کشمیر میں بپا ہونے والا معرکہ 

  کشمیر میں بپا ہونے والا معرکہ 

10 days ago.

 کشمیر کی خودمختاری پر ہندوتوا بریگیڈ کے تازہ وار سے جڑے ایک اہم نظریاتی پہلو کا تذکرہ نہ کیا گیا تو بڑی زیادتی ہوگی۔ کسی بھی قومی قائد یا راہنما میں دو وصف لازم ہیں ! ایک اپنے پیروکاروں کی تربیت اور دوسرا مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت۔ اقبال اور جناح کو یہ دونوں اوصاف عطا ہوئے۔  اقبال اور جناح نے مستقبل کی درست نشاندہی کی تھی کہ برطانوی راج کے بعد ہندوستان میں جمہوریت کی آڑ میں ایسا سفاک ہندو راج نافذ ہوگا جس میں کسی اقلیت کا وجود محفوظ نہ رہ پائے گا ۔ مسلمان اس ہندو راج کا خصوصی نشانہ بنیں گے۔ قائد اعظم نے بر وقت شیخ عبداﷲ کو کانگریس کے بچھائے جال سے خبردار کیا لیکن شیخ محترم تاریخ کی غلط سمت جا کھڑے ہوئے۔ جس بھارت کی محبت میں شیخ عبداﷲ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے مخلصانہ مشوروں کو رد کرتے ہوئے کانگریس کی گود میں پناہ لی آج اُسی بھارت سرکارنے شیخ عبداﷲ کے سیاسی وارثوں کو بھی قید میں ڈالاہوا ہے ۔ بھارت نواز سابق کٹھ پتلی فاروق عبداﷲ نظر بندی کی حالت میں دہائی دے رہا ہے کہ یہ وہ بھارت تو نہیں جسے میں جانتا تھا ؟ میرا بھارت تو جمہوری تھا ! عمر عبداﷲ بھارت سرکار کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ کٹھ پتلی بنت کٹھ پتلی مفتی سعید مرحوم کی دختر نیک اختر اپنے آقائوں کی قید میں جانے سے پہلے غضب کا بیان دے گئیں کہ دو قومی نظریہ ٹھیک تھا ۔ ہمارے بز ر گو ں نے بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے کر تاریخی غلطی کی ۔ ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ! تحریک حریت کشمیر کی لہو میں بھیگی تاریخ میں دو قومی نظریئے پر آنے والی تازہ گواہی جلی حروف سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے درج ہوئی ۔  

ضمیر فروشی جیسی گالی سن کر بھی چودہ سینیٹرز خاموش!

ضمیر فروشی جیسی گالی سن کر بھی چودہ سینیٹرز خاموش!

15 days ago.

بعض احباب سر تھامے بیٹھے ہیں ۔ سینیٹ چیئر مین کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف عددی اکثریت کے باوجود کیوں ناکام قرار پائی ۔ حزب اقتدار نے اپنے ہیٹ سے جیت کا خرگوش کیسے برآمد کر لیا ؟ حزب اقتدار کی فتح غیرمتوقع سہی لیکن خارج از امکان نہیں تھی۔ سیکرٹ بیلٹ یا خفیہ رائے دہی کا اہتمام ہے ہی اس لیے کہ اراکین جماعتی دبائو کے بغیر  اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کر پائیں!  غور کیا جائے تو ایوان بالا میں ثابت ہوا ہے کہ اراکین اپنی جماعتوں کی پالیسی سے کھلم کھلا  اختلاف کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں ۔ تحریک عدم اعتماد کی تائید میں چونسٹھ اراکین کھڑے ہوئے ‘ البتہ خفیہ رائے دہی کے دوران تحریک کے حق میں پچاس ووٹ آئے۔ صاف ظاہر ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی صفوں میں چودہ سینیٹرز ایسے ہیں جو اپنی جماعت کے موقف سے متفق نہ ہونے کے باوجود کھل کر اظہار نہیں کر پائے ۔ ار ا کین کی اخلاقی  جرات پر سوال اُٹھا یا جا سکتا ہے لیکن اس پہلے حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی محرک جماعتوں کو بھی چند  اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالنی چاہیے ۔  

 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

a month ago.

    کیا ہونے جا رہا ہے ؟ یہ سوال اکثر احباب پوچھتے ہیں ! بھارت سے تعلقات کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے یہ کسی گھن چکر سے کم نہیں ۔ دو خبریں شائع ہوئی ہیں ۔ دونوں مختلف رنگ اور تاثر قائم کر رہی ہیں۔ پہلی خبر مثبت ہے کہ کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات کامیابی سے  منعقد ہوئے۔ لگتا ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہو گی اور امن کی فضا بنے گی ۔ کہاں الیکشن سے پہلے بھارتی حکومت پر جنگ کا جنون طاری تھا ۔ لگتا تھا کہ پردھان منتری مودی کا جنگجو جتھہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ پلوامہ حملے سے بالا کوٹ سرجیکل سٹر ا ئیک  اور دو طیاروں کی تباہی تک کی کہانی دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ جنگ کے میدان میں منہ توڑ جواب وصول فرما کر مودی سرکار کی طبیعت تو صاف ہوئی لیکن نیت کا کھوٹ اور بڑھ گیا ۔ زبانی کلامی جنگ سے وہ باز نہیں آئے ۔ ہر جلسے ، ریلی اور انٹرویو میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی۔ عوام کے ذہنوں میں پاکستان کا ہوا کھڑا کر کے شریمان مودی کو بھارت کا  بہادر جنگجو بنا کے پیش کیا گیا ۔   

  علاقائی  رسہ کشی  اور پاکستان  کے مفادات  

  علاقائی  رسہ کشی  اور پاکستان  کے مفادات  

a month ago.

 کرکٹ ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر مقبوضہ کشمیر میں منایا گیا جشن یہ پیغام دے گیا کہ کشمیر نہ کبھی بھا ر ت کا حصہ تھا ، نہ ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہو پائے گا۔ چند برس قبل معروف بھارتی صحافی و دانشور آنجہانی کلدیپ نائر نے پیشگوئی کی تھی کہ کشمیر  ریت کی مانند بھارت کی مٹھی سے پھسل رہا ہے کیونکہ  غیر انسانی مظالم نے کشمیریوں کو فکری اعتبار سے بھارتی ر یا ست  سے جدا کر دیا ہے۔ کوئی محلہ یا گھر ایسا نہیں جو ریاستی اداروں کے انسانیت سوز مظالم کا شکار نہ بنا ہو۔ سات عشروں سے زائد مدت پر محیط مظالم کی بدولت آج کشمیری کھیل کے میدان میں بھارت کی شکست پر بھی مسرت محسوس کرتے ہیں ۔ نئی دلی کے راج سنگھاسن پر براجمان شدت پسند وں کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ کشمیری بھارت کے متعلق کیا سوچتے ہیں ؟ قومی انا کی تسکین کے لیے کشمیر کی زمین پر قبضہ قا ئم  رہنا چاہیے خواہ اُس کے لیے آخری کشمیری کا خون ہی کیوں نہ بہانا پڑے۔   

 بھارتی مسلمانوں کے سر پر لٹکتی تلوار 

 بھارتی مسلمانوں کے سر پر لٹکتی تلوار 

a month ago.

    گزشتہ ماہ شائع ہونے والے کالم بعنوان نفرتوں کے بیوپاری میں راقم نے اس جانب توجہ دلوائی تھی کہ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کی سیاست کا محور و مرکز مذہبی نفرت ہے۔ سیاست کی بھٹی گرم رکھنے کے لیے مذہبی نفرت کی آگ سلگائے رکھنا بی جے پی کی مجبوری بھی ہے اور دین دھرم کا مسئلہ بھی! اس بھٹی میں مسلم دشمنی کا ایندھن سب سے زیادہ کار آمد ہے۔ کسی بھی راہ چلتے مسلمان کو پکڑ کے گئو ماتا کی ہتیا (قتل) کا الزام لگا دو ۔ پندرہ بیس گئو رکشک (گائے کے محافظ) جمع کرو اور اس بد نصیب مسلمان کو سر عام اذیتیں دے دے کے جان سے مار دو۔ کرکٹ کھیلتے بچوں کے گھروں میں گھس کر عورتوں ‘ مردوں پر وحشیانہ تشدد کر دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کے خلاف چلائی گئی  شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کے پیچھے کار فرما سوچ ہندوستانی سماج سے ختم نہیں ہوئی ۔ ہندوتوا کی چھتری تلے مسلم دشمن سوچ نے گھر واپسی اور گئو رکشک تحریکوں کی صورت میں نیا جنم لیا ہے۔ گو بھارت میں دیگر مذہبی اقلیتوں یعنی سکھ ، عیسائی اور نچلی ذات قرار دئیے جانے والے دلتوں کے لیے بھی زندگی کسی عذاب سے کم نہیں لیکن مسلمان ہمیشہ سے ہندو شدت پسندوں کا مرغوب ہدف ہیں۔   

 یہ بین ڈالتی رُدالیاں! 

 یہ بین ڈالتی رُدالیاں! 

2 months ago.

  اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا استحکام کن عالمی قوتوں اور کس کس پڑوسی کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹکتا ہے۔ امریکہ بہادر اور اس کے مقامی حواری بھارت کا بس نہیں چلتا کہ آنِ واحد میں پاکستان کا وجود مٹا کے سب صوبوں میں متعصب قوم پرستوں اور اخلاق باختہ لبرل ٹوڈیوں کی بے اختیار اور بد عنوان حکومتیں قائم کروادیں ۔ پاکستان دشمن قوتوں کا دیرینہ خواب ہے کہ اس سر زمیں پر سیاسی انتشار‘ معاشی بدحالی ،  بد عنوانی ، لاقانونیت اور مذہب بیزاری کا دور دورہ ہو ۔ اپنی بد اعمالیوں کے سبب آج پاکستان بد ترین سیاسی ، معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھرا ہے ۔ معاملہ بد ا منی  کے حوالے سے بھی تشویشناک ہی تھا ۔ خیبر سے کراچی اور گلگت بلتستان سے گوادر تک غیر ملکی سرمائے پر پلنے  والے دہشت گردوں نے جب متوازی ریاست قائم کرنا چاہی تو یہ افواجِ پاکستان ہی تھیں جو دشمنوں کی  راہ میں آہنی چٹان بن کے کھڑی ہوئیں۔ دہشت گردی کے خلاف اعصاب شکن چومکھی جنگ میں آج پاکستان ایک بر تر پوزیشن پر ہے تو اُس کا سہرا عساکر پاکستان کے سر ہے۔  فوج کے عزم و استقلال نے قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو بھی اپنی کمزوریوں پر قابو پاکے میدان میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ فراہم کیا ۔   

  نفرتوں  کے بیوپاری 

  نفرتوں  کے بیوپاری 

2 months ago.

  کہا جاتا ہے کہ گھوڑا اگر گھاس سے یاری کرلے گا تو کھائے گا کیا ؟ ہوٹل یا ڈھابے کا مالک مفت کھانا بانٹنا شروع کر دے تو اپنی روزی روٹی کیسے چلائے گا ؟ طبیب کی تجویز کردہ دوا سے ہر مریض بھلا چنگا ہو جا ئے  تو پھر کفن دفن کا سامان بیچنے والے اور قبر کھودنے والے گورکن کی روزی روٹی کا بندوبست کیسے ہو پائے گا؟  ناپسندیدہ واقعات یا حادثات سے بھی بعض حلقوں کا روزگار وابستہ ہے۔ بیماری کسے پسند ہے ؟  اپنے نسخے سے مریض کی شفا کا اہتمام کرنے والا طبیب اپنے مطب میں مریضوں کی راہ تکتا ہے۔ گورکن کدال تھامے میتوں کا انتظار کرتا ہے۔ کسی ایک کی بیماری کئی لوگوں کا روزگار بن جاتی ہے! طبیب نے معائنے کا معاوضہ پایا ۔ اسی معاوضے سے کمپائونڈر یا معاون ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں گی ۔ مریض نے دوا خریدی جس کی بدولت میڈیکل سٹور ، ڈرگ ہول سیلرز اور دوا ساز کمپنیوں کے کاروبار کو سرمایہ فراہم ہوا ۔ شفایاب ہوئے تو خوش نصیبی چل بسے تو رب کی مرضی ۔ مرگ انسانی بھی کئی افراد کی دال روٹی کا اہتمام کروا تی ہے۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ کوئی طبیب اپنے ہاتھوں کسی مریض کو خود بیمار نہیں کرتا ۔ کفن فروش یا گورکن کسی ذی روح کو قتل کر کے اپنے کاروبار کو وسعت نہیں دیتے۔ دوا فروش لوگوں کے بیمار پڑنے کی دعائیں نہیں کر و ا تے ۔  تاہم ایک شعبہ حیات ایسا ہے کہ جس کا مکمل دارومدا ر انسانوں کی بربادی سے ہے! کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ! ہمارے یارِ خاص تبریز میاں کا کہنا ہے کہ سب تو نہیں لیکن اکثر اہل ِ سیاست کی کھوپڑی میں دماغ بھی نہیں ہوتا ۔ البتہ زبان کی درازی کا معاملہ مختلف ہے‘ بہت سے پیشہ ور ترجمان نما سیا ستد ا ن  اپنی زبان درازی کی کمائی کھا رہے ہیں ۔