مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

مسلمانو ں کا زوال اور اہل ایمان کا کردار

a month ago.

سورئہ مؤمنون کے چوتھے رکوع میں ہمارے  لیے اس اعتبار سے راہنمائی ہے کہ رسولوں کے بعد جب کچھ عرصہ گزر جاتا تو لوگ بگاڑ کا شکار ہو جاتے تھے۔ وہ اصل دین پر قائم نہیں رہتے تھے بلکہ اس کے حصے بخرے کر لیتے۔  ان حالات میں اہل حق کو دیکھنا چاہیے کہ اصل دین کا تقاضا کیا ہے۔ ہمارے دین میں حقوق اللہ ہیں، نماز، روزہ اور بندگی کے مختلف انداز ہیں۔اس کے ساتھ حقوق العبادہیں، معاملات، اخلاق، دوسروں کے ساتھ حسن سلوک ،کسی کی حق تلفی نہ کرنا، کسی کا مال غصب نہ کرنا، کسی کا دل نہ دکھانا، یہ ایک پورا پیکج ہے۔ لیکن جب حصے بخرے ہوتے ہیں تو کوئی ایک حصے کو سنبھالے بیٹھا ہے، کوئی دوسرے کو سنبھالے بیٹھا ہے ،کوئی کہتا ہے کہ بس اخلاقی تعلیمات اہم ہیں نماز روزے کی کوئی اہمیت نہیں، کوئی کہے گا نماز، روزہ اصل ہے اس کے ساتھ جو بقیہ چیزیں ہیں وہ بالکل ہی نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک بندئہ مومن کا کردار کیسا ہونا چاہیے، اس کی سیرت کے بنیادی خدوخال کیا ہونے چاہیئیں یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ آیا ہے۔ سورئہ مومنون کے پہلے رکوع کا یہی موضوع ہے:  

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

3 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی مبارک شب بھی آتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی ستائیسویں شب کو عطا کی اور قرآن کا نزول بھی لیلۃ القدر کے مبارک لمحات میں ہوا ۔ اس لحاظ سے رمضان ، قرآ ن اور پاکستان کا ایک بہت گہرا تعلق ہے ۔  قیام پاکستان کے حوالے سے دو حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن ان کو ہم مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ یہ پوری دنیا میں واحداسلامی ملک ہے جو اسلام کے نام پر آزاد ہوا ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مغربی استعمار سے آزادی کی تحریکیں عرب سمیت پورے عالم اسلام میں چلیں لیکن ہر جگہ یہ تحریک اپنے ملک کی آزادی کے لیے تھی۔ واحد ملک پاکستان ہے جہاں تحریک چلی ہی اس بنیاد پر کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک اس نعرے نے تحریک کی شکل اختیار نہیں کی مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ہماری تاریخ سے ویسے ہی کاٹ دیا گیا ہے ۔ نصاب میں ان تاریخی حقائق کو اس طرح سے اُجاگر ہی نہیں کیا گیا کہ پاکستانی قوم کی نئی نسلوں میں قیام پاکستان کا اصل مقصد واضح ہوتا۔ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت تھی اس لیے اس کی عظمت تھی ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیںتھی، شروع میںوہ نوابوں کا ایک ٹولہ تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کانگریس ایک بڑی مضبوط سیاسی اور عوامی جماعت تھی۔ جس میں انڈیا کے تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی نمائندگی موجود تھی۔ خودقائداعظم سمیت مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر کانگریس میں تھے۔ لیکن جب پاکستان کا نام سامنے آیا اور پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعرے برصغیر کی فضاؤں میں گونجنا شروع ہوئے تو مسلم لیگ کو ایک  غیبی قوت مل گئی۔ اب وہ ایک سیاسی جماعت کی بجائے ایک تحریک تھی ۔  

یوم الفرقان

یوم الفرقان

3 months ago.

قارئین!رمضان المبارک کے فضائل و برکات کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس لحاظ سے یوں تو رمضان کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن اسی رمضان المبارک میں مسلمانوں کو کئی ایسے انعامات بھی عطا ہوئے ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ رمضان میں ہی قرآن جیسی سب سے بڑی نعمت عطاہوئی اور رمضان میں ہی غزوۂ بدر کاوہ معرکۂ حق وباطل برپا ہوا جس میں مسلمانوں کو باطل کے خلاف وہ مثالی فتح حاصل ہوئی کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے برحق ثابت کر دیا اور کفر و شرک اور ظلم و استحصال پر مبنی باطل نظام ہائے زندگی سرنگوں ہو گئے۔بلا شبہ غزوۂ بدر  حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ، آپﷺ کی جدوجہد کا نہایت ہی اہم لینڈ مارک ہے۔ یہیں سے ان بڑے غزوات کا آغاز ہوا جن سے اسلام کو غلبہ عطا ہوا۔ تاہم قرآن مجید میںایک پوری سورت غزوۂ بدر کے موضوع پر ہے جو کہ 10رکوعات پر مشتمل ہے۔اس میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات بھی بیان ہوئے ہیں، اس پر تبصرہ بھی ہے اور اس سے راہنمائی کا بھی بہت سا سامان موجود ہے۔اس کے علاوہ جہاد و قتال کی اہمیت، فضیلت اور اس کی ضرورت کو بھی بہت احسن انداز میں باور کرایا گیا ہے۔  اسی سورۃ الانفال کی آیت39 میں یہ بھی حکم ہے: ’’اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘