نفاق کی حقیقت

نفاق کی حقیقت

8 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) بات بڑی عجیب سی ہے لیکن اس میں بڑی لطیف حقیقت ہے۔ جو بات وہ کہہ رہے ہیں وہ تو امر واقعہ ہے، پھر جھوٹ کیا ہے۔ دراصل وہ آپؐ کو دل سے رسول نہیں مانتے۔ وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے ہیں کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں لیکن ان کا طرزِ عمل اور کردار بتا رہاہے کہ یہ آپؐ کو اللہ کا نبی دل سے نہیں مانتے۔ بات تو سچ کہہ رہے ہیں لیکن حقیقت میں یہ جھوٹے ہیں۔ یہاں سے سورت کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس سورۃ کے زمانۂ نزول کا تعین ایک واقعے کے حوالے سے بہت آسان ہو گیا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں ایک واقعہ کی طرف تفصیلی اشارہ ہے جب نبی اکرم ﷺ غزوۂ بنی مصطلق سے واپس آ رہے تھے تو منافقین کا سردار عبداللہ ابن اُبی جو حضورﷺ کے ساتھ جہاد میں گیا تھا، اس نے ایک مسئلہ کھڑا کر دیا تھا۔ اس سارے واقعہ کا ذکر اس سورۂ مبارکہ میں موجود ہے۔ یہ واقعہ شعبان6 ھ کا ہے۔ لہٰذا معلوم ہو گیا کہ یہ سورۃ شعبان 6 ھ میں نازل ہوئی۔ دوسری آیت میں فرمایا: ’’انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ان کے ذریعے سے(لوگوں کو)اللہ کی راہ سے روک رہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں بُرے ہیں۔‘‘ 

حقوق العباد کی اہمیت

حقوق العباد کی اہمیت

17 days ago.

سورئہ قلم کے پہلو رکوع میں ابتدامیں خطاب تو نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن اس کے آخر میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان ہوا ۔قرآن مجید میں بہت سے حقائق کو واضح کرنے کے لئے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔قرآن اصلاً کتاب ہدایت ہے۔ایک علمی بات کا عام آدمی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے جس میں اعلیٰ پیمانے کی ثقیل زبان استعمال کی گئی ہو لیکن اسی بات کا خلاصہ تمثیل کے انداز میں سمجھا یا جائے تو ہرشخص اخلاقی سبق آسانی سے حاصل کرلیتا ہے۔یہ دانشوروں کی علمی پیاس کو بجھانے کے لئے بھی قرآن ہی اعلیٰ ترین شے ہے اور انہیں ہدایت کی طرف لانے کے لئے جو اعلیٰ علمی دلائل ہیں وہ بھی اس میں موجود ہیں۔عام افرادتک حقیقت کو پہنچانے کے لئے قرآن میں سادہ مثالیں بیان کی گئی ہیں تاکہ بات بھی واضح ہو اور وہ مشکل میں بھی نہ پڑے۔ایمان اورقرآن کی عظمت کے بیان کے لئے ، تمثیلیں آئی ہیں۔ قرآن کی عظمت کو سمجھنا چاہو تو اللہ کا یہ فرمان سنو کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے توتم دیکھتے کہ اللہ کی خشیت سے وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا۔یہ مثالیں ہم لوگوں کی سہولت کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ اس پر غور کریں اور حقیقت کے قریب پہنچ سکیں۔سورئہ کہف میں بھی بہت اعلیٰ مضامین آئے ہیں جس میں کئی قصے بھی بیان ہوئے ہیں اور ان کا اخلاقی سبق بہت اہم ہے۔اس میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ بیان ہوا ہے ۔وہاں بھی دو افراد کا قصہ بیان ہوا جن میں ایک بڑا سرمایہ دار تھا اور اس کے باغات تھے اور دوسرا بالکل درویش تھا ۔اس قصے سے عام فرد کو اخلاقی سبق ملتا ہے۔

  حیات دنیا کے بارے میں روز قیامت انسان کے احساسات

  حیات دنیا کے بارے میں روز قیامت انسان کے احساسات

19 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  سورۃ المومنون کی آخری آیات کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ فرض نمازوں میں اکثر ان کی قراء ت کی جاتی ہے۔ یہاں منکرین آخرت اور دنیا پرستوں کی فکری پستی کو بیان کیا گیا ہے، جو خرابی کی اصل جڑ بنیاد ہے۔ جو شخص آخرت کا انکار کرتا ہے، وہ گویا اللہ پر یہ الزام لگاتا ہے کہ پروردگار تو نے یہ کائنات بے مقصد پیدا کی ہے۔ تو نے اخلاقی قوانین تو دے دئیے۔ ہمیں بتا دیا کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے، دھوکہ دینا غلط ہے، کسی کامال غصب کرنا غلط ہے۔ کسی کے کام آنا نیکی ہے۔ اور یہ باتیں ہماری فطرت میں بھی شامل کر دیں،لیکن تو نے اخلاقی قوانین کے توڑنے پر گرفت کا کوئی ضابطہ نہیں بنایا۔ دنیا میں تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چل رہا ہے۔ جو سب سے بڑے اللہ کے قوانین کو توڑنے والے ہیں، وہی دنیا میں سب سے زیادہ پھل پھول رہے ہیں۔ تو پھر (معاذ اللہ) دنیا کی تخلیق بالکل عبث کام ہوا۔اس فکری پستی سے انسان کو نکالنے کے لئے اللہ نے قرآن مجید۷ میں کئی جگہ اس مضمون کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ کہ ہم نے یہ زمین و آسمان کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیے۔   

(گزشتہ سے پیوستہ)

(گزشتہ سے پیوستہ)

3 months ago.

ان دونوں الفاظ ہادی اور نذیر پر غور کرتے ہوئے یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ ہر لفظ کے کچھ مضمرات ہوتے ہیں۔ لفظ ھاد یا ھادی (ہدایت دینے والا) ایک عام لفظ ہے۔ اسی طرح سے  نذیر (خبردار کرنے والا)بھی ایک عام لفظ ہے۔ یہ دونوںلفظ ایسے شخص کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جو حقائق سے آشنا ہو جائے چاہے وہ از خود ہی آشنا ہوا ہو۔قرآن مجید میں اس کی ایک بڑی اہم مثال حضرت لقمان کی ہے۔آپ نہ نبی تھے نہ رسول تھے اور نہ ان کے بارے میں کسی نبی یا رسول کے امتی  ہی ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ وہ بس ایک سلیم الفطرت سلیم العقل انسان تھے۔ اس سلیم الفطرت انسان نے اپنی عقل سلیم کی راہنمائی میں غور و فکر اور سوچ بچار کے ذریعے ان تعلیمات تک رسائی حاصل کر لی جو قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات ہیںیعنی توحید اور معاد ۔ نیکی اور بدی کا شعور بھی اللہ تعالی نے ہر انسان میں ودیعت کر دیا ہے۔ نبوت اور کتاب درحقیقت ہدایت ِخداوندی کی معین شکلیں ہیں لیکن ہدایت خداوندی اور انذار صرف نبوت اور کتاب کے ساتھ وابستہ نہیں ہے بلکہ ایک حکیم اور دانا انسان بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے غور و فکر کے نتیجے میں ان حقائق تک پہنچا ہو اور اپنے ان حقائق اور اپنی علمی اور عقلی یافت کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کر رہا ہو انہیںنیکی کی تلقین کر رہا ہولیکن بہر حال نبی اور رسول چار ہزار سال تک جو بھی آیا حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں آیا ہے۔  

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

3 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  ’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘ حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپؐ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے۔آپ ؐ تو خود یتیم تھے،لہٰذا آپ ؐ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپؐ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں،آپ ؐ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپؐ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو۔لہٰذا آپؐ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں۔ ’’اور آپؐ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔‘‘

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

3 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) وہ جانتا ہے کہ کائنات کا رب توایک اللہ ہی ہے لیکن نزولِ وحی سے قبل ہدایت کی تفصیلات اس کے سامنے نہیں ہوتیں،وہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ انسانیت کا یہ قافلہ کس طرف جارہا ہے؟معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے؟تو آپﷺ بھی تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے،اصل ہدایت تک پہنچنا چاہ رہے تھے،تمام علمی سوالات کا جواب چاہ رہے تھے۔اس کے لیے آپؐ کئی کئی دن غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ہم تو کہیں گے کہ عبادت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی نوعیت کیا تھی ؟کیونکہ عبادت کا موجودہ طریقہ تو نازل نہیں ہوا تھا،ابھی وحی تو اُتری نہیں تھی۔اُم المومنین حضرت عائشہؓ کا قول ہے کہ آپؐ جو عبادت غار حرا میں فرمایا کرتے تھے وہ تجسس، غور وفکر پر مبنی ہوتی تھی کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اصل حقائق کیا ہیں؟ یعنی آپؐ تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے۔ تو اللہ نے دوسرا احسان آپؐ پر یہ کیا کہ آپ ؐ پر حقائق کے دروازے کھول دئیے۔سورۃ الشوریٰ(آیت:52) میں فرمایا :’’(اے نبیﷺ !)آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘‘ ’’لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘