مخالفین کا قتل امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہی ہے 

 مخالفین کا قتل امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہی ہے 

a day ago.

امریکہ کی تاریخ کا ادراک رکھنے والوں کے نزدیک پچھلے دنوں امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھوں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کا ڈرون کے ذریعہ ماوارائے عدالت قتل کوئی پہلا قتل نہیں بلکہ حقیقت میں امریکہ کے مخالفین ، اس کے نظریاتی دشمنوں کو نشانہ بنا کر انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کا عمل امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رہا ہے۔  عین ممکن ہے کہ بہت سے لوگ بھول گئے  ہوںکہ 1934میں وسطی امریکہ  میں نکاراگوا پر امریکہ کے تسلط کے خلاف  تحریک کے سربراہ  ساں ڈینو کو امریکہ نے قتل کراکے راہ سے  ہٹا دیا تھا۔ ممکن ہے کہ اب بھی لوگوں کو یاد ہے کہ ویت نام کی جنگ کے دوران فینکس پروگرام کے تحت امریکہ کے دشمنوں کی نشاندہی کے دوران ہزاروں ویت کانگ کے حامیوں کو بے رحمانہ قتل عام کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اور 1963ء میں جنوبی ویت نام کے وزیر اعظم نگو ڈینہ ڈیم کو سی آئی نے قتل کرادیا تھا کیونکہ وہ امریکی پالیسی پر عمل پیرا نہیں تھے۔ 

 نیٹو نے اب چین کے خلاف بھی فوجی محاذ قائم کردیا

 نیٹو نے اب چین کے خلاف بھی فوجی محاذ قائم کردیا

a month ago.

شمالی اوقیانوس کے معاہدہ ۔ NATOکے  فوجی اتحادکے قیام کابنیادی مقصد  یورپ اور امریکا کا سوویت یونین کے حملہ سے خطرہ کا دفاع کرنا تھا لیکن سوویت یونین کے مسمار ہونے کے بعد اس معاہدہ میں سوویت یونین کے پرانے زیر اثر مشرقی یورپ کے ممالک بھی شامل ہوگئے تاکہ یہ نیٹو کے چھاتہ تلے روس کے خطرہ کا مقابلہ کر سکیں۔ ستر سال قبل جب نیٹو قائم ہوا تھا تو اس وقت امریکا اور یورپ کے بارہ ممالک اس اتحاد میں شامل تھے ، اب اتحاد کے اراکین کی تعداد 29تک پہنچ گئی ہے۔ امریکا میں 9/11کے حملے کے بعد امریکا نے معاہدہ کے آرٹیکل 5کاسہارا لیا جس کے تحت نیٹو کے ایک ممبر ملک پر حملہ تمام ممبر ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسی آرٹیکل کے تحت نیٹو کی افواج نے افغانستان کی جنگ میں شمولیت اختیار کی، پھر جب عراق پر امریکا اور برطانیہ نے حملہ کیاتو نیٹو بھی اس میدان جنگ میں کود پڑا،اس موقع پر یورپ سے چند آوازیں بھی اٹھی تھیں کہ عراق کی جنگ سے یورپ کا کیا واسطہ ۔ انہیں غالباً یہ علم نہیں تھا کہ عراق کے تیل سے یورپ کے اہم ملکوں کا گہرا مفاد وابستہ ہے اور پھر اسرائیل کا دفاع بھی ان پر لازم ہے جس کے لئے عراق کو نیست و نابود کرنا ضروری ہے۔ 2009ء میں نیٹو نے یمن میں مداخلت کی اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ یمن کے ساحل کے قریب قزاقوں کی وجہ سے امریکا اور یورپ کی جہازرانی کو خطرہ ہے اور پھر لیبیا میں قذافی کی حکومت کے خاتمہ کے لئے نیٹو نے کھلم کھلا باغیوں کی مدد کے لئے حملے کئے۔ 

یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

یورپ پر انتہا پسندی کے تاریک سائے چھا رہے ہیں

10 months ago.

اب یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میںہولناک حملوں میں پچاس نمازیوں کو شہید کرنے والا آسڑیلوی برینٹن  ٹارنیٹ فرانس میں اسلام دشمن تحریک سے متاثر ہوا تھا ۔ ٹارنیٹ نے مساجد پر حملہ سے پہلے جو طویل منشور انٹرنیٹ پر شائع کیا تھا اس میں اس نے کہا تھا کہ دو سال پہلے جب وہ فرانس گیا تھا تو اسے اس بات پر سخت حیرت ہوئی تھی کہ فرانس نے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو کس طرح اپنے ہاں بسا رکھا ہے جو مغربی یورپ میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ اس مسئلہ پر ٹارنیٹ کی فرانس کے دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے بات چیت ہوئی اور اس پر اتفاق ہوا کہ مسلمان ، فرانس اور یور پ کے دوسرے ملکوں میں چھاتے جارہے ہیں اس کا حل مسلمانوں کی شرح پیدائش  میں اضافے پر قابو پا کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں لازمی ہے کہ شرح پیدائش بدلی جائے۔ ٹارنیٹ کا کہنا تھا کہ سفید فام یورپی شہریوں کی جگہ باہر سے آکر بسنے والے مسلمان لے رہے ہیں جو بے تحاشا بچے پیدا کررہے ہیں اور یہ مغربی تہذیب کے لئے خطرہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ٹارنیٹ نے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے مساجدکو حملہ کا نشانہ بنایا تھا  اور در اصل فرانس‘ برطانیہ، جرمنی اور اٹلی میں سر اٹھاتے ہوئے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا یہی نعرہ ہے کہ باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کی وجہ سے یورپی معاشرہ کی بقا کو خطرہ ہے۔