ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

3 months ago.

محبت کے بارے بھی عجیب مٹی سے بنے ہوتے ہیں نہ انہیں روناآتا ہے اور نہ ہنسنے کا موقع ملتا ہے یوں اس کشمکش ميں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھ بیتی کیا ہے چہ جائیکہ وہ آئندہ بیتنے والی کا تصور بھی کر سکیں۔ وطن عزیز کے میرے ہم وطن ایک عرصے سے خوشحالی کا خواب آنکھوں میں سجائے منتظر تھے کسی ایک مسیحا کے جو ان کے لیے ستار ے توڑ کر لے آتا انکی سونی مانگ میں چاند سجاتا۔ انگریز بہادر تو چلا گیا ۔ لاچار اور بے بس رعایا نے سوچا شاید آزاد ہو گئے ہیں جبکہ ا نہیں تو ادراک ہی نہیں تھا کہ آزادی ہوتی کیا ہے آزادی کا مفہوم کیا ہے اس کے محاسن کیا ہوتے ہیںلیکن انہیں بتایا گیا کہ وہ آزاد ہو گئے ہین لیکن جب تھانے کچہری گئے تو پتہ چلا کہ آزاد تو تھانے کچہری والے ہوئے ہیں سائل تو مزید غلام ہو گئے ہیں۔ انگر یز بہادر تھانے کچہری میں بھی انصاف یقینی بناتا تھا مگر اب تو وڈیرہ اور جاگیردار انصاف کا ترازوپکڑے کہیںدور چھپا بیٹھا ہے ۔ لیکن آزادی کے متوالوں نے اس سے بھی کمپرو مائیز کرلیا ۔ حکومتیں بدلتی رہیں ۔ اسی رعایا کے نام پر عدالتیں اسمبلیاں اور کچہریاں بنتی بگڑتی رہیں ۔ انہیں بتایا جاتا رہا خوشحالی آگئی ہے وہ سن کر ہی خوش ہوتے رہے ان کی خوشحالی تنور کی روٹی اور پیاز کی چٹنی کے ساتھ چھاچھ تک محدود رہی پھر مزید خوشحالی آئی بڑے لوگوں نے سوچا ڈیری تو بڑا بزنس ہے اور اس سے مزید خوشحالی آئیگی اس طرح مزید خوشحالی آئی اور اس مزدور سے وہ چھاچھ بھی چھن گئی کہ گھر کی روٹی چلانے اور بھینس کا چارہ پورا کرنے کے لئے دودھ ڈیری والوں کو دینا پڑا۔ مگرجمہوریت پروان چڑھتی رہی ۔خوشحالی اور ترقی کے دس سال بھی گزر گئے پھر نئی جمہوریت آئی اور اس نئی جمہوریت نے کسان کا رات کادودھ کا پیالہ بھی واپس لے کر چائے کی پیالی تھما دی کہ بدن میں چستی لاتی ہے ۔  

تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

3 months ago.

ایک زمانہ تھا، کوئی زیادہ پرانی بات بھی نہیں صرف چند دہائیاں پہلے کی بات ہے خوشحالی بھی نہیں تھی مگر غربت بھی نہیں تھی لوگ اپنے حال میں خوش رہنے کے عادی تھے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں میلے ہوا کرتے اور عام لوگ اس انتظار میں رہتے کہ آئندہ بیساکھی میلے پر فلاں تھیٹر آئے گا، فلاں سرکس آئے گی، میلے ٹھیلوں کا انتظار رہا کرتا تھا مگر ترقی اور خوشحالی کی خواہش نے عام آدمی کی زندگی سے امنگ ہی چھین لی۔ ترقی تو ہوئی اور ساتھ ساتھ خوشحالی بھی لائی مگر یہ ترقی اور خوشحالی پوری قوم کو طبقوں میں بانٹ گئی۔ وہ جو غریب ہو کر بھی خوشحال رہنے میں خوش رہا کرتے تھے ان میں احساس غربت کے ساتھ ساتھ احساس محرومی بڑھنے لگا اور پھر ستر کی دہائی میں جب جمہوریت نے اپنے آپ کو عوام سے روشناس کرانا شروع کیا تو پہلی بار عوام کو اپنے عام ہونے کا احساس ہوا اور چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عام اور خاص کی تخصیص پیدا ہونا شروع ہوئی۔  

سیاست کی ریاست

سیاست کی ریاست

5 months ago.

یوں تو ریاست میں سیاست ہوا کرتی ہے اور سیاست ایک بااثر پروفیشن بھی ہے اور کچھ افراد اس پروفیشن میں ایک لمبے عرصے تک  رہیں تو سیاست وراثت بن جاتی ہے۔ اگرچہ جمہوریت میں اس طرح کی وراثت کا کوئی تصور نہیں ان جماعتوں سے وابستہ افراد اپنے اپنے مفادات کیلئے وراثت کو ہی مستحکم کرتے رہتے ہیں اور یوں سیاست کی ایک علیحدہ ریاست بننے لگتی ہے اور اس ریاست کی حکمرانی کا حق صرف انہی سیاست دانوں کو منتقل ہوجاتا ہے جن کے اپنے گروہ اپنے مفادات کے تحفظ اور فروغ کیلئے  ایک دیوتا بنا کر عوام کے سامنے لاتے ہیں اور انہیں نجات دہندہ مانا جانے لگتا ہے۔ ہمارے پڑوسی دیش میں بھی جمہوری وراثت ایک عرصے تک رہی اور اب بھی شاید وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے ایک نئے وارث کو سامنے لارہے ہیں۔ کچھ ان کا راستہ بھارت کی حالیہ حکمران جماعت نے بھی آسان کردیا ہے کہ انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا پڑوسیوں سے تعلقات خراب کئے‘ بھارت کے اندر غربت کو  بڑھاوا دیا۔ اب بھارتیوں کے پاس سوائے اپنے جمہوری شہزادے کو واپس اقتدار میں لانے کے اور کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا اور پھر شہزادہ عقل و دانش سیاست اور ڈپلومیسی میں بھی یکتا ہے۔ حسین بھی ہے جوان بھی ہے آہستہ آہستہ وہ بھارتی نوجوانوں اور عورتوں کا آئیڈیل بنتا جارہا ہے۔ ابھی حالیہ ریاستی انتخابات میں تو اس نے میدان مارلیا ہے اب آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ سیاست کی ریاست میں وہ بڑی مہارت سے کھیلے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کی سیاست میں  وہ کہاں تک کامیابی  پاتے ہیں۔  

عوام اور عوامی نمائندے

عوام اور عوامی نمائندے

5 months ago.

یہ خبریں محض چند روز کی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا تو دن رات نت نئی خبریں دے رہا ہوتا ہے ۔ اور اخبارات میں بھی مختلف آرا سے عوام مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی نے حالیہ ٹرم کا واہد بل ہے جو مکمل اتفاق رائے سے محض دو تین دنوں میں منظور کیا ہے جبکہ عوامی مسائل سے متعلقہ درجنوں بل ابھی تک قائمہ کمیٹیوں کی نظر عنایت کے منتظر ہیں کہ کب ان پر گفتگو ہو۔ حالیہ منظور شدہ بل بھی محض چند روز کی تاخیر سے خاموشی کے ساتھ نافذ ہو جائیگا ۔اور اس پر شاید میڈیا میںبھی مزید گفتگو نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ عوامی نمائندوں کے مفاد میں ہے ظاہر ہے اگر عوامی نمائندوں کی تشفی ہوگی تو عوام کی تشفی ہوگی یوں بھی مقننہ عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہوتی ہے سو یہ بھی عوام کی ہی خواہش تصور کی جانی چاہیئے کہ ان کے نمائندے مالی لحاظ سے بھی خوشحال رہیں ۔ شب وروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اچھی حکومت کو عوام کے نمائندوں کا خیال رکھنا چاہیئے ۔