اُلو کو رات کا شاہین قرار دینے والے!

اُلو کو رات کا شاہین قرار دینے والے!

3 days ago.

  مان لیجیے کہ  یہ قحط الرجال کا دور ہے! ملک میں قیادت کا بحران ہے!  یہ عارضہ وطن عزیز کو عشروں سے لا حق ہے ۔ میڈیا کی بدولت جعلی قائدین کی حقیقت صبح و شام آشکار ہوئی جاتی ہے۔  آنے والے کل میں ہمارے آج کی  داستان  تاریخ کے صفحات میں رقم ہوگی ۔ مئورخ لکھے گا کہ یہ وہ بے دانش گروہ ہے جو بار بار ایک ہی سوراخ سے خود کو ڈسوا تا رہا ۔ ڈسنے والے ناگوں کو دودھ پلاتا رہا ۔ قوم کی گردن پر سوار اہل سیاست بھرے بازار میں ننگے کھڑے ہیں ! ان کے تن سے عزت کا چولہ کسی اور نے نہیں بلکہ خود اپنے ہم پیشہ سیاست دانوں نے ہی نوچ کے تار تار کیا ہے۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والی پارلیمان میں قائدین کی زبانی آتش بازی کا مظاہرہ  یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ کس ذہنیت کے حامل مرد و زن قوم کے زخموں پر تیزاب ڈال کے  شفا ملنے کے سپنے دکھا رہے ہیں ۔ بدزبان جاہل کروڑوں لوگوں کو بھاشن دیتے ہیں۔ زبان درازی کی بیش بہا اہلیت اور آبائی علاقوں میں ووٹ ہتھیانے کی نایاب صلاحیت  کے علاوہ پلے کچھ بھی نہیں ۔ جب چاہیں اپنے نکھٹو لیڈر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا کر قائد اعظم کے برابر لا کھڑا کریں ۔ جب چاہیں مخالف کو فرعون یا ابو جہل قرار دے دیں ۔  

  کرکٹ کی  عالمی  جنگ   

  کرکٹ کی  عالمی  جنگ   

8 days ago.

 کر کٹ ورلڈ کپ سے اچھی خبر آئی ہے! پاکستانی ٹیم نے اپنے دوسرے میچ میں ٹورنامنٹ کی سب سے طاقتور سمجھی جانے والی انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دے کے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ یہ فتح بین الا قوامی مقابلوں میں گیارہ مسلسل ناکامیوں کے بعد حاصل ہوئی ۔ وارم اپ میچ میں افغانستان جیسی نوآموز ٹیم سے بھی شکست کھائی اور ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں ویسٹ انڈیز نے ایک سو پانچ رنز کے قلیل اسکور پر آئوٹ کر کے محض تیرہ اوورز میں ہدف مکمل کر لیا ۔ ورلڈ کپ سے پرلے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کے بعد قوم مایوس ہونے کے ساتھ ساتھ برہم بھی تھی ۔ خدا کا شکر کہ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف تین سو اڑتالیس رنز بنانے کے بعد ایک سخت مقابلے کے نتیجے میں واضح فتح پاکستان کا مقدر بنی۔ اس فتح سے ٹیم کا اعتماد بحال ہوا ہے اور قوم کا غصہ بھی ٹھنڈا ہوا ہے ۔ کھیل ہوں یا دیگر قومی امور ہم بحیثیت مجموعی طور پر سطحی رویے اور جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اب ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں شکست کے خلاف عوامی رد عمل ہی دیکھ لیں ۔ سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو گردش کر رہی ہے ۔   

     تیل کی تلاش  اور معاشی  غارت گر    

     تیل کی تلاش  اور معاشی  غارت گر    

23 days ago.

 ملک کی خیر چاہنے والوں کے دل اداس ہیں ۔ ایک امید سی بندھی تھی کہ سمندر سے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے تو قوم کے معاشی دلدر دور ہو ں گے ۔ امید اس اعلان سے ٹوٹی ہے کہ متوقع ذخائر دستیاب نہیں ۔ اجتماعی بے چینی اس لیے بھی زوروں پہ ہے کہ دن بدن بگڑتی معیشت کی بدولت مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل کے عوام کی گردن پہ بری طرح سوار ہے ۔ ڈالر کے مقابل روپے کی بے قدری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔ پیٹرولیم ، بجلی اور گیس کے دام مزید بڑھیں گے ۔ اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ ہر شے کے نرخ بڑھیں گے اور مہنگائی کا جن عوام کا رہا سہا خون بھی چوس لے گا ۔ عوام کی جان اس جن سے چھڑانے کے لیے جو ماہر عامل طلب کئے گئے ہیں وہ آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے سند یافتہ ہیں ۔ ابھی ان معاشی عاملوں نے اپنا جھاڑ پھونک شروع نہیں کیا ! جب یہ اپنا جھاڑ پھونک مریض پہ آزمائیں گے تو شفا کا امکان کم اور قضا کا خدشہ زیادہ قوی ہے ۔ سوجھ بوجھ رکھنے والے خبردار کر رہے ہیں کہ ان جعلی عاملوں کی جھاڑ پھونک کے نتیجے میں مہنگائی کے جن کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ مریض یعنی کہ عوام کی جان جانے کا غالب امکان ہے۔   

    چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

    چو طرفہ   یلغار   اور  میر کا  شعر   !  

a month ago.

 گوادر کے ہوٹل پر دہشت گرد حملہ ناکام ہوا۔ تین دہشت گرد واصل بہ جہنم ہوئے ۔ راہ چلتا بچہ بھی آنکھیں بند کر کے بتا سکتا ہے کہ حملے کا ہدف کیا تھا ؟ دہشت گردوں کے مقاصد کیا تھے ؟ اور ان دہشت گرد کٹھ پتلیوں کی ڈوریں کون سی قوتیں ہلا رہی ہیں ؟ پی سی ہوٹل گوادر میں مقیم چینی مہمان ہی دہشت گردوں کا بنیادی ہدف تھے ۔  حملے کے ذریعے دشمن نے کثیرالجہتی پیغامات دیئے ہیں  ! اول، بلوچستان خصوصاً گوادر اور  اُس کے گردو نواح غیر ملکیوں کے لیے محفوظ نہیں ۔ دوم ، سی پیک منصوبہ ہمہ وقت حریفوں کی زد میں ہے۔ شاہراہیں اور دیگر انفراسٹرکچر تعمیر ہو بھی گیا تو مسلسل دہشت گرد حملوں کی وجہ سے بھر پور سرمایہ کاری کی راہ روکی جائیگی  ۔ سادہ لفظوں میں دشمن نے  اس منصوبے کی ایسی موت کی دھمکی دی ہے جو چین اور پاکستان دونوں کے مفادات کو شدید زک پہنچا سکتی ہے۔  سوم، پی سی ہوٹل حملہ بلوچستان میں ہونے والے  اُن حالیہ حملوں کا تسلسل ہے جن میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں بشمول نیوی اہلکاروں ، ہزارہ برادری اور ایف سی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ دشمن بڑی دیدہ دلیری سے دہشت گردی کے ذریعے  ملک کے طول و عرض میں ریاستی رٹ کو  للکار رہا ہے ۔  یہ بات کوئی راز نہیں کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت اور امریکہ کا ہاتھ ہے ۔  

  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

  دلی اور واشنگٹن کے فتنہ گر  

a month ago.

 کاش جنوبی ایشیا ء میں امن کی بحالی کے دعویدار اپنی باتوں پر عمل بھی کر دکھاتے ! باتیں تو امن کی لیکن ہر عملی اقدام فساد کی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف۔  افغانستان کی مثال سامنے ہے۔ ڈیڑھ عشرے سے زائد فساد  کے کانٹے بونے  والا امریکہ اب فصل گل و لالہ کی امیدیں دلا رہا ہے۔ امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد چھلاوے کی سی رفتار سے دورے پر دورہ فرما رہے ہیں ۔ جو  افغان طالبان امریکہ بہادر کو خاطر میں نہیں لا رہے وہ بھلا لولی لنگڑی کٹھ پتلی افغان حکومت کو کیوں کر گھاس ڈالنے کی حامی بھریں گے ؟ امن کی راگنی گانے والے امریکہ کی نیت پر شک کرنے کی بعض  ٹھوس وجوہات افغان طالبان کو تذبذب میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہیں ! پہلی وجہ تو خود  امریکہ کاسابقہ اور حالیہ متنازعہ کردار ہی ہے ۔ معصوم افغان عوام کے خون کے چھینٹوں نے  امریکہ کے چہرے کو افغانیوں کے لیے بھیانک عفریت بنا دیا ہے ۔امریکی بیساکھیوں پر ڈولتی کٹھ پتلی افغان حکومت  کی حیثیت بھان متی کے ایسے کنبے کی سی ہے جو ذاتی مفادات کی خاطر افغان عوام کے مجموعی مفادات کو دائو پر لگانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی ۔  

   کشمیر  اور شرار  بو لہبی  !

کشمیر اور شرار بو لہبی !

2 months ago.

   بھارتی  فوج  کی مشرقی  کمان  کے سابق سربراہ  جنرل  دیپندر سنگھ ہوڈا  نے  طاقت  کے نشے  میں بد مست  دلی  سرکار  کو   یہ  بتا  کے  خبردار  کرنے  کی کوشش  کی ہے  کہ  مقبوضہ کشمیر  میں  عوامی  سطح  پر  بھارت  کے  خلاف  نفرت  میں  اضافہ  غیر معمولی  حد تک  خطرناک  سطح  کو  جا  پہنچا  ہے۔  ایسا  ہر گز    نہیں کہ سابق  جنرل کشمیریوں  کے  غم  میں  ہلکان  ہو کے  انصاف  کی  بات  کرنے  چلے  ہیں ۔  اس  بظاہر  مدبرانہ دکھائی  دینے  والی   گفتگو  کا  پس  منظر  یہ ہے  کہ کشمیر  پر ناجائز  بھارتی  قبضے کو  بر قرار  رکھنے  کے  لیے  منعقد  کیے  گئے  ایک سیمینار  میں  جنرل  ہوڈا  نے  قاتل  بھارتی  حکومت کو کچھ  ایسے مشورے دیئے ہیںجو درحقیقت  اعتراف ِ  جرم  سے کم  نہیں ۔  جنرل  ہوڈا   کے  بقول   ریاستی طاقت  کے  وحشیانہ    استعمال  کے نتیجے  میں  بھارتی  افواج  حالات  پر قابو  پانے  کے  جو  بلند  بانگ  دعوے  کرتی  ہیں  وہ   نقش  بر آب  ثابت  ہوتے ہیں۔  زمین  کے ٹکڑے  پر  بندوقوں  اور  سنگینوں  سے  قبضہ  کیا  جا سکتا  ہے  !  انسانی  سوچ  اور  جذبوں  پر  نہیں  ۔

  گنتی اور تول کا فرق !

گنتی اور تول کا فرق !

2 months ago.

  مہنگائی میں بتدریج اضافے پر عوام پریشان ہیں ۔ حکومت سے امیدیں زیادہ لگا ئی گئی تھیں ۔ امیدوں کے مقابل اب تک کی  کارکردگی مایوس کُن ہے ۔ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں نے عوام میں حکومت کے متعلق منفی تاثر کو مزید پختہ کیا ہے ۔ خاص طور پر وزیر خزانہ کی عجلت میں رخصتی نے مہنگائی کے دیئے زخموں پر نمک ہی چھڑک ڈالا ہے۔ عوام میں بے چینی کی ایک وجہ کرپشن کے مشہور و معروف مقدمات بھی ہیں ۔ توقعات کے بر عکس نہ تو لوٹ کا مال بر آمد ہو پایا ہے ! نہ مقدمات منطقی انجام کو پہنچے ہیں ! نہ ڈھنگ کی تفتیش ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی  مجرم ثابت ہونے والوں کی سزائوں پر عمل درآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جن عدالتوں کے سرپر سزائیں سنانے کی پاداش میں  ناانصافی کی تہمت دھری گئی تھی آج انہی عدالتوں سے ضمانتوں اور سزائوں کی منسوخی پر فخریہ انداز میں فتح کے شا د یا نے  بجائے جا رہے ہیں ۔ حکمران جماعت کو ووٹ دینے والے عوام بجا طور پر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ البتہ سابق حکمران جماعتوں  پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جانب سے تنقید اور واویلے کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام دیکھنے کے لیے اس قدر بے تاب ہیں کہ کابینہ کی تبدیلیوں اور وزیر خزانہ کی رخصتی کو ہی  حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں۔