ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اور عمل

ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اور عمل

3 months ago.

میرے سامنے اس وقت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی کی تفصیل موجود ہے اور میں ان قائدین کے اعترافات پڑھ کر حیران ہو رہا ہوں کہ جو آرمی ایکٹ بل کے تناظر میں قیادت سے سراپا سوال ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کہاں گیا۔ ان قائدین میں مشہور زمانہ باغی مخدوم جاوید ہاشمی بھی موجود ہیں، جنہوں نے حسب عادت قیادت کے فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے آرمی ایکٹ کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ ہاشمی صاحب جیسے لوگ وقتی واہ واہ کے چکر میں ہمیشہ ایسی لائن لینے پر مجبور ہوتے ہیں جسے ایک مخصوص طبقہ سراہتا ہے اور ان کی بلے بلے ہو جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت نہیں تھی لیکن اس کی صفوں میں موجود بعض نادان اور بعض مخصوص ذہنیت کے حامل افراد نے فوج کی خواہ مخواہ مخالفت کو مسلم لیگ ن کا ایجنڈا بنانے کی کوشش کی اور اس سعی لاحاصل میں پاکستان کا بھی نقصان کیا اور اپنی جماعت کی لٹیا بھی ڈبو دی۔ جن دنوں مسلم لیگ ن پانامہ کیس میں فوج مخالف سٹینڈ لے رہی تھی ایک لیگی رہنما جو حکومت اور جماعت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، نے مجھے ایک نجی محفل میں بتایا کہ جماعت کے اکثریتی رہنما اس موقف سے نالاں ہیں‘انہوں نے بعض لیگی رہنمائوں کو اس غلط موقف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جب کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والے جلسے میں بھی توپوں کا رخ خواہ مخواہ فوج کی جانب موڑ دیا جائے گا تو اس کا ردِعمل بھی یقینی طور پر آئے گا۔ الغرض مسلم لیگ ن نے فوج مخالف بیانئے کو اپنی سیاسی جدوجہد کی بنیاد بنا کر وہ فاش غلطی کی جس کا خمیازہ نہ صرف بحیثیت جماعت اس نے بھگتا بلکہ قوم اور ملک کا بھی نقصان کیا۔ دشمن ہماری فوج کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے اور جب ہماری اپنی سیاسی جماعتیں اپنی غلطیاں چھپانے کی خاطر فوج پر دشنام طرازی کی مرتکب ہوتی ہیں تو درحقیقت وہ دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اگر لگا ہی دیا تھا تو اس کا مخاطب ادارہ نہیں بلکہ اہل سیاست کو ہونا چاہئے تھا جو ہمیشہ عوام کے ووٹ کی تذلیل کرتے ہیں اور جمہوریت کی اصل روح کو اپنی طرز حکمرانی سے پامال کرتے ہیں۔  

کوالالمپور کانفرنس اور اتحاد امت

کوالالمپور کانفرنس اور اتحاد امت

3 months ago.

اتحاد امت ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر آسان نہیں ہے‘ مسلمانان عالم کے دلوں میں اتحاد کی شدید خواہش ہے مگر مسلمان ممالک کے حکمران اپنے شخصی مفادات کی وجہ سے اس عظیم کام کے آڑے آجاتے ہیں۔ مسلمان دنیا میں اسلام اور اپنی روایات کے ساتھ مخلصانہ اطاعت کا عالم کیا ہے اس کے بارے میں جاننا مقصود ہو تو گیلپ پول کی شائع کردہ کتاب     "WHO SPEKS FOR ISLAM? WHAT A BILLION MUSLIM REALLY THINK" کا  مطالعہ کیجئے یہ کتاب گیلپ کی 6سالہ طویل ریسرچ کا نتیجہ ہے۔ 2008ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کی ریسرچ سٹڈی پچاس ہزار انٹرویوز پر مشتمل ہے جو 35بڑی آبادی والے مسلمان ممالک میں کئے گئے ہیں۔ اس بنیاد پر مذکورہ گیلپ پول کو 90فیصد مسلمان آبادی کی خواہشات اور جذبات کو سمجھنے کے لئے سب سے جامع سٹڈی قرار دیا جاتا ہے ۔ مسلمان آبادی کے  ان جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران کی مجلس شوریٰ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میڈیا جس طرح مسلمان عوام کو دن بدن قریب لارہا ہے اس سے مسلم امہ کے اتحاد کی صورت گری ہونے کی قوی امید ہے کیونکہ ابھی تک جو کوششیں اتحاد امت کے ضمن میں ہوئیں وہ اس لئے کامیاب نہ ہوسکیں کہ ان کا ہدف عوام کے اتحاد کی بجائے حکمرانوں کا اتحاد تھا۔ مغربی قوتوں نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلمان دنیا کو چھوٹی بڑی سلطنتوں میں اس انداز سے تقسیم کیا تاکہ باہمی رنجشوں کو تقویت ملتی رہے اور وطنی مفادات کے تابع رہ کر قومی ریاستوں کا وجود ہی واحد نصب العین بن کر رہ جائے۔

سیرت النبیﷺ اور ہمارے ذرائع ابلاغ

سیرت النبیﷺ اور ہمارے ذرائع ابلاغ

5 months ago.

12ربیع الاول جب بھی آتا ہے تو میں بحیثیت صحافی و کالم نگار یہ غور و فکر ضرور کرتا ہوں کہ میرے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے تعلیمات کیا ہیں اور ہم کس حد تک ان تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ برسوں قبل قومی سیرت کانفرنس جس کا عنوان ہی’’سیرت النبیﷺ کی روشنی میں ذرائع ابلاغ کا کردار‘‘ تھا میں صحافتی برادری کی نمائندگی کا موقع میسر آیا تو اپنی معروضات کی تیاری میںصحافتی برادری کے دفاع کی بجائے میرے پیش نظر یہ پہلو رہا کہ اپنی اور مروجہ صحافتی اقدار کی اصلاح تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں کس طرح کی جا سکتی ہے۔ میری تقریر سے قبل علمائے کرام نے اپنے خطبات میں الیکٹرانک میڈیا کو بطور خاص ہدف بنایا لیکن ذرائع ابلاغ کا تذکرہ کرتے وقت وہ یہ بھول گئے کہ آفرینش آدم سے لے کر آج تک انسانی تاریخ میں سے سب اہم اور بڑا ذریعہ ابلاغ تحریر کی بجائے تقریر رہی ہے۔ چونکہ ہمارا وطیرہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کو ٹھیک کرنا ضروری سمجھتے ہیں لہٰذا ہمیں دوسروں کی آنکھ کا بال تو دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر دیکھنے سے ہم محروم رہ جاتے ہیں۔ میرا جی چاہا کہ جوابی تقریر کا محور یہی نکتہ بناں مگر فقط ایک حدیث مبارکہ کو اس ضمن میں پیش کرنا ہی کافی سمجھا اور بات بنیادی مضمون کی جانب آگے بڑھا دی۔

آزادی مارچ، چھپے مقاصد، یاوہ گوئی اور فوج

آزادی مارچ، چھپے مقاصد، یاوہ گوئی اور فوج

5 months ago.

مولانا کا آزادی مارچ اب تک ایک سربستہ راز ہے۔ جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اپنے سفر کی ابتداء کرچکا ہوگا لیکن میرے سمیت پاکستان کے کسی شخص کو اس آزادی مارچ کے محرک کا علم ہے اور نہ ہی مولانا کی تحریک کے مقاصد کا کچھ پتہ ہے۔ عجب قسم کی یہ ساری جدوجہد ہے ۔ اس کو ’’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کارکنان کی موبلائزیشن آسان کام نہیں ہے، اس مارچ کو ناکام بنانے کے لئے حکومت کو کروڑوں روپے کے اخراجات کا بوجھ اٹھانا پڑا ہے تو اس آزادی مارچ کا انتظام کرنے کے لئے کتنی بڑی رقم کی ضرورت پڑی ہوگی۔ اس رقم کا بندوبست کہاں سے ہوا ہے اور کس نے بصورت دھرنا اضافی اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے یہ سب بھی ابھی تک ایک راز ہے۔ دیکھا جائے تو علامہ القادری کی طرح مولانا فضل الرحمان کی طبیعت کا اُفتاد بھی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا اور وہ ’’فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا’’ کے مصداق ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت  بنی ہے مولانا اپنے ’’ملین مارچ‘‘ میں مصروف ہیں۔ یہ لفظ ’’ملین مارچ‘‘ بھی نجانے مذہبی رہنمائوں کی لغت میں کیسے در آیا ہے کہ اپنے ہر جلسے کو وہ ملین مارچ کا نام دیتے ہیں۔

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا!

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا!

6 months ago.

کسی تقریر میں سٹائل سے زیادہ اہم اس کے مندر جات اور مواد ہوتا ہے۔ لکھی ہوئی تقریر لیکن پراثر اس لیے نہیںہوتی کہ جذبات اور تقریر کے الفاظ میں ایک خلیج حائل ہوتی ہے اور بات دل کو وہی لگتی ہے جو کہ جذبے سے سرشار ہو۔ اقوام متحدہ میں عمران خان نے جو تقریر کی وہ سٹائل اور مواد کے لحاظ سے ایک شاہکار تقریر تھی۔ اس تقریر نے کشمیر کے حوالے سے خاص طور پرعالمی ضمیر کو زبردست انداز میں جھنجھوڑا ہے۔ کشمیر کے انتہائی الجھے ہوئے مسئلے کو جس آسان زبان میں وزیر اعظم نے دنیاپر واضح کیا ہے اس کی ماضی اور حال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سفارتی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے بہترین الفاظ کے چنا کے ساتھ انہوں نے دنیا بھر کے انسانوںخاص طور پراہالیان مغرب کو پیغام دیا ہے کہ مادیت اور انسانیت کے درمیان کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔ بھارت کی 1.3ارب لوگوں کی منڈی کو ذہن میں رکھ کر فیصلے کرنے ہیں یا پھر انسانیت کو مقدم جان کر کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہے۔  

جمہوریت اور اقبالؒ

جمہوریت اور اقبالؒ

6 months ago.

گزشتہ روزجمہوریت کا عالمی دن تھا۔ دن کی مناسبت سے اس دن میں نے جمہوری فلسفے کو سمجھنے کی اپنے تئیں کوشش کی۔ فلسفے کی بات ذہن میں آئی تو خیال آیا کہ ازمنہ قدیم سے لے کر اقبال تک بڑے فلسفیوں کا وزن زیادہ تر اشرافیہ کی حکومت کے پلڑے میں رہا ہے۔ سقراط  افلاطون  ارسطو مانشیسکو والٹیئر  ڈی تواکیل  رینان  گوئٹے  فیئشے  ایڈمنڈبرک اور کارلائل جیسے فلسفی ارسٹور کریسی  کی ہی حمایت کرتے رہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اپنے استاد آر اے نکلسن کے سوالات کے جواب میں فلسفہ خودی  اور خدا کی حکومت  (Kingdom of God)کی جو وضاحت پیش کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کی فکر بھی کسی حد تک روحانی جمہوریت کے تناظر میں بہترین افراد کی حکومت یعنی ارسٹو کریسی کے حق میں ہی تھی۔ اقبال ہر حال مغربی جمہوریت کو انسانیت کے حق میں بہترین نظام نہیں سمجھتے تھے۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ میں انہوں نے مغربی جمہوریت کو خوب رگیدا ہے چنانچہ ان کا ایک شعر تو اس حوالے سے ہمیشہ سنایا جاتا رہا ہے۔ 

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا سال

8 months ago.

انتظامی اعتبار سے حکومت نے امور مملکت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور وسیع تر تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر عشرت حسین کو گورنینس ریفارمز کا ٹاسک دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مختلف شعبہ جات کی ازسرِنو تنظیم کی سفارشات مرتب کیں اور ان کے انتظامی کنٹرول کی بابت نگران وزارتوں میں رد وبدل تجویز کیا۔ وفاقی کابینہ نے ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایک سالہ حکومت کا منفرد پہلو کابینہ کے ہر ہفتے باقاعدگی سے اجلاس منعقد ہونا ہے۔ تمام اہم فیصلے کابینہ اجلاس میں لئے جاتے ہیں چنانچہ وفاقی حکومت بہ لحاظ معنی پہلی مرتبہ بروئے کار آتی دکھائی دی ہے۔ قبل ازیں وفاقی حکومت کے نام پر شخصی فیصلے (وزیراعظم) ٹھونسے جاتے تھے اور کابینہ اجلاسوں کا رواج نہ تھا جس پر عدالت عظمیٰ معترض ہوتی اور وفاقی حکومت کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ وزیراعظم نہیں بلکہ وفاقی کابینہ ہی وفاقی حکومت کی اصطلاح پر پورا اترتی ہے۔ انتظامی لحاظ سے وفاقی حکومت کا ایک اچھا فیصلہ وفاقی محکموں میں اعلی مناصب پر تعیناتیوں کیلئے ہر وزارت کی سطح پر متعلقہ وزیر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کا قیام ہے۔ عدالتِ عظمی کے احکامات اور سیکورٹی ایکسچینج اکمیشن آف پاکستان کے قوانین کی روشنی میں تمام محکموں کے چیف ایگزیکٹو افسران کی بھرتی کیلئے پبلک نوٹس کے طریقہ کار کو اختیارکیا جارہا ہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی کی تقرری اس ضمن میں ایک مثال ہے۔  

جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

جمہوریت کی تباہی کا بڑا قصور وار کون؟

8 months ago.

سیاسی قیادت کاآمرانہ رویہ ہمارے سیاسی نظام کی سب سے بڑی برائی اور جمہوریت کی پستی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس سوچ کا شاخسانہ ہے کہ اپنے سینیٹرز کو دغا باز کہا جا رہا ہے حالانکہ انہوں نے اپنا ووٹ آزادانہ کاسٹ کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری کام کیا ہے۔ حیرت ہے ان دانشوروں پر بھی جو سیاسی قیادت کے خیالات کے اسیر بن کر ان کی رو میں بہے جا رہے ہیں اور جمہوریت کاخاتمہ بالخیر جیسے مضامین لکھ کر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو جمہوریت کی بربادی سے تعبیر کر رہے ہیں۔آئین پاکستان کی دفعہ 63Aکے تحت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات اور اعتماد اور عدم اعتماد کی تحاریک پرووٹنگ اور فنانس بل یاآئینی ترمیم پر ووٹنگ میں اگر کوئی رکن غیر حاضر رہتا ہے یااپنی پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے برخلاف ووٹ کاسٹ کرتا ہے تو اس پراپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کا الزام لگتا ہے اور اس کو نااہل قرار دیاجا سکتا ہے۔ یہ پارلیمان کی اجتماعی دانش ایک اظہار ہے ورنہ یہ ممکن تھا کہ سیاسی قیادت اپنے ممبران کے مرضی سے کھانسنے اور ہنسنے پر بھی پابندی عائد کر دیتی۔  

عدالتی انقلاب

عدالتی انقلاب

8 months ago.

ہر قوم کا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے، ہماری قوم کا مزاج تماش بینی والا ہے۔ تماشے دیکھنے والی قوم کو حکمران بھی تماشے دکھانے والے ملتے ہیں جو مسائل کے دیرپا حل پر توجہ دینے کی بجائے ان منصوبوں پر کام کرتے ہیں جن کی ظاہری نمائش ہو تاکہ لوگ واہ واہ کریں اور ان کی بلے بلے ہو۔ گذشتہ 35سالہ ہماری تاریخ میں واہ واہ اور بلے بلے کے علاوہ کوئی ٹھوس تعمیری کام نہیں ہوا۔ ایک آدھ استثنیٰ بطور مثال شاید ہمیں مل جائے لیکن ہر شعبے میں قوم کے عمومی مزاج کے مطابق بات نمائشی اقدامات سے آگے نہیں بڑھی۔ جسٹس ریٹائرڈافتخار محمد چوہدری بحیثیت چیف جسٹس بحال ہوئے تو ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن 2009 ء کی نیم مردہ جوڈیشل پالیسی دینے کے علاوہ انہوں نے فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کچھ نہ کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک ایک بے مثال عوامی بیداری کی لہر سے تعبیر کی جائے گی مگرمئورخ  ضرور لکھے گا کہ عوام کا گھروں سے نکلنا بیکار گیا کیونکہ بحالی کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے آپ کو ان کاموں میں الجھا لیا جوکہ  ان کے کرنے والے نہیں تھے اور وہ کام نہ کیے جو انہیں بحیثیت چیف جسٹس انصاف کی فوری فراہمی کے لیے کرنے چاہیے تھے۔ باالفاظ دیگر ہمارے حکمرانوں کی طرح وہ بھی نمائشی کام کرنے والے چیف جسٹس ثابت ہوئے۔ بعد ازاں آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے بھی اصل کرنے والے کام پر توجہ نہ دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے تھوڑی گرمجوشی دکھائی مگر کام ان کے بھی سب نمائشی تھے ۔   

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اور قبائلی اضلاع کے انتخابات

9 months ago.

سیاست میں کوئی کسی کو ڈنڈا نہیں مارتا نہ ہی کوئی مارنے دیتا ہے  یہ آپ کی اچھی چال ہوتی ہے جو مخالف کو چت کر دیتی ہے۔ عمل کی آواز الفاظ سے اونچی ہوتی ہے۔ سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی گردان کرنے والوں کو وزیر اعظم عمران خان نے وہاں جا کر جواب دیا ہے جہاں وہ اپنا سلیکٹڈ کا راگ پہنچانا چاہتے تھے۔ امریکہ کی تاریخ میں کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کے استقبال کے لیے اتنی بڑی تعداد میں افراد کبھی جمع نہیں ہوئے جتنے کیپٹل ارینا سٹیڈیم واشنگٹن میں عمران خان کی ایک جھلک دیکھنے اور ان کا خطاب سننے کے لیے آئے۔ اس بے مثال تاریخی اجتماع کو دیکھ کر ہمارے نام نہاد جمہوریت پسندوں کے امریکی گاڈفادر نے بھی مرعوب ہو کر وزیر اعظم عمران خان کو مقبول عوامی رہنما قرار دیا ہے تو یقینا ًمسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے پالیسی سازوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہو گا کیونکہ ان کی تمام تر تال میل غیر ملکی طاقتوں کے سامنے یہ ہوتی ہے کہ ہم ہی آپ کے خادم ہیں اور ہم ہی ہیں جو پاکستانی عوام کے مقبول رہنما ہیں۔