حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

حج و عمرہ کرنے والوں کیلئے خوبصورت نیتیں

10 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  اپنے رفقاء کیساتھ حسن اَخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے آرام وغیرہ کا خیال رکھوں گا، غصے سے بچوں گا، بیکار باتوں میں نہیں پڑوں گا، لوگوں کی (ناخوشگوار) باتیں برداشت کروں گا۔  تمام خوش عقیدہ مسلمان عربوں سے (وہ چاہے کتنی ہی سختی کریں، میں) نرمی کے ساتھ پیش آئوں گا۔’’بدوئوں اور سب عربیوں سے بہت نرمی کیساتھ پیش آئے، اگر وہ سختی کریں (بھی تو) ادب سے تحمل (یعنی برداشت) کرے، اِس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے، خصوصاً اہل حرمین، خصوصاً اہل مدینہ۔ اہل عرب کے اَفعال پر اعتراض نہ کرے، نہ دل میں کدورَت (یعنی میل) لائے، اس میں دونوں جہاں کی سعادت ہے)۔  بھیڑ کے موقع پر بھی لوگوں کو اذیت نہ پہنچے، اِس کا خیال رکھوں گا اور اگر خود کو کسی سے تکلیف پہنچی تو صبر کرتے ہوئے معاف کروں گا۔ حدیث پاک میں ہے: جو شخص اپنے غصے کو روکے گا، اللہ عزوجل قیامت کے روز اُس سے اپنا عذاب روک دیگا۔ (شعب الایمان ج6، ص315، حدیث 8311)۔

صلح کروانے کے فضائل

صلح کروانے کے فضائل

a month ago.

صلح کروانا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں صلح کروانے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے۔ پارہ26 سورۃ الحجرات کی آیت نمبر9 میں اللہ عزوجل کا فرمان عالیشان ہے:  ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرائو‘‘۔ اس آیت کریمہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے صدرالافاضل مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دَرازگوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے، انصار کی مجلس پر گزر ہوا، وہاں تھوڑا سا توقف فرمایا، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو اِبن اُبی نے ناک بند کر لی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درازگوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تشریف لے گئے، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھاپائی تک نوبت پہنچی تو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرا دی‘ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ 

مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) پھر سوال ہوا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جو مسجد میں دندناتے اور شور مچاتے پھر رہے ہوتے ہیں، اُن کا جرم کس پر ہے؟ چھوٹے بچوں اور پاگلوں کو مسجد میں لانے کی حدیث پاک میں ممانعت آئی ہے چنانچہ خلق کے رہبر، شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: مسجدوں کو بچوں، پاگلوں، خریدوفروخت، جھگڑے، آواز بلند کرنے، حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچائو۔ ان کے دروازوں پر طہارت خانے بنائو اور جمعہ کے دن مساجد کو دھونی دیا کرو۔ عموماً مشاہدہ یہی ہے کہ جب چھوٹے بچے مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو آپس میں شرارتیں شروع کر دیتے ہیں، نمازیوں کے آگے سے گزرتے اور خوب اودھم مچاتے ہیں نیز دورانِ نماز بسااوقات رونا شروع کر دیتے ہیں جس سے نماز میں زبردست خلل آتا اور مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے اور کبھی کبھار تو مسجد میں پیشاب پاخانے تک کر دیتے ہیں تو ان ساری باتوں کا وبال بچوں کو مسجد میں لانے والے پر آتا ہے جبکہ وہ لانے والا بالغ ہو لہٰذا چھوٹے بچوں کو ہرگز مسجد میں نہ لایا جائے۔

 فیضان عید الفطر

 فیضان عید الفطر

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) آہ ! فی زمانہ شیطان اپنے اس وار میں کامیاب ہوتا نظر آرہاہے۔ آہ ! صد آہ!!کہ عید کی آمد پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عبادات و حسنات کی کثرت کرکے اللہ عزوجل کازیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جاتامگر افسوس! صدافسوس!اب مسلمان عید سعید کاحقیقی مقصد بھلا بیٹھے ہیں۔ ہائے افسوس ! ا ب توعید منانے کا یہ انداز ہوگیاہے کہ بے ہودہ قسم کی الٹی سیدھی ڈیزائن والے بلکہ معاذاللہ عزوجل جاندار تک کی تصاویر والے بھڑکیلے کپڑے پرنے جاتے ہیں، رقص وسرور کی محفلیں گرم کی جاتی ہیں۔ بے ڈھنگے میلوں ، گندے کھیلوں ، ناچ گانوں اور فلموں ڈراموں کا اہتمام کیا جاتاہے اورجی کھول کر وقت اور دولت کو خلاف سنت و شریعت افعال میں برباد کیا جاتاہے۔ افسوس ! صد ہزار افسوس! ہم اب اس مبارک دن کو کس قدر غلط کاموں میں گزارنے لگے ہیں۔ میرے اسلامی بھائیو! ان خلاف شرع باتوں کے سبب ہوسکتاہے کہ یہ عید سعید ہمارے لیے ’’یوم وعید ‘‘ بن جائے ، للہ! اپنے حال پر رحم کیجئے ! فیشن پرستی اور فضول خرچی سے باز آجائیے! دیکھئے تو سہی ! اللہ عزوجل نے فضول خرچوں کوقرآن پاک میں شیطانوں کا بھائی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے:۔  

 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

3 months ago.

جمعہ ج اور م کے پیش سے جمع سے بنا، بمعنی مجتمع ہونا اکٹھا ہونا، چونکہ اس دن میں تمام مخلوقات وجود میں مجتمع ہوئی کہ تکمیل خلق اسی دن ہوئی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی ا س دن ہی جمع ہوئی نیز اس دن میں لوگ نماز جمعہ جمع ہو کر ادا کرتے ہیں، ان وجوہ سے اسے جمعہ کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے اہل عرب اسے عروبہ کہتے تھے چنانچہ ان کے ہاں ہفتہ کے دنوں کے نام حسب ذیل تھے ۔ اول، اہون، جبار، دبار، مونس عروبہ شیاء ۔( اشعہ) جمعہ کی ایک نیکی 70 نیکیوںکے برابر ہوتی ہے اسی لیے جمعہ کا حج’’ حج اکبر‘‘ کہلاتا ہے اور اس کا ثواب 70 حج کے برابر۔بخاری ومسلم کی حدیث پاک ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ،بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۔ پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھے۔ ہمیں اﷲ نے اس کی ہدایت دے دی۔اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں۔ (صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب فرض الجمعۃ، جلد 2، صفحہ2،دار طوق النجاۃ) مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’بہترین ہے وہ دن، جس میں سورج نکلے، وہ جمعہ کا دن ہے ،اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں گئے، اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی۔(صحیح مسلم ،کتاب الجمعۃ،باب فضل یوم الجمعۃ،جلد2،صفحہ 585،دار إحیاء التراث العربی ،بیروت) ابودائود،ترمذی وغیرہ کی دوسری روایت میں ہے کہ اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں وفات پائی اسی میں قیامت قائم ہوگی ۔ ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۔جن و انس کے سوا۔  

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

3 months ago.

برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم  ی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدا رہوجائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور نمازکیلئے پانی عدم دستیاب ، اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی، حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے‘‘۔ (مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اسکے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا( گویا حکمت الٰہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کیلئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے۔ (صحیح البخاری،کتاب التیمم،باب التیمم، الحدیث ۳۳۴،ج۱،ص۱۳۳ملخصاً)