شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

شمالی وزیرستان میں دہشت گردی  کے پیچھے کون ہے؟

4 days ago.

گزشتہ ہفتہ شمالی وزیرستان میں چار فوجی افسران شہید ہوئے یہ افسران فوجی گاڑی میں معمول کے مطابق ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی سٹرک پر نصب شدہ ایک دیسی ساخت کے بم سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے یہ افسران شہید ہو گئے جب کہ پانچ زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریب ہی ملٹری اسپتال میں علاج کے لیے منتقل کر دیا ہے۔ شہید ہونے والے افسران کو تمام تر فوجی اعزازت  کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں میں دفن کر دیا ہے۔  اس المناک واقع  کے دو دن کے بعد پھر اس طرح کا واقع پیش آیا  جس میں دو سولجر اور دیگر افراد زخمی ہوئے ۔دہشت گردی کے یہ تمام واقعات افغانستان کی سرحد کے قریب پیش آئے ہیں جہاں افواج پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے فینسنگ کر رہی ہے تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات کیوں پیش آرہے ہیں جبکہ پاکستان کی فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت حد تک دہشت گردی اور اس سے وابستہ عناصر کا قلع قمع کر دیا ہے ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت بھارت کے تابع ہو چکی ہے بھارت ہی کے ایما پر افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس اور ’’ را‘‘  سے تنخواہ ملتی ہے ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر بھارت نواز عناصر دہشت گردی کروانے کے لیے دہشت گردی کی تربیت دے کر شمالی وزیرستان اور اس کے قرب وجو ار میں بھیجتے۔ گزشتہ ہفتہ دہشت گردی کے اس قابل مذمت واقع میں یہی عناصر شامل ہیں جو افغانستان کے راستے شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے تھے اور اس مذموم کاروائی کا ارتکاب کیا جس میں پاکستان کے چار فوجی افسران شہید ہوئے۔  

کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

کیا لٹیروں کے پیچھے عوام آئیں گے؟

25 days ago.

 آصف علی زرداری نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے وہ اس تحریک کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانا کوئی غیر آئینی بات نہیں ہے یہ ان کا حق بنتا ہے لیکن عوام اس حقیقت سے باخوبی واقف ہیں کہ مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے معروف زرداری اپنی کر پشن کو بچانے کے لیے تحریک چلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے یعنی بلاول زرداری کو بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف بدعنوانیوں کے سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات رک سکیں لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ عوام زرداری کا ساتھ دیں گے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بے تحاشا کر پشن کا ارتکا ب کیا ہے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک کی دولت کو ناجائز طریقے سے بیرون ممالک منتقل کیا ہے ۔ زردار ی کے خلاف تیس کیسسز کے سلسلے میں آٹھ کیسسز میںکرپشن ثابت ہو چکی ہے چنا نچہ یہ بالکل ممکن ہے کہ انہیں ’’تحریک ‘‘ چلانے سے قبل ہی گرفتار کر لیا جا ئے دوسری طرف عوام عدلیہ سے التماس کر رہے ہیں کہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف فیصلہ سنایا جائے تاکہ جہاں ایک طرف ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جا سکے تو دوسری طرف انہیں سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ یہ عناصر ایسا گھنائو نا کام نہ کر سکیں تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ زرداری عوام کا کوئی اور نہ ہی ان حکومت کا انداز جمہوری تھا وہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کر پشن کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں سندھ کے عوام بھی ان کو اس ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔  

انہیں کام کرنے دیں

انہیں کام کرنے دیں

a month ago.

عمران خان کی حکومت کو دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیاہے۔ بقول خود ان کے انہیں جو نظام حکومت ورثے ملا ہے‘ اس میں کرپشن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔ یہاں تک کہ خزانہ خالی تھا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ چنانچہ حکومت کو چلانے کے لئے سعودی عرب‘ یو اے ای ‘ اور چین سے مالی مدد لی گئی‘ جس کی وجہ سے تھوڑا بہت سہارا ملا ہے ‘ اب حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی ہے‘ ماضی کی حکومتیں بھی13مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں‘ قرضہ لیا تھا تاکہ گلشن کا کاروبار چل سکے ‘قرضہ ہر غریب ملک لیتا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور آمدنی کم ‘ اس لئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لئے اور حکومت چلانے کے لئے قرضہ لیا جاتا ہے ‘پاکستان میں سابقہ حکومت نے قرضہ لیکر اس کو ترقیاتی کاموں میں موثر اندا ز میں استعمال کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا تھا۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی‘عمران خان کی حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے پٹرول اور اس کی مصنوعات پر ٹیکس لگا کر آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کئے جارہے ہیں لیکن یہ حکمت عملی زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکتی ‘اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں صنعت سازی کو فروغ دیا جائے اورسرمایہ کاروں کوا عتماد میں لے کر اور کچھ ترغیبات دے کر معیشت کی شرح نمو میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جائے ‘عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر معیشت میں تھوڑی بہت بہتری آسکتی ہے‘ لیکن اس کے نتیجہ میں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور افراط زرمیں بھی ‘ جو عوام کے لئے غیر معمولی مشکلات کا سبب بن رہا ہے ‘ جیسا کہ دیکھنے میں آرہا ہے۔  

آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

آئی ایم ایف ، پاکستان کی اکانومی اور سی پیک

2 months ago.

پاکستان کی ماضی کی تمام حکومتوں نے اٹھارہ سے زائد مرتبہ آئی ایم ایف جاکر قرضہ لیا ہے اور اس کو اتارا بھی ہے‘ قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن قرضے کی رقم بنیادی طورپر اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے‘ لیکن پاکستان کی حکومتوں نے آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اس کو ترقیاتی کاموں میں صرف نہیں کیا ہے بلکہ یہ پیسہ کرپشن کی نظر ہوگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک میں ان چند ممالک میں شمار ہوتاہے جنہوںنے آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرضہ لیا واپس بھی کیا، لیکن ترقی کے آثار معدوم رہے۔ اب عمران خان کی حکومت دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جارہی ہے‘ سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کسی حدتک آئی ایم ایف کو پاکستان کے لئے قرضہ دینے کے لئے راضی کرلیا تھا، لیکن انہیں ان کے عہدے سے سبکدوش کردیا گیاہے، ان کی جگہ حفیظ شیخ کو وزارت خزانہ کا عہدہ دیا گیاہے، اس امید کے ساتھ کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسد عمر کی موخر شدہ گفتگو کو آگے بڑھا ئیں گے اور نرم شرائط پر پاکستان کے لئے قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حفیظ شیخ کا تعلق کسی زمانے میں ورلڈ بینک سے رہاہے۔ وہ پی پی پی کی حکومت میں بھی شامل رہے تھے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے واقعی ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس کے ذریعہ موجودہ صورتحال میں نمایاں تبدیلی وقوع پذیر ہوسکے۔

ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

ہاکس بے روڈ اور سیاحت کا فروغ

2 months ago.

کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر عوام کے لئے تفریحی مقامات کی منصوبہ بندی نہ ہونا ایک المیہ ہے، عوام تفریح کے لئے کہاں جائیں؟ ان کی پہنچ سی ویو اور ہاکس بے تک ہے، جہاں وہ چھٹیوں کے دن جاکر اپنا دل بہلا سکتے ہیں اور کچھ دیرکے لئے کراچی کی ٹریفک کے شوروغل سے نجات بھی حاصل کرسکتے ہیں‘ کھیل کے میدان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے بچے اور نوجوان گلی کوچوں میں کرکٹ اور فٹ بال کھیل کر اپنا دل بہلاتے ہیں۔ بسا اوقات اس ہی دوران کسی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ناقابل تردید حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ دس سالوں سے صوبہ سندھ کی باگ ڈور پی پی پی کے ہاتھ میں ہے جس کو اس بات پر بڑا ناز ہے کہ اس کی سندھ اسمبلی میں عدوی اکثریت ہے لیکن قانون سازی اور عوامی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے کا جذبہ مقصود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی سمیت سند ھ کے شہروں میں ذرائع حمل ونقل کی صورتحال انتہائی خراب وخستہ ہے، ہاکس بے اور سینڈاسپٹ کراچی سے تقریباً چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر دو قدیم تفریح مقامات ہیں، جہاں کراچی کے علاوہ اندورن سندھ سے ایک کثیر تعداد تفریح کے لئے یہاں آتی ہے لیکن ہاکس بے روڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔  

بلاول زرداری کا واویلا

بلاول زرداری کا واویلا

2 months ago.

بلاول زرداری اپنے والد زرداری کومبینہ کرپشن کیسز میں بچانے کے لئے واویلا کررہاہے ‘ حکومت وقت کے خلاف بے تکی باتیں کررہاہے ، اور اس غریب‘ مفلس‘ معاشی وسماجی طورپر محروم عوام کو یہ جھوٹا عندیہ دے رہے ہیںکہ حکومت ان کے خلاف سیاسی انتقام لے رہی ہے  اور ’’اٹھارویں‘‘ ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے‘ یہ سراسر جھوٹ ہے، نیب کا زرداری خاندان اور ان کے دوستوں کے خلاف کارروائیاں نہ تو سیاسی انتقام ہے اور نہ ہی اسکا تعلق اٹھارویں ترمیم سے ہے۔ نیب زرداری اور ان کے خاندان کے خلاف مبینہ سرکاری فنڈز کی خردبرد اورمنی لارنڈرنگ سے متعلق انصاف اور عدل پر مبنی کارروائیاں کررہی ہے۔ تقریباً 100ارب روپے کی چوری آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں سے منسوب ہے‘ بلاول زرداری اس حقیقت سے واقف ہیں ۔ اپنے قریبی دوستوں سے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے والد منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں‘ لیکن وہ کھل کر یہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ  ان کا خرچہ پانی بند ہوجائے گا اور بڑی جائیدادوں سے بھی محروم کردیا جائے گا۔   وہ بڑھ چڑھ کر اپنے والد کی ’’حمایت‘‘ حاصل کرنے کے لئے عمران خان کی حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے ’’مقاصد‘‘ میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے، نیب ان سے ایک ایک پائی کا حساب لے گی، کیونکہ ان کی معاشی دہشت گردی کی وجہ سے ملک کا یہ حال ہوا ہے‘ زرداری اور بلاول دونوں مل کر حکومت کے خلاف ’’تحریک‘‘ چلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ ٹرین مارچ کے دوران بھی بقول بلاول اور ان کے ساتھیوں کا یہ کہنا تھا کہ یہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز ہے‘ لیکن ٹرین مارچ محض ایک پکنک ثابت ہوئی ۔ بلاول ٹرین کے ڈبے پر لٹک کر تفریحی موڈ میں نظر  آئے‘ منظر کے  مزے لے رہے تھے۔   وہ سندھ کے غریب و مفلس عوام کے دکھوں سے آگاہ ضرورہیں لیکن ان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ بلاول زرداری غریبوں کا استحصال کرنااچھی طرح جانتے ہیں غریب عوام ان کو دیکھنے یا باتیں سننے ضرور آجاتے ہیں (پیسے لے کر) لیکن انہیں معلوم ہے کہ ان کے والد نے مبینہ چوری چکاری کے ذریعہ دولت کمائی ہے بلکہ بقول سابق صدر مشرف صاحب زرداری نے فیکٹریوں اور گھروں کو (کلفٹن کے ایریامیں) دھمکیوں سے خریدا ہے۔ سندھ کے سارے لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں۔  

مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

مودی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ڈاکوئوں سے نہیں

3 months ago.

وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان نے باجوڑ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کی خاطر مودی سے بات چیت کرسکتے ہیں‘  لیکن ڈاکوئوں سے نہیں۔ ان کا اشارہ نواز شریف اور زرداری کی طرف تھا۔ دونوں نے اپنے دور اقتدار میں عوام کا پیسہ بے دریغ لوٹ کر اپنی تجوریوں کو بھرا ہے  اور ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت ملک کو معاشی طورپر کمزور کیا ہے۔ آج عمران خان کی حکومت کو جن اقتصادی مسائل کا سامنا ہے  اسکی سب سے بڑی وجہ وہ لوٹ کھسوٹ ہے جو ان دونوں نے اپنے دور اقتدار میں کی ہے‘ نیز ملک کو بے پناہ قرضوں میں جکڑ دیاہے جس سے نکلنے کے لئے موجودہ حکومت ہاتھ پائوں ماررہی ہے لیکن فی الحال اس سے نکلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ اس لئے مملکت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اور آئندہ کرپٹ سیاست دانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ نواز شریف اور زرداری سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا جائے۔ نیز انہیں عبرتناک سزا ئیں بھی دی جائیں تاکہ کوئی دوسرا آئندہ اس قسم کی حرکتیں نہ کرسکے۔  

بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہاہے

بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہاہے

3 months ago.

ایک طرف پاکستان کا میڈیا عمومی طورپر بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کو بتدریج کم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کررہا ہے تو دوسری طرف بھارتی میڈیا ایک مخصوص حکمت عملی اور سوچ کے ذریعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان نہ صرف کشیدگی کو مزید پھیلا رہاہے ، بلکہ جنگی جنون بھی پیدا کررہاہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس کا یہ رویہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کی کوششوں کے پس منظر میں انتہائی قابل مذمت اور باعث تشویش ہے ، مزیدبراں بھارتی میڈیا نریندرمودی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے بالا کوٹ سے متعلق بھارتی حملے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ وہاں جیش محمدکے ارکان موجود تھے جنہیں بھارتی ہوا بازوں نے ہلاک کردیاہے۔ حالانکہ بھارتی جہاز بالاکوٹ میں واقع خوبصورت درختوں پر بم گراکر فرار ہوگئے تھے وہاںنہ تو جیش محمد کا کوئی مرکز واقع تھا اور نہ ہی ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ جس کا دعویٰ بھارت کی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بڑے تواتر کے ساتھ کررہاہے۔ اگرایسا ہوتا تو عالمی میڈیا کے علاوہ یو این او کے مبصرین اسکا ذکر ضرور کرتے لیکن جب ایسا واقع ہوا ہی نہیں ہے۔ تو اسکا کیوں کہ اور کس لئے ذکر کیا جائے اور بھارت کے موقف کو درست قرار دیا جائے۔

پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہاہے

پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہاہے

4 months ago.

پاکستان کی سیاست میں ایسے افراد متحرک ہیں، جنہیں ماضی میں غیر مرئی طاقتیںاقتدار میں لائی تھیں اور یہ سوچ کر لائی تھیں کہ یہ افراد ملک اور عوام کی بہتری کے لئے کام کرتے ہوئے شب وروز ایک کردیں گے، ابتدا میں ان افراد نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے معیشت اور معاشرت کو ترقی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کی، لیکن جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اقتدار کے ذریعہ دولت بھی کمائی جاسکتی ہے، تو انہوںنے عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی خدمت کرنے کو ترجیح دی، بے پناہ کرپشن کرکے نہ صرف اپنا پیٹ بھرا بلکہ اپنے خاندان اور دوستوں کا بھی لیکن کرپشن اور اقرابا پروری کی حد ہوتی ہے، عدلیہ نے ثاقب نثار کی قیادت میں ان افراد پر ہاتھ ڈالا ، اس سے قبل پاناما دستاویز میں پاکستانی سیاست دانوں کے علاوہ تاجروں ، بیورکریٹس اور ریٹائرڈجرنلوں کا نام بھی سامنے آیا، تاہم سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ جمہوریت کے نام پر سیاست دانوں نے ملکی وسائل کو لوٹنے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جن سیاست دانوں کے نام کرپشن کے سلسلے میں شہرت پاچکے ہیں ان میں میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف علی زرداری شامل ہیں، فریال تالپور جو آصف علی زرداری کی بہن ہیں، انہوںنے بھی اپنے بھائی کے ساتھ ملکر غیر معمولی کرپشن کا ارتکاب کیا ہے۔  

پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہاہے

پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہاہے

4 months ago.

پاکستان کی سیاست میں ایسے افراد متحرک ہیں، جنہیں ماضی میں غیر مرئی طاقتیںاقتدار میں لائی تھیں اور یہ سوچ کر لائی تھیں کہ یہ افراد ملک اور عوام کی بہتری کے لئے کام کرتے ہوئے شب وروز ایک کردیں گے، ابتدا میں ان افراد نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے معیشت اور معاشرت کو ترقی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کی، لیکن جب انہیں یہ احساس ہوا کہ اقتدار کے ذریعہ دولت بھی کمائی جاسکتی ہے، تو انہوںنے عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی خدمت کرنے کو ترجیح دی، بے پناہ کرپشن کرکے نہ صرف اپنا پیٹ بھرا بلکہ اپنے خاندان اور دوستوں کا بھی لیکن کرپشن اور اقرابا پروری کی حد ہوتی ہے، عدلیہ نے ثاقب نثار کی قیادت میں ان افراد پر ہاتھ ڈالا ، اس سے قبل پاناما دستاویز میں پاکستانی سیاست دانوں کے علاوہ تاجروں ، بیورکریٹس اور ریٹائرڈجرنلوں کا نام بھی سامنے آیا، تاہم سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ جمہوریت کے نام پر سیاست دانوں نے ملکی وسائل کو لوٹنے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جن سیاست دانوں کے نام کرپشن کے سلسلے میں شہرت پاچکے ہیں ان میں میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف علی زرداری شامل ہیں، فریال تالپور جو آصف علی زرداری کی بہن ہیں، انہوںنے بھی اپنے بھائی کے ساتھ ملکر غیر معمولی کرپشن کا ارتکاب کیا ہے۔