وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

وفاقی بجٹ‘ عوامی مشکلات اور امیدیں

2 days ago.

ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندا ہے۔ بجٹ تقریر کرتے وقت وزیر خزانہ اعداد وشمار کو یوں پیش کرتا ہے جیسے عوام کی ہر سہولت کو مدِنظر رکھ کر ہر مد میں رقم مختص کی گئی ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔ ہر حکومت محدود آمدن کے تناظر میں جو بجٹ بناتی ہے اس میں عوام کو تمام سہولتیں ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اخراجات زیادہ ہیں اور آمدن کم ہے۔ حکومت ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے اور یہ خسارہ غیر ملکی قرضے لیکر پورا کیا جاتا ہے۔ اگلے بجٹ کا زیادہ تر حصہ ان لئے گئے قرضوںکا سود اتارنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس مالی سال کے بجٹ میں بھی 2891ارب روپے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے رکھے گئے ہیں۔ دوسرا بڑا خرچہ دفاع پر اٹھتا ہے۔ رواں سال پاک فوج نے اپنے بجٹ میں کمی لانے کا اعلان کیا ہے جو سرحدوں پر جاری کشیدگی اوراندرون ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ کے تناطر میں بہت بڑی بات ہے لیکن اس کے باوجود دفاعی بجٹ 1152ارب روپے کا ہے یعنی قرضوں کی اقساط اور دفاع پر مجموعی طور پر 4043ارب روپے خرچ ہوں گے۔ واضح رہے کہ کل ملکی بجٹ 7036ارب روپے کا ہے چنانچہ بجٹ کا 57فیصد گزشتہ ادوار میں لئے گئے قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے میں لگ رہا ہے۔ پنشن ایک بہت بڑی حکومتی ذمہ داری بنتی جا رہی ہے۔ 421ارب روپے اس سال پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں جبکہ431ارب روپے سول حکومت کو چلانے کیلئے خرچ کئے جائیں گے۔ ان اخراجات کی وجہ سے وفاقی ترقیاتی بجٹ سکڑ کر700ارب روپے رہ گیا ہے۔ دریں حالات وفاقی حکومت نے اپنے تئیں ایک بہترین بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ زراعت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے خاص توجہ دی گئی ہے۔   

بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

بھارتی جمہوریت،غربت کا خاتمہ اور احساس پروگرام

18 days ago.

ارادہ تھا کہ بھارتی جمہوریت کی ناکامیوں پر لکھوں گا اور حالیہ انتخابات کے نتائج کے تناظر میں قارئین کے سامنے یہ بات رکھوں گا کہ جب بدمعاش’ چور اچکے‘ رسہ گیر' قاتل اور بدکار اراکین پارلیمنٹ بن جاتے ہیں تو ان پر مشتمل پارلیمنٹ سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ سوچ اس لئے پیدا ہوئی کہ بھارتی انتخابات میں جیتنے والے 543اراکین میں سے 233یعنی 40فیصد اراکین کیخلاف کریمنل مقدمات درج ہیں۔ ایک رکن جن کا تعلق نام نہاد سیکولر جماعت کانگریس کے ساتھ ہے پر 204 مقدمات قائم ہیں۔ چور اچکوں اور قاتلوں کی یرغمال جمہوریت کا جائزہ لینے کیلئے جب مختلف پہلوں پرتحقیق کی تو ایک حوالے سے بڑی حیرت ہوئی۔ تمام تر خرابیوں کے باوجودجمہوریت کے تسلسل نے بھارتیوںکو غربت کی لکیر سے باہر نکالا ہے۔ 1992 کی معاشی ریفارمز کے بعد سے غربت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اب تک 270ملین بھارتی غربت سے نجات پا چکے ہیں۔ دسمبر 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک منٹ میں 44بھارتی غربت کی زنجیروںکو توڑ کر باہرنکل رہے ہیں چنانچہ 2019 کابھارت دنیا کی سب سے غریب آبادی رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ اب یہ طوق نائیجیریا کے گلے میں ہے جہاں پر ایک منٹ میں 29نائیجیریائی خط افلاس سے نیچے جا رہے ہیں۔ چین ، بھارت میں جس بڑی تعداد میںلوگ خوشحال ہوئے اس نے دنیا کے غربت کے انڈکس کو تبدیل کر دیا ہے 2010-11 میںدنیا کی آدھی آبادی غریب تھی جبکہ ایک ارب آبادی انتہائی غریب شمار تھی ۔  

اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

اپوزیشن کا افطار ڈنر اور متوقع تحریک

26 days ago.

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس افطار ڈنر کا مقصد کیا تھا۔ حکومت کیخلاف دونوں بڑی جماعتوںکا غیراعلانیہ اتحاد تو پہلے سے قائم ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کیساتھ مکمل تعاون کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمینی حاصل کرنے کیلئے ن لیگ نے جتنا زور لگایا اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ پیپلز پارٹی نے شور مچایا کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی کا یہ مطالبہ کوئی اصولی مطالبہ نہیں تھا کیونکہ اگر یہ ان کا اصولی موقف ہوتا تو وہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیتے لیکن وہاں انہوں نے اپنے ممبر اسمبلی کو پی اے سی کا چیئرمین بنا دیا۔ اس ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوںکی اصول پسندی درحقیقت کیا ہے؟ کیا لوگوں کو یاد نہیں کہ یہ ایک دوسرے کے متعلق ماضی قریب میں کیا کہتے رہے ہیں؟ نواز شریف آصف زرداری کیخلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ جا پہنچے اور میموگیٹ میں غداری کا مقدمہ ان کیخلاف قائم کرنے کی کوشش کی۔   

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

تحریک انصاف کا یوم تاسیس اور نیا آئین

a month ago.

کسی ملک کا جمہوری نظام بڑی حد تک سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا کمزور ہونا ہے۔ سیاسی جماعتیں برائے نام ہیں درحقیقت معاشرے کے بااثر افراد نے امداد باہمی کی انجمنیں بنا رکھی ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ اور ورکنگ دونوں پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ویسے ہی دودھ پی کر سویا ہوا ہے وگرنہ کیا یہ ممکن ہے کہ سیاسی جماعتیں ڈمی الیکشن کروائیں یا نام نہاد الیکشن ایسے انداز میں منعقد ہوں جن کا جمہوری روایات یا طریقہ کار سے دور کا بھی واسطہ نہ ہو۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی قبضہ مافیا کو موقع فراہم کیا اور آج ایک آدھ استثنیٰ کیساتھ جس سیاسی جماعت کا جائزہ لیں تو ایک مخصوص گروہ ہر جماعت پر قابض ہے۔ سیاسی جماعتیں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں چنانچہ اس گندے جوہڑ سے جمہوری نظام کی سیرابی کیونکر اور کس طرح ہو رہی ہوگی یہ سمجھنے کیلئے پاکستان کی پوری تاریخ حاضر ہے۔   

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

وزیراعظم کا ’’احساس‘‘

3 months ago.

قدرت جب کسی قوم پر مہربانی کا ارادہ کرتی ہے تو اسے اچھے رہنما عطا کرتی ہے۔ کسی قوم کو ''دیدہ ور'' کا برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کو عرصہ دراز کے بعد ایک ایسا رہنما نصیب ہوا ہے جس کی اپنی سوچ' اپنی اپروچ' اپنا ویژن اور اپنا مشن ہے۔ عمران خان وہ رہنما ہیں جو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں۔ وہ مشورہ دینے والوں کے پیچھے چلنے والے نہیں ہیں۔ مشورہ یقینا وہ کرتے ہیں لیکن اپنی سوچ اور اپنے ویژن کے مطابق۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حکمرانی کا واضح نصب العین رکھتے ہیں۔ جب وہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو بعض نام نہاد مذہبی سیاستدانوں کی طرح جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے یہ بات نہیں کہتے بلکہ ان پر واضح ہے کہ ریاستِ مدینہ کا نصب العین کیا تھا۔ بروز بدھ کنونشن سنٹر اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے پروگرام’’احساس‘‘کی تقریب کے دوران انہوں نے اس ضمن میں جو کچھ کہا وہ بہت سے دلوں کو چھو گیا۔ انہوں نے ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنی انسپائریشن بیان کی اور کہاکہ  اصل تبدیلی یہ ہے کہ تمام نظام کو اس طرح ڈھالا جائے کہ یہ معاشرے کے غریب اور کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں مساوی مواقع دے کر اوپر اٹھانے کیلئے بروئے کار آئے۔ یہ ہے ریاستِ مدینہ کی اصل روح۔   

پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

پاک سعودی تعلقات نئی بلندیوں پر

4 months ago.

 اخبارات میں صفحہ اول پر وزیراعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بغل گیر ہوتے جو تصویر چھپی ہے وہ پاک سعودی تعلقات کی گرمجوشی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے مابین دوستی کا رشتہ ہمیشہ رہا ہے مگر عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی یہ دوستی کا رشتہ ایک نئے عہد میں داخل ہوگیا ہے۔ بلاشبہ اس بہتری کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی غلط سمت کو درست کیا اور اس راستے کا انتخاب کیا جو پاکستان کے بہترین مفاد میںہے۔ نواز شریف عہد کی خرابیوں میں سے ایک خرابی سعودی عرب کے ساتھ پیدا ہونے والی سرد مہری تھی۔سعودی عرب نے نواز شریف کو بچانے کے لئے نہ صرف انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا بلکہ انہیں عزت و احترام سے ایک شہزادے کی طرح سرور محل میں رکھا۔ نواز شریف کو کاروبار کی اجازت دی گئی اور ایک مناسب وقت پر ان کی پاکستان واپسی کے انتظامات بھی کئے گئے۔ سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے جنرل پرویز مشرف  پر واضح کیا کہ بے نظير بھٹو کی پاکستان واپسی کی صورت میں نواز شریف ہر صورت پاکستان پہنچیں گے۔