ثالثی کے پس پردہ عزائم 

 ثالثی کے پس پردہ عزائم 

4 days ago.

  ہمارے وزیراعظم ایران کے دورے پر گئے اور یہ خبر درست ثابت ہوئی کہ پاکستان ثالثی کے لیے متحرک ہے۔ اس امر میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ایران سعودیہ کشیدگی خطے میں وسیع تر بربادی کا باعث بنے گی ۔ بلا شبہ پاکستان بھی اس ممکنہ بربادی سے بری طرح متاثر ہوگا ۔ موجودہ حالات میں ایران جیسے پڑوسی کا سعودی عرب جیسے اہم دوست ملک کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا پاکستان کو علاقائی سطح پر سفارتی اور تذویراتی پیچیدگیوں میں مبتلا کرے گا ۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ پاکستان ثالثی نہیں بلکہ سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ثالثی نما سہولت کاری کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں ، پاکستان کے متعلق مثبت تاثر نمایاں ہوا ہے۔ خطے میں امن کی بحالی کے لیے دو اہم محاذوں پر پاکستان متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ طالبان، امریکہ مذاکرات میں پاکستان یہی کوشش کر رہا ہے کہ معاملات پر امن ذرائع سے حل ہوں ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے اسباب پیچیدہ بھی ہیں اور قدیم بھی۔ بعض سادہ لوح احباب اس کشیدگی کو صرف مسلکی تناظر میں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ اس روایتی کشیدگی کے پیچھے عرب اور فارس کا قدیم تہذیبی تفاخر بھی کارفرما رہا ہے ۔ عہدِ حاضر میں اس کشیدگی کو بھڑکانے میں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

12 days ago.

 یارِ خاص تبریز میاں اسلام آباد میں مذہبی سیاسی جماعت کی جانب سے اعلان کردہ ممکنہ دھرنے میں بے حد دلچسپی لے رہے ہیں۔ اُن کی شدید خواہش ہے کہ راقم دھرنے کے متعلق کھل کر رائے کا اظہار کرے ۔  ممکنہ دھرنے کا تجزیہ ہمارے لیے فی الحال ممکن نہیں ۔ اگر کھل کر تجزیہ کیا تو دھرنے کے حامی اور مخالف حلقے ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے بھی پڑ سکتے ہیں‘ چنانچہ تبریز میاں کو ہم نے یہی مشورہ دیا کہ وہ دھرنے کا اعلان کرنے والی جماعت کے قائدین کے گرما گرم بیانات سے اصل عزائم جاننے کی کوشش کریں ۔ دوسری جانب دھرنے کی مخالفت کرنے والے سرکاری و نیم سرکاری ترجمانوں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے آل رائونڈر اینکرپرسنز کے دماغ کا دہی کر دینے والے تجزیوں سے بھی استفادہ فرما ئیں لیکن وہ تبریز میاں ہی کیا جو آسانی سے ٹل جائیں؟ یار خاص کا اصرار ہے کہ دھرنے کے بارے چونکا دینے والی پیش گوئیاں کئے بنا ہماری جان چھوٹنا مشکل ہے ۔   

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

16 days ago.

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27اگست کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ہر لحاظ سے قومی وقار اور افکار کی جھلک لئے ہوئی تھی اس تقریر میں جذبات سے زیادہ دلائل اور منطق پر مبنی باتیں کی گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت اور بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں اور ظلم کو بے نقاب کر کے انہوں نے کشمیریوں کے دل جیت لئے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو یہ پختہ احساس ہوا کہ وہ ظلم اور مصیبت کی اس المناک گھڑی میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستانی عوام اور حکومت ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ 30سالوں سے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کئے جانے والی بربریت اور تشدد کو عالمی سطح پر بے نقاب کر کے عمران خان نے جنرل اسمبلی میں موجود عالمی رہنمائوں کو یہ باور کرایا ہے کہ بھارتی حکومت اس خطے کی ایک بڑی دہشت گرد حکومت ہے جو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم حرکتیں کر رہا ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر ایک جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔  

 پاکستان پر رحم فرمائیں

 پاکستان پر رحم فرمائیں

18 days ago.

 گزشتہ دنوں ہم پاکستانیوں کی توجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس پر مرکوز رہی ۔ مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورتحال یہی تقاضا کرتی تھی کہ پاکستانی قیادت اور سفارتی ذرائع پوری قوت سے عالمی برادری کا خمار زدہ ضمیر جھنجھوڑیں ۔ یہ مرحلہ بخیر و خوبی طے ہوا۔ وزیر اعظم کی تقریر نے بھارت کی ریاستی شدت پسندی کو بھر پور انداز میںبے نقاب کر ڈالا ہے۔ گو کہ تقریر کا مرکزی نکتہ کشمیر ہی تھا لیکن اسلامو فوبیا اور منی لانڈرنگ جیسے اہم مسائل کے حوالے سے بھی  اس تقریر کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی ۔ عین ممکن ہے کہ اس خطاب کی بنیاد پر غرب اور اسلامی دنیا میں سنجیدہ فکری مکالمے کا آغاز ہو ‘ تاہم اس بھاری پتھر کو اٹھانے کے لیے رجال کار کو آگے آنا ہو گا ۔  اپنے مداحین کے حلقوں میں خطابت کے جوہر دکھانے والے شعلہ بیاں مقررین کی کمی نہیں البتہ مخالفین سے سنجیدہ علمی مکالمہ کر نے والے دانشوروں کا قحط ہے۔   

 بھارت کی سلگائی ہوئی آگ 

 بھارت کی سلگائی ہوئی آگ 

24 days ago.

 ماضی کے بر خلاف پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر سفارتی چابکدستی اختیار کر رکھی ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد ہمارے سفارتی حلقوں کا خمار ٹوٹا اور غیر معمولی دوڑ دھوپ شروع کر دی گئی ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ  زنگ آلود سفارتی مشینری یہ کام با دِل نخواستہ کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے لی جانے والی ذاتی دلچسپی کی بدولت بھی دفتر خارجہ معمول سے زیادہ کارکردگی دکھانے میں جُتا ہوا ہے۔ بلاشبہ پچاس برس بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ گو کہ اس معاملے پر ہمارے وزیر خارجہ عادت سے مجبور ہو کر ضرورت سے زیادہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی لیکن سنجیدہ مزاج حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے اُٹھائے گئے مہلک آئینی اقدام اور بدترین کرفیو کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑائی ۔ اس کے علاوہ اسی سال پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے ناکام سرجیکل سٹرائیک اور پاکستان کی جانب سے دو بھارتی طیارے گرائے جانے کے سخت جوابی اقدام سے پیدا ہونے والی کشیدگی کی فضا بھی تاحال ختم نہیں ہوسکی۔ 

 خبر کی لسی!

 خبر کی لسی!

25 days ago.

 میڈیا پر ایک اہم سیاسی شخصیت کی گرفتاری کا خوب چرچا رہا ۔ اہم سیاسی شخصیت تو یوں ہی روا نی میں لکھ دیا ۔ اہم کے بجائے معروف لکھنا زیادہ مناسب ہے۔ عین ممکن ہے گرفتار ہونے والے موصوف اپنی جماعت کے لیے اہم ہوں لیکن قومی سطح پر ہمیں جناب کی کوئی خاص اہمیت کبھی بھی دکھائی نہیں دی۔ پیپلز پارٹی کے جیالے کی حیثیت سے  گرما گرم بیانات داغنے کی شہرت کے حامل  شاہ صاحب آج کل نیب کے قیدی ہیں ۔ ویسے نیب کے مہمان کہہ دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا ۔ گرفتار ہونے والی شخصیات سے تفتیش کا آغاز بعد میں ہوتا ہے پہلے اُن کے قیام و طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کہاں ٹھہریں گے ؟ کیا کھائیں گے ؟ کہاں کا کھائیں گے؟ یعنی کھانا گھر کا ہوگا یا نیب کا ؟ علاج و طبیب کا انتظام بھی نیب کے ذمے ہے۔ گرفتاری کے بعد  باخبر میڈیا قیدی کی صحت کے متعلق پل پل کی خبر نشر کرتا رہتا ہے۔ کسی کام سے گھر سے باہر جانا ہوا ۔ واپس لوٹے تو شاہ صاحب کی گرفتاری ہو چکی تھی۔ ان کے حامی اس گرفتاری کے نتیجے میں  جمہوریت کو لاحق ہونے والے نت نئے خطرات کی پیش گوئیاں فرما رہے تھے۔ اکثر چینلز پر تازہ تازہ گرفتار ہونے والے شاہ صاحب کا بلڈ پریشر ، شوگر لیول اور دل کی دھڑکن کی رفتار کے متعلق اطلاع بار بار نشر کی جارہی تھی ۔ 

  بے روح تقریر نہیں چاہیے!

  بے روح تقریر نہیں چاہیے!

a month ago.

اس ماہ اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ حسب معمول دفتر خارجہ کی جانب سے اس اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری میں اجاگر کرنے کے لیے دوڑ دھوپ جاری ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں جاری بدترین بھارتی مظالم کی بدولت غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کی جانب سے بد ترین  جارحیت اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک اہم موقع دستیاب ہو رہا ہے ۔ اس موقعے کو گنوانا نہیں چاہیے۔ حکمت و تدبر بروئے کار لایا جائے۔ ماضی کی طرح محض لفاظی پر مبنی بے روح تقریروں  کی ضرورت نہیں ۔ ہماری شعلہ بیانی اور لایعنی دعوے کشمیری عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے ۔ گو کہ وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں خطاب فرمائیں گے لیکن جو کو تاہیاں ماضی میں ہوتی رہیں ان سے گریز لازم ہے۔ بہتر ہوگا وزیر اعظم اپنی تقریر کی تیاری کے لیے سفارتی امور کے اُن ماہرین سے مشاورت فرمائیں جو نظریاتی اعتبار سے پاکستانیت پر کامل یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی عیاریوں کا ادراک بھی رکھتے ہیں ۔  

  امن  مذاکرات  اور  پاکستان  کا  استحکام 

  امن  مذاکرات  اور  پاکستان  کا  استحکام 

a month ago.

افغانستان کے مستقبل کے متعلق پیش گوئی کرنا کوئی آسان کام نہیں ! امریکہ بہادر اور افغان طالبان کے درمیان دھوم دھام سے ہونے والے مذاکرات سے امن کے بجائے مزید بے یقینی اور ابہام پیدا ہوچکا ہے۔ صدر امریکہ نے مذاکرات روکنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ کوئی بعید نہیں کہ مستقبل قر یب میں یہ حکم واپس لیتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ بحال کر دیا جائے۔ یہ کون نہیں جانتا کہ افغانستان کی بد ا منی سے افغانیوں کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اُٹھایا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغا نستا ن میں امن بحال نہ ہوا تو پاکستان کے مسائل بھی ختم نہ ہو پائیں گے۔ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی در اندازیاں اور ریاست دشمن سرگرمیاں پاکستان کے لیے مستقل درد سر بنی رہی ہیں ۔ دشوار گذار پہاڑی علاقوں اور کھلی سرحد جیسی کمز و ر یوں کو بھارت جیسے سازشی دشمن نے بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے راستے پاکستان کے ریاستی وجود پر کاری وار کئے ۔ شیطان کی آنت کی طرح پھیلے دہشت گردی کے جال کو تار تار کرنے کے لیے پاکستان کے تمام ریاستی اداروں نے بے مثال عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔  

 نظام کی لاش 

 نظام کی لاش 

a month ago.

 خدا دشمن کو بھی تھانے ، کچہری اور ہسپتال سے دور رکھے! یہ جملہ بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں  البتہ اس کا مفہوم اب زیادہ قوت سے آشکار ہو رہا ہے۔ ظالم سے بچنے کے لیے پولیس کی پناہ طلب کرنے تھانے جانے کی ہمت کون کرے گا ؟  ملک بھر میں پولیس امان نہیں ظلم کی علامت بن چکی ہے اور بلاشبہ پنجاب پولیس سفاکیت میں دیگر صوبوں پر برتری لیے ہوئے ہے۔ ساہیوال میں معصوم بچوں کے سامنے ماں باپ اور بہن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ! ماڈل ٹائون لاہور میں سڑک سے بیرئیر اٹھاتے اٹھاتے چودہ بے گناہوں کو گولیوں سے بھون ڈالا ! سو سے زیادہ گھائل ہوئے ! اُن میں سے کتنے عمر بھر کے لیے معذور ہوئے یہ کسی کو پتا نہیں ! تازہ خبر اے ٹی ایم مشین توڑ تے ہوئے منہ چڑانے والے صلاح الدین نامی شخص کی پولیس حراست میں ہلاکت کی ہے۔ یہ خبر سوشل میڈیا کی مہربانی سے پھیلتی چلی گئی کیونکہ انسانی جان کی حرمت سے زیادہ اس خبر کا مرچ مصالحہ  سوشل میڈیائی بقراطوں کو مرغوب ہے۔ درج بالا تین واقعات پنجاب پولیس کی دیگ کے چند دانے ہیں ۔ میڈیا کی بدولت یہ واقعات تو چھپ نہ سکے لیکن پولیس کے ان گنت بھیانک  مظالم پر عموماً پردہ پڑا رہتا ہے۔ کچہری  میں  انصاف کی  فراہمی کا حال یہ ہے کہ آج مقدمہ چلے تو فیصلہ ہونے تک مدعی قبر کا مکین ہوچکا ہوتا ہے ۔ سماعت کی تاریخ مقرر ہونے سے لے کر  پیشی کے مرحلے تک ہر چھوٹے بڑے کام کا نرخ مقرر ہے۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کا قانون انصاف کی غلام گردشوں میں رائج ہے۔   

 جنگ کا آپشن؟

 جنگ کا آپشن؟

a month ago.

 راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے بطن سے جنم لینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے دنیا کو  مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کے عملی معنی سمجھا دئیے ہیں۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مسلمان ہونا کشمیریوں کا ایسا جرم ہے کہ عالمی برادری بھارتی مظالم  کے متعلق سب جانتے بوجھتے چپ سادھے بیٹھی ہے۔ یہ جرم صرف کشمیریوں کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا بھی ہے۔ پاکستان کا قیام بھی اسی لیے بھارت کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست  ہے کہ یہ ملک مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم ہوا۔ بھارت ٹوٹا اور پاکستان وجود میں آیا۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد پنجہ ہنود سے نکل گئی۔ ہندو شدت پسندوں کے دلوں میں قیام پاکستان کا  صدمہ اور غصہ ہر گذرتے دن کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف زہریلی نفرت کا روپ دھارتا چلا گیا۔بھارت میں مقیم مسلمان اس نفرت کی بھٹی میں مسلسل سلگ رہے ہیں ۔ اسی نفرت کی بدولت پاکستان کو دو لخت کر کے بنگلہ دیش بنانے میں بھارت پیش پیش تھا۔بھارت میں مقیم مسلمان تو گھڑے کی مچھلی جیسے ہو گئے۔جب چاہا جیسے چاہا جہاں چاہا گاجر مولی کی طرح کا ٹ ڈالا۔کشمیر مسلم اکثریت کا حامل وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں تہتر برس سے شدت پسند ہندو ذہنیت قیام پاکستان کی صورت بھارت کے ٹوٹنے کا انتقام مظلوم کشمیریوں سے لے رہی ہے۔    

  یہ بے نقاب ہوتے چہرے! 

  یہ بے نقاب ہوتے چہرے! 

2 months ago.

  مودی سرکار نے کشمیر کا ریاستی تشخص بد لنے کے لیے جو تازہ آئینی واردات کی اُس پر مختلف رائے کے حامل طبقات کی جانب سے بہت کچھ سامنے آرہا ہے۔ راقم نے بھی گذشتہ تین برسوں میں تواتر سے بھارتی عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے کئی کالم لکھے ۔ اس بحرانی کیفیت میں ابھرنے والے تلخ حقائق اور اہم باتوں پر توجہ نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ آئیے ان متفرق معاملات پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ پہلا تاثر محکمہ خارجہ کی نا اہلی اور پیشہ ورانہ غفلت کا ہے۔ قومی میڈیا میں مودی سرکار کے عزائم کا تذکرہ لگ بھگ پانچ برسوں سے جاری ہے البتہ سفارتی محاذ پر محکمہ خارجہ کی جانب سے ابتدائی مراحل میں سامنے آنے والا ردعمل ایسا کیوں تھا جیسے کوئی غیر متوقع واقعہ رونما ہوا ہو؟ اس ایک سوال کے جواب میں ہماری سفارتی نا اہلی کی پوری داستان پنہاں ہے۔ چار برس قبل مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد الیکشن ڈرامہ رچایا گیا تو بی جے پی نے ریاستی اسمبلی میں اکثریتی جماعت بننے کے لیے مشن 44 کے نام سے چوالیس یا اُس سے زائد نشستیں جیتنے کا منصو بہ بنایا ۔ مقصد یہی تھا کہ کشمیر میں حکومت بنا کے آرٹیکل 370 اور 35A سے جان چھڑانے کے لیے کٹھ پتلی اسمبلی سے منظوری لے کر ریاست کا خصوصی تشخص ختم کر نے کے بعد رفتہ رفتہ مسلم آبادی کا تناسب گھٹانے کے لیے جموں میں ہندو آباد کاری کا آغاز کیا جائے ۔ یہ منصوبہ ناکام ہوا ۔ بی جے پی لگ بھگ بائیس نشستیں جیت پائی ۔ مفتی سعید مرحوم کی پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد بنا کے بی جے پی نے حکومت بنائی ۔ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے دور حکومت میں برہان وانی کی المناک شہادت سے تحریک ِ حریت کشمیر میں ایک طاقتور لہر اُٹھی ۔ جہاد حریت کا نعرہ لگا جسے سُن کربھارتی ریاست کی ٹانگیں لرزتی ہیں اور لبرل دانشوروں کے دل کانپ اُٹھتے ہیں۔