دستاویزی معیشت کی ضرورت و اہمیت

دستاویزی معیشت کی ضرورت و اہمیت

a day ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  یہاں کے تمام تاجروں کا ہو، سب کیش پر چل رہا ہے۔ پرچی پر چل رہا ہے۔ اب جب سارا پیسہ بینکوں میں نہیں ہے تو بینکوں میں جو کچھ شو ہوگا، اسی کے مطابق ملک کی معاشی صورتِ حال کا پتہ چلے گا۔ بینکوں سے پیسہ نکال کر سارا کاروباری طبقہ کیش پر سارا کام کر رہا ہو تو کاغذات تو یہی شو کریں گے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ پیسہ ہی کوئی نہیں۔ کیوں کہ ہم تحریر اور تحریری دستاویز درست طور پر لکھ کر دینے کے لیے تیار نہیں۔ کیوں؟ کہ اس پچھلے چالیس سال میں افغانستان کے نام نہاد جہاد کے لیے جو ڈالر اور ریال دیے گئے تھے، ان کو کسی ٹیکس قانون کے تحت جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے چالیس سال سے ہر طبقے کا مافیا لوٹ کھسوٹ والا موجود رہا ہے۔ چالیس سال اس پیسے کے استعمال افغانستان میں فساد کے لیے اور مختلف ملکوں میں مداخلت کے لیے خرچ ہوتا رہا ہے۔ آج امریکہ کو خطرہ لاحق ہوگیا، چوںکہ ایک تو ویسے معاشی طور پر کمزور ہوگیا، ابھرتی ہوئی دو طاقتیں روس اور چین کی سامنے آرہی ہیں، تو اب امریکہ کا دبائو کہ بھئی ! یہ دو طاقتیں آگے ہوں گی تو یہ جو ہم نے پیسے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا آسان راستہ بنایا تھا، اس کو بند کرو  ورنہ تو یہ روس اور چین استعمال کریں گے۔   

دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

دو قومی نظریہ اور پاک بھارت کشمکش

8 days ago.

5اگست  سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے ابتلاء اور مشکلات و مصائب بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ 27فروری کو جو کچھ ہوا تھا‘ تازہ منظر میں  اس میں اضافہ ہوا۔ جنگی طور پر کافی زیادہ ممکن ہے‘ عید سے اگلے چند دن بہت زیادہ کشمکش کو لئے ہوئے ہیں۔ مکمل چاند تدبر و فراست اور عقل سے زیادہ جذبات‘ غصے‘ اشتعال کو پیدا کرتا ہے جیسے مکمل چاند 13,14,15 ذی الحج) سمندر میں مدوجذر پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ چار گرہن کے اثرات ہیں کہ چین میں اور پاک و ہند میں بارشوں کا سیلابی  صورت عہد ابتلاء شروع ہے۔ اس میں اضافے کے امکان روحانی و جدان میں نظر آرہے ہیں۔  بھارت کے حوالے سے استدلال‘ صبر مگر استقامت کو ترجیح بنائیں۔ روحانی وجدان کے مطابق پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات‘ معاشی ابتر حالت نومبر تک پریشان کن رہ سکتی ہے۔ وزیراعظم کی زندگی کی حفاظت کرنا اب ریاست کا فرض ہے۔ بیرونی دشمن اپنے اندرونی کارندوں کے ذریعے وزیراعظم کی زندگی کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کر سکتے ہیں تاکہ پاکستان کا دنیا میں مقبول و محترم ہوچکا سول چہرہ منظر سے ہٹ جائے‘ لہٰذا آرمی چیف کی زندگی کی طرح وزیراعظم کی زندگی کو دینی فرض کی طرح سمجھا جائے۔ سیاسی افراتفری‘ داخلی عدم استحکام اور انتشار اس وقت بیرونی دشمنوں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ علمائے کرام سے بالخصوص غیر سیاسی علماء تمام مکاتب فکر سے‘ حکومتی رابطے زیادہ اور موثر ہونے چاہئیں۔ علماء کرام کے خلاف جو وزیر یا وزراء اخلاقی قدر سے کم تر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زبان بندی ضروری ہوگئی ہے‘ مذہبی طبقے سے حکومتی تعلق و رابطہ ریاستی دفاع کا لازمی جزسمجھا جائے۔ دینی مدارس کے حوالے سے پیدا شدہ اگر خدشات موجود ہوں تو ان کا ازالہ کیا جائے۔ اس عمل کو دو قومی نظرئیے  کے لئے مطلوب استحکام اور نئی زندگی کا شدید تقاضا سمجھا جائے۔  

 عدم اعتماد کی تاریخ،چیئرمین سینٹ ،سپیکر اور وزیراعظم

 عدم اعتماد کی تاریخ،چیئرمین سینٹ ،سپیکر اور وزیراعظم

20 days ago.

چیئرمین سینٹ کے منصب سے صادق سنجرانی کو معزول کرکے خود کو چیئرمین بنوانے کے خواہش مند حاصل بزنجو تھے جو قوم پرست اور دو قومی نظریئے کے مخالف غوث بخش بزنجو کے بیٹے ہیں۔ انہیں شکست ہوئی اور اپوزیشن کے 14اراکین نے صادق سنجرانی کے حق میں وو ٹ دے دیا۔ یوں حاصل بزنجو چیئرمین نہ بن سکے تو اپوزیشن شکست کھاگئی ہے صادق سنجرانی کی اراکین سینٹ کے بلاتفریق محبت و رواداری انہیں بچاگئی مگر اب حاصل بزنجو نے کہا ہے  کہ آئی ایس آئی نے 14 ووٹ اپوزیشن کیمپ سے منحرف کروائے ہیں اس کا جواب تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دے دیا ہے۔ مجھے سینٹ کی تاریخ یاد آرہی ہے مجھے صدر مسلم لیگ محمد خان جونیجو سے کافی قرب حاصل تھا جیسے حامد ناصر چٹھہ اور بریگیڈیئر اصغر کو حاصل تھا۔ ایک دن تنہائی میسر آئی تو میں نے ان سے پوچھا کبھی آپ کو مسلم لیگ اور اراکین پارلیمنٹ کے حوالے سے ندامت محسوس ہوئی؟ وہ بولے ’’ہاں، میں وزیراعظم پاکستان تھا، سینٹ انتخابات ہو رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دو شخصیات نے پیسے دے کر سینیٹر بنانے کا عمل کیا تھا۔ وہ وزیر اعلیٰ اور یہ دونوں سینیٹرز میری پارٹی میں بعد ازاں شامل بھی ہوگئے مگر میں اب ان کی باز پرس کرنے سے قاصر تھا۔ شدید ندامت، شرمندگی اور بے بسی محسوس کی تھی‘‘2012 ء میں جب حج پر گیا تھا تو منیٰ میں مجھے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رفیق حج صحافی نے بتایا کہ جونیجو نے جو کچھ آپ سے کہا تھا وہ پورا سچ ہے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ غلام قادر جام تھے۔ بنگلزئی اور ایک اور چھوٹی چھوٹی داڑھی والے سابق انجینئر نے پیسے دیئے یہ پیسے وزیر اعلیٰ جام غلام قادر کے بندوں نے لئے تھے یہ سودا بلوچستان کے ایک بڑے صحافی نے طے کروایا تھا۔ اشارہ کرتا ہوں کہ بلوچستان کے ایک نامور صحافی بھی اس عہد میں سینیٹر بنے تھے جبکہ سابق انجینئر سینیٹر ڈپٹی چیئرمین بنے  تھے اور غلام اسحاق خان چیئرمین بنے تھے۔  

 جواد ظریف پر امریکی پابندیاں ، عرب بادشاہتیں اور کالم نگار

 جواد ظریف پر امریکی پابندیاں ، عرب بادشاہتیں اور کالم نگار

21 days ago.

میرے لئے دکھ اور صدمہ کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پر ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامینائی کی طرح کی امریکی پابندیوں کا نفاذ ہوگیا ہے۔ جواد ظریف نے ان پابندیوں کا سبب ان کا ’’ایرانی ترجمان اعلیٰ‘‘ ہونا بتایا ہے جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے جوادظریف کے ایرانی موقف کی صداقت بیان کرتے ان کے بین الاقوامی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویوز کو قرار دیاہے۔ مجھے مشرق وسطیٰ پر کھل کر لکھتے ہوئے تقریباً بیس سال سے زیاد ہ ہوگئے ہیں۔ میں نے عموماً ایرانی انقلاب کے سیاسی غلط فکر، عربوں کی سرزمینوں پر مسلک کی بنیاد پر تیار کردہ عسکری جنگجو پراکیسز کے سبب ،مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامینائی کی ولایت فقہیہ کی سیاسی مسند اور ایرانی پاسداران انقلاب کے عربوں کے خلاف استعمال پر بہت کچھ لکھا ہے مگر ساتھ ہی میں نے ایرانی ڈاکٹر مصدق مرحوم، صدر ڈاکٹر خاتمی، صدر ڈاکٹر ہاشمی اور اصلاح کارواں کے حق میں بھی لکھا ہے جبکہ ہمیشہ جواد ظریف کے فن استدلال کے استعمال کی تعریف کرتا رہا ہوں جس طرح مرشد اعلیٰ علی خامینائی اور وزیر خارجہ جواد ظریف پر امریکی پابندیوں پر ایرانی غم و غصہ نمودار ہوا ہے اس کی روشنی میں اسلام آباد میں ایرانی اذاہان نے مجھ پر بار بار جو پابندیاںلگوائیں آج ان کا ذکر کرکے ایرانی پاکستانی تاریخ میں کچھ سچا مواد حوالہ تاریخ کررہا ہوں۔ پہلے ایک بار پھر میں جواد ظریف پر لگنے والی امریکی پابندیوں کو غلط کہتاہوں اور اس کی مذمت کرتا ہوں۔ ایرانی تیل کی فروخت پر لگی امریکی پابندیوں کو بھی غلط کہتا ہوں اور ان پابندیوں کی کھل کر مذمت کرتا ہوں۔ انسانی فطرت ہے کہ جب آپ پر ظلم کرنے والے پر کسی اور طرف سے ظلم ہوا ہو تو انسان خوش ہوتا ہے۔ مجھے آیت اللہ علی خامینائی اور جواد ظریف پر لگی پابندیوں پر خوش ہونا چاہیے مگر میں ہرگز خوش نہیں بلکہ مغموم ہوں کہ ایرانی قوم کے لئے دکھ اور غم مزیددیکھ رہا ہوں۔   

ٹرمپ عمران ملاقاتیں‘ مسئلہ کشمیر اور موثر عرب کردار!

ٹرمپ عمران ملاقاتیں‘ مسئلہ کشمیر اور موثر عرب کردار!

27 days ago.

انتخابات جیتنے کے لئے نریندر مودی نے فروری میں پلوامہ کا ڈرامہ رچایا‘ پھر بالاکوٹ پر بھی فضائی حملہ کیا مگر ائیر فورس نے پاکستانی مہارت تامہ کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی طیارے مار گرائے‘ کمال ذہانت سے تب بھی پلوامہ واقعہ اور بالاکوٹ پر حملے کو بھارتی سیاست دانوں نے بی جے پی کے نئے اقتدار کے لئے بھرپور طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور انڈیا میں جنگ تقریباً شروع ہونے جارہی تھی۔ مگر اس وقوع پذیر ہوتی جنگ کو صرف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اماراتی ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیان نے کمال ذہانت و فطانت اور اپنی بروقت مدبرانہ مداخلت سے ناممکن بنا دیا تھا۔ لہٰذا اب تو ہمیں عربوں کی سفارتی مہارت کی کامیابیوں کا کھلے عام اعتراف کرنا چاہیے۔ ماضی قریب میں عربوں کا او آئی سی کانفرنس جوکہ ابوظبی میں منعقد ہوئی۔ اس  میں بھارتی وزیر خارجہ کو مہمان خصوصی بنانا‘ مسئلہ کشمیر کو اس کے سامنے رکھنے کے اماراتی عمل کو کھل کر عرب فہم و فراست کہنا ہوگا کہ یہی حقیقت ہے جبکہ او آئی سی  مکہ کانفرنس میں بھی کشمیر کو بھرپور اہمیت ملی تھی۔  

عمران خان‘ ٹرمپ ملاقاتیں روحانی ونجوم میزان ہیں

عمران خان‘ ٹرمپ ملاقاتیں روحانی ونجوم میزان ہیں

a month ago.

 وزیراعظم امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔ خوبصورت اور قابل تحسین بات یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے نہیں بلکہ عام کمرشل پرواز سے نجی طیارے کے ذریعے امریکی سفر پر روانہ ہوئے ہیں جبکہ وہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے میں ٹھہریں گے۔ یوں کفایت شعاری اور سادگی کا وہ عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں جبکہ ماضی کے وزرائے اعظم کا ایسا دورہ لاکھوں  ڈالر خرچ کراتا تھا جبکہ وزیراعظم عمران خان کا موجودہ دورہ امریکہ شائد 60-50ہزار ڈالر میں مکمل ہو جائے گا جبکہ 5سال بعد پاکستانی حکمران امریکہ میں ہوگا۔ حسن کی بات یہ ہے کہ یہ دورہ پاکستانی وزیراعظم  نہیں بلکہ امریکی صدر کی خواہش پر ہو رہا ہے ۔ اس دورے میں مزید حسن اور استحکام یوں واضح  ہے کہ وزیراعظم اکیلے امریکہ نہیں گئے بلکہ ان کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی ہمراہ ہیں۔ چلتے چلتے اشارہ کرتا چلوں کہ فوج پر داخلی طور پر جو ’’دبائو‘‘ تھا اور غیر ملکی دبائو بھی تھا اور  جو مذہبی جنوں و اشتعال کے باعث پیدا شدہ دبائو تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے۔ اتحاد تنظیمات دینی مدارس کے ساتھ اور ثقہ سنی و شیعہ علماء کرام کے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود  اور وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کے ساتھ ملاقاتیوںکا اچھا نتیجہ سامنے آگیا ہے۔ لہٰذا جو مذہبی سیاسی شخصیات حکومت کو اور فوج کو اپنے غیر سنجیدہ سیاسی مفادات کے حصول کے لئے دن رات بلیک میل کر رہی تھیں۔ ان شاء اللہ ان کی یہ بلیک میلنگ اور مذہبی سیاسی نوعیت کا دبائو ختم ہورہا ہے۔ فوج اور حکومت مکمل طور پر ریاستی مفادات اور عوامی مفادات کے لئے یک جان دو قالب ہے ماضی بعید میں سوات میں مذہبی شدت پسندی نے جو بغاوت پیدا کی تھی۔ ’’صوفی‘‘ کی سادہ لوح دین سیاست نے جو ریاست کو غیر مستحکم کیا تھا اس کا ازالہ دیر  فوج کو کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں مذہبی شدت پسندی‘ جنون کی  کی بنیاد پر جو بغاوت اٹھی تھی‘ فوج نے اسے نہ صرف کچل ڈالا بلکہ قبائلی عوام کو ووٹ کا حق دیکر اپنا مستقبل خود محفوظ بنانے کا نادر اور تاریخی موقعہ دے دیاہے۔ یہ کارنامے ماضي میں جنرل کیانی‘ جنرل راحیل شریف اور اب جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر قیادت فوج پایہ تکمیل تک پہنچا رہی ہے۔  

 چاند گرہن کے ممکنہ اثرات 

 چاند گرہن کے ممکنہ اثرات 

a month ago.

16 اور17 جولائی یعنی منگل اور بدھ کی درمیانی رات چاند گرہن ہوگا جو جزوی طور پر برصغیر کے ممالک میں بھی نظر آئے گا۔15جولائی کی شام لاہور سے روحانی وژن شخصیت سے رابطہ ہوا۔ ان کے مطالعہ کے مطابق رات ایک بجے کے قریب گرہن ہوگا۔ دوبجکر31 منٹ پر اس کا عروج ہوگا۔ دورانیہ گرہن تقریباً تین گھنٹے متوقع ہے۔ صبح چار ساڑھے چار بجے یعنی صبح کی نماز تک گرہن موجود رہ سکتا ہے۔ دنیا بھر کے اکثر ممالک میں یہ گرہن دکھائی دے سکتا ہے۔ میں اکثر کالموں میں سورج گرہن اور چاند گرہن کی سنت نبویؐ کے مطابق دو رکعت نماز گرہن پڑھنے کی استدعا کیا کرتا ہوں۔ چند کالم میں نے نجوم اور روحانی وژن کی روشنی میں لکھے ہیں حالانکہ میرا استدراک  یہ ہے کہ نجوم شمس و قمر‘ سیارے‘ ستارے‘ زمین و آسمان یہ سب مخلوق ہوکر بھی قدرت الٰہی کے مظاہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوھی فیصلہ ساز قوت و حیثیت کو ان سب مخلوقات کے ساتھ وابستہ منفی و مثبت اثرات کے ذریعے حصہ کائنات بنایا ہوا ہے۔ 

بھارت‘ متشدد ہندتوا اور سیکولر ہندو ازم کشمکش

بھارت‘ متشدد ہندتوا اور سیکولر ہندو ازم کشمکش

2 months ago.

ہم بھارت میں سیکولر ازم‘ پلورل ازم‘ لبرل ازم کے خاتمے اور ہندو ازم کے سماجی و معاشرتی متشدد اسلوب کو ریاستی فیصلہ ساز بننے تک پر بحث کر رہے ہیں۔ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ ماضی بعید میں برصغیر مسلمان بادشاہوں سے قبل متعدد ریاستوں میں تقسیم تھا‘ راجے‘ مہاراجے حکمران تھے۔ ادیان‘ قبائل‘ تہذیبوں‘ ثقافتوں کی الگ الگ دنیا تھی۔ یہ صرف مسلمان فاتحین اور پھر بادشاہ بننے والے ہی تھے جنہوں نے اپنا دین محکوم ریاستوں میں جبراً نافذ نہ کیا بلکہ اپنی بیورو کریسی‘ فوج اور کابینہ میں ہندو سماج کی نمایاں شخصیات کو خوشی سے وافر حصہ دیا۔ یوں برصغیر میں صرف مسلمانوں نے وفاقیت‘ اجتماعیت اور انسانیت نوازی‘ رواداری‘ تحمل و برداشت کے اصول نافذ کئے۔ تغلق کا عہد حکومت دیکھ لیں۔ ہر دین اور مسلک پر پابندی تھی کہ اس کے مذہبی جلوس‘ اجتماع‘ بازاروں یا کھلی جگہوں پر ہرگز سامنے نہیں آئیں گے بلکہ اپنے گھروں‘ حویلیوں‘ مذہبی عبادت گاہوں کے اندر موجود رہیں گے تاکہ کسی ایک دین یا مسلک کے سیاسی اور ثقافتی پہلو سے کسی دوسرے دین یا فرقے یا تہذیب و ثقافت کو اعتراض ہو نہ ہی سماجی اشتعال و جنون کا راستہ بنے۔ یہ اصول مسلمانوں اور ان کے تمام مسالک پر ہندوئوں پر بھی‘ سب پر یکساں نافذ تھا۔ ریاست ہی پر دین کی عبادت گاہوں اور تعمیر و انتظام و انصرام اور درکار مالی معاملات کا بندوبست کرتی تھی۔ سلطان تغلق ہوں یا مغل بادشاہ ہوں‘ شیر شاہ سوری ہو یا شہاب الدین غوری اس اصول کو سب نے اپنایا۔ موجودہ کرناٹک ( میسور) سے وابستہ سلطان ٹیپو کا عہد حکمرانی ہندوئوں کے لئے اتنا ہی مفید اور خیر خواہ تھا جتنا مسلمانوں کا‘ جو لبرل ازم‘ سیکولر ازم انسانیت نوازی ہندوئوں کو سلطان ٹیپو نے میسور یعنی موجودہ کرناٹک میں دی اس کی بنیاد پر ہی ہندوئوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا رہا ہے کہ سلطان ٹیپو کو کرناٹک کا ہیرواور ثقافتی حکمران مانا جائے۔ یہ تحریک مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندوئوں نے اٹھائی تھی۔ اس ٹیپو‘ مغل‘ تغلق‘ سوری حکمران روئیے کو ہم جلال الدین اکبر کے پچاس سالہ عہد حکمرانی میں بھی آسانی سے دیکھ سکتے  ہیں۔  

گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

گولڈن ٹمپل ‘ خالصتان اور شیوا جی

2 months ago.

6جون کو اندرا گاندھی حکومت کی فوج نے گولڈن ٹمپل پر حملہ آورہو کر ہزاروں کی تعداد میں سکھوں کا قتل عام کر دیا تھا۔ ردعمل میں ایک سکھ محافظ نے وزیراعظم اندرا گاندھی کا قتل کر دیا۔  اندرا قتل کے بعد ہندوئوں  نے سماجی سطح پر سکھوں کا پھر قتل کر دیا تھا۔  یہ سکھ مظلومیت کا انڈیا عہد ہے یا ہندو ازم کا سکھ مذہب‘ گولڈن ٹمپل اور سکھ سیاسی شعور کو نیست و نابود کرنے کا عہد ہے؟ امریکہ میں خالصتان کی تحریک اتنی موجود ہے کہ امریکی سیاست کے افراد سکھوں کی حمایت اکثر کرتے ہیں اور خالصتان کے قیام کے جواز کو قبول کرتے ہیں۔ اس سال  بھی 6جون کو گولڈن ٹمپل میں سکھوں نے اندرا گاندھی کے ظلم کو یاد کیا‘ خالصتان حاصل کرنے کے نعرے لگائے اور بھارت مردہ باد کہا تو مودی حکومت نے گولڈن ٹمپل میں 6جون کے سکھ اجتماع کو پاکستانی شرارت قرار دیا۔ کیا امریکہ میں بھی سکھوں کی حمایت میں سرگرم امریکی پاکستانی سازش میں مبتلا ہیں؟