تاجروں کے کام کی باتیں

تاجروں کے کام کی باتیں

12 days ago.

کوئی چیز اس لئے خریدنا تاکہ اسے منافع پر بیچا جائے تجارت کہلاتا ہے۔ سرکارِ مدینہ قرار قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے، تجارت کرو کہ روزی کے 10حصے ہیں 9حصے فقط تجارت میں ہیں۔ تجارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پیشے کو انبیائے کرام علیہم السلام سے برکتیں لینے کا شرف حاصل ہوا ہے جیسا کہ مشہور مفسر قرآن، حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا ہود علیہ السلام اور حضرت سیدنا صالح علیہ السلام تجارت فرمایا کرتے تھے، ان نفوسِ قدسیہ کے علاوہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے اپنی ذاتِ بابرکت سے نوازا ہے۔ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت کی غرض سے ملک شام و بصریٰ اور یمن کا سفر فرمایا اور ایسی راست بازی اور امانت و دیانت کیساتھ تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکائے کار اور تمام اہل بازار آپ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو امین کے لقب سے پکارنے لگے۔  

بدشگونی سے بچئے! 

بدشگونی سے بچئے! 

16 days ago.

حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر برا اثر پڑیگا۔ جوانی میں بیوہ ہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔ کسی کا کنگھا اِستعمال کرنے سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے۔ خالی برتن یا چمچ آپس میں ٹکرانے سے گھر میں لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔ جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اورسب سے بڑا بچہ (پلوٹھا، پہلوٹھا) باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائیگی۔ بچے کے دانٹ اُلٹے نکلیں تو ننھیال (یعنی ماموں وغیرہ) پر بھاری ہوتے ہیں۔ دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کی جائے تو اسکے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں۔ چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اسکا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ بچہ سویا ہو ا ہو اُسکے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ مغرب کے بعد دروازے میں نہیں بیٹھنا چاہئے کیونکہ بلائیں گزر رہی ہوتی ہیں۔ زلزلے کے وقت بھاگتے ہوئے جو زمین پر گر گیا وہ گونگا ہوجائیگا۔ رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں۔ انگلیاں چٹخانے سے نحوست آتی ہے۔ سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پائوں کٹا یا چراہوا ہو گا۔ نومولود (یعنی بہت چھوٹے بچے) کے کپڑے دھو کر نچوڑے نہیں جاتے کہ اس سے بچے کے جسم میں درد ہو گا۔ کبھی نمبروں سے بدفالی لیتے ہیں (بالخصوص یورپی ممالک کے رہنے والے)، اسی لئے ان کی بڑی بڑی عمارتوں میں 13نمبر والی منزل نہیں ہوتی، (بارہویں منزل کے بعد والی منزل کو چودہویں منزل قرار دے لیتے ہیں)، اسی طرح ان کے ہسپتالوں میں 13نمبر والابستر یا کمرہ بھی نہیں پایا جاتا کیونکہ وہ اس نمبر کو منحوس سمجھتے ہیں۔ رات کے وقت کنگھی چوٹی کرنے یاناخن کاٹنے سے نحوست آتی ہے۔ گھرکی چھت یا دیوار پر اُلو بیٹھنے سے نحوست آتی ہے (جبکہ مغربی ممالک میں اُلو کو بابرکت سمجھا جاتا ہے)۔ مغرب کی اذان کے وقت تمام لائٹیں روشن کردینی چاہئیں ورنہ بلائیں اُترتی ہیں۔ مذکورہ بالا بدشگونیوں کے علاوہ بھی مختلف معاشروں، قوموں اور برادریوں میں مختلف بدشگونیاں پائی جاتی ہیں۔  

آ دابِ مرشد

آ دابِ مرشد

30 days ago.

علماء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم، نورمجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کا تزکیہ (یعنی نفس و قلب کو پاک و صاف) فرماتے ہیں، یعنی جن کے دل شیطانی وسوسوں اور نفسانی سیاہ کاریوں سے آلودہ ہو چکے ہیں وہ بھی جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نظرکرم کے فیضان سے مستفیض ہوتے ہیں تو ان کے ظاہر و باطن پاک و صاف ہو جاتے ہیں۔ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان رحمت کا سلسلہ صحابہ کرام،تابعین و تبع تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پھر ان کے فیض یافتگان اولیائے کاملین رحمہم اللہ کے ذریعے خلافت دَرخلافت جاری رہا جن میں غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، عارفِ ربانی داتا گنج بخش علی ہجویری،قطب المشائخ خواجہ غریب نواز اجمیری،سید الاولیاء بابا فریدالدین گنج شکر،باللہ خواجہ بہائو الدین نقشبند، سیدنا شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہم اللہ تعالیٰ کی معروفت و حقیقت کا جو اعلیٰ مقام نصیب ہوا اسکی مثال نہیں ملتی۔ان نفوس قدسیہ کے روحانی تصرفات اور باطنی فیوض و برکات کے باعث ہر دور میں حق کی شمع فروزاں رہی اور ایسے اہل نظر پیدا ہوتے رہے جو نامساعد حالات کے باوجود باطل کیخلاف برسرپیکار رہے اور شریعت و طریقت کی روشنی میں لوگوں کے ظاہر و باطن کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ایمان کی حفاظت کی مدنی سوچ بھی عطا فرماتے رہے کیونکہ مسلمان کی سب سے قیمتی چیز ایمان ہے مگر فی زمانہ ایمان کو جس قدر خطرات لاحق ہیں اس کو ہر ذی شعور محسوس کر سکتا ہے۔اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کا ارشاد ہے کہ جس کو زندگی میں سلب ایمان کا خوف نہیں ہوتا، نزع کے وقت اس کا ایمان سلب ہو جانے کا شدید خطرہ ہے۔ (بحوالہ رسالہ ’’برے خاتمے کے اسباب‘‘ ص۱۴)  

 عاشقانِ رسول کی حکایات

 عاشقانِ رسول کی حکایات

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  سبز گھوڑے پر سوار: حضرت سیدنا شیخ ابوعمران واسطی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ سے سوئے مدینہ منورہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزار فائض الانوار کے دیدار کی نیت سے چلا، راستے میں مجھے اتنی سخت پیاس لگی کہ موت سر پر منڈلانے لگی، نڈھال ہو کر ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ دفعتاً سبز لباس میں ملبوس ایک سبز گھڑسوار نمودار ہوئے، اُن کے گھوڑے کی لگام اور زین بھی سبز تھی نیز ان کے ہاتھ میں سبز شربت سے لبالب سبز پیالہ تھا، وہ انہوں نے مجھے دیا اور فرمایا: پیو! میں نے تین سانس میں پیا مگر اُس پیالے میں سے کچھ بھی کم نہ ہوا۔ پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا مدینہ منورہ تاکہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بارگاہوں میں سلام عرض کروں۔ فرمایا: جب تم وہاں پہنچو اور اپنام سلام عرض کر لو تو ان تینوں بلند و بالا ہستیوں سے عرض کرنا کہ رضوان (فرشتہ، خازنِ جنت) بھی آپ حضرات کی خدمات میں سلام عرض کرتا ہے۔ (روض الریاحین ص329)