رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

رمضان المبارک کا حاصل، لیلۃالقدر اور پاکستان

16 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی مبارک شب بھی آتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک عجیب حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نعمت بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی ستائیسویں شب کو عطا کی اور قرآن کا نزول بھی لیلۃ القدر کے مبارک لمحات میں ہوا ۔ اس لحاظ سے رمضان ، قرآ ن اور پاکستان کا ایک بہت گہرا تعلق ہے ۔  قیام پاکستان کے حوالے سے دو حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا لیکن ان کو ہم مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ یہ پوری دنیا میں واحداسلامی ملک ہے جو اسلام کے نام پر آزاد ہوا ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ مغربی استعمار سے آزادی کی تحریکیں عرب سمیت پورے عالم اسلام میں چلیں لیکن ہر جگہ یہ تحریک اپنے ملک کی آزادی کے لیے تھی۔ واحد ملک پاکستان ہے جہاں تحریک چلی ہی اس بنیاد پر کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک اس نعرے نے تحریک کی شکل اختیار نہیں کی مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ہماری تاریخ سے ویسے ہی کاٹ دیا گیا ہے ۔ نصاب میں ان تاریخی حقائق کو اس طرح سے اُجاگر ہی نہیں کیا گیا کہ پاکستانی قوم کی نئی نسلوں میں قیام پاکستان کا اصل مقصد واضح ہوتا۔ پڑھایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی جماعت تھی اس لیے اس کی عظمت تھی ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی کوئی حیثیت ہی نہیںتھی، شروع میںوہ نوابوں کا ایک ٹولہ تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کانگریس ایک بڑی مضبوط سیاسی اور عوامی جماعت تھی۔ جس میں انڈیا کے تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی نمائندگی موجود تھی۔ خودقائداعظم سمیت مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر کانگریس میں تھے۔ لیکن جب پاکستان کا نام سامنے آیا اور پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعرے برصغیر کی فضاؤں میں گونجنا شروع ہوئے تو مسلم لیگ کو ایک  غیبی قوت مل گئی۔ اب وہ ایک سیاسی جماعت کی بجائے ایک تحریک تھی ۔  

یوم الفرقان

یوم الفرقان

22 days ago.

قارئین!رمضان المبارک کے فضائل و برکات کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس لحاظ سے یوں تو رمضان کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن اسی رمضان المبارک میں مسلمانوں کو کئی ایسے انعامات بھی عطا ہوئے ہیں جن کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ رمضان میں ہی قرآن جیسی سب سے بڑی نعمت عطاہوئی اور رمضان میں ہی غزوۂ بدر کاوہ معرکۂ حق وباطل برپا ہوا جس میں مسلمانوں کو باطل کے خلاف وہ مثالی فتح حاصل ہوئی کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے برحق ثابت کر دیا اور کفر و شرک اور ظلم و استحصال پر مبنی باطل نظام ہائے زندگی سرنگوں ہو گئے۔بلا شبہ غزوۂ بدر  حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ، آپﷺ کی جدوجہد کا نہایت ہی اہم لینڈ مارک ہے۔ یہیں سے ان بڑے غزوات کا آغاز ہوا جن سے اسلام کو غلبہ عطا ہوا۔ تاہم قرآن مجید میںایک پوری سورت غزوۂ بدر کے موضوع پر ہے جو کہ 10رکوعات پر مشتمل ہے۔اس میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات بھی بیان ہوئے ہیں، اس پر تبصرہ بھی ہے اور اس سے راہنمائی کا بھی بہت سا سامان موجود ہے۔اس کے علاوہ جہاد و قتال کی اہمیت، فضیلت اور اس کی ضرورت کو بھی بہت احسن انداز میں باور کرایا گیا ہے۔  اسی سورۃ الانفال کی آیت39 میں یہ بھی حکم ہے: ’’اور (اے مسلمانو!)ان سے جنگ کرتے رہویہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کل کا کل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

25 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  مثلاً ’’(جنت) تیار کی گئی ہے‘ متقین کے لیے‘‘ (آل عمران:133) اور ’’کامیابی متقین کے لیے ہے۔‘‘ (النبا:31) اور فرمایا: ’’بے شک متقین جنت میں ہوں گے اور اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہورہے ہوں گے۔‘‘ (الطور:17)  رمضان 30 روزہ تربیتی پروگرام ہے اس تربیت سے ہمیں ایمان اور یقین کی دولت ملے گی، نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی عملی ٹریننگ حاصل ہو گی، تقویٰ کی پونجی میسر آئے گی، جو اُخروی کامیابی اور گناہوں سے بچنے کے لیے لازمی ہے۔ یہ عملی ٹریننگ کیا ہے؟ یہ کہ روزے کی حالت میں کچھ حلال چیزوں سے بھی بچو، یہ پابندی قبول کرو کہ صبح صادق سے لے کے غروب آفتاب تک جائز ذرائع سے تم کچھ کھانے پینے اورجنسی خواہش پوری کرنے سے احتراز کروگے۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو تمہارے اندر وہ روحانی طاقت پیدا ہو گی کہ تم سال کے بقیہ گیارہ مہینوں میں حرام اور ناجائز چیزوں سے بچ سکوگے۔  رمضان کی فضیلت نزول قرآن کی بنا پر ہے۔ چنانچہ یہ بات فرمادی کہ ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی

انسانی حقوق اور اسلام

انسانی حقوق اور اسلام

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) ابلیس کا کہنا تھا کہ اسلام نے عدل و انصاف کا جو نظام دیا ہے اس نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹی ہے ۔ اگروہ نظام قائم ہو گیا تو پھر ہمارے لیے کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ اسی خطاب میں اس نے جمہوریت کے حوالے سے بھی یہ بات کہی کہ:  ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خودشناس و خودنگر یہ ہے جمہوری نظام کے بارے میں اقبال کی رائے! اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لیے جو سیاسی نظام وضع کیا گیا ہے وہ جمہوریت ہے‘جبکہ اصل فتنہ سرمایہ داری نظام ہے۔  والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرمایا کرتے تھے کہ تین مسائل ایسے ہیں جن میں انسانی عقل سو فیصد عاجز ہے۔ ان میں ہمیں آسمانی ہدایت لازماً چاہیے، اس لیے کہ انسان اپنی عقل سے ان میں معتدل راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ (1) پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے؟ اس میں ہمیشہ انسانی تاریخ میں دو انتہا ئیں رہی ہیں۔ زیادہ تر تو عورت کو اس بری طرح کچلا گیا ہے کہ اس کا استحصال ہوا ہے‘ لیکن کبھی کبھی عورت اس طور سے اُبھری ہے کہ وہ قلوپطرہ بنی ہے۔ اسی طریقے سے آج بھی عورت کو آزادی کے نام پرسبز باغ دکھا کر باہر نکالا گیا ہے‘ جس نے پورے معاشرے کو تلپٹ کر کے رکھ دیاہے۔ عورت کو جتنا بے وقوف اس زمانے میں بنایا گیا ہے، اس سے پہلے ایسا کبھی نہ تھا۔ عورت سمجھ رہی ہے کہ اس نے کامیابی کے بڑے اونچے اہداف حاصل کر لیے ہیں‘جبکہ حقیقت میں اسے دو طرف سے کچلا جارہا ہے۔ لہٰذا مرد اور عورت