مائنس عمران خان سے پارلیمانی جمہوریت کے جنازے تک

مائنس عمران خان سے پارلیمانی جمہوریت کے جنازے تک

7 hours ago.

یہ صرف سیکولر سیاسی پارٹیاں ہی داخلی تقسیم کا شکار نہیں بلکہ جمعیت العلمائے اسلام جیسی مولانا فضل الرحمان کی مذہبی وہ پارٹی جو درس نظامی کے تعلم منطق اور معتزلہ کے علم الکلام پر حاومی ہے‘ بھی داخلی تقسیم سے ماشاء اللہ دوچار ہوگئی ہے مفتی کفایت اللہ مولانا فضل الرحمان کے عظیم احتجاجی دھرنے کے موسم میں اکثر نجی چینلز پر جمعیت کا موقف پیش کرتے اور اکثر سامعین اور ناظرین کو مطمئن کرنے کی کوشش کامیابی سے کرتے تھے‘ مولانا فضل الرحمان اور مفتی کفایت اللہ جن متکلمانہ بلکہ خطیبانہ اوصاف سے مزین ہیں اگر وہ محدودسی جمعیت کی بجائے عملاً مسلم لیگی ہوتے تو ہمیشہ اقتدار میں ہوتے حقیقی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ ایک تو وہ ہے جسے فقر و قلندری کے پیکر عالم دین  شبیر احمد عثمانی نے تاسیس کیا تھا۔ جب بھی علامہ شبیر احمد عثمانی  کا نام میرے سامنے آتا ہے تو احترام اور عقیدت سے میرا سر ان کے لئے جھک جاتا ہے۔ جمعیت العلمائے ہند سے کھلے عام ناطہ توڑا اور قائداعظم ؒکی تحریک پاکستان کے سراپا علم منطق و کلام سے مزین مگر متقی و پرہیز گار ‘ قناعت پیشہ اور ایثار پیشہ سپاہی بنے رہے۔

جنوری میں مسلط ہوتی ممکنہ پاک بھارت جنگ

جنوری میں مسلط ہوتی ممکنہ پاک بھارت جنگ

26 days ago.

 دشمن سے جنگ  ہو تو ’’فیصلہ ساز سیاسی حکومت‘‘  اور ’’فوج میں فیصلہ ساز کرداروں‘‘  میں مکمل ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ بعض اوقات جنگی اور عسکری طور پر مخصوص جگہ پر جنگی کارروائی میں کامیابی تو یقینی ہوتی ہے مگر اسے سفارتی طور پر عالمی دنیا کی مارکیٹ میں منظور اور مقبول کروانا ناممکن عمل ہوتا ہے۔ مثلاً کارگل کی جنگ کا نظریہ جنرل مشرف کا ذاتی نہ تھا بلکہ یہ تو فوج کی ملکیت تھا۔ بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم تھی تو ان کے سامنے یہ نظریہ جنگ پیش کیا گیا مگر محترمہ نے  یہ کہہ کرنامنظور کر دیا کہ مجھے یہ تو یقین کامل ہے کہ ہماری افواج ہی کارگل میں فتح حاصل کریں گی مگر اس زمینی فتح کو بطور وزیراعظم وہ بین الاقوامی سطح پر ہرگز منوا نہیں سکیں گی بلکہ عالمی قوتیں پاکستان کو جارح قرار دے دیں گی۔ مگر یہ جنگ سست و کاہل وزیراعظم نواز شریف کے زمانے میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کر ڈالی۔ فتح ابتدائی تو ہوگئی مگر بعدازاں یہ جنگ اور فتح پاکستان کے لئے وبال جان بن گئی۔ معصوم مجاہدین بھارتی طیاروں اور توپوں کا لقمہ بنتے رہے اور زمینی طور پر جیتی ہوئی جنگ سیاسی اور نفسیاتی تباہی کا مرکز بن گئی۔ اس فتح شدہ کارگل نے ہی صدر کلنٹن کو بھارت پر عظیم ترین احسان جتانے کا موقع دیا اور ایک محدود سی فتح بالآخر پاکستان کی عالمی ذلت اور کارگل میں بھی خفت اور شرمندگی کا راستہ بن گئی۔ لہٰذا میر اموقف یہ ہے کہ جنگ صرف جنرلز کی صوابدید پر نہیں بلکہ مدبر فیصلہ ساز سیاسی فیصلہ سازی کے ساتھ ہمرکاب ہو کر ہی لڑی اور پھر جیتی جاسکتی ہے۔ اگر اکیلے فیصلہ ساز صرف عسکری ذہن ہوں اور وہی عملاً حکومت بھی ہوں تو مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش ہو جانا ممکن بھی ہو جایا کرتا ہے۔

عربوں کی جذباتی حمایت

عربوں کی جذباتی حمایت

29 days ago.

ہمیں سعودی عرب‘ امارات‘ بحرین‘ کویت‘ مصر سے اکثرہی ناراضی رہتی ہے۔ ہمیں ان پر اکثر ہی غصہ آتا رہتا ہے کہ وہ اپنے جغرافیے اپنی بادشاہتوں‘ مالی و مادی وسائل اور سیاسی اختیارات کو آنکھیں بند کرکے صرف ہماری خواہشوں اور آرزوں کی تکمیل کے لئے کیوں خرچ نہیں کرتے؟ ہمیں اکثر اعتراض رہتا ہے کہ یہ مالدار بدو قسم کے عرب ہمارے دشمن ہندوتوا والے بھارت میں کیوں پاکستان سے زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں؟ کیوں یہ عرب آزادی کشمیر میں اپنا سب کچھ جھونک نہیں دیتے؟ کیوں امارات والے ہندو مندر اور چرچ بنواتے ہیں؟ کیوں بحرین‘ سعودیہ‘ امارات میں اکیلے مودی کو امتیازی حیثیت دی جاتی ہے؟ غرضیکہ وہ تمام نسیم حجازی کے ناول جو ہم نے اپنی مثالی اور خیالی دنیا میں ’’مدون‘‘ کر رکھے ہیں‘ ان پر یہ مالدار عرب کیوں لمحہ لمحہ پورا نہیں اترتے؟ کیوں ہمیں یہ خود قائدانہ کردار نہیں دے دیتے‘ حالانکہ ہم ہی تو واحد مسلمان ایٹمی پاور ہیں۔ تازہ منظر نامہ میں کوالالمپور میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے ایران‘ قطر‘ پاکستان‘ ترکی پر مشتمل ایک کانفرنس کا انعقاد ممکن بنا دیا ہے سعودیہ اور عربوں کو نظرانداز کرکے نیا او آئی سی یا نیا عجمی مسلمان بلاک بنانا ہے۔ 

بھارتی آئینی ترمیم اور اس کا عالمی و بھارتی شدید ردعمل

بھارتی آئینی ترمیم اور اس کا عالمی و بھارتی شدید ردعمل

a month ago.

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نامی گجراتی مسلمان دشمن نے لوک سبھا سے متنازعہ مسلمان دشمن آئینی ترمیم کا بل منظور کروالیا ہے جبکہ امریکی مذہی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ امیت شاہ پر پابندی لگائی جائے۔  میں اس امریکی مذہبی کمیشن کی تجویز پر مسکرا رہا ہوں۔ ماضی بعید میں اگر جائیں کہ جب وزیر اعلیٰ گجرات نریندر مودی اور اس کے مسلمان دشمن امیت شاہ نامی دست راست نے دوہزار سے زائد معصوم مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا تو امریکہ و برطانیہ میں مودی ناپسندیدہ  اور قاتل سمجھا گیا تھا۔ اس کا داخلہ بند کیا تھا مگر جب یہی قاتل اور دہشت گرد مسلمان دشمن بی جے پی کا سیاسی گرو بن کر مسند اقتدار پر براجمان ہوگیا تو امریکہ و برطانیہ کو سانپ سونگھ گیا ۔ ہمارے ملک کے رائو انوار کو جعلی انکائونٹر کرنے کے سبب امریکہ میں داخلے پر پابندی کی نوید آگئی ہے مگر میں امریکی مذہبی کمیشن سے پوچھتا ہوں کہ اکیلے امیت شاہ پر پابندی کیوں؟ اس کے ساتھ نریندر مودی پر بھی پابندی کیوں نہیں؟ صرف نہیں بلکہ بھارت جو انتہا پسند مذہبی جنونیوں کی ہاتھ میں ہے اس کے ساتھ سیاسی، معاشی، سٹرٹیجک اتحاد کا خاتمہ بھی تو کریں۔ اس کے ساتھ ایٹمی مواد کے معاہدے بھی تو ختم کریں۔ اس مذہبی جنونی گروہ کے پاس اقتدار کا مطلب انسانیت کا خاتمہ ہے یا انسانی تہذیب و تمدن کا وسیع المشرب کردار کا استحصال۔  بہرحال پاکستانی قومی اسمبلی نے بھارتی لوک سبھا میں مسلمان دشمن بل کی ترمیم کے حوالے سے مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔

جنگ زدہ ایران و عرب پر تاریخ میں محفوظ ہوتا کالم

جنگ زدہ ایران و عرب پر تاریخ میں محفوظ ہوتا کالم

a month ago.

ایرانی سفیر مہدی ہزدوست کا بطور سفیر عہد سفارت ختم ہوگیا ہے‘ انہوں نے پاکستانی میڈیا میں بہت اثرورسوخ حاصل کیا اور یہ تاثر بھی وہ اہل قلم‘ اینکر پرسن صحافیوں کو دینے میں مصروف رہے کہ سعودیہ ہی اصلاً اتحاد امت مسلمہ کا قاتل ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے رمضان میں بھی 35کے قریب صحافیوں کو بڑے ہوٹل میں مدعو کیا اور ان کے سامنے اپنا موقف بھی دیا تھا۔ مجھ تک یہ بات ایک ثقہ ریاستی ادارے کے ذریعے پہنچی کیونکہ مین نے سعودیہ و امارات کے سفارت کار دوست  سے مکمل مایوس ہو کر اس ریاستی ادارے سے ایرانی سفارت خانے کی طرف سے ہونے بھی جارحانہ  ’’مساعی جمیلہ‘‘ میں ’’ذاتی تحفظ‘‘ کی بات کی تھی۔ میں جناب مہدی ہزدوست کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک سفیر سے آگے بڑھ کر پرجوش انقلابی ایرانی سیاسی کارکن کا کردار پاکستان میں بہت خوب طریقے سے ادا کیا ہے یہ ’’وصف‘‘ اور یہ ’’جرات‘‘ ماشاء اللہ سعودیہ ‘امارات ‘ بحرین و کویت کے سفارت کاروں  میں مجھے کبھی دکھائی نہیں دی بلکہ مجھے سعودیہ و امارات کی طرف سے مشکل ترین حالات میں جس میں زندگی کے حوالے سے بھی کچھ ’’خدشات‘‘ لاحق تھے نہ صرف مدد نہ ملی بلکہ عملاً مکمل لاتعلقی اپنا لی گئی تھی ‘  لیکن مجھے حیرت اور تعجب ہوا کہ میرے کالموں کی بندش تو جناب ہزدوست نے حاصل کرلی مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ فقیر کے اس ماضی بعید کے لکھے ہوئے تجزیاتی  و جدان کو عراق و لبنان میں سچا ثابت کر دیا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ شیعہ عرب ایران کے خلاف خود اٹھ کھڑے ہونگے۔ پھر توسیع پسند  عجمی ایران کیا کرے گا؟

سقوط ڈھاکہ حماقتیں اور  دسمبر کی اداسیاں

سقوط ڈھاکہ حماقتیں اور  دسمبر کی اداسیاں

a month ago.

دسمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے اداسی، شرمندگی، احساس شکست و ندامت لیکر آتا ہے اس مہینے میں ہی زندگی کی علامتیں درختوں سے بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ پتے زرد اور سرخ ہوکر درختوں کے تنوں سے الگ ہوکر مٹی میں مل کر مٹی کے لئے زرخیزی کے کام آتے ہیں۔ یہ نظام کائنات اور نظام فطرت ہے۔ ہم جتنے بھی متقی و پرہیز گار ہو جائیں تب بھی ہمیں نظام کائنات اور نظام فطرت کی حدد و قیود میں رہ کر زندگی گزارنا ہوتی ہے، استحکام اور ارتقاء حاصل کرناہے۔ اگر ہم اس امر ربی پر مبنی نظام کائنات اور نظام فطرت و جبلت کو خود نظر انداز کرکے اس سے انحراف کریںگے تو ہم بدترین انہدام، بدترین زوال بلکہ نیست و نابود ہو جائیں گے۔ نومبر1971 ء میں مشرقی پاکستان میں دفاع وطن اور بھارتی سازشوں کے جلو میں تخلیق ہوچکی سیاسی قوتیںباہم جنگ و جدل کے آخری منظرنامے میں تھیں۔ چلیئے مان لیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا نظام قدرت میں لکھا ہوا مقدر تھا۔ مگر مقدر کی تخلیق تو انسانی ہاتھ خود کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو اسی سے زمین پر فساد پیدا ہوتا رہتاہے۔ شایدیہ قرآنی اسلوب فکر سورہ الروم میں ہے۔ مکمل یاد نہیں آرہا۔ ہم نے خود مشرقی پاکستان میں الیکشن کروائے تھے۔ جب  کروائے تھے تو اس کے نتائج کو تسلیم بھی کیا ہوتا۔ 

بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عالمی تشویش

بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عالمی تشویش

2 months ago.

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر اور دو وزرائے اعظم کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سرمارک لائل گرانٹ نے متبہہ کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پرپاک بھارت جنگ ہوئی تو برطانیہ کو 20ملین پونڈ کی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کرے ورنہ مستقبل میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے ’’دی فوریس‘‘ میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی خصوصی ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت جلد بازی میں برطانیہ وہاں سے چلا گیا تھا اور کشمیر پر اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہا تھا جس کے باعث پاک بھارت میں مسئلہ کشمیر وجہ نزاع بن گیا تھا جس کے سبب خطے کی صورتحال کشیدہ ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 72سال کے تلخ تنازعہ میں تین جنگیں لڑی گئیں، پاکستان اور بھارت (دونوں ایٹمی طاقتوں) کے درمیان بہت سی جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ دہشت گردی کی لاتعداد کارروائیوں، وادی میں بڑھتی ہوئی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ماحول میں اب وقت آگیا ہے کہ سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ امریکہ، برطانیہ کی قیادت میں بین الاقوامی کمیونٹی کو اس سلسلے  میں متحرک  ہونا چاہیے۔

بھارتی ایٹمی ہتھیار‘ فوگ‘ نقشہ اور اسلام آبا د کا دھرنا

بھارتی ایٹمی ہتھیار‘ فوگ‘ نقشہ اور اسلام آبا د کا دھرنا

2 months ago.

آج کی تحریر میں چند متفرق باتیں اور موضوع مختصر طور پر زیر بحث لارہا ہوں۔ پہلی بات بھارت سے وابستہ ہے کہ اس نے کشمیر کا نقشہ از خود تبدیل کر دیا ہے۔ چین نے پاکستان کی طرح بھارتی نئے نقشے کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کا اتحادی امریکہ مقبوضہ کشمیر کو تاحال متنازعہ مانتا ہے۔ برطانیہ اسے تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا مانتا ہے۔ پھر بھارت کے ایک آئینی ترمیم کے خاتمے اور نئی آئینی ترمیم سے نئے کشمیری نقشہ کو کون مانے گا؟ لہٰذا یہ نیا نقشہ ہر کوئی مسترد کرے گا۔ چین بھی پاکستان بھی‘ برطانیہ بھی‘ امریکہ بھی‘ دوسری بات بھارتی فوگ ہے‘ فوگ چاول کی فصل بذریعہ مشینوں کے حاصل کرکے باقی ماندہ فضلے یعنی پرالی کو آگ سے جلا دینے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ لاہور اور پنجاب میں جو بھی فوگ ہے۔ اس کا اصل سبب اور راستہ بھارتی پنجاب  ہے۔ وہاں  زرعی فضلے اور چاولوں کی پرالی کو جلانے کے سبب فوگ پیدا ہو کر لاہور پاکستانی پنجاب میں چلی آتی ہے۔ سبب اس فوگ اور موسمیاتی تباہی کا صرف بھارتی پنجاب کی زراعت سے پیدا شدہ آگ اور دھواں ہے مگر سزا  اہل لاہور اور پاکستانی پنجاب کو ملتی ہے۔ کیا بین الاقوامی قوتیں‘ اقوام متحدہ اس بھارتی فوگ کا راستہ بند کرنے کی دلیری کر سکتی ہیں تاکہ پاکستانی عوام اور لاہور کے عوام فوگ اور موسمیاتی عذاب سے نجات پاسکیں۔

ملکی معاملات نجوم و وجدان کے میزان میں

ملکی معاملات نجوم و وجدان کے میزان میں

2 months ago.

الحمد اللہ چار ، پانچ نومبر خیریت سے گزر گئی ہے جبکہ مولانا کا اجتماع جم غفیر کی صورت موجود ہے۔ میں نے حنفی دیوبندی مفکر مفتی عبدالخالق آزاد ماہر علوم و افکار شدہ ولی اللہ محدث دہلوی کو لاہور میں رابطہ کرکے مبارکباد دی کہ آپ کا مسلک تو چھا گیا ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ مگریہ سب سیاسی اجتماع تو استعمار کے لئے ہے اس سے خیر کہاں برآمد ہوتی ہے؟ یہی پیغام میں مولانا فضل الرحمٰن کے منطق و درس نظامی قوت ارادی کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ کاش مولانا مسلم لیگی ہوتے، جمعیت العلمائے ہند کے تاریخی وزن سے مکمل آزاد ، تو آج وہ نواز شریف کا نہ صرف متبادل ہو جاتے بلکہ وزیراعظم کا استحقاق پاتے۔ ان کی خامی صرف یہ ہے کہ اوصاف میں وہ مکمل مسلم لیگی ہیں مگر اصلاً وہ مسلم لیگی نہیں ہیں، مگر میں مولوی کی حیثیت اور اہمیت کا ہمیشہ سے ہی قائل اور مئوید رہا ہو ں لہٰذا مولانا کے اجتماع سے عمران خان کی حکومت میں موجود وافر بہت بڑی کچھ خرابیوں کا علاج بالغذاء ممکن دیکھتاہوں۔ اگلی تاریخیں اندیشہ ہائے دور دوراز کے حوالے سے 17-18 نومبر سے 25نومبر تک ہیں۔ جس طرح27-28 اکتوبر مدوجزر کی حامل ثابت ہوئیں۔4-5 نومبر فساد بپا کرتی محسوس ہوئیں۔ ممکن ہے اس سے بھی زیادہ خوف پیدا کرتی افلاک سے اترتی نجوم و سموات کی کرنیں تصادم و کشمکش کو نئی زندگی دے ڈالیں۔ اگر مارشل یا سیمی مارشل لاء از قسم ایمرجنسی یا معاشی ایمرجنسی کا نفاذ امر الٰہی بن چکا ہے تو عملاً20سے24 نومبر کے درمیان ایسا ممکن ہوسکتا ہے( واللہ اعلم بالصواب)۔ عمران خان کو اگر چند اہم فیصلے از قسم کابینہ میں اہم ترین ردوبدل کرنا ہے تو وہ زمینی حقائق کے زیادہ قریب آجائیں گے۔ عمران خان کی امر الٰہی سے بھرپور نئی مقبولیت کا سورج 25-26 نومبر کو طلوع ہوسکتا ہے۔ مجھے نجوم و افلاک سے وابستہ علوم سے ذرا سا بھی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ البتہ انگریزی زبان و ادبیات کے استاد پروفیسر غنی جاوید سے 20 سالہ تعلق سے کچھ باتیں آگے بیان کر دیتا ہوں۔ پروفیسر غنی جاوید نے نواز شریف کو ملتی سہولتوں کا ذکر کررکھا تھا وہ انہیں ضمانتوں کی صورت میں مل چکی ہیں۔ مریم نواز شریف کی ضمانت بھی اصلاً نواز شریف کو حاصل ہوچکی۔ سہولتوں کا ہی اضافہ ہے مگر اندیشہ ہے آزادی پاکر مریم نواز بہت جارحانہ رویہ اپنائیں گی جس کا نقصان ملکی سیاست، مسلم لیگ اور شریف خاندان کو شدید تر ہوسکتاہے۔ فوج اور   جنرل باجوہ کے لئے17 نومبر سے 25 نومبر کے مابین شدید دبائو، کشمکش، امتحانی  لمحے موجو د ہوسکتے ہیں جس کے سبب نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں کچھ ایسے فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں جو شاید پہلے وہ نہ کرنے پر کاربند تھے۔ مجموعی طور پر 2  دسمبر تک جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے بہت سے شدید خطرات موجود ہیں۔ عمران خان کی زندگی بہت اہم ہے اس کی اس عرصے بلکہ پورا دسمبر حفاظت کا انسانی مکمل بندوبست ہوناچاہیے۔ عمران خان کی ذاتی تلخ رویہ پر مبنی بیان بازی، وزراء کی غیر دانش مندانہ باتیں ایک بار پھر آگ لگاسکتی ہیں۔ ممکن ہے وزراء اور حکومتی  ترجمانوں کی عدم فراست پر مبنی بیان بازی17 سے 25 نومبر کے درمیان پھر سے پرسکون ہوتی سیاست و جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کے اسباب پیدا کر دے لہٰذا ترجمانوں، وزراء کی بیان بازی پر مکمل پابندی لگائیں ان کے ٹویٹ بند کرائیں، انہیں اپنی اپنی وزارتوں کا کام کرنا چاہیے بطور خاص شیخ رشید کو  زبان بند رکھنے پر مجبور کیاجائے۔