بھارت دونوں اس مسئلے پر ایک فریق ہیں دراصل بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے جنوبی ایشیا عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق یہ فیصلہ کر کے خطے میں جنگی جنون کو ہوا دی ہے مقبوضہ کشمیر کی عوام نے بھارت کے وزیر اعظم کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی اس طرح چین نے بھی بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ لداخ چین کا حصہ ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کا ایک تھوڑا سا حصہ بھی چین کے پاس ہے ترکی نے بھارت کے اس یکطرفہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کو اپنے تعاون اور حمایت کا بھرپو ریقین دلایا ہے ۔ خود بھارت کی 70کے قریب بڑی سیاسی پارٹیوں نے جس میں کانگریس بھی شامل ہے نریندرا مودی کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے کو واپس لیا جائے بھارت کی حزب اختلاف کی ان سیاسی پارٹیوں کا خیال ہے کہ بھارت کے اس غیر آئینی فیصلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں اس وقت پاکستان نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت ختم کر دی ہے اور اپنے سفارت خانے کے status کو کم کر دیا ہے سمجھوتہ ایکسپریس کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے اس طرح اس وقت جنوبی ایشیا  میں انتہا پسند مسلم دشمن بھارتی وزیر اعظم کے اس فیصلے کی وجہ سے جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں اور ممکن ہے کہ کسی بھی وقت ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔   

 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

 حزب اختلاف کی عبرت ناک شکست 

2 months ago.

آخر کار حزب اختلاف کی سینیٹر سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ سے ہٹانے کی تمام کوششیں نامراد اور ناکام ثابت ہوئیں، انہیں پوری قوم کے سامنے شرمندگی اور ہزیمت کا سامان کرنا پڑاہے۔ حزب اختلاف کی سازش یہ تھی کہ وہ سنجرانی کو سینیٹ میں اکثریتی ووٹوں کے ذریعہ ہٹاکر بعد میں قومی اسمبلی میں عمران کی حکومت کو بھی گرانا چاہتے تھے لیکن انسان کچھ سوچتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ اب حزب اختلاف ان سینیٹرز کو تلاش کر  رہی ہے جنہوں نے ان کے امیدوار حاصل بزنجو کو ووٹ نہیں دیا تھا لیکن اس تلاش مہم کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا جن سینیٹرز نے ان کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا یہ سمجھ چکے تھے کہ بلاول زردار ی، شہباز شریف جیل میں قید آصف زرداری اور نواز شریف کے مشوروں سے یہ ساز باز کر رہے تھے تاکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز ختم ہو جائیں۔ ان کا جمہوریت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ سازشیں اور جوڑ توڑ کر کے جمہوری اداروں مثلاً سینیٹ اور قومی اسمبلی کی جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہمیت اور افادیت کو بے توقیر اور بے اثر کرنا چاہتے تھے۔ مزید برآں ان کا ایک ہی مقصد تھا کہ نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کو تحفظ دیا جائے چنانچہ جن سینیٹرز کا ضمیر بیدار اور جاگ رہا تھا اور جو اس سازش کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں حزب اختلاف کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔ اسلام آباد کے باخبر صحافی سمجھ رہے تھے کہ سینیٹ کے چیئرمین سنجرانی کو ہٹانے کے پیچھے حزب اختلاف کے کیا عزائم ہیں ۔   

پاکستان امریکہ اور ایران

پاکستان امریکہ اور ایران

3 months ago.

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ ہر لحاظ سے کامیاب و کامران رہا ہے اس دورے سے پاک امریکی تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ۔2018 سے لے کراب تک (یعنی عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل) تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی ہیں۔ گزشتہ پندرہ سالوں سے خصوصیت کے ساتھ افغانستان کے مسئلہ پر دونوں ممالک کی سوچ منطق اور رویے میں واضح فرق نظر آرہا تھا لیکن جب پاکستان نے افغانستان کے مسئلہ پر امیریکہ کی حمایت کرتے ہوئے افغان طالبان کو امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد سے مذاکرات میں مدد کی تو پاک امریکی تعلقات میں خوشگوار تعلقات کا آغاز ہو ا ۔ امریکہ نے پاکستان کی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرانے میں مدد کی نہ صرف تعریف کی بلکہ امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی پاکستان افغانستان کے مسئلہ کے حل کے لیے امریکہ کی مدد کرتارہے گا ۔ عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ سے ، نیز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست ملاقات کرنے کے بعد جہاں ان دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں وہیںافغانستان کے مسئلہ کو حل کرنے میں مزید پیش رفت ہو سکے گی ۔ واضح رہے کہ افغانستان کے مسئلہ کے حل سے پاکستان کا اندرونی اور بیرونی استحکام جڑا ہو ا ہے ۔ اگر یہ مسئلہ افغان طالبان، افغان عوام اور امریکہ کی سوچ اور خواہش کے مطابق حل ہو جاتا ہے تو سب سے زیادہ فائدہ افغانستان کے عوام اور پاکستان کے عوام کو پہنچے گا ۔ مزید برآں پاکستان نے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیںجس کو اب امریکی قیادت تسلیم کر رہی ہے ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کی معیشت اور معاشرت دونوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے ۔ پاکستان کو اس جنگ میں 150 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ 80 ہزار فوجی اور عوام نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جس میں آرمی پبلک سکول کے بچے بھی شامل ہیں تاہم اب عمران خان کے دورے کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں غلط فہمیاں دور ہو رہی ہیں جب کہ جنوبی ایشیامیں قیام امن کی خواہشات بھی پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں جس میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے ۔ امریکی صدر نے کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس کا پوری دنیا کے امن پسند ممالک نے خیر مقدم کیا ہے ۔ پاکستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضہ کے خلاف تحریک آزادی کے نمائندوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار ادا کرنے کی اور تعریف کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر اس 70 سالہ مسئلہ کو کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کی کوشش کریں گے۔اقوام متحدہ کے علاوہ خود بھارت کی ماضی کی قیادت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ا ستصواب رائے کے ذریعہ ہی حل ہونا چاہیے کیونکہ یہ واحد مسئلہ ہے جس کی وجہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہو پارہے ہیں نیز اس مسئلہ کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں جس میں فریقین کا زبردست نقصان ہوا تاہم اب حالات بدل رہے ہیں عمران خان نے بڑی دلیل کے ساتھ پاکستان کا موقف امریکی صدر کے سامنے پیش کیا ہے جس کے نتائج بہت جلد جنوبی ایشیا کے افق پر نظر آئیں گے۔  

’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

’’ کلبھوشن رہا نہیں ہو گا‘‘

3 months ago.

عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس ، دہشت گرد اور سینکڑوں انسانوں کے قاتل سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہاہے کہ وہ رہا نہیں ہو گااس سے متعلق کیس پاکستان میں چلے گا اور پاکستان کے قوانین کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے سے جہاں پاکستان کی عدالتوں بشمول فوجی اور سول کا وقار بلند ہو ا ہے وہیں یہ بات بھی طے پا گئی ہے کہ فوجی عدالت نے کلبھوشن کو جاسوسی اور دہشت گردی کے ارتکاب کے سلسلے میں جو فیصلہ صادر کیا ہے اس پر کسی بھی قسم کا منفی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے باالفاظ دیگر فوجی عدالت کا فیصلہ جو پاکستان آرمی ایکٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے قانون کے مطابق ہے اس طرح عالمی عدالت انصاف کے فیصلے سے پاکستان کو زبردست اخلاقی و قانونی فتح حاصل ہوئی ہے اور بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے جہاں تک کلبھوشن کو قو نصلر تک ر سائی دینے کا معاملہ ہے پاکستا ن نے اس سے اتفاق کیا ہے تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان نے انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے کلبھوشن کی فیملی کو اس سے ملاقات کرائی تھی پاکستان کے اس کردار کو دنیا بھر کے ماہرین اور دانشوروں نے سراہا تھا ۔  

 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

 مادر پدر آزادی ، کیا یہی صحافت ہے؟

3 months ago.

پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں عوام میں تعلیم کی کمی ہے جیسا کہ دیگرپسماندہ ممالک میں دیکھا جا سکتا ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی شعو ر پیدا ہوتا ہے ، اگر تعلیم کا معیار کمزور یا ناقص ہے تو سوچ بھی اسی ہی طرح کی پیدا ہوگی جس میں منفی پہلو نمایاں ہو گا۔ پاکستان میں صحافت کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ آزادی ہے، یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا پا پرنٹ میڈیا میں جس طرح آج تبصرے اور خبریں شائع کی جارہی ہیں وہ غیر معمولی آزادی کا مظہر ہیں ۔ پاکستان کے پڑوسی ممالک خصوصیت کے ساتھ بھارت ، بنگلہ دیش، اور افغانستان میں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتابلکہ بنگلہ دیش میں آزادی صحافت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ اگر کوئی صحافی حسینہ واجد کے خلاف یا پھر بھارت کے خلاف کچھ آزادی کے ساتھ لکھنا چاہتا ہے تو اس کو فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔یہی صورتحال بھارت میں پائی جاتی ہے ۔ اگر کوئی صحافی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو بے نقاب کرنے سے متعلق کچھ حقائق تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو اس صحافی اور اخبار پر نریندرا مودی کی حکومت اس کو بلیک لسٹ کرکے سرکاری اشتہار سے محروم کر دیتی ہے یہ صورتحال پڑوسی ملک افغانستان میں بھی پائی جاتی ہے جہاں کا نظم و نسق امریکہ کے ہاتھ میں ۔پاکستان میں جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کچھ صحافی جو چاہیں اخبارمیں بغیر کسی سیاق و سباق کے لکھ دیتے ہیں بلکہ اس کی خبر سے متعلق حکومت کے کسی ذمہ دار فرد سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے ہیں۔ 

مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

4 months ago.

آرمی چیف جنر ل جاوید باجوہ  نے گزشتہ دنوں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مالیاتی بد حالی کا بحران ان ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر ماضی میں مالیاتی بد نظمی کو ٹھیک کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جاتا تو صورتحالی ایسی نہ ہوتی جوکہ آج ہے۔ آ ج پاکستان کو اقتصادی شعبے میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کو ہم سب کو مل کر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اقتصادی خرابی کے اثرات ملک کی سیکورٹی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اگر اقتصادیات مستحکم ہے  تو اس کے اثرات ملک کے تمام شعبوں پر اچھے مرتب ہوتے ہیں ۔ جنرل صاحب کی اس گفتگو سے کون انکار کر سکتا ہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے اگر مالیاتی شعبے کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی ہوتی تو یقینا حالات اتنے دگر گوں نہ ہوتے جو آج ہیں ۔ اقتصادی شعبے کو بہتری کے لیے موجودہ حکومت نے جس قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ عسکری قیادت اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔