مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

مساجد کے آداب...کچھ سوالات کے جوابات

a day ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) پھر سوال ہوا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جو مسجد میں دندناتے اور شور مچاتے پھر رہے ہوتے ہیں، اُن کا جرم کس پر ہے؟ چھوٹے بچوں اور پاگلوں کو مسجد میں لانے کی حدیث پاک میں ممانعت آئی ہے چنانچہ خلق کے رہبر، شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: مسجدوں کو بچوں، پاگلوں، خریدوفروخت، جھگڑے، آواز بلند کرنے، حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچائو۔ ان کے دروازوں پر طہارت خانے بنائو اور جمعہ کے دن مساجد کو دھونی دیا کرو۔ عموماً مشاہدہ یہی ہے کہ جب چھوٹے بچے مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو آپس میں شرارتیں شروع کر دیتے ہیں، نمازیوں کے آگے سے گزرتے اور خوب اودھم مچاتے ہیں نیز دورانِ نماز بسااوقات رونا شروع کر دیتے ہیں جس سے نماز میں زبردست خلل آتا اور مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے اور کبھی کبھار تو مسجد میں پیشاب پاخانے تک کر دیتے ہیں تو ان ساری باتوں کا وبال بچوں کو مسجد میں لانے والے پر آتا ہے جبکہ وہ لانے والا بالغ ہو لہٰذا چھوٹے بچوں کو ہرگز مسجد میں نہ لایا جائے۔

 فیضان عید الفطر

 فیضان عید الفطر

8 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) آہ ! فی زمانہ شیطان اپنے اس وار میں کامیاب ہوتا نظر آرہاہے۔ آہ ! صد آہ!!کہ عید کی آمد پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عبادات و حسنات کی کثرت کرکے اللہ عزوجل کازیادہ سے زیادہ شکر ادا کیا جاتامگر افسوس! صدافسوس!اب مسلمان عید سعید کاحقیقی مقصد بھلا بیٹھے ہیں۔ ہائے افسوس ! ا ب توعید منانے کا یہ انداز ہوگیاہے کہ بے ہودہ قسم کی الٹی سیدھی ڈیزائن والے بلکہ معاذاللہ عزوجل جاندار تک کی تصاویر والے بھڑکیلے کپڑے پرنے جاتے ہیں، رقص وسرور کی محفلیں گرم کی جاتی ہیں۔ بے ڈھنگے میلوں ، گندے کھیلوں ، ناچ گانوں اور فلموں ڈراموں کا اہتمام کیا جاتاہے اورجی کھول کر وقت اور دولت کو خلاف سنت و شریعت افعال میں برباد کیا جاتاہے۔ افسوس ! صد ہزار افسوس! ہم اب اس مبارک دن کو کس قدر غلط کاموں میں گزارنے لگے ہیں۔ میرے اسلامی بھائیو! ان خلاف شرع باتوں کے سبب ہوسکتاہے کہ یہ عید سعید ہمارے لیے ’’یوم وعید ‘‘ بن جائے ، للہ! اپنے حال پر رحم کیجئے ! فیشن پرستی اور فضول خرچی سے باز آجائیے! دیکھئے تو سہی ! اللہ عزوجل نے فضول خرچوں کوقرآن پاک میں شیطانوں کا بھائی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے:۔  

 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

 الوداع  ۔۔۔جمعۃ الوداع

15 days ago.

جمعہ ج اور م کے پیش سے جمع سے بنا، بمعنی مجتمع ہونا اکٹھا ہونا، چونکہ اس دن میں تمام مخلوقات وجود میں مجتمع ہوئی کہ تکمیل خلق اسی دن ہوئی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی ا س دن ہی جمع ہوئی نیز اس دن میں لوگ نماز جمعہ جمع ہو کر ادا کرتے ہیں، ان وجوہ سے اسے جمعہ کہتے ہیں۔ اسلام سے پہلے اہل عرب اسے عروبہ کہتے تھے چنانچہ ان کے ہاں ہفتہ کے دنوں کے نام حسب ذیل تھے ۔ اول، اہون، جبار، دبار، مونس عروبہ شیاء ۔( اشعہ) جمعہ کی ایک نیکی 70 نیکیوںکے برابر ہوتی ہے اسی لیے جمعہ کا حج’’ حج اکبر‘‘ کہلاتا ہے اور اس کا ثواب 70 حج کے برابر۔بخاری ومسلم کی حدیث پاک ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’ہم دنیا میں پیچھے ہیں قیامت کے دن آگے ہوں گے ،بجز اس کے کہ انہیں کتاب ہم سے پہلے دی گئی اور ہمیں ان کے بعد۔ پھر یہ یعنی جمعہ کا ان کا دن بھی تھا جو ان پر فرض کیا گیا تھا وہ اس میں اختلاف کر بیٹھے۔ ہمیں اﷲ نے اس کی ہدایت دے دی۔اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں یہودی کل ہیں عیسائی پرسوں۔ (صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب فرض الجمعۃ، جلد 2، صفحہ2،دار طوق النجاۃ) مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے رسولؐ اللہ نے فرمایا’’بہترین ہے وہ دن، جس میں سورج نکلے، وہ جمعہ کا دن ہے ،اسی میں حضرت آدم پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں گئے، اسی دن وہاں سے بھیجے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی ہوگی۔(صحیح مسلم ،کتاب الجمعۃ،باب فضل یوم الجمعۃ،جلد2،صفحہ 585،دار إحیاء التراث العربی ،بیروت) ابودائود،ترمذی وغیرہ کی دوسری روایت میں ہے کہ اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی، اسی میں وفات پائی اسی میں قیامت قائم ہوگی ۔ ایسا کوئی جانور نہیں جو جمعہ کے دن صبح سے آفتاب نکلنے تک قیامت کا ڈرتے ہوئے منتظر نہ ہو ۔جن و انس کے سوا۔  

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

26 days ago.

برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والٰہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم  ی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدا رہوجائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور نمازکیلئے پانی عدم دستیاب ، اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی، حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ’’اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے‘‘۔ (مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اسکے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا( گویا حکمت الٰہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کیلئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے۔ (صحیح البخاری،کتاب التیمم،باب التیمم، الحدیث ۳۳۴،ج۱،ص۱۳۳ملخصاً)  

 رمضان و قرآن

 رمضان و قرآن

a month ago.

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں کہ روزہ صبر ہے جس کی جزاء رب عزوجل ہے اور وہ اسی مہینے میں رکھ اجاتا ہے ۔ اس لیے اسے ماہ صبر کہتے ہیں ۔ مواسات کے معنی ہیں بھلائی کرنا ۔چونکہ اس مہینہ میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہل قرابت سے بھلائی کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے اسے ماہِ مُؤَاسات کہتے ہیںاس میں رزق کی فراخی بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھا لیتے ہیں اسی لیے اس کا نام ماہ وسعت رزق بھی ہے ۔ رمضان ایک بھٹی ہے کیسے کی بھٹی گندے لوہے کو صاف اور صاف لوہے کو مشین کا پرزہ بنا کر قیمتی کر دیتی ہے اور سونے کو زیور بناکر استعمال کے لائق کر دیتی ہے ایسے ہی رمضان المبارک گناہگاروں کو پاک کرتا اور نیک لوگوں کے درجے بڑھاتا ہے ۔رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرج کا ثواب ستر گنا ملتا ہے ۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو رمضان میں مرجاتا ہے اُس سے سوالات قبر بھی نہیں ہوتے ۔  

فیضان تراویح

فیضان تراویح

a month ago.

میرے آقا اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی بارگاہ میں اُجرت دے کرمیِّت کے ایصالِ ثواب کیلئے خَتْمِ قراٰن وذکرُ اللہ کروانے سے متعلق جب اِسْتِفتاء پیش ہوا تو جوا باً ارشاد فرمایا:’’ تلاوتِ قرآن وذکر الٰہی پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے۔لینے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور جب یہ فِعلِ حرام کے مُرتَکِب ہیں تو ثواب کس چیز کا اَموات(یعنی مرنے والوں) کو بھیجیں گے؟گناہ پر ثواب کی اُمّید اور زیادہ سخت واَشَد(یعنی شدید ترین جُرم) ہے۔اگر لوگ چاہیں کہ ایصالِ ثواب بھی ہو اور طریقۂِ جائزہ شَرْعِیہ بھی حاصِل ہو (یعنی شرعاً جائز بھی رہے ) تو اُوس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اُتنی دیر کی ہرشَخْص کی مُعَیَّن(مقرّر) کر دیںمَثَلاً پڑھوانے والا کہے ،میں نے تجھے آج فُلاں وَقْت سے فُلاں وَقْت کیلئے اِ س اُجرت پر نوکر رکھا (کہ) جو کام چاہوں گا لوں گا۔وہ کہے ، میں نے قَبول کیا۔ اب وہ اُتنی دیر کے واسطے اَجِیر(یعنی مُلازِم) ہو گیا۔ جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اُوس سے کہے فُلاںمَیِّت کے لئے اِتنا قراٰنِ عظیم یا اِس قَدَر کلِمۂِ طیِّبہ یا دُرُودِ پاک پڑھ دو۔ یہ صورت جواز (یعنی جائز ہونے) کی ہے۔‘‘  (فتاویٰ رضویہ مخرجہ، ج۱۰،ص۱۹۳،۱۹۴ )