گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

8 days ago.

6جون کو اندرا گاندھی حکومت کی فوج نے گولڈن ٹمپل پر حملہ آورہو کر ہزاروں کی تعداد میں سکھوں کا قتل عام کر دیا تھا۔ ردعمل میں ایک سکھ محافظ نے وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل کر دیا۔  اندرا قتل کے بعد ہندوئوں  نے سماجی سطح پر سکھوں کا پھر قتل کر دیا تھا۔  یہ سکھ مظلومیت کا انڈیا عہد ہے یا ہندو ازم کا سکھ مذہب‘ گولڈن ٹمپل اور سکھ سیاسی شعور کو نیست و نابود کرنے کا عہد ہے؟ امریکہ میں خالصتان کی تحریک اتنی موجود ہے کہ امریکی سیاست کے افراد سکھوں کی حمایت اکثر کرتے ہیں اور خالصتان کے قیام کے جواز کو قبول کرتے ہیں۔ اس سال  بھی 6جون کو گولڈن ٹمپل میں سکھوں نے اندرا گاندھی کے ظلم کو یاد کیا‘ خالصتان حاصل کرنے کے نعرے لگائے اور بھارت مردہ باد کہا تو مودی حکومت نے گولڈن ٹمپل میں 6جون کے سکھ اجتماع کو پاکستانی شرارت قرار دیا۔ کیا امریکہ میں بھی سکھوں کی حمایت میں سرگرم امریکی پاکستانی سازش میں مبتلا ہیں؟  

بی جے پی کی جیت او ر کانگرسی شکست

بی جے پی کی جیت او ر کانگرسی شکست

25 days ago.

پہلا مطالعہ کہ ‘ راہول اور پریانیکا گاندھی کی سیاسی موروثیت پر مبنی کانگرس سیاست کو حالیہ بھارتی انتخابات میں شکست فاش ہوگئی ہے۔ رائٹر نے اپنا تجزیاتی جو موقف دیا ہے اس کی روشنی میں بھارت میں دو ٹوک انداز میں وزرائے اعظم خاندان کی طویل قابل فخر کہانی کا انجام ناقابل یقین حد تک بہت برا سامنے آیا ہے۔ بی جے پی کو 300 جبکہ کانگریس کو صرف 49 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ یہ ابتدائی خاکہ ہے ممکن ہے مکمل صورتحال کچھ جزوی طور پر تبدیل ہو جائے۔ اترپردیش  سب سے بڑا صوبہ ہے جس میں80 سیٹوں میں سے واضح اکثریت بی جے پی لے گئی ہے حتی کہ امیٹھی کی خاندانی سیٹ سے بھی راہول ہار گئے ہیں البتہ جنوبی بھارت میں وہ ایک ایسے حلقے سے ضرور جیت گئے ہیں جہاں مسلمان ووٹ نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ گویا جس سیٹ سے راہول جیتے ہیں اس میں مسلمان ووٹ نے واضح کردار اداکیا ہے۔   تجزیہ ہے کانگریس میں بغاوت کی صورتحال ہے اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ قیادت کی بالائی شخصیات نوجوانوں کے لئے جگہ خالی کر دے۔ یہ اشارہ راہول کی طرف ہے کہ وہ اب پارٹی قیادت سے الگ ہو جائے۔  

انتہا پسندی و تشدد‘ خودکش حملوں کے منتظم

انتہا پسندی و تشدد‘ خودکش حملوں کے منتظم

a month ago.

لاہور‘ داتا دربار پر سیکورٹی فراہم کرتی ریاستی انتظامیہ‘ پولیس پر خودکش حملہ ہوا‘ پھر کوئٹہ میں مسجد میں نمازیوں کی حفاظت پر مامور پولیس پر بھی خودکش حملہ ہوا ہے چند ہفتے پہلے افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگاتی ریاستی افرادی قوت‘ فوج‘ پر حملہ ہوا پاک ایران سرحد پر موجود ریاستی قوت پر بھی حملہ اوردونوں مرتبہ حملہ آور پڑوسی ملک کے اندر سے آئے تھے۔ اب گوادر میں بڑے اور محفوظ سمجھے جاتے ہوٹل پر حملہ جسے نیوی سے وابستہ افراد نے ناکام بنایا  ہے مگر پھر بھی ہوٹل انتظامیہ اور نیوی کے حصے میں شہداء تو آئے ہیں۔ یہ سب واقعات جن میں کہیں بظاہر خودکش حملہ آور استعمال ہوئے کہیں پر پڑوسی سرزمین سے حملہ آور آئے اور ہماری ریاست کو نشانہ بنایا گیا‘ مقصد حاصل کیا اور واپس لوٹ گئے جہاں سے آئے تھے۔  گوادر پاکستان اور چین کے لئے بہت اہم مقام ہے ۔ سی پیک کا گہرا تعلق گوادر اور بلوچستان سے ہے۔ اس مقام کو نشانہ بنانا‘ عام سی تخریب کاری نہیں ہے‘ اگر ان تمام واقعات کا جائزہ لیا جائے تو عملاً ریاست پاکستان اور ریاستی اہم مقامات اور ریاستی اداروں سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیا ایسے پرتشدد واقعات محض انفرادی فعل ہیں؟ جی نہیں۔ ان واقعات کا نشانہ اگر ریاست‘ سرزمین اور ریاستی حفاظتی قوتیں ہیں تو پھر یہ انفرادی تخریب کاری کے واقعات نہیں۔ بلوچستان میں مدت سے ہماری مقامی سیاست سے مایوس اور برگشتہ پڑوسی سرزمینوں پر محفوظ جگہ پاتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے وہ بلوچستان کی علیحدگی پسندگی کی قوتوں کے لئے کمک اور ’’لا‘‘ کے لئے بھی نیا سلسلہ فراہم کرتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ایک مینگل قبیلے کے بڑے سردار کے مینگل بھائی بیرون ملک قیام پذیر ہیں۔ وہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرتے منصوبے کے اہم کارندے ہیں۔ انہیں بھارتی وزیراعظم مودی بہت مرغوب ہیں اور وزیراعظم مودی کو بھی بلوچستان میں تخریب کاری کرتی شخصیات اور تنظیمیں بہت زیادہ مرغوب ہیں۔ ہماری قومی اسمبلی اور قومی سیاست میں گمشدہ افراد کی آڑ میں ریاست سے متوازی اور مخالفانہ سیاسی سرگرمیاں کرتی نمایاں مینگل شخصیات سے اگر سوال کیا جائے کہ گوادر کے محفوظ بڑے ہوٹل میں جو حملہ آور ریاست کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے ان حملہ آوروں میں لاپتہ افراد کیسے موجود تھے؟ اس حسن اتفاق کا کیا جواب ہے جناب مینگل کے پاس جو عرصے سے گمشدہ افراد کی فہرستیں لہرا لہرا کر ریاست کو بلیک میل کیا کرتے ہیں۔  

پڑوسیوں ے خلاف ہندتوا بھارت کی گریٹ گیم

پڑوسیوں ے خلاف ہندتوا بھارت کی گریٹ گیم

a month ago.

بی بی سی سے چند رو ز پہلے گفتگو کرتے ہوئے سری لنکا کے آرمی چیف جنرل مہیش نے انکشاف کیا تھا کہ خودکش حملہ آور تربیت کے لئے بھارت گئے تھے اور کشمیر‘ بنگلور‘ کیرالہ بھی گئے تھے۔ جنرل مہیش کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والوں کے حوالے سے ایسی تما م معلومات ان کے پاس موجود ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کو ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ حملہ آور ذہن کو توحید جماعت سے وابستہ مسلمان بتایا جاتا ہے۔ داعش نے شائد اس کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی مگر قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ماضی میں سری لنکا میں تامل نسل جو کہ مسلمان بتائے جاتے ہیں وہ بدھ مت مذہب رکھتی نسل کے ساتھ فسادات کشمکش کا حصہ تھا۔ بد ھ مت سری لنکا میں  اکثریتی مذہب ہے۔ مسلمان‘ ہندو‘ مسیحی تو اقلیت ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ مسلمان اقلیت سری لنکا میں دوسری اقلیت یعنی مسیحیوں کے خلاف کیوں استعمال ہوئی؟ اس مسلمان اقلیت کو دوسری سری لنکا کی اقلیت کے خلاف استعمال کرنے کا طریقہ اور سوچ کیسے اور کیوں پیدا ہوئی؟ کیا یہ تہذیبوں کے درمیان کشمکش کے نظرئیے کو فروغ دیتا عمل ہے؟ مگر دوسری طرف قابل غور بات یہ ہے کہ آر ایس ایس اور اس کا سیاسی و حکومتی وجود‘ بی جے پی‘ برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دو ٹوک نظریہ اور عمل رکھتا ہے۔ ساتھ ہی دلت ہندوئوں کے خلاف بھی کیونکہ ہندو مذہب کی ذات پات کی مذہبی تقسیم کے سبب دلت بہت کم ہیں مگر آر ایس ایس مسیحیت کے خلاف بھی تو دو ٹوک رہی ہے۔ ذرا بھارت کے ماضی میں جھانکیں تو مسیحی تعلیمی اداروں‘ عبادت گاہوں‘ ہسپتالوں‘ کاروباری مراکز پر انتہا پسند ہندو اسی طرح حملے کرتے‘ آگ لگاتے۔ قتل کرتے تھے جیسے بی جے پی اقتدار کے حصول کی فضا تیار کرتے ہوئے مسلمانوں سے دشمنی‘ گائو ماتا کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کاسماجی و معاشرتی اور معاشی قتل ہوتا رہا ہے‘ جیسے بابری مسجد کا انہدام ہوا تھا اور اب تلنگا میں 400 سالہ پرانی مسجد کا انہدام۔  

یوم مسلح افوا ج‘ متحدہ عرب امارات

یوم مسلح افوا ج‘ متحدہ عرب امارات

2 months ago.

منفرد شخصیت کا کردار ہی اصل میں وہ روح پرور مناظر تخلیق کرتا ہے جس سے قدیمی جمود ٹوٹنا‘ تحرک پیدا ہوتا اور عمل کا راستہ ایجاد ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حوالے سے باتیں ایسی لکھیں جس کا پاکستان میں عوام کو علم ہی نہیں تھا مثلاً  یہ کہ چھوٹا سا ملک اپنی تخلیق کے ساتھ ہی پڑوسی ملک کے ہاتھوں اپنے منفرد تین اہم ترین جزیروں ارطنب الکبریٰ‘ الطنب الصغریٰ‘ ابو موسیٰ پر قبضے کے سبب محروم ہوگیا تھا مگر الشیخ زید النہیان نے اپنے تین اہم ترین جزیروں پر پڑوسی ملک کے قبضے  کے باوجود بھی ہمت نہ ہاری اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا اتحاد بناکر مشرق وسطیٰ میں قوت و کشش کو یوں نمایاں کر دیا کہ آج معاصر دنیا  میں متحدہ عرب امارات کی الگ شناخت اور الگ پہچان ہے۔ میں چونکہ تاریخ ‘ ادبیات ‘ فلسفے سے وابستہ علم الکلام کا طالبعلم بھی ہوں لہٰذا ان حوالوں سے بھی ان منفرد شخصیات کا مطالعہ کرتا ہوں جن کے سبب نمایاں ہوتے جغرافیے کا وجود اپنی طرف مسلسل متوجہ کرتا رہتا ہے۔  

المیہ سری لنکا‘ آئی ایس آئی پر الزامات اور مودی ضرورت

المیہ سری لنکا‘ آئی ایس آئی پر الزامات اور مودی ضرورت

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  قارئین سامنے رکھیں کہ فروری کے آخر میں پاکستان کے ہاتھوں دوبدو اچانک لڑائی کے منظر نامے میں بھارت کی کافی توہین ہوچکی ہے حالانکہ یہ لڑائی خود بھارت نے پاکستان سے شروع کی تھی۔ بالی ووڈ کی فلموں میں استعمال ہوئے سرجیکل سٹرائیک طرز کو جب مودی کے بھار ت نے استعمال کرلیا تو نئی دہلی کے  د شمن نے بھارت کے گرائے گئے جہازوں کے ایک پائلٹ کو زندہ پکڑلیا تھا جبکہ اسلام آباد نے اس پکڑے ہوئے بھارتی پائلٹ کو فوراً  آزاد کرکے امن کا  اپنا واضح کردار بھی پیش کر دیا تھا۔  بالآخر وزیراعظم مودی کی اپنی ہی ایک وزیر خارجہ نے بھی اپنی ہی حکومت کے بیانیے کو یہ کہہ کر جھٹلا دیا تھا کہ بالاکوٹ میں نہ کوئی مارا گیا نہ ہی زخمی ہوا۔ مودی جیسا سیاسی شخص جو خود کو نیشنل سیکورٹی کا معمار کردار بتاتا ہو اس کے لئے بالاکوٹ میں وقوع پذیر شرمندگی کے واقعات کس قدر اہم ہیں؟ لہٰذا ضروری ہو جاتا ہے کہ بھارتی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے نئے سیکورٹی سیکنڈلز تخلیق کرلیے جائیں تاکہ انتخابی عمل کے دوران ان تخلیق شدہ سیکنڈلز کے استعمال سے وہ خود کو پھر سے مضبوط کرتے۔ اس کے ساتھ ہی اس پھیلائے گئے بھارتی موقف کو بھی سامنے رکھیں کہ پاکستان روس و چین کی مدد سے بھارت کے ساتھ پوری دنیا کے خلاف بھی ہائبرڈ وارز مسلط کیے ہوئے  ہے۔

’’المیہ سری لنکا‘ ‘آئی ایس آئی پر الزامات  مودی کی ضرورت!

’’المیہ سری لنکا‘ ‘آئی ایس آئی پر الزامات مودی کی ضرورت!

2 months ago.

’’یورشیا فیوچر‘‘ کے نئی دہلی میں مقیم کالم نگار اینڈریو کوربکو کا حال ہی میں ایک انگریزی  اخبار میں 25 اپریل کو شائع شدہ طویل کالم ’’سری لنکا المیہ میں پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کا واضح استعمال‘‘ سامنے آیا تو سوچا  دنیا بھر کے قارئین کو متوجہ کرنا پرمغز اور حقائق سے موافق یہ تازہ تجزیاتی بیانہ پیش کیا جائے۔ کال نگار اینڈریو کوربکو نے کا موقف ہے کہ بالآخر بھارتی میڈیا نے سری لنکا المیہ کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا کام کر رہی ڈالا ہے ویسے تو یہ کبھی نہ کبھی ہونا ہی تھا۔ بھارتی میڈیا نے بہت تیزی سے پڑوسی ملک کی آئی ایس آئی کو سری لنکا المیے سے وابستہ کر دکھایا ہے۔ جس تیزی سے بھارتی میڈیا نے یہ ناممکن کام عملاً کر دکھایا ہے اس سے سری لنکا افسردہ معاملے کو بھارتی سیاسی خود ساختہ مثبت بیانے کے مقاصد کے لئے بھی ایک اظہاریہ بنا دیا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ساتھ ہی یہ بھی دیکھ  لیا جائے کہ ایک ماہ مدت پر مبنی طویل بھارتی انتخابی عمل میں اس کا استعمال کتنا مفید رہے گا۔

بھارتی ایٹمی حیثیت کا ممکنہ استعمال

بھارتی ایٹمی حیثیت کا ممکنہ استعمال

2 months ago.

نریندر مودی نے کہا کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار دیوالی کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔ محبوبہ مفتی نے  فوری   جواب دیا ہے کہ  پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیار عید کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔ حال ہی میں بھارتی وزیراعظم مودی انتخابی مرحلے میں ایٹمی طاقت ہونے کا ذکر کر چکے ہیں جبکہ انتخاب میں تیسرا مرحلہ شروع ہے۔ چوتھا مرحلہ مئی کا دوسرا اور تیسرا ہفتہ ہوگا۔ پاکستان پر انتخابی سیاسی مقاصد کیلئے اگر بھارت نے حملہ کرنا ہے تو اس کا امکانی وقت 6مئی سے 23مئی کے درمیان ہوسکتا ہے۔ اگر ہم سقوط ڈھاکہ سے پہلے کے سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو صدر ایوب خان کے ایوان صدر سے اخراج کے بعد اورجنرل یحییٰ خان کے اقتدار میں آنے کے بعد کے فیصلہ سازی کے معاملات کا جائزہ لیں تو سقوط ڈھاکہ کو حقیقت بناتے بھارتی عسکری حملہ آور وجود کے فاتحہ بننے کے اسباب سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ بھارتی عسکری حملہ آور وجود کو  پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام کے ہمہ گیر وجود نے ہی ممکن اور آسان بنا دیا تھا۔ اگر پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کا اقتدار نہ ہوتا‘ یا ہوتا مگر فیصلہ سازی کا سارا بوجھ غیر سنجیدہ جنرل یحییٰ خان اوران کے چند حواریوں کے پاس نہ ہوتا بلکہ بیورو فیصلہ ساز ہوتا تو شاید سیاسی عدم استحکام بھی یوں طلوع نہ ہوتا۔ مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ صرف شدید تر تھا بلکہ بالآخر بے قابو ہوگیا جس سے وزیراعظم اندرا گاندھی نے مکمل سیاسی اور جنگی فائدہ اٹھایا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا ڈالا تھا۔

صدارتی نظام کی واپسی اور عمران کے پاس راستہ؟

صدارتی نظام کی واپسی اور عمران کے پاس راستہ؟

2 months ago.

’’صدارتی نظام کی بحث‘‘ گاہے گاہے صدارتی نظام کو واپس لانے کی ضرورت اس وقت یقینا محسوس ہوتی ہے جب پارلیمانی نظام اپنی سیاسی خامیوں کو واپس لانے کی بھی شدید ضرورت اس وقت یقینا محسوس ہوتی ہے جب پارلیمانی نظام اپنی سیاسی خامیوں کی بدولت مثبت نتائج عمدہ حکومت کے لئے دینے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس وقت صدارتی نظام کو واپس لانے کی بھی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے جب سیاسی پارٹیاں اپنے صدر اور چیئرمین فیصلہ ساز کرداروں کے اشرافیہ ہاتھوں میں ریاستی وسائل کو لوٹنے‘ اقتدار میں آکر دولت و جائیدادوں میں اضافے‘ اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود بھی ریاستی احتساب سے بچنے کے لئے قومی اسمبلی‘ سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود اپنے اراکین کی پارلیمانی قوت کو آسانی سے استعمال کرکے حکومت کو عوامی مفادات کے تحفظ اور احتسابی اسلامی عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں آسانی سے رکاوٹ ڈال دیتی ہیں۔ صدارتی نظام کو واپس لانے کے لئے اس وقت بھی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ چھوٹی پارٹیاں یا علاقائی و لسانی و مذہبی ایجنڈے کی حامل پارٹیاں اسمبلیوں اور سینٹ میں اپنی موجود پارلیمانی حیثیت کو بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرتی ہیں اور بڑی حکومتی پارٹی کو اس بلیک میلنگ سے اس لئے بھی دوچار ہونا پڑتاہے کہ ان کی حکومت انہی بلیک میلنگ کرتے اراکین اسمبلی کی بدولت قائم ہوتی ہے یا موجود رہتی ہے۔  جیسا کہ عمران کی موجودہ حکومت ان کے کچھ اتحادی اراکین کے سبب قائم ہوئی اور جب بھی یہ اراکین اگر ناراض ہو جائیں گے مثلاً ایم کیو ایم یا مینگل کی پارٹی یا (ق) لیگ تو عمران خان کی حکومتیں فوراً ختم ہو جائیں گی۔  

مقبوضہ کشمیر پر فرانسیسی فلم‘ محبوبہ مفتی اور ارون  دھنی رائے

مقبوضہ کشمیر پر فرانسیسی فلم‘ محبوبہ مفتی اور ارون  دھنی رائے

3 months ago.

بھارتی آئین میں ایک دفعہ 370 ہے ۔ اسی آئینی دفعہ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے اپنا جابرانہ کردار حاصل کر رکھا ہے۔ گویا یہ وہ پل ہے جسے عبور کرکے بھارت مقبوضہ کشمیر میں داخل اور شامل ہوتا رہا ہے۔ جموں ماضي بعید میں معمولی سا مسلم اکثریتی علاقہ تھا۔ مگر بھارت نے نہرو کے زمانے میں ہی  جموں میں مسلمان اکثریت کو ختم  کرکے وہاں ہندو اکثریت کو طلوع کیا تھا۔ یقینا یہ بھارت کی بڑی کامیابی تھی۔ کانگریسی انداز وہی تھا جو ارض فلسطین میں یہودیوں کے ’’جگہ‘‘ کا حصول‘ زمین کی خریداری‘ عربوں کا دولت کے لئے لالچ اور بالآخر اسرائیل کا قیام اور پھر ریاست اسرائیل سے بھی عربوں کو ثانوی سے تیسری حیثیت تک کا مرحلہ۔ یوں ارض فلسطین پر فلسطینی عربوں کی اکثریت میں تبدیل ہوگئی۔ چونکہ نہرو یعنی کانگرسی کامیابی جموں میں موجود تھی۔ اس کامیابی کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی  اسٹریٹجک کامیابی کے لئے جہاں وزیراعظم مودی نے اپنے گورنر کے ذریعے اور 7لاکھ فوج کے استعمال سے بھی جبر اور ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے‘ وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرتے راستے بھی ایجاد اور استعمال کئے ہوئے ہیں تاکہ باہر سے ہندوئوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں  آباد کرکے اس علاقے کو اسرائیل کی طرح ہی حسب خواہش تبدیل کیا جاسکے۔   

ہائبرڈوار سے دوچار بلوچستان ترقی و استحکام کے راستے پر

ہائبرڈوار سے دوچار بلوچستان ترقی و استحکام کے راستے پر

3 months ago.

بلوچستان پسماندہ ترقی سے محروم‘ مگر یہ پسماندگی اور تعلیم و ترقی اور صحت سہولتوں سے محروم بلوچستان‘ ماضی کے فرعون بنے سردارون کا ہی تو یہ عطیہ تھا اہل بلوچستان کے لئے ’’گوادر‘‘ وہ اہم جغرافیائی محل وقوع ماضی  میں جو مستقط کی ملکیت تھا‘ جسے وزیراعظم فیروز خان نون نے مسقط سے خریدا‘ اس خریداری میں سر آغا خان نے مالی مدد کی تھی۔ یوں سر آغا خان کی مالی ادائیگی‘ وزیراعظم فیروز خان نون کی سیاسی بصیرت سے خریدا گیا گوادر۔ ہماری نظر میں جغرافیائی طور پر اگرچہ صوبہ بلوچستان کا حصہ دکھائی دیتا ہے مگر عملاً یہ مرکزی حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ یہ نقطہ میں بار بار اس لئے لکھتا ہوں تاکہ محب وطن اہل بلوچستان کو پتہ چل سکے کہ ان کے سردار گوادر پر ذاتی حق ملکیت جب جتلاتے ہیں  تو وہ کتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی گوادر کی اہمیت کے پیش نظر بھارت نے-59 1958ء میں مسقط سے گوادر خریدنے کی بہت کوشش کی تھی‘ مگر برطانیہ کی سیاسی مدد سے مسقط نے بھارت کی بجائے گوادر پاکستان کو فروخت کیا تھا۔ یاد رہے وزیراعظم نون کی بیوی ایک خوددار  انگریز خاتون تھی۔  

اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

اسلام کا تمام ادیان‘ مسیحی و یہودی تہذیب کیلئے انسان دوست رویہ

3 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) جب رسول اللہﷺ عمرہ کی ادائیگی کے لئے مدینہ سے اپنے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو  حملہ آور تصور کیا۔ چنانچہ انہوں نے جوابی جنگ کا ماحول پیدا کیا۔ رسول اللہﷺ کے داماد حضرت عثمانؓ کو ایلچی بنا کر مکہ میں بھیجا گیا تو ان کے قتل کی افواہ پھیل گئی اس کے جواب میں مسلمانوں کی صفوں میں قتل عثمان کا بدلہ لینے کے لئے  بیعت رضوان ہوئی اور مسلمانوں نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر جو بیعت کی زندگی اور موت کے لئے اسے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرنا کہاگیا۔ اشتعال کی اس شدید ترین حالت میں جب پتہ چلا کہ حضرت عثمانؓ زندہ ہیں تو صلح کی بات چل پڑی اور جب صلح کی بات چیت ہو رہی تھی حضرت ابوبکرصدیقؓ اور کفار اور مشرکین مکہ کے نمائندے میں پھر شدید ترین تلخی ہوئی۔اس کے بعد ہی صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہوا جو بظاہر مسلمانوں کی شکست اور مشرکین مکہ کی سیاسی جیت سمجھا گیا مگر بعدازاں شکست کو لئے ہوئے یہی معاہدہ صلح حدیبیہ مسلمانوں کی عظیم ترین کامیابیوں کا راستہ بنا ہے مشرک قوم اور کافر قوم خواہ وہ کسی بھی خطے کی ہو اور جس سے مسلمانوں کی دشمنی بھی رہی ہو سے بھی سیاسی معاہدہ ہوسکتا ہے اور صلح حدیبیہ ہمارے لئے اس حوالے سے سنگ میل رویہ پیش کرتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان تہذیب‘ دین اسلام حضرت محمد رسول اللہﷺ اور قرآن پاک بنیادی طور پر دوسری غیر مسلم اقوام سے جنگ و جدل اور تلوار زنی کا درس نہیں دیتا بلکہ دوستی‘ مفاہمت‘ بقائے باہمی  اور زندہ  رہو اور زندہ رہنے دو کا دوراندیش رویہ اور ماحول پیش کرتا ہے۔