نعت خواں اور نذرانہ

نعت خواں اور نذرانہ

2 months ago.

نعت مصطفیٰ ؐپڑھنا سننا یقینا نہایت عمدہ عبادت ہے مگر مقبولیت کی کنجی اخلاص ہے، نعت شریف پڑھنے پر اُجرت لینا دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں سوال ہوا: زید نے اپنے پانچ روپے فیس مولود شریف کی پڑھوائی کے مقرر رکھے ہیں، بغیر پانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتا نہیں۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: زید نے جو اپنی مجلس خوانی خصوصاً راگ سے پڑھنے کی اُجرت مقرر کر رکھی ہے ناجائز و حرام ہے، اسکا لینا اسے ہرگز جائز نہیں، اسکا کھانا صراحۃً حرام کھانا ہے۔ اس پر واجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کر کے سب کو واپس دے، وہ نہ لےرہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرے، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پر تصدق کرے اور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے تو گناہ سے پاک ہو۔ اوّل تو سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک خود عمدہ طاعات و اَجل عبادات سے ہے اور طاعت و عبادت پر فیس لینی حرام ہے۔ (امام، مؤذن، معلم دینیات اور واعظ وغیرہ اس سے مستثنیٰ ہیں، ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ج19، ص486)۔ ثانیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعر خوانی و زمزمہ سنجی (راگ اور ترنم سے پڑھنے) کی فیس لیتا ہے، یہ بھی محض حرام۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: گانا اور اشعار پڑھنا ایسے اعمال ہیں کہ ان میں کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج23، ص725-724)  

حسن و جمال مصطفیٰ مرحبا مرحبا

حسن و جمال مصطفیٰ مرحبا مرحبا

2 months ago.

بنی اسرائیل میں ایک شخص نہایت ہی گناہ گار تھا۔ سو سال گناہوں اور معصیت میں اس نے گزارے، جب اس کی موت واقع ہوگئی تو لوگوں تو بہت خوشی ہوئی۔(لوگ اس کے فتنہ اور فساد سے بیزار تھے)نہ اس کو کسی نے غسل دیا نہ کفن پہنایا نہ نماز جنازہ ادا کی بلکہ اس کو گھسیٹ کر کچڑا کونڈی پر پھینک دیا۔حضر ت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضرت سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کیا۔اے موسیٰ علیہ السلام ! اللہ تعالی آپ کو سلام فرمارہا ہے۔اور اس نے فرمایا کہ میرا ایک ولی انتقال کرگیا ہے۔ لوگوں نے اس کو کچڑا کونڈی پر ڈال دیا ہے۔ اٹھواور اس جاکر وہاں سے اٹھالاواور اس کی تجہیز وتدفین کرو اوار بنی اسرائیل کو فرماؤ کہ اسکی نماز جنازہ پڑھیں۔تاکہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گناہ بخشے جا ئیں۔حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بحکم رب الانام عزوجل جب اس کچڑا کونڈی کے پاس تشریف لائے تو اسے دیکھاتو یہ وہی شخص تھا جس نے سو سال نافرمانیوں میں گزارے ۔آپ کو تعجب ہوامگر اللہ عزوجل کا فرمان تھا۔چنانچہ غسل دلایا، کفن پہنایا ، نماز جنازہ پڑھ کرا س کو دفن کردیا۔پھر بارگاہ خداوندی عزوجل میں اس شخص کے بارے میں استفسار کیا۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ! (علیہ السلام ) وہ شخص واقعی فاسق و فاجر و گناہ گار تھا۔مگر اس نے ایک روز توریت شریف میںکھولی اس میں میرے حبیب ﷺکا نام ِ نامی اسم گرامی محمد  ﷺ لکھا ہوا پایااس نے اس مبارک نام کو چومااور اپنی انکھوں پر لگایا۔ اس کی یہ تعظیم و ادب مجھے پسند آگیا۔ میں نے اس کے سو سال کے گناہوں کو بخش دیا۔اور اسے اپنے مقربین کی فہرست میں داخل کرلیا۔ (مدارج النبوت،نزھتہ المجالس)