پرویزمشرف کی سزاختم،پیپلزپارٹی کی مایوسی!

پرویزمشرف کی سزاختم،پیپلزپارٹی کی مایوسی!

2 days ago.

٭لاہورہائی کورٹ کے سہ رکنی فل بنچ نے خصوصی عدالت کی طرف سے سابق خود ساختہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سزائے موت ختم کر دی۔ تفصیل اخبارات میں درج ہے۔ فاضل عدالت نے خصوصی عدالت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ بھی کالعدم کر دیا۔ فیصلہ میں دوسرے اہم نکات بھی ہیں۔ ان پر کوئی بات یا تبصرہ نہیں ہو سکتا۔ اب یہ کہ عام طور پر ایسے فیصلوں پر حکومت سپریم کورٹ میں اپیل کیا کرتی ہے۔ مگر موجودہ حکومت اپیل نہیں کرے گی، وہ تو خود پرویز مشرف کا ساتھ دے رہی ہے۔ اسی حکومت نے خصوصی عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کو روکنے کے لئے درخواست دائر کی تھی۔ حکومت کو اس وقت اپنی پڑی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ان کے بعد ق لیگ بھی تیاری کر رہی ہے۔ ایسے میں فوج کو ناراض کرنے سے مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ویسے بھی اس ملک میں غداری کے کسی مجرم کو آج تک کوئی سزا نہیں ہوئی۔ 1970ء میں اگرتلہ سازش کیس میں شیخ مجیب الرحمان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ کی سماعت اس طرح ختم ہوئی کہ مکتی باہنی کے حملہ پر جسٹس رحمان کو عدالت سے بھاگنا پڑا۔ مقدمہ وہیں رہ گیا۔ راولپنڈی سازش کیس کے ملزموں کو غداری کی بجائے حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم میں مختصر سزائیں سنائی گئیں۔ ان دنوں موجودہ ٓائین موجود نہیں تھا۔ حیدرآباد سازش کیس میں ولی خاں، حبیب جالب وغیرہ کو ملوث کیا گیا۔ کئی ماہ مقدمہ چلا، ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے یہ کیس ہی ختم کر دیا۔ ولی خاں نے ضیاء الحق کی حمائت کا اعلان کر دیا۔ موجودہ آئین کے تحت پرویز مشرف کے خلاف غداری کا پہلا مقدمہ تھا وہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اس سے فوج اور بہت سے مشرف کے فیض یافتہ لوگ (موجودہ وزیر قانون فروغ نسیم، شیخ رشید سمیت سات وزرا) بھی شامل ہیں۔

نیب مرحوم کے لئے ایک تعزیتی کالم

نیب مرحوم کے لئے ایک تعزیتی کالم

19 days ago.

٭جس نے نہیں سُنا، سُن لے، جو نہیں جانتا، جان لے کہ ملک میں احتساب پر فالج کا حملہ ہو گیا ہے۔ نیب کے سارے اختیارات چھین لئے گئے ہیں، اس کی کارکردگی کو اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ اب محض ایک نمائشی ادارہ بن گیا ہے۔ یہ ادارہ اب کسی تاجر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے گا، کسی سرکاری ملازم کی جائیداد ضبط یا منجمد نہیں کرے گا۔ 50 کروڑ سے کم کی کسی کرپشن کا جائزہ نہیں لے سکے گا، کبھی کسی ملزم کو 90 دنوں کی بجائے صرف 14 دن اپنے پاس رکھ سکے گا، ٹیکس وغیرہ کی چھان بین کے اختیارات دوسرے اداروں کو دے دیئے گئے ہیں۔ تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ پہلے پانچ کروڑ روپے سے اوپر کی کرپشن کا محاسبہ کیا جا سکتا تھا، اب 50 کروڑ سے اوپر محاسبہ ہو سکے گا گویا 4999999 روپے (50 کروڑ سے ایک روپیہ کم) تک جی بھر کر کرپشن کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ اب نیب کا جو حال کر دیا گیا ہے اس پر مجھے عربی زبان میں پڑھی ہوئی ایک مختصر کہانی یاد آ گئی ہے۔ ایک شخص الف دوسرے شخص ب کے سسرال والے گائوں میں جا رہا تھا۔ جاتے ہوئے ب سے ملا اور حال پوچھا، اس نے کہا کہ سر میں سخت درد رہتا ہے، آنکھیں ابل آئی ہیں، سینے میں سخت تکلیف ہے، سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، بلڈ پریشر بہت اوپر چلا گیا ہے، کمر کی تکلیف بھی بڑھ گئی’، گردے بھی کام نہیں کر رہے، چلنا پھرنا چھوٹ گیا ہے۔الف نے کہا کہ اتنی لمبی بات چھوڑو، تمہارے سسرال کو بتائوں گا کہ مر گیا ہے۔