مدبر مسلم لیگی نئی پارلیمانی مسلم لیگ بنائیں

مدبر مسلم لیگی نئی پارلیمانی مسلم لیگ بنائیں

9 days ago.

مسلم لیگ (ن) یقینا نواز شریف کی زیر قیادت سب مسلم لیگیوں کی ملکیت سیاسی جماعت ہے مگر جس طرح اپنے حقیقی بھائی شہباز شریف (صدر) اور راجہ ظفرالحق(چیئرمین) کو چھوڑ کر اپنے انتہائی جذباتی داماد کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو مولانا فضل الرحمان سے رابطے کا ’’امین‘‘ بنا دیا  ہے بھلا اس کا مطلب و مقصد صرف وزیراعظم عمران خان کو منصب سے الگ کرنا ہے؟ صرف پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہے؟ نہیں ہرگز‘ اگر ہم کیپٹن(ر) صفدر اعوان کی شخصیت کا جائزہ سنجیدگی سے لے لیں تو وہ انتہائی غیر مستحکم سیاسی اور مذہبی روئیے کا نام ہے۔ پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر وایک تحریک کی ہمنوائی کرتے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو  شدت پسندی کی طرف موڑ دینے کا عمل کرتے رہے ہیں مگر ان کا یہ سارا عمل اس وقت نمودار نہیں ہوا تھا جب وزیراعظم  نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے سبب کر رہے تھے۔ میری نظر میں میاں نواز شریف کا سارا زور اب اس بات پر ہے کہ جنرل باجوہ کو متنازعہ بنا دیا جائے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ میں نے سوچ سمجھ کر یہ بات لکھی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو سامنے لانے اور حسین نواز کو خط لکھ کر مولانا فضل الرحمان کا مددگار بننے کے نواز شریف عمل کا دو ٹوک اصل نشانہ جنرل باجوہ ہیں۔

احتجاجی مولانا اور محبوس شریف اتحاد

احتجاجی مولانا اور محبوس شریف اتحاد

21 days ago.

ایک زمانہ تھا کہ پی پی پی نہایت مختصر ہوگئی تھی۔ پی ڈی ایف اقتدار کے بعد اور اقتدار مکمل طور پر اکیلے نواز شریف کے پاس چلا آیا تھا۔ یوں اپوزیشن کا کمزور سا کردار ڈاکٹر  طاہرالقادری کی سیاست کے طلوع کا نادر موقع بن گیا تھا۔ انہوں نے پی پی پی کو قائل کیا کہ انہیں اپوزیشن اتحاد کا قائد بنا دیا جائے تو وہ اپنی مذہبی طاقت کے استعمال سے نواز شریف کو اقتدار سے نکال دیں گے۔ بے نظیر نے بے بسی سے اس مذہبی سیاست کارڈ کے استعمال کو برداشت کرلیا‘ بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ بھی قائل ہوگئے اور حامد ناصر چٹھہ بھی‘ یہ سب نواز شریف کی نفرت میں ہوا۔ یوں طاہر القادری طلوع ہوگئے۔ پھر ہوا یوں کہ  احتجاجی بندوبست تو پی پی پی کرتی مگر وہاں وزیراعظم قادری کے نعرے لگتے۔ یہ جب ناقابل برداشت ہوگیا تو بے نظیر بھٹو کو اپنے کئے پر غور کرنا پڑا۔ نوابزادہ بھی طاہرالقادری کی بشارتوں سے تنگ تھے جن میں ان کے الہامات‘ خوابوں پر مبنی مضحکہ خیز سیاست تھی۔ بالآخر طاہر القادری سے نجات کا طریقہ ایجاد ہوگیا جبکہ وہ  اپنے مذہبی روئیے اور کردار کے ذریعے نواز شریف کی دوتہائی اکثریت پر مبنی حکومت کا خاتمہ کرنے میں بھی ناکام رہے۔ حتیٰ کہ 12اکتوبر1999ء آگیا اور جو کام اپوزیشن نہ کر سکی تھی وہ کام  آسانی سے خود نواز شریف نے کر دیا۔ ملک میں اگرچہ مارشل لاء تو نہ لگا مگر مارشل لاء جیسا ماحول پیدا ہوگیا اور نواز شریف پورے خاندان سمیت مقید و محبوس ہوگئے۔  

عہد ابتلا میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے راستے

عہد ابتلا میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے راستے

23 days ago.

2012 ء میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت میسر آئی تھی کہ حرمین شریفین کی زیارت اور عمرے کی سعادت میسر آئی تھی چونکہ سفر اور عمرے کی سعادت شاہ عبد اللہ حکومت کی طرف سے تھی لہٰذا بیت اللہ میں امام حرم مکی حافظ و قاری ڈاکٹر ماہر المعیقلی سے ملاقات اور بات چیت کا نادر موقعہ ملا تھا۔ ڈاکٹر ماہر المعیقلی جامہ ام القریٰ میں پروفیسر ہیں اور فقہہ شافعی میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ میرے ساتھ کافی علماء، د انشور، ماہرین علوم موجود تھے جب انہوں نے ہمیں متوجہ کیا کہ اسلام اور مسلمانوں پر وہی عہد ابتلاء ، عہد امتحان، عہد آزمائش واپس آگیا ہے جو مکی عہد میں اسلام اور مسلمانوں کو درپیش تھا، جو کچھ مسلمانوں نے (صحابہ کرامؓ اور ہمارے نبی محترم محمدﷺ) نے عدم تشدد، مفاہمت، مخالفانہ حالات کے سامنے صبرواستقامت اور ایمان و ایقان کی مضبوطی سے حاصل کیا تھا وہی کچھ اب مسلمانوں کو کرنا ہوگا تاکہ مخالفانہ عہد سے نجات ملے۔2012 ء سے اب تک ہم مسلمان کتنا سفر طے کر آئے ہیں؟ ہر مسلمان ملک امتحان اور ابتلاء میں ہے جبکہ ذاتی طور پر ہر مسلمان ابتلاء اور امتحان میں ہے۔ یہی تقدیر الٰہی ہے۔ 

اقوام متحدہ میں  27 ستمبر کا فاتح۔ ہیرو عمران خان

اقوام متحدہ میں  27 ستمبر کا فاتح۔ ہیرو عمران خان

25 days ago.

27 ستمبر اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر وہ نادر کردار تخلیق اور طلوع کرتی زمین حقیقت ہے جو بلاول بھٹو اور شیری رحمان جیسے بونوں کے نزدیک مقدمہ کشمیر کو پیش کرنے میں ثبوت نااہلی ہے ۔ عمران خان جس کے لئے وزیراعظم کا لفظ اور منصب بہت ہی چھوٹا اور معمولی ہے یہی عمران خان27ستمبر کو اقوام متحدہ میں صرف پاکستان کا ترجمان نہ تھا،صرف کشمیری مسلمانوں کا ہی سفیر اعظم نہ تھا۔ صرف برصغیر کے مسلمانوں کا ساتھی نہ تھا بلکہ عمران خان توہین رسالت اور ناموس رسالت کا بھی محافظ اعظم اور ترجمان اعظم اور خادم اعظم بھی تو تھا۔ خدا کی قسم اس مجاہد اعظم کی اس شان جہاد پر ناموس رسالت کے نام پر منفی  سیاست کرنے والے سادہ لوحوں سے ، چندے لینے والے، سماجی و سیاسی استحصال کرنے والے لاکھوں مولوی قربان۔ مجھے محمد علی جناح  یاد آرہے ہیں۔ ایک عام سا مسلمان۔ جس نے برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور رب کریم نے اسے نئے مسلمان ملک کی تخلیق کے ناممکن کام کو ممکن بنا دینے کے عمل و سعی کے لئے وقف کر دیا۔ برصغیر کے نام نہاد کچھ مولوی اور نابغہ جو اسے سیاسی  مفادات کے سبب شدید ناپسند کرتے تھے مگر ان میں کچھ اللہ والے حقیقی مولوی اور عالم دین بھی تھے۔ مثلا ً مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر احمد عثمانی جو دیوبندی سیاست، حسین احمد مدنی کی سیاست کو دفناتے ہوئے مسٹر محمد علی جناح کے سیاسی دست و بازو بن گئے تھے۔ مثلاً پیر طریقت مولانا اشرف علی تھانوی جنہوں نے طریقت کی آنکھ سے قائداعظم کی ذات میں سمو دیئے گئے خدمت اسلام اور خدمت مسلمانان برصغیر کی عظمت اور حقیقت کو دیکھ لیا تھا۔ سلام ہو اور عقیدت نچھاور ہو ان عظیم علماء پر ان عظیم صوفیاء پر۔  اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو منور کرے۔ آمین۔ ان تمام شیعہ و سنی، اہل حدیث، بریلوی، حنفی دیوبندی علماء پربھی جو مخلص تھے، مدبر تھے ، حقیقت شناس تھے۔ اتحاد امت مسلمہ کا نام، کردار ، علامت تھے۔  

متوقع تبدیلی  اقتدار کا ممکنہ  مدوجذر

متوقع تبدیلی  اقتدار کا ممکنہ  مدوجذر

a month ago.

عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے خلاف متحرک کچھ کالم نگاروں نے بار بار ان پر ’’روحانی دست غیب‘‘ کی موجودگی کا ذکر کرکے وزیراعظم عمران خان پر ’’طنز‘‘ کیا ہے کہ ان کی سیاسی فیصلہ سازی تو ان کی زوجہ محترمہ  کی مرہون منت ہے اور اس کے سبب ہی  ہے ان کے سیاسی فیصلے ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ عرض ہے کہ نصیب‘ قسمت  یہ ایک روحانی حقیقت ہے ۔  میرا وجدانی فہم ہے کہ اگر بشریٰ بی بی عمران خان جیسے غیر مستحکم روئیے اور سخت گیر کی زوجہ نہ بنتی تو عمران خان میں استحکام آتا نہ ٹھہرائو اور نہ ہی استقامت و صبر کا سیاسی پھل ان کو ملتا۔ مرد کا صالح عورت سے نکاح کرنا‘ قسمت‘ نصیب‘ لک میں بنیادی تبدیلی لاتا ہے اور ارتقاء ملتا ہے۔ صالح سے میری مراد طباع کا ہم مزاج ہونا بھی  بہت ضروری ہے۔ جس گھر میں صالح اور روحانی وجود ہو‘  ذکر الٰہی موجود ہو‘ نمازوں کی ادائیگی ہو‘ عبادت کے طور پر نیکیوں کا سفر طے ہوتا ہو وہاں تقدیر بھی تدبیر  کا نام ہوتی جاتی ہے۔ ناکامیوں کی تقدیر کے تدبیر ہو جانے کا نام سورہ الرحمان کی آیت نمبر29میں ہے۔ کہ ’’اللہ تعالیٰ سے ہر ذی روح جو بھی زمین و آسمان میں ہے‘ ہر لمحہ سوال کرتا ہے ‘اس کے سبب ہی تو ہر دن اللہ تعالیٰ  فیاض بن کر عطاء فرماتے رہتے ہیں‘‘   

سعودی ولی عہد کےلئے ممکنہ سیکورٹی خطرات

سعودی ولی عہد کےلئے ممکنہ سیکورٹی خطرات

a month ago.

میری نظر میں ہمیشہ سے ہی ایران و امریکہ میں مفاہمت و مشترکہ حکمت عملی موجود رہی ہے۔عربوں کے مستقل اتحادی امریکہ کو جس طرح ایرانی تدبر و فراست نے شکار کیا اور امریکہ جس طرح ایرانی انقلابی مقاصد رکھتی حکمت عملی میں استعمال ہوچکا ہے وہ سب میرے موقف کے مئوید ہیں۔ صدر اوبامہ عہد کا وائٹ ہائوس، امریکی ڈیپ اسٹیٹس میں مفاہمت کا نام تھا۔اس مفاہمت کا مقصد عرب بادشاہتوں کا انہدام تھا اور ایران سے مفاہمت بھی تو عرب بادشاہتوں کے انہدام کے مقصد کے حصول کا ہی اہم ذریعہ تھا۔اس معاملے میں امریکہ ایرانی مقاصد کے حصول میں عسکری طور پر بھی بھرپور طور پر استعمال ہوچکا ہے۔نہ چاہتے ہوئے بھی یہاں مجھے اس عمل میں ایرانی حکمت و دانائی کی برتری کی تحسین کرنا ہوگی کہ انقلاب ایران کے بظاہر دشمن امریکہ نے ہی تو عرب بادشاہتوں کے حوالے سے مقاصد انقلاب ایران کی بھرپور مدد کی ہے۔اس سارے امریکی طویل ترین عمل کو میں’’ڈیپ اسٹیس‘‘ کی عرب مخالف عشروں کے لئے محیط حکمت عملی کا نام دے سکتا ہوں۔ شاہ فیصل شہید کے اپنے ہی بھتیجے کے ہاتھوں قتل کو نہایت غور سے جب بھی میں دیکھتا ہوں تو امریکی و مغربی ڈیپ اسٹیس کی طویل مدتی حکمت سمجھ آتی ہے۔ شاہ فیصل القدس کے معاملے پر بے لچک تھے۔ تیل کے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کا نادر فکر صرف انہی کے پاس تھا۔ یوں اسرائیل کے حوالے سے اور القدس کے حوالے سے شاہ فیصل ناقابل برداشت ہوگئے تھے، پوری یورپی و امریکی اقوام کی حکمت عملی تیار کرتی مشینری میں بالآخر شاہ فیصل کا قتل ہی وہ واحد آپشن تھا جو راستے کا پتھر بنے شاہ کو مغربی و امریکی حکمت عملی کو کرانا پڑا تھا، شاہ فیصل کے قتل سے سادہ لوح شاہ خالد سامنے آئے اور ولی عہد کے طور پر شہزادہ ہ فہد۔ اس تبدیل شدہ صورتحال سے اصل میں سعودی ریاستی تبدیلی ہوگئی تھی کہ مسئلہ فلسطین پر دو ٹوک وہی سوچ شہزادہ فہد کی ہرگز نہ تھی جو شاہ فیصل عہد کی تھی۔

ریاستی مفادات ایجنڈے میں عمران خان اور ن لیگ کا ممکنہ اتحاد؟

ریاستی مفادات ایجنڈے میں عمران خان اور ن لیگ کا ممکنہ اتحاد؟

a month ago.

دیکھنے میں امریکی صدر ٹرمپ کتنے طاقتور ہیں؟ عملاً مگر وہ تو پھنسے ہوئے ہیں بالکل وزیراعظم عمران خان کی طرح ان کی اسٹیبلشمنٹ (پینٹاگان) اور ڈیپ اسٹیس (سی آئی اے‘ وغیرہ) کا ایجنڈا ان سے دو ٹوک اکثر مختلف ہے۔ صلح پر آمادہ طالبان سے مکمل ہوتے مذاکرات اچانک معطل ہوگئے ہیں مگر اصل میں صدر ٹرمپ کے سیاسی مفادات‘ اسٹیبلشمنٹ کے مفادات اور ڈیپ اسیٹس کے مفادات کا تصادم اور تضادات نما جھلکیاں بن کر بار بار سامنے آرہی ہیں۔ مشیر قومی سلامتی جان بولٹن ڈیپ اسٹیس کے قدیمی حکمت کار تھے مگر طالبان معاملات پر بالآخر  انہیں صدر ٹرمپ نے فارغ کر دیا اور اب مشیر قومی سلامتی نیا آئے گا۔ اصل ایجنڈا ڈیپ اسٹیس ہی ہرملک کا  تیار کیا کرتی ہیں۔ وہ عشروں بلکہ صدیوں کے لئے ایجنڈے تیار کرتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ان ایجنڈوں پر عملدرآمد کروایا کرتی ہے امریکی صدر سیاسی  یعنی ہمارے ہاں کے مطابق وزیراعظم یعنی پارلیمانی سیاسی حکومتی اختیارات استعمال کیا کرتے ہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے کہ میں 1999ء میں جب ایک اخبار میں کالم لکھتا تھا اور ساتھ ہی اوصاف میں بھی تو جنرل مشرف کی نئی حکومت آئی تھی ۔  اکثر میں 12اکتوبر1999ء کے نتیجے میں جنم لیتی  جنرل مشرف حکومت کی حمایت میں کالم لکھتا تھا۔ ایک ادارے  کے اصحاب فکرنے بالآخر مجھے تلاش کیا کہ میں نے ہی جنرل مشرف کے صدر بننے کا تحریری مشورہ دیا تھاوہ اکثر مجھ  سے یہ بھی سمجھتے رہتے کہ میں کیوں  اسامہ بن لادن کے فکر جہاد کو تباہی و بربادی لکھتا ہوں؟  ’’ایجنڈے کی لڑائی‘‘ کے  حوالے سے کالم جب مسلسل لکھتا تھا‘ تب نائن الیون نہیں ہوا تھا محبت سے وہ مجھ سے پوچھتے کہ  اس سے کیا مراد ہے؟ میں کہتا یہ میرا الہامی وجدان ہے کہ مجھے شمال کی طرف یعنی افغانستان کی طرف سے بہت برے حالات اور تباہی اللہ تعالیٰ دکھا رہے ہیں۔وہ جنرل کیانی کے بعد پھر آئی ایس آئی کے ڈی جی بنے‘  ایجنڈے کی لڑائی پر لکھے ہوئے کالموں کو وہ جنرل مشرف کے کانوں میں صور اسرافیل بناتے مگر مجھے  مشرف سے بہت دور رکھا کہ ہر ڈیپ اسٹیٹس ایسا ہی کیا کرتی ہیں ۔

فعال وزیراعظم اور ن لیگ میں ممکنہ تعاون؟

فعال وزیراعظم اور ن لیگ میں ممکنہ تعاون؟

2 months ago.

احسن اقبال مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل ہیں چند دن پہلے انہوں نے موجودہ ناکام حکومت کا علاج نئے انتخابات یا پھر مارشل لاء کو قرار دیا تھا۔ آرمی چیف جنرل باجوہ نے اس کا جواب دے دیا ہے  کہ فوجی طاقت سے زیادہ اخلاقی قوت موثر ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے۔ ن لیگ گاہے گاہے نئے انتخابات کو موجودہ ناکام حکومت کا علاج بتایا کرتی ہے۔ جنرل باجوہ کا شکریہ کہ انہوں نے مارشل لاء کی خواہش مند (ن) لیگ کو جواب آں غزل دے دیا ہے۔ احسن اقبال اور ن لیگ والے‘ ایک سیاسی مولانا بھی کشمیر پر وزیراعظم کو ناکام ثابت کر رہے ہیں۔ ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ’’گونگے‘‘ نواز شریف کے ہاں مودی نجی مہمان بنا کر ہی شادی میں شریک تھے۔ ’’گونگے‘‘ وزیراعظم نواز شریف کے مقابلے میں پارلیمانی عددی کمزوری کے باوجود کشمیر اور بھارت کے حوالے سے عمران خان نہایت فعال اور نہایت اہل وزیراعظم ثابت ہو رہے ہیں۔ جتنا کشمیر پر عمدہ کردار اور موقف عمران خان نے پیش کر رکھا ہے اس کا عشر عشیر بھی شریف خاندان کے 35سالہ طویل اقتدار میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ احسن اقبال کے نئے انتخابات کی خواہش نہ صرف پوری نہیں ہوگی بلکہ موجودہ حالات میں عمران خان کا اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا راستہ اپنانا نہ صرف ملکی مسائل کے حل  سے اغماض بلکہ جان  بچا کر راہ فرار اختیار کرنا کہلائے گا بلکہ جس قوت ارادی اور جرات سے اکیلے وہ مودی ظالم  حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ نئے انتخابات کے سبب تو یہ عمدہ ترین قومی عمل بھی رک جائے گا۔ لہٰذا اگر خدانخواستہ خود عمران خان بھی چاہیں تو اگلے تین ماہ میں وہ اپنی عددی قلت کو دور کرنے کے لئے نئے انتخابات کا راستہ اپنا لیں تو بھی حساس قومی مفادات‘ خطے کے حالات‘ مقبوضہ کشمیر کے لئے ابتلاء لاچکے حالات بھلا نئے انتخابات کا راستہ کیسے کھولنے دیں گے؟ آرمی چیف کی مدت میں تین سالہ توسیع کا جواز صرف علاقائی مدو جذر اور جنگی حالات کا فیصلہ  ہے۔ یہی حالات نئے انتخابی راستے کو بند کئے ہوئے ہیں۔  

دستاویزی معیشت کی ضرورت و اہمیت

دستاویزی معیشت کی ضرورت و اہمیت

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  یہاں کے تمام تاجروں کا ہو، سب کیش پر چل رہا ہے۔ پرچی پر چل رہا ہے۔ اب جب سارا پیسہ بینکوں میں نہیں ہے تو بینکوں میں جو کچھ شو ہوگا، اسی کے مطابق ملک کی معاشی صورتِ حال کا پتہ چلے گا۔ بینکوں سے پیسہ نکال کر سارا کاروباری طبقہ کیش پر سارا کام کر رہا ہو تو کاغذات تو یہی شو کریں گے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ پیسہ ہی کوئی نہیں۔ کیوں کہ ہم تحریر اور تحریری دستاویز درست طور پر لکھ کر دینے کے لیے تیار نہیں۔ کیوں؟ کہ اس پچھلے چالیس سال میں افغانستان کے نام نہاد جہاد کے لیے جو ڈالر اور ریال دیے گئے تھے، ان کو کسی ٹیکس قانون کے تحت جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے چالیس سال سے ہر طبقے کا مافیا لوٹ کھسوٹ والا موجود رہا ہے۔ چالیس سال اس پیسے کے استعمال افغانستان میں فساد کے لیے اور مختلف ملکوں میں مداخلت کے لیے خرچ ہوتا رہا ہے۔ آج امریکہ کو خطرہ لاحق ہوگیا، چوںکہ ایک تو ویسے معاشی طور پر کمزور ہوگیا، ابھرتی ہوئی دو طاقتیں روس اور چین کی سامنے آرہی ہیں، تو اب امریکہ کا دبائو کہ بھئی ! یہ دو طاقتیں آگے ہوں گی تو یہ جو ہم نے پیسے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا آسان راستہ بنایا تھا، اس کو بند کرو  ورنہ تو یہ روس اور چین استعمال کریں گے۔   

دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

2 months ago.

5اگست  سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے ابتلاء اور مشکلات و مصائب بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ 27فروری کو جو کچھ ہوا تھا‘ تازہ منظر میں  اس میں اضافہ ہوا۔ جنگی طور پر کافی زیادہ ممکن ہے‘ عید سے اگلے چند دن بہت زیادہ کشمکش کو لئے ہوئے ہیں۔ مکمل چاند تدبر و فراست اور عقل سے زیادہ جذبات‘ غصے‘ اشتعال کو پیدا کرتا ہے جیسے مکمل چاند 13,14,15 ذی الحج) سمندر میں مدوجذر پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ چار گرہن کے اثرات ہیں کہ چین میں اور پاک و ہند میں بارشوں کا سیلابی  صورت عہد ابتلاء شروع ہے۔ اس میں اضافے کے امکان روحانی و جدان میں نظر آرہے ہیں۔  بھارت کے حوالے سے استدلال‘ صبر مگر استقامت کو ترجیح بنائیں۔ روحانی وجدان کے مطابق پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات‘ معاشی ابتر حالت نومبر تک پریشان کن رہ سکتی ہے۔ وزیراعظم کی زندگی کی حفاظت کرنا اب ریاست کا فرض ہے۔ بیرونی دشمن اپنے اندرونی کارندوں کے ذریعے وزیراعظم کی زندگی کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کر سکتے ہیں تاکہ پاکستان کا دنیا میں مقبول و محترم ہوچکا سول چہرہ منظر سے ہٹ جائے‘ لہٰذا آرمی چیف کی زندگی کی طرح وزیراعظم کی زندگی کو دینی فرض کی طرح سمجھا جائے۔ سیاسی افراتفری‘ داخلی عدم استحکام اور انتشار اس وقت بیرونی دشمنوں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ علمائے کرام سے بالخصوص غیر سیاسی علماء تمام مکاتب فکر سے‘ حکومتی رابطے زیادہ اور موثر ہونے چاہئیں۔ علماء کرام کے خلاف جو وزیر یا وزراء اخلاقی قدر سے کم تر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زبان بندی ضروری ہوگئی ہے‘ مذہبی طبقے سے حکومتی تعلق و رابطہ ریاستی دفاع کا لازمی جزسمجھا جائے۔ دینی مدارس کے حوالے سے پیدا شدہ اگر خدشات موجود ہوں تو ان کا ازالہ کیا جائے۔ اس عمل کو دو قومی نظرئیے  کے لئے مطلوب استحکام اور نئی زندگی کا شدید تقاضا سمجھا جائے۔