آزاد کشمیر پر بھارت کا حملہ

آزاد کشمیر پر بھارت کا حملہ

2 days ago.

٭کشمیر میں کنٹرول لائن پر پاکستان اور بھارت کی شدید فوجی جھڑپ میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر پہل کرنے اور بھاری توپ خانہ استعمال کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ بھارتی فوج کے چیف جنرل راوت بپن نے تسلیم کیا ہے کہ بھارتی فوج نے آزاد کشمیر پر بوفورس توپیں استعمال کیں اور مارٹر گولے برسائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی گولہ باری سے دو فوجی جوان اور پانچ شہری شہید ہوئے ہیں۔ جب کہ پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی سے 9 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دو بھارتی مورچے بھی مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے، جب کہ بھارتی گولہ باری سے آزادکشمیر میںکچھ شہری عمارتیں بھی ملبہ کا ڈھیر بن گئیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا (زی ٹی وی) کہ پاکستان کی فوج نے ہفتہ کی رات گیارہ بجے رات فائرنگ شروع کی اور اس کے سائے میں 20,18 دہشت گردوں نے مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں بھارتی فوج نے ان دہشت گردوں کو ہلاک اور گولہ باری کر کے جورا، شاہ کوٹ اور نیلم وادی کے علاقے میں دہشت گردوں کی تربیت کے دو کیمپ تباہ کر دیئے۔ آئی ایس پی آر نے اس دعوے کو بالکل غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں کوئی ایسا تربیتی کیمپ نہیں ہے، غیر ملکی سفارت خانے آزادنہ طور پر آزاد کشمیر کا دورہ کر کے بھارتی دعوے کی حقیقت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی فوج نے اپنی لاشیں اٹھانے کے لئے سفید جھنڈا لہرا کر جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔ بھارتی حکومت نے یہ کارروائی عین اس موقع پر کی جب اگلے روز (پیر) بھارتی صوبوں ہریانہ اور مہارا شٹر میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔ اس روز بھارتی اخبارات اور ٹیلی ویژنوں پر پاکستان کے خلاف بھارت کی ’’زبردست‘‘ فوجی کامیابی کو بہت اچھالا گیا۔ اس بات کو بھی نمایاں کیا گیا کہ پاکستانی فوج نے اس سال 10 اکتوبر تک 2310 سرحدی خلاف ورزیاں کی ہیں۔  

آزادی مارچ، بھارت کا ردعمل!

آزادی مارچ، بھارت کا ردعمل!

4 days ago.

٭حکومت نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں جے یو آئی کے آزادی مارچ کو روکنے کے لئے مختلف سطحوں پر اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔آزادی مارچ کے لٹھ بردار فوجی دستوں کو کالعدم قرار دینے کا وزارت قانون کو مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔ ایک طرف سات اہم افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی ہے جو مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرے گی، دوسری طرف اسلام آباد کے تھانوںنے جلسے جلوسوں کے لئے کرسیاں، سٹیج، کنٹینر، خیمے، کھانے اور دریاں وغیرہ فراہم کرنے والے اداروں کو ایسی کوئی بھی چیز فراہم کرنے کی ممانعت کر دی ہے، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر ملک کے مختلف حصوں سے معروف علما کو اسلام آباد بلایا گیا۔ انہیں فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اور اگلے روز وزیراعظم ہائوس میں لے جایا گیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق علما سے آزادی مارچ کے بارے میں تو صرف دو تین منٹ بات ہوئی، باقی باتیں دینی مدارس میں اصلاحات کے بارے میں ہوئیں اور یہ کہ علما نے وزیراعظم سے اتفاق کیا! دوسری طرف جے یو آئی کے ترجمان کا بیان ہے کہ بڑے علمائے دین، خاص طور پر دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے علما تو آئے ہی نہیں اور یہ کہ مدارس میں اصلاحات کے اجلاس کا یہ کون سا موقع تھا؟ حکومت کی آزادی مارچ کے مذاکرات کے لئے سات رکنی کمیٹی میںقومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر، سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی، پرویز الٰہی، اسد عمر، شفقت محمود، وزیرمذہبی امور نور الحق قادری اور کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک ہوں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کمیٹی کے مذاکرات تو ابھی شروع نہیں ہوئے، الٹا مولانا فضل الرحمان چودھری پرویز الٰہی سے مذاکرات کے لئے پہنچ گئے اور انہیں آزادی مارچ میں شرکت اور وزیراعظم سے استعفا لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ پرویز الٰہی نے انہیں مذاکرات کا مشورہ دیا۔  

ایک تھی مسلم لیگ

ایک تھی مسلم لیگ

8 days ago.

٭ن لیگ نے مکمل طور پرخود کو آزادی مارچ والے مولانا فضل الرحمان کی کفالت میںدے دیا۔ ’’سپردم بتو ما یہ خویش را، تُودانی حساب کم و بیش را‘‘ یوں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے نام پر زندہ ایک گروہ نے تحریک پاکستان کی روایات سے وابستگی ختم کر کے خود کو ان روایات سے وابستہ کر لیا جن کے بارے میں پاکستان کے قیام کی مخالفت کا لیبل لگا آیا ہے۔ ن لیگ کی تو ویسے ہی حیثیت اس دن سے ہی متنازع چلی آ رہی ہے جب 1986ء میں وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اسلام آباد میں ملک بھر سے مسلم لیگ کے تقریباً ڈھائی پونے تین سوا ہم عہدیداروں کا کنونشن منعقد کیا۔ جنرل ضیاء الحق محمد خان جونیجو کو نکالنا چاہتا تھا۔ اس کے اشارے پر میاں نوازشریف صرف 27 ارکان کے ساتھ بغاوت کرکے کنونشن سے نکل آئے اور پھر جنرل ضیاء الحق کے احکام کے تحت بھاری اکثریت والی جونیجو کی مسلم لیگ کے پاس چند ارکان رہ گئے اور باقی بھاگتے ہوئے ن لیگ کے قدموں میں جا بیٹھے! یہاں سے مسلم لیگ کا زوال شروع ہوا۔ اب تک اس کے گیارہ ٹکڑے ہو چکے ہیں اِن کی تفصیل چند روز پہلے دے چکاہوں۔ موجودہ ن لیگ اس وقت چار حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن میں شہبازشریف کا نام بطور صدر درج ہے مگر ساری قیادت عملی طور پرنوازشریف مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اب حسین نواز کے ہاتھوں میں ہے۔ شہباز شریف کے پاس اب صرف ڈاکیہ کا کام باقی رہ گیا ہے۔ اس لیگ کو جس طرح ’’آزادی مارچ‘’ میں جے یو آئی کے ماتحت کر دیا گیا ہے اس پر شہباز شریف کے پاس صرف ایک راستہ رہ گیا ہے کہ کمر درد کے نام پر طویل قیام کے لئے لندن چلے جائیں۔ وہاں ان کی کافی جائیداد بھی ہے اور پھر پرانے وقتوںکا ساتھی اسحاق ڈار بھی موجود ہے۔ قارئین کرام! آزادی مارچ وغیرہ کے بارے میں آج صرف اتنی باتیں۔ میں اس ذکر سے تنگ آ گیا ہوں۔ آج کچھ مختلف مگر اہم باتیں ہوں گی۔