اُس موج  کے  ماتم  میں  روتی  ہے بھنور  کی  آنکھ

اُس موج  کے  ماتم  میں  روتی  ہے بھنور  کی  آنکھ

8 days ago.

میڈیا کی مہربانی کہیے یا اہل سیاست کی کج فہمی کہ آج کشمیر ہمارے مباحث میں سرفہرست دکھائی نہیں دے رہا۔ پانچ ماہ سے زائد عرصہ ہونے کو آیا ہے ! مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان امید بھری نظروں سے پاکستان کی جانب دیکھتے ہیں۔ وہی پاکستان کہ جس کے شعلہ بیاں راہنما مسئلہ کشمیر کو تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے آئے ہیں! کبھی کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتے ہیں تو کبھی ملک کی انا اور بقا سے منسلک کرتے ہیں۔ مسلم امہ کی بے حسی کی شکایت تو کیا کی جائے یہاں تو خود کشمیریوں کے اولین حمایتی غفلت کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں ۔ ریاست کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے تین حصوں میں تقسیم کرنے کے ناجائز بھارتی اقدام پر ابتدائی واویلا مچانے کے بعد سفارتی محاذ پر ہم نے کیا کچھ کیا ہے؟ صاف بات یہ ہے کہ ہم نے محض سفارتی خانہ پُری کی ہے۔ کیا حیرت نہیں ہوتی کہ کشمیر بارے  ہم سے  زیادہ بھرپور موقف ترکی ، ملائیشیا اور کسی حد تک ایران نے پیش کیا ۔ بھارت ڈاکٹر مہاتیر محمد کے جاندار موقف پر ایسا تلملایا کہ ملائیشیا سے پام آئل کی خریداری بند کردی ۔ سلام ہو پیرانہ سال مہاتیر کو کہ جس نے معاشی نقصان برداشت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر حق گوئی کا پرچم بلند کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے آگے بے نقاب کرڈالا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمراں اور پارلیمان میں براجمان حزب اختلاف کے جغادری قائدین کیا کر رہے ہیں ؟ چوبیس گھنٹے متحرک رہنے والے  میڈیا نے اہل کشمیر پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کو سدباب کرنے کے لیے کیا کردار ادا کیا ؟ تلخ حقیقت یہی ہے کہ  زبانی دعووں اور  کھوکھلی خانہ پُری کے سوا ہم نے اہل کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں دہواں دار خطاب کے بعد کیا ہوا ؟ بلاشبہ خطاب اچھا تھا اور راقم نے بھی اسے دل کھول کر سراہا تھا لیکن بعد میں جو کچھ ہوا وہ اطمینان بخش ہرگز نہیں ۔ حکمراں جماعت کے قصیدہ خوانوں نے صاحب بہادر کو عالمی راہنماوں کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ کھڑا ہونا  تو دور کی بات صاحب بہادر  لیٹنے کو بھی تیار نہیں ہو پارہے۔ کوالالمپور کانفرنس میں منہہ دکھائی کے لیے بھی حاضری کی جرات نہ ہوسکی۔ خانہ پُری کے  واسطے کوئی ڈھنگ کا وفد بھی نہ بھیج پائے۔   

بھارتی چابی پر چلتے قوم پرست

بھارتی چابی پر چلتے قوم پرست

11 days ago.

فیصلہ سازوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر بھی لڑی جارہی ہے اور ملک کے گلی کوچوں میں بھی محاذ گرم ہے۔ راولپنڈی ، کوئٹہ اور پشاور میں یکے بہ دیگرے دہشت گرد حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمنوں نے دہشت گردوں کو  سرحد پار سے تازہ کمک فراہم کردی ہے ۔ قبائلی پٹی سے ملحق افغان سرحدی علاقوں میں بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہ محفوظ پناہ گاہوں سے متحرک ہیں ۔ بھارت کی امداد اور بھارت نواز افغان اہلکاروں کی معاونت سے دہشت گرد پاکستان کی سرحدوں کو پامال کر کے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ دو برس ہونے کو آئے جب پاکستان نے اپنی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے باڑ لگانے کا آغاز کیا ۔ باڑ لگنے سے دہشت گردوں کی غیر قانونی دراندازی بند ہوگی ۔ بھارت میں بیٹھے دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ اجیت دوول اور اُس کے پالتو دہشت گرد بھیڑیوں کا باڑ لگنے سے مشتعل ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن افغان حکومت اس عمل پر اعتراض کرے تو بات سمجھ سے بالا ہو جاتی ہے۔ راتوں رات پشتونوں کے راہنما بننے کے زعم میں مبتلا جعلی قوم پرست اپنے ملک کی سرحد محفوظ کرنے کے عمل پر تنقید کریں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ 

دہشت گردی اور لسانی تعصب کا عفریت 

دہشت گردی اور لسانی تعصب کا عفریت 

15 days ago.

اوپر تلے ہونے والے دہشت گرد حملے اس بات کا اظہار ہیں کہ ہمارے دشمن پسپا تو ہوئے ہیں لیکن اپنے برے ارادوں سے باز نہیں آئے۔ پہلے راولپنڈی میں شاہراہ عام پر دو پولیس اہلکار شہید ہوئے اور جوابی کارروائی میں مبینہ دہشت گرد بھی ہلاک ہوا۔ جمعے کے روز نماز مغرب کے وقت کوئٹہ شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں تقریباً سولہ شہریوں کی شہادت کوئی معمولی سانحہ نہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا۔ تیزی سے ابھرتی دہشت گردی کی تازہ لہر  کا بھرپور سدباب کیا جانا چاہیے۔ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ راولپنڈی سے کوئٹہ تک دہشت گردوں کی زد میں ہے۔ چندماہ قبل کراچی میں چینی سفارتخانے پر اور گوادر میں پنج ستارہ ہوٹل پر حملے ہوئے تو یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت ہوئی تھی کہ نئی دلی میں بیٹھے فتنہ ساز پاکستان میں براستہ افغانستان دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی پٹی میں بھی تسلسل سے فوجی و نیم فوجی اہداف کو بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ دشمن  پاکستان کے وجود پر دہشت گردی کے خنجر سے گھائو لگا کر نڈھال کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔

ریاستی  اداروں  میں  سیاسی  دیمک 

ریاستی  اداروں  میں  سیاسی  دیمک 

19 days ago.

 اداروں کی فعالیت ہی درحقیقت حکومتی کارکردگی کا مظہر ہوتی ہے۔ سرکاری اداروں کی رگوں میں پھیلے نالائقی کے زہر نے ملکی نظام کو بستر مرگ پر ڈال دیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ سرکاری اداروں میں عوام کا کوئی کام جائز طریقے سے نہیں ہوپاتا؟ غریب عوام سرکاری دفاتر میں جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں ۔ اس عمومی غفلت کی بنیادی وجہ سرکاری محکموں میں پوچھ گچھ کے نظام کا نہ ہونا ہے۔ افسر اپنے ماتحت سے کچھ نہیں پوچھتا ! جونئیر افسر سے بالا حکام کچھ نہیں پوچھتے! پوچھیں بھی تو آخر کیسے؟ منہہ نہیں پڑتا پوچھنے کو ! اگر دفتر میں اوپر سے نیچے تک سارا عملہ کرپشن کی کمائی میں حصہ دار ہو تو پھر اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ سے کوئی کیسے باز پرس کر سکتا ہے؟ اگر خود صاحب بہادر ہی دفتر میں بادلِ نخواستہ بارہ بجے تشریف لائیں اور آتے ہی پراسرار میٹنگ کا بہانہ بنا کر ذاتی مشاغل میں مصروف رہیں تو ماتحت عملے کو من مانی سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ سرکاری اداروں میں نا اہلی اور نکمے پن جیسے اہم مسئلے کا دوسرا پہلو سیاسی مداخلت ہے جو کہ ملکی نظام کے لیے کہیں بے حد نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ 

کشیدگی کی طاقتور لہریں 

کشیدگی کی طاقتور لہریں 

22 days ago.

 خطے میں حسبِ معمول غیر یقینی کے بادل چھائے ہیں۔ پاکستان کے اطراف میں واقع ممالک میں کشیدگی کی طاقتور لہریں اٹھ رہی ہیں ۔ بھارت میں ہندوتوا کے عفریت کا بھیانک رقص جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے ہندستان سے مسلمانوں کا وجود مٹانے کا جنون آر ایس ایس کی قیادت کے سر پر بری طرح سوار ہے۔ شہریت کے حوالے سے انتہائی متعصبانہ مسلم دشمن قانون سازی کے عمل نے بھارتی ریاست کے مکروہ چہرے سے سیکولرازم کا نقاب نوچ ڈالا ہے۔ دنیا یہ جان کر حیرت کا شکار ہے کہ عدم تشدد اور جمہوریت کی مالا جپنے والے بھارت  کے قلب  میں کتنا شدید مذہبی تعصب بھرا ہوا ہے۔ پرامن مظاہرین پر ریاستی تشدد کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء پر تشدد کو تمام دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دنیا بھر کی انیس معروف جامعات کے طلباء نے متعصبانہ قانون سازی کے خلاف احتجاج کیا ۔ سب سے بڑی بھارتی ریاست اترپردیش کے انتہا پسند وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیا ناتھ کی مسلم دشمنی کبھی بھی ڈھکی چھپی نہیںرہی۔ یوگی نے اتر پردیش کی پولیس کو مسلم مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس ہی مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو ز سامنے آرہی ہیں جن میں  پولیس اہلکار مسلمانوں کی املاک کو دن دہاڑے نقصان پہنچا تے دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں پر اعلانیہ تشدد کا سلسلہ اب مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے بھارت میں پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان حالات میں ایک خاص فکر کا حامل طبقہ پاکستانی میڈیا پر بھارتی سیکولرازم کی یاد میں ماتم کرتا دکھائی دے رہا ہے۔   

  یہ آئین  کے عاشق! 

  یہ آئین  کے عاشق! 

a month ago.

پیالی میں طوفان اٹھانے کی عادت ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی! ہر چینل کی مچان پر کئی کئی  دانشور افواہوں کی بندوق تھامے ہوائی فائرنگ میں مصروف ہیں۔ محبوب مشغلے دو ہی ہیں!  افواہوں کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرنا اور پاک فوج کے متعلق ڈھکے چھپے الفاظ میں طنز کے تیر  برسانا ۔  اب کیا ہونے والا ہے؟ فوجی قیادت اب کیا سوچ رہی ہے؟ کوئی بڑا فیصلہ سامنے آنے والا ہے؟ حکومت چند ہفتوں کی مہمان ہے؟ کیا حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں؟  یہ طے ہے کہ ہمارے بڑ بولے اینکر جن صلاحیتوں کے حامل ہیں وہ بڑے بڑے عالمی شہرت یافتہ دانشوروں کے پاس بھی نہیں ۔ نوم چومسکی ، جارج فرائیڈ مین اور ہنری کسینجر ہمارے آل رائونڈر اینکرز کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں ۔ چند گھنٹوں پہلے افواہوں کے تنور پر آرمی چیف کی توسیع کے نان سینکے جا رہے تھے اب سزائے موت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر آئین کی حرمت کے کلچے لگائے جا رہے ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ آچکا ہے۔ اپیل کا حق استعمال کیا جا سکتا ہے۔   

    ہندوتوا  کا  اژدہا  

    ہندوتوا  کا  اژدہا  

a month ago.

  نتھو رام گوڈسے نے بھارت کے باپو گاندھی جی کو ۱کہتر برس پہلے قتل کیا تھا ! البتہ نتھو رام گوڈسے کو ہیرو ماننے والی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور اُس کی بغل بچہ سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو گاندھی جی کے منافقانہ سیاسی نظریات کو ہندوتوا کے مہلک ہتھیار سے مارنے میں سات عشرے بیت گئے۔ دکھاوے کا سیکولرازم اور مسلم دشمنی کے زہر میں بجھا اہنسا کا نظریہ بالآخر بھارتی پارلیمان میں آخری ہچکی لے چکا ہے ۔  این آر سی اور سی اے بی جیسے قوانین کی  منظوری کی  صورت  مودی سرکار نے  گاندھی جی کے سیاسی نظریات کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے ارتھی تیار کر دی ۔ اب اس نظریاتی چتا کو بھارت کے کونے کونے میں  احتجاج کرنے والے  آگ لگا رہے ہیں۔  جب امیت شا جیسے سکہ بند مسلم دشمن نیتا کو  وزیر داخلہ بنایا گیا تب ہی یہ خدشات سر اٹھانے لگے تھے کہ اب بی جے پی  اپنے مسلم دشمن ایجنڈے پر زیادہ شدت اور سرعت سے عمل پیرا ہوگی۔ بابری مسجد کا انتہائی متنازعہ فیصلہ اس امر کی ناقابل تردید مثال ہے کہ متشدد  ہندوتوا نظرئیے کی دیمک  صرف نئی دلی کے ایوان اقتدارمیں ہی محدود نہیں رہی بلکہ عدلیہ کے ستونوں تک بھی پھیل چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا خصوصی ریاستی تشخص کچلنے کے بعد کرفیو ، تشدد اور مواصلاتی رابطوں کی بندش جیسے بنیادی انسانی حقوق کی اندھا دھند پامالی کا اقدام اٹھا کر مودی سرکار  نے اپنے ووٹرز کو یہ تاثر دیا کہ بی جے پی اپنے مسلم دشمن ایجنڈے کو بھولی نہیں ہے۔ 

  دسمبر کے زخم اور دو قومی نظریہ 

  دسمبر کے زخم اور دو قومی نظریہ 

a month ago.

  قوم کے دل پر سولہ دسمبر کو لگے دو زخموں کے نشان کبھی نہیں مٹیں گے! سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو بھلا کر قوم اپنی بقا کا بندوبست نہیں کرسکتی!  سانحہ پشاور تو معصوم شہداء کی اجتماعی قربانی کی بدولت ایک علامت بن گیا وگرنہ لسانی عصبیت ، فرقہ وارانہ تشدد اور جعلی علیحدگی پسندی کی آڑ میں  دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم پاکستانیوں کے بہنے والے خون کا ہر قطرہ یہ تقاضہ کرتا ہے کہ فیصلہ ساز اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ سبق سیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ حقیقت نہیں جھٹلائی جاسکتی کہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں دراندازی کی ۔ سرحد پار دہشت گردی کے لیے مکتی باہنی کو منظم کیا ! لسانی عصبیت کو ہتھیار بنا کر پاکستان کے وجود پر کاری وار کیا ۔ یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہماری اجتماعی بد اعمالیوں نے بھارت کو وہ سنہرے مواقع فراہم کئے جن کو استعمال کر کے ازلی دشمن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو ذلت آمیز شکست کی صورت ہم پر مسلط کیا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شیخ مجیب جیسے ابن الوقت سیاستدان نے مسائل اور کمزوریوں کو حل کرنے کے بجائے اپنی زہریلی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیے استعمال کیا ۔

  خراب  حالات  میں  ایک  اچھا  فیصلہ !  

  خراب  حالات  میں  ایک  اچھا  فیصلہ !  

a month ago.

 مانا کہ حکومت کی کارکردگی متاثرکُن نہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ کوئی اچھا کام ہو ہی نہیں رہا ! ڈیجیٹل پاکستان منصوبہ ایک نہایت ہی اچھا فیصلہ ہے۔ اچھے اقدام کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہے۔ بالکل اسی طرح حکومت کی بعض کو تاہیوں کو بنیاد بنا کر ماضی کے حکمرانوں کو معصوم یا لائق فائق سمجھ لینا بھی کوئی عقل مندی نہیں! پارلیمان میں سیالکوٹ کی نمائندگی کرنے والے نون لیگ کے ایک سابق وزیر صاحب نے جس شعلہ بیانی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے بجائے جماعتی قیادت کے دکھ درد کم کرنا ہی اصل نصب العین ہے! یہی حال سندھ پر حکمرانی کرنے والی جماعت کا ہے! بیمار کا علاج ہونا چاہیے خواہ وہ ملزم ہو یا مجرم یا عام شہری۔ مہذب معاشرے میں یہ مسائل پارلیمانی مباحث کا موضوع نہیں بنتے! شنید ہے کہ لگ بھگ چار سو لاکھ روپے ایک پارلیمانی اجلاس کے انعقاد پر خرچ ہوتے ہیں۔ یومیہ بھتہ اور سفری اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔ کمی بیشی بر گردن راوی ! کیا یہ مہنگے اجلاس اس لیے منعقد ہوتے ہیں کہ نون لیگ اور پی پی پی کے شعلہ بیاں اراکین اپنے بیمار قائدین کے علاج معالجے کے تذکرے چھیڑیں! اور پی ٹی آئی کے وزراء حزب اختلاف کے قائدین کو چور ڈاکو قرار دے کر اُن کی پگڑیاں اچھالیں! چند روز قبل دہشت گردوں نے وزیرستان میں حملہ کر کے قوم کے محافظ شہید کر دئیے۔ بھارت ایل او سی پر جارحیت کرتے ہوئے آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ہمارے معزز اراکین پارلیمان میں ضمانت پر بیرونِ ملک زیر علاج اپنے قائد محترم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کو حملہ قرار دے کر جوابی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

 گردن پہ دھری چھری

 گردن پہ دھری چھری

2 months ago.

 دعویٰ ہے کہ معیشت استحکام کی راہ پر چل نکلی ہے۔ بہت اچھی بات ہے ! بحث کیا کرنی ؟ ایک بین الاقوامی شہرت کا حامل ادارہ ملک کی معاشی حالت کو بہتر قرار دے رہا ہے تو ہم بھی خوش ہیں۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے ڈھڈ نہ پیاں روٹیاں تے سری گلاں کھوٹیاں ( پیٹ میں روٹی نہ جائے تو سب باتیں جھوٹی ہیں)۔ محنت کش رمضانی ، عبدل اور خیرو کو اگر  تین سو روپے کلو سبزی اور ڈھائی سو روپے کلو دال خریدنی پڑے تو معاشی استحکام کے دعوے جھوٹ ہی قرار پائیں گے۔  کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں جب تک کم نہیں ہوں گی اُس وقت تک معاشی استحکام کا دعویٰ عام آدمی کو سمجھ نہیں آسکتا۔ ایسے حالات  میں کوئی بھی سیاسی مداری احتجاج کی ڈگڈگی بجا کر  ملک میں انتشار پھیلا سکتا ہے۔  معاشی معاملات کو سادہ سمجھ کر ہلکا مت لیں ۔ یہ محض چند افراد کی کرپشن اور سرکاری اداروں کی بد انتظامی کا شاخسانہ نہیں۔ ہماری معاشی بدحالی ایک منظم عمل کا نتیجہ ہے۔ ریاست کی سلامتی دائو پہ لگی ہے۔ خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان چومکھی جنگ چھڑی ہے۔ یہ قوتیں اپنے مفادات کے لیے مخالفین کا خون بہانے اور نسل کشی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔