حکومت مخالف تحریک؟

حکومت مخالف تحریک؟

24 days ago.

بلاول بھٹوزرداری کی افطار پارٹی سے وابستہ، احتساب کے شکنجے میں کسے سیاستدانوں کی کوئی ایک امید بھی نہ بر آئی،خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن تو  مکمل طور پر مایوس دکھائی دئیے۔دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا کے مصداق  چلے تھے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے مگر مقصد سے عاری یہ اپوزیشن اکٹھ خود ہی کسی بات پر متفق نہ ہو سکا،ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست ایک دوسرے کی مخاصمت کی حد تک مخالفت کی بنیاد پر استوار رہی۔ماضی میں جھانکیں  تو  ضیاء الحق نے ن لیگ کی بنیاد ہی پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنے کیلے رکھی تھی،مگر اسلام کے نام پر ملک کو لسانی اور مذہبی گروہوں کے سپرد کرنے والے جرنیل کو بھی ہزیمت کا سامنا کرناپڑا اور پیپلز پارٹی کا وجود اور سیاسی کردار جرنیل کے وظیفہ خوار ختم نہ کرسکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لینے والی ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو جب کبھی اپنی سیاست اور لوٹی دولت خطرے میں دکھائی دی دونوں جماعتوںکی قیادت اختلافات کو بھلا کر ایک ہو گئی اور جیسے ہی خطرہ ٹلا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے ایک بار پھر باہمی  مخالفت پر کمر کس لی،ایوب خان اور ضیاء الحق کی باقیات یہ دونوں جماعتیں عرصہ دراز سے جمہوریت کے نام پر عوام کو الو بنا رہی ہیں،حالانکہ جمہوریت نام کا جانور خود انکی پارٹی میں بھی دکھائی نہیں دیتا،باپ کے بعد بیٹا،بھائی یا بیٹی ہی قیادت کے حقدار جانے گئے۔

 گوادرپورٹ

گوادرپورٹ

2 months ago.

پورے ملک کی نگاہیں گوادر  پر لگی ہوئی ہیں ، یہ صرف ایک بندر گاہ نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ملکی معیشت کا گیم چینجر ہے۔بلوچستان کیلئے تو یہ کسی نعمت  سے کم نہیں مگر پاکستاں کی معیشت اور تجارت کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جنوب اور وسط ایشیاء میں واقع ممالک کیلئے بھی گوادر پورٹ معاشی حب کی حیثیت رکھتی ہے۔بلوچستان اگر چہ مملکت پاکستان کے کل رقبہ کے 44فیصد پر محیط ہے مگر زراعت،صنعت،تجارت نہ ہونے کے باعث صوبہ کی ترقی کی رفتار بہت سست رہی،نہری اور زمینی پانی کی کمی،زمین کا ہموار نہ ہونا،پہاڑی سلسلے،صحرائی اور پتھریلی زمین زراعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، ورنہ نصیر آباد اور قلات ،لورالائی، ژوب سمیت جن علاقوں میں فصل ہوتی ہے وہاں کی زمین بہت زرخیز ہے۔نصیر آباد واحد ضلع ہے جہاں نہری پانی دستیاب ہے،ستم یہ کہ ماضی کی کسی حکومت نے بلوچستان کی زرخیز زمین کو کار آمد بنانے کیلئے کوئی منصوبہ تشکیل دیا نہ اس حوالے سے کوئی ڈیٹا وضع کیا گیا،نتیجے میں آج بھی لاکھوں ایکڑ اراضی بے آب و گیاہ پڑی ہے،حالانکہ دنیا  کی بہترین کھجور پنجگور اور تربت کے علاقہ میں پیدا ہوتی ہے ،صرف ان کی پیداوار اور برآمد پر توجہ دی جائے تو بلوچستان کی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے، صوبہ میں ہینڈی کرافٹ کی صنعت پرتوجہ دی جاتی تو صرف جانوروں کی اون سے تیار شدہ قالین کی تجارت سے ہی بھاری زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا تھا،مگر حکومتی سر پرستی نہ ہونے سے یہ شعبہ بھی جانکنی کے عالم میں ہے،ماہی پروری اور مویشی پال سکیموں کو بڑھاوادیا جائے تو صوبہ ہی نہیں پورے ملک کی، گوشت،دودھ کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے اور چمڑے کی صنعت کو ترقی  مل  سکتی ہے،مگر  کسی وفاقی ، صوبائی حکومت نے اس ہاتھ کی تجارت پر توجہ دی  نہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی،نتیجے میں بلوچستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔     معدنیات اس صوبہ کو قدرت کا تحفہ ہے مگر صرف کوئلہ،گیس اور تیل کے ذخائر پر توجہ ہے،تانبہ،نکل،بہترین ماربل جس کی عالمی منڈی میں بھی کھپت ہے،  لاوارث  پڑا ہے  ۔اگر ان پر کام کیا جاتا تو ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے اور برآمدات سے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا تھا،کوئٹہ کے سوا پورے صوبہ میں صنعت نام کا کوئی جانور دستیاب نہیں،سبی کے قریب ہرنائی وولن ملز اپنے دور کی بہت بڑی صنعت تھی مگر قومیائے جانے کے بعد یہ مل عرصہ دراز سے بند پڑی ہے،اگر ماضی کی حکومتیں ہر بڑے شہر میں صنعتی زون قائم کرتیں اور جس طرح ماضی میں کے پی کے میں صنعتی زون قائم کئے تھے،ایسا ہوتا تو صوبہ آج ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتا۔ گوادر پہلا قومی نہیں بلکہ عالمی سطح کا منصوبہ ہے جو صوبہ کی ترقی کا ضامن بھی ہے،اگر چہ گوادر میں مقامی آبادی کا تناسب بہت کم ہے،آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش سمندر سے مچھلیاں پکڑنا ہے،مگر مچھلی کو محفوظ بنانے اور اس کی بر آمد کیلئے کوئی حکومتی منصوبہ نہیں،جس کی  وجہ سے اس شعبہ پر بھی جمود طاری ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر سے مچھلی کی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہو گا،،مقامی آبادی کو روزگار بھی ملے گا،مقامی صنعت کو بھی پنپنے کا موقع ملے گا۔ شنید ہے کہ گوادر پورٹ کے کھلے سمندر میں ڈرلنگ کے بعد تیل کے ذخائر کی اطلاع ملی ہے،سعودی عرب گوادر میں آئل ریفائنری بھی لگا رہا ہے،جس کا معاہدہ طے پا چکا ہے،ریفائنری کی تنصیب کے بعد علاقہ میں نہ صرف روزگار بلکہ کاروبار

درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

2 months ago.

جماعت کے پہلے امیر خود بانی جماعت سید مودودی تھے،ان کی علمی حیثیت کے، مخالفین بھی معترف ہیں۔تمام تر سیاسی ،علمی کارناموں کیساتھ ’’تفہیم القران‘‘ لکھنا ان جیسی عظیم المرتب اور صاحب    استقامت شخصیت ہی کا کام تھا ،جماعت اسلامی کو انہوں نے موروثی جماعت بھی نہیں بننے دیا،ان کی زندگی میں ہی ان کی اولاد جماعت کی سیاسی سرگرمیوںسے لا تعلق رہی،جبکہ اپنی موجودگی میں انہوں نے میاں طفیل محمد کو امیر جماعت کی ذمہ داری سونپی،بعد میں ارکان باقاعدہ ان کا انتخاب عمل میں لائے،میاں صاحب بھی علمی شخصیت کے طور پر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے  تھے،ان کی علمی خدمات میں حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کی معرکۃالآرا تصنیف ’’کشف المحجوب ‘‘ کا اردو میں ترجمہ بھی شامل ہے،ان کے دور امارت میں سیاسی گر ما گرمی عروج پر رہی،اور میاں صاحب نے اس کی قیمت شاہی قلعہ میں بھٹو حکومت کے مظالم سہتے ادا کی،مگر زبان پر حرف شکائت نہ لائے،عزیمت کیساتھ اپنے موقف پر قائم رہے،مولانا مودودی نے اپنے سیکرٹری جنرل کو قائمقام امیر نامزد کیاتو میاں صاحب نے بھی اپنے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد کو اپنی علالت طبع کے بعد قائم مقام امیر نامزد کیا ان کو بھی بعد میں ارکان جماعت نے باقاعدہ طور پر منتخب کر کے سند امارت عطا کی۔

تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

2 months ago.

  تحریک انصاف کی حکومت اور پاکستانی قوم آج اس دوراہے پر کھڑی ہے  جہاں’’نا جائے ماندن،نا پائے رفتن‘‘کی سی کیفیت ہے۔عمران خان کی  حکومت کو ہوا   کا خوشگوار جھونکا سمجھا جا رہا تھا،الیکشن میں انہوں نے  قوم کے ایسے طبقے کو باہر نکالا جن کو کبھی سیاست اور حکومت سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی،عمران  خا ن  کے    وزیر اعظم بننے کے بعد امید جاگی کہ اب کرپشن،رشوت ،اقرباء پروری، سفارش ، ڈنگ ٹپائو پالیسیوں  کا گرم بازار ٹھنڈا ہو گا اور ملک صحیح معنوں میں حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا،مہنگائی،بیروزگاری،بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ،امن قائم،انصاف عام ہو گا،قانو ن کی بالادستی ہو گی،سرکاری عمال عوام کے آقا نہیں خاد م ہونگے،عام شہری بلا خوف و خطر سر اٹھا کر جی سکے گا،مگر یہ ساری امیدیں اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں ،اگر چہ امید کا دیا اب بھی ٹمٹا رہا ہے مگر بقول  مصطفیٰ زیدی امیدوبیم ،دست و  بازوئے قاتل میں رہتے ہیں تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں  

 دل کا کیا کریں صاحب

 دل کا کیا کریں صاحب

3 months ago.

 نواز شریف کو عدلیہ سے علاج کیلئے ملنے والے  چھ ہفتے میں سے کچھ مدت ختم ہو گئی لیکن آج تک باقاعدگی سے علاج شروع ہو سکا نہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ شریف سٹی میڈیکل ہسپتال میں ان کے بعض ٹیسٹ کئے گئے اور باقی کا وقت سابق وزیر اعظم نے سیاسی سرگرمیوں میں گزارا ۔  وہ جو نواز شریف کی بیماری اور علاج کے بارے میں پریشان تھے اور لمبے چوڑے بیانات دے رہے تھے،اب شائد آرام  میں ہیں ، ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا   اگر نواز شریف کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہواء تو ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہونگے۔سابق وزیر اعظم کو علاج کی جو سہولت  ضمانت کے بعد  فراہم کی جا رہی ہے اس سے بہتر تو  پنجاب حکومت جیل میں مہیا کر رہی تھی،مگر اب قائد ن لیگ کی زندگی خطرہ سے باہر ہے،اس لئے کہ وہ جیل سے باہر ہیں اور اپنے محل میں  سکون کے شب و روز گزار رہے ہیں۔نواز شریف کا اصل اعتراض تھا کہ علاج ان ڈاکٹرز کے ذ ریعے کرایا جائے  جو ماضی میں لندن میں ان کا علاج کرتے رہے،لیکن اب تک ان کی طرف سے لندن کے ان  ڈاکٹروں سے رابطہ نہیں کیا گیا،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علاج نہیں بلکہ علاج کی آڑ میں لندن جانا چاہتے تھے،مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انکے بیرون ملک جانے پر پابندی برقرار رکھی،جس وجہ سے وہ اب اندرون ملک ہی علاج کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔  

تارکین وطن کا ملک 

تارکین وطن کا ملک 

3 months ago.

 کینیڈا کے  بین الاقوامی پیئرسن ائیر پورٹ ٹورنٹو  پر پی آئی اے کی پرواز پی کے سیون نائن سیون  کی لینڈنگ  کےلئے  پائلٹ نے اعلان کیا تو دوپہر کے اڑھائی بج  رہے تھے ۔ میں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکا ،سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا  مگر  چاروں اوڑ برف کے ڈھیر  بھی نظر آ رہے تھے جو پچھلے دنوں ہونے والی شدید برف باری کا پتہ دے رہے تھے ۔امیگریشن کے ضوابط پورے کرتے ہوئے میں ائر پورٹ  سے باہر نکلا تو حسب معمول میری اہلیہ اور بیٹیاں مجھے لینے کےلئے موجود تھیں۔ لاہور سے  ٹورنٹو  آنے والی  پرواز کا دورانیہ کوئی چودہ گھنٹے کا ہوتا ہے،یہ جہاز کوئی ڈھیڑھ گھنٹہ تاخیر سے  روانہ ہوا  جبکہ اترنے کے بعد  جہاز کے مسافروں کو  نکلنے کےلئے  بھی  آدھ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا جسے تکنیکی خرابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے،مگر دوران پرواز جہاز کے عملے نے مسافروں کی دیکھ بھال کےلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،حالانکہ کھانے پینے کا کوئی مثالی انتظام تھا نہ تفریح کےلئے کوئی سمعی و بصری سہولت۔ان حالات میں جہاز کے عملے کو ضرور داد دینی چاہئے ۔  

عمران خان نےمودی کوکلین بولڈ کردیا

عمران خان نےمودی کوکلین بولڈ کردیا

4 months ago.

پاکستان کےخلاف ناکام ائرسٹرائیک کی کوشش میں گرفتاربھارتی پائلٹ ابہی نندن کی رہائی اوربھارت کوواپسی کااعلان کرکےوزیراعظم عمران خان نےاپنے بھارتی ہم منصب کوسفارتی ،سیاسی ،عالمی اوراخلاقی میدان میں کلین بولڈ کرکےبڑی خاموشی کیساتھ پویلین بھیج دیا۔پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نےایک بارپھر بھارت کو پیغام دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں لیکن اگرہم پر جنگ مسلط کرنیکی کوشش کی گئی تو اس کابھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا ہم حق بھی رکھتے ہیں اور صلاحیت بھی۔اس سے قبل بھارتی حملے کے فوری بعدمنعقدہ قومی سلامتی کونسل اجلاس کےبعد قوم سےخطاب میں وزیراعظم نےبھارت کو تمام متنازعہ مسائل پر ایک بار پھر مذاکرا ت کی دعوت دی تھی،عمران خان کی بار بار مذاکرات کی دعوت نےعالمی برادری کاضمیر پاکستان کے حق میں کردیا۔اقوام متحدہ،امریکہ یہاں تک کہ چین نےبھی دونوں ممالک کومعاملات،مذاکرات سےحل کرنےکامشورہ دیاتھاجواس بات کاثبوت تھا کہ دنیا جنگ نہیں چاہتی،اب بھارتی جنگی قیدی کی رہائی کےفیصلےنےمودی کوبھارت میں ہی خوفناک تنہائی کاشکارکردیاہے۔