تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

3 days ago.

انتظامی اعتبار سے حکومت نے امور مملکت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور وسیع تر تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر عشرت حسین کو گورنینس ریفارمز کا ٹاسک دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف شعبہ جات کی ازسرِنو تنظیم کی سفارشات مرتب کیں اور ان کے انتظامی کنٹرول کی بابت نگران وزارتوں میں رد وبدل تجویز کیا۔ وفاقی کابینہ نے ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایک سالہ حکومت کا منفرد پہلو کابینہ کے ہر ہفتے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہونا ہے۔ تمام اہم فیصلے کابینہ اجلاس میں لئے جاتے ہیں چنانچہ وفاقی حکومت بہ لحاظ معنی پہلی مرتبہ بروئے کار آتی دکھائی دی ہے۔ قبل ازیں وفاقی حکومت کے نام پر شخصی فیصلے (وزیراعظم) ٹھونسے جاتے تھے اور کابینہ اجلاسوں کا رواج نہ تھا جس پر عدالت عظمیٰ معترض ہوتی اور وفاقی حکومت کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ وزیراعظم نہیں بلکہ وفاقی کابینہ ہی وفاقی حکومت کی اصطلاح پر پورا اترتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے وفاقی حکومت کا ایک اچھا فیصلہ وفاقی محکموں میں اعلی مناصب پر تعیناتیوں کیلئے ہر وزارت کی سطح پر متعلقہ وزیر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کا قیام ہے۔ عدالتِ عظمی کے احکامات اور سیکورٹی ایکسچینج اکمیشن آف پاکستان کے قوانین کی روشنی میں تمام محکموں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی بھرتی کیلئے پبلک نوٹس کے طریقہ کار کو اختیارکیا جارہا ہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی کی تقرری اس ضمن میں ایک مثال ہے۔  

جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

17 days ago.

سیاسی قیادت کاآمرانہ رویہ ہمارے سیاسی نظام کی سب سے بڑی برائی اور جمہوریت کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس سوچ کا شاخسانہ ہے کہ اپنے سینیٹرز کو دغا باز کہا جا رہا ہے حالانکہ انہوں نے اپنا ووٹ آزادانہ کاسٹ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری کام کیا ہے۔ حیرت ہے ان دانشوروں پر بھی جو سیاسی قیادت کے خیالات کے اسیر بن کر ان کی رو میں بہے جا رہے ہیں اور جمہوریت کاخاتمہ بالخیر جیسے مضامین لکھ کر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو جمہوریت کی بربادی سے تعبیر کر رہے ہیں۔آئین پاکستان کی دفعہ 63Aکے تحت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات اور اعتماد اور عدم اعتماد کی تحاریک پرووٹنگ اور فنانس بل یاآئینی ترمیم پر ووٹنگ میں اگر کوئی رکن غیر حاضر رہتا ہے یااپنی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے برخلاف ووٹ کاسٹ کرتا ہے تو اس پراپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کا الزام لگتا ہے اور اس کو نااہل قرار دیاجا سکتا ہے۔ یہ پارلیمان کی اجتماعی دانش ایک اظہار ہے ورنہ یہ ممکن تھا کہ سیاسی قیادت اپنے ممبران کے مرضی سے کھانسنے اور ہنسنے پر بھی پابندی عائد کر دیتی۔  

عدالتی انقلاب

عدالتی انقلاب

22 days ago.

ہر قوم کا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے، ہماری قوم کا مزاج تماش بینی والا ہے۔ تماشے دیکھنے والی قوم کو حکمران بھی تماشے دکھانے والے ملتے ہیں جو مسائل کے دیرپا حل پر توجہ دینے کی بجائے ان منصوبوں پر کام کرتے ہیں جن کی ظاہری نمائش ہو تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور ان کی بلے بلے ہو۔ گذشتہ 35سالہ ہماری تاریخ میں واہ واہ اور بلے بلے کے علاوہ کوئی ٹھوس تعمیری کام نہیں ہوا۔ ایک آدھ استثنیٰ بطور مثال شاید ہمیں مل جائے لیکن ہر شعبے میں قوم کے عمومی مزاج کے مطابق بات نمائشی اقدامات سے آگے نہیں بڑھی۔ جسٹس ریٹائرڈافتخار محمد چوہدری بحیثیت چیف جسٹس بحال ہوئے تو ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن 2009 ء کی نیم مردہ جوڈیشل پالیسی دینے کے علاوہ انہوں نے فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کچھ نہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک ایک بے مثال عوامی بیداری کی لہر سے تعبیر کی جائے گی مگرمئورخ  ضرور لکھے گا کہ عوام کا گھروں سے نکلنا بیکار گیا کیونکہ بحالی کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے آپ کو ان کاموں میں الجھا لیا جوکہ  ان کے کرنے والے نہیں تھے اور وہ کام نہ کیے جو انہیں بحیثیت چیف جسٹس انصاف کی فوری فراہمی کے لیے کرنے چاہیے تھے۔ باالفاظ دیگر ہمارے حکمرانوں کی طرح وہ بھی نمائشی کام کرنے والے چیف جسٹس ثابت ہوئے۔ بعد ازاں آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے بھی اصل کرنے والے کام پر توجہ نہ دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھوڑی گرمجوشی دکھائی مگر کام ان کے بھی سب نمائشی تھے ۔   

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

28 days ago.

سیاست میں کوئی کسی کو ڈنڈا نہیں مارتا نہ ہی کوئی مارنے دیتا ہے  یہ آپ کی اچھی چال ہوتی ہے جو مخالف کو چت کر دیتی ہے۔ عمل کی آواز الفاظ سے اونچی ہوتی ہے۔ سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی گردان کرنے والوں کو وزیر اعظم عمران خان نے وہاں جا کر جواب دیا ہے جہاں وہ اپنا سلیکٹڈ کا راگ پہنچانا چاہتے تھے۔ امریکہ کی تاریخ میں کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کے استقبال کے لیے اتنی بڑی تعداد میں افراد کبھی جمع نہیں ہوئے جتنے کیپٹل ارینا سٹیڈیم واشنگٹن میں عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لیے آئے۔ اس بے مثال تاریخی اجتماع کو دیکھ کر ہمارے نام نہاد جمہوریت پسندوں کے امریکی گاڈفادر نے بھی مرعوب ہو کر وزیر اعظم عمران خان کو مقبول عوامی رہنما قرار دیا ہے تو یقینا ًمسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پالیسی سازوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہو گا کیونکہ ان کی تمام تر تال میل غیر ملکی طاقتوں کے سامنے یہ ہوتی ہے کہ ہم ہی آپ کے خادم ہیں اور ہم ہی ہیں جو پاکستانی عوام کے مقبول رہنما ہیں۔  

ر یکوڈک مقدمہ اور ہماری لاپرواہیاں

ر یکوڈک مقدمہ اور ہماری لاپرواہیاں

a month ago.

گزشتہ ہفتے دو اہم مقدمات میں پاکستان کو عالمی عدالتوں کی جانب سے بھاری جرمانہ عائد کئے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربٹریشن(LCIA)کے فیصلے کے خلاف پاکستان نے اپیل دائر کر رکھی تھی۔ لیکن ہائی کورٹ نے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے براڈشیٹ کے حق میں پاکستان کو 5.21ارب روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ براڈشیٹ نامی کمپنی کو جنرل پرویز مشرف کے دور میں 150پاکستانیوں کے بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کی کھوج کے لئے نیب نے ہائر کیا تھا لیکن 2003ء میں نیب نے ایگریمنٹ ختم کر دیا جس کے خلاف براڈشیٹ نے لندن کی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا اور دسمبر 2018ء میں عدالت نے نیب اور حکومت پاکستان کو غلط انداز میں ایگریمنٹ ختم کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 33ملین ڈالرز  کی ادائیگی کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ 22ملین  ڈالرز کی اصل رقم کی ادائیگی کے علاوہ 11ملین ڈالرز لاگت اور نقصانات کی مد میں ہیں۔ پاکستان نے ان مقدمات میں جو نقصان کیا ہے وہ اس کے سوا ہے۔ مارچ 2019ء میں لندن ہائی کورٹ میں جو اپیل کی گئی اور جس کا فیصلہ بروز جمعہ بتاریخ 12جولائی 2019ء کو آیا ہے پر حکومت  پاکستان کے 192000پائونڈز خرچ ہوئے ہیں جن کی پاکستانی روپے میں مالیت 3کروڑ84لاکھ روپے بنتی ہے۔  

وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

2 months ago.

ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ بجٹ تقریر کرتے وقت وزیر خزانہ اعداد وشمار کو یوں پیش کرتا ہے جیسے عوام کی ہر سہولت کو مدِنظر رکھ کر ہر مد میں رقم مختص کی گئی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ ہر حکومت محدود آمدن کے تناظر میں جو بجٹ بناتی ہے اس میں عوام کو تمام سہولتیں ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم ہے۔ حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے اور یہ خسارہ غیر ملکی قرضے لیکر پورا کیا جاتا ہے۔ اگلے بجٹ کا زیادہ تر حصہ ان لئے گئے قرضوںکا سود اتارنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس مالی سال کے بجٹ میں بھی 2891ارب روپے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے رکھے گئے ہیں۔ دوسرا بڑا خرچہ دفاع پر اٹھتا ہے۔ رواں سال پاک فوج نے اپنے بجٹ میں کمی لانے کا اعلان کیا ہے جو سرحدوں پر جاری کشیدگی اوراندرون ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ کے تناطر میں بہت بڑی بات ہے لیکن اس کے باوجود دفاعی بجٹ 1152ارب روپے کا ہے یعنی قرضوں کی اقساط اور دفاع پر مجموعی طور پر 4043ارب روپے خرچ ہوں گے۔ واضح رہے کہ کل ملکی بجٹ 7036ارب روپے کا ہے چنانچہ بجٹ کا 57فیصد گزشتہ ادوار میں لئے گئے قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں لگ رہا ہے۔ پنشن ایک بہت بڑی حکومتی ذمہ داری بنتی جا رہی ہے۔ 421ارب روپے اس سال پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں جبکہ431ارب روپے سول حکومت کو چلانے کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔ ان اخراجات کی وجہ سے وفاقی ترقیاتی بجٹ سکڑ کر700ارب روپے رہ گیا ہے۔ دریں حالات وفاقی حکومت نے اپنے تئیں ایک بہترین بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے خاص توجہ دی گئی ہے۔   

بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

3 months ago.

ارادہ تھا کہ بھارتی جمہوریت کی ناکامیوں پر لکھوں گا اور حالیہ انتخابات کے نتائج کے تناظر میں قارئین کے سامنے یہ بات رکھوں گا کہ جب بدمعاش’ چور اچکے‘ رسہ گیر' قاتل اور بدکار اراکین پارلیمنٹ بن جاتے ہیں تو ان پر مشتمل پارلیمنٹ سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ سوچ اس لئے پیدا ہوئی کہ بھارتی انتخابات میں جیتنے والے 543اراکین میں سے 233یعنی 40فیصد اراکین کیخلاف کریمنل مقدمات درج ہیں۔ ایک رکن جن کا تعلق نام نہاد سیکولر جماعت کانگریس کے ساتھ ہے پر 204 مقدمات قائم ہیں۔ چور اچکوں اور قاتلوں کی یرغمال جمہوریت کا جائزہ لینے کیلئے جب مختلف پہلوں پرتحقیق کی تو ایک حوالے سے بڑی حیرت ہوئی۔ تمام تر خرابیوں کے باوجودجمہوریت کے تسلسل نے بھارتیوںکو غربت کی لکیر سے باہر نکالا ہے۔ 1992 کی معاشی ریفارمز کے بعد سے غربت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اب تک 270ملین بھارتی غربت سے نجات پا چکے ہیں۔ دسمبر 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک منٹ میں 44بھارتی غربت کی زنجیروںکو توڑ کر باہرنکل رہے ہیں چنانچہ 2019 کابھارت دنیا کی سب سے غریب آبادی رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ اب یہ طوق نائیجیریا کے گلے میں ہے جہاں پر ایک منٹ میں 29نائیجیریائی خط افلاس سے نیچے جا رہے ہیں۔ چین ، بھارت میں جس بڑی تعداد میںلوگ خوشحال ہوئے اس نے دنیا کے غربت کے انڈکس کو تبدیل کر دیا ہے 2010-11 میںدنیا کی آدھی آبادی غریب تھی جبکہ ایک ارب آبادی انتہائی غریب شمار تھی ۔  

اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

3 months ago.

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس افطار ڈنر کا مقصد کیا تھا۔ حکومت کیخلاف دونوں بڑی جماعتوںکا غیراعلانیہ اتحاد تو پہلے سے قائم ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کیساتھ مکمل تعاون کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمینی حاصل کرنے کیلئے ن لیگ نے جتنا زور لگایا اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ پیپلز پارٹی نے شور مچایا کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی کا یہ مطالبہ کوئی اصولی مطالبہ نہیں تھا کیونکہ اگر یہ ان کا اصولی موقف ہوتا تو وہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیتے لیکن وہاں انہوں نے اپنے ممبر اسمبلی کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیا۔ اس ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوںکی اصول پسندی درحقیقت کیا ہے؟ کیا لوگوں کو یاد نہیں کہ یہ ایک دوسرے کے متعلق ماضی قریب میں کیا کہتے رہے ہیں؟ نواز شریف آصف زرداری کیخلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے اور میموگیٹ میں غداری کا مقدمہ ان کیخلاف قائم کرنے کی کوشش کی۔   

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

4 months ago.

کسی ملک کا جمہوری نظام بڑی حد تک سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا کمزور ہونا ہے۔ سیاسی جماعتیں برائے نام ہیں درحقیقت معاشرے کے بااثر افراد نے امداد باہمی کی انجمنیں بنا رکھی ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ اور ورکنگ دونوں پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ویسے ہی دودھ پی کر سویا ہوا ہے وگرنہ کیا یہ ممکن ہے کہ سیاسی جماعتیں ڈمی الیکشن کروائیں یا نام نہاد الیکشن ایسے انداز میں منعقد ہوں جن کا جمہوری روایات یا طریقہ کار سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی قبضہ مافیا کو موقع فراہم کیا اور آج ایک آدھ استثنیٰ کیساتھ جس سیاسی جماعت کا جائزہ لیں تو ایک مخصوص گروہ ہر جماعت پر قابض ہے۔ سیاسی جماعتیں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں چنانچہ اس گندے جوہڑ سے جمہوری نظام کی سیرابی کیونکر اور کس طرح ہو رہی ہوگی یہ سمجھنے کیلئے پاکستان کی پوری تاریخ حاضر ہے۔   

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

5 months ago.

قدرت جب کسی قوم پر مہربانی کا ارادہ کرتی ہے تو اسے اچھے رہنما عطا کرتی ہے۔ کسی قوم کو ''دیدہ ور'' کا برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا رہنما نصیب ہوا ہے جس کی اپنی سوچ' اپنی اپروچ' اپنا ویژن اور اپنا مشن ہے۔ عمران خان وہ رہنما ہیں جو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں۔ وہ مشورہ دینے والوں کے پیچھے چلنے والے نہیں ہیں۔ مشورہ یقینا وہ کرتے ہیں لیکن اپنی سوچ اور اپنے ویژن کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمرانی کا واضح نصب العین رکھتے ہیں۔ جب وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو بعض نام نہاد مذہبی سیاستدانوں کی طرح جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے یہ بات نہیں کہتے بلکہ ان پر واضح ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نصب العین کیا تھا۔ بروز بدھ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے پروگرام’’احساس‘‘کی تقریب کے دوران انہوں نے اس ضمن میں جو کچھ کہا وہ بہت سے دلوں کو چھو گیا۔ انہوں نے ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنی انسپائریشن بیان کی اور کہاکہ  اصل تبدیلی یہ ہے کہ تمام نظام کو اس طرح ڈھالا جائے کہ یہ معاشرے کے غریب اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں مساوی مواقع دے کر اوپر اٹھانے کیلئے بروئے کار آئے۔ یہ ہے ریاستِ مدینہ کی اصل روح۔