ڈاکٹر انور سجاد بھی چلے گئے

ڈاکٹر انور سجاد بھی چلے گئے

12 days ago.

٭عید سے اگلے روز اچانک اندوہناک خبر آ گئی کہ معروف ادیب و ثقافتی رہنما ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے۔ عمر تقریباً 84 برس تھی۔ ایک عرصے سے علیل تھے۔ سخت مالی دشواری کا سامنا تھا۔ انہوں نے لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈراما، موسیقی، مصوری اور دوسرے فنون کے بے شمار فن کاروں کی مستقل بھاری امداد اور ماہانہ وظائف جاری کئے، مگر خود جس تنگدستی کے حال میں آخری وقت گزرا، اس کا ذکر بہت بوجھل ہے۔ ڈاکٹر صاحب میرے اچھے دوست تھے، ان کے جانے سے بہت بڑا ہمہ فن باکمال شخص چلا گیا!عالمی سطح پر معروف ممتاز افسانہ وناول نگار ڈراما نگار!ٹیلیویژن اور سٹیج کے متعدد ڈرامے لکھے۔ ان میں کام بھی کیا۔ ان کے والد سید دلاور حسین اور وہ خود بھی بہت معروف میڈیکل ڈاکٹر تھے۔والد صاحب کی وفات کے بعد طویل عرصہ تک چونا منڈی اندرون لاہور میں آبائی کلینک چلایا۔بچپن اندرون لاہور میں ہی گزرا۔ یہ اوسط سے بھی کم حیثیت والے لوگوں کا علاقہ تھا۔بیشتر مریضوں سے فیس نہیں لیتے تھے ۔پورانام سید سجاد انور علی بخاری تھاجو ڈاکٹر انور سجاد میں تبدیل ہو گیا۔ بہت زندہ دل تھے ۔ روزانہ کچھ وقت پاک ٹی ہائوس میں گزارتے۔ انتظار حسین ،مظفر علی سید،ناصر کاظمی اور دوسرے معروف ادیبوں سے نشستیں رہتیں۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی چلے گئے ۔وہاں کی آب وہوا راس نہ آئی۔ سانس کے ساتھ فالج کا مرض بھی لاحق ہوگیا ۔واپس لاہور آگئے ۔ مالی حالت بہت خراب ہوگئی۔ شدید مالی خستہ حالی کے شکار ہوئے تو طویل وقت کے بعد صوبائی حکومت نے ایک دفعہ معمولی مالی امداد دے کر خاموشی اختیار کر لی۔ ڈاکٹر صاحب بہت نفیس طبع، بہت شائستہ مزاج انسان تھے۔بہت سی علمی وادبی کتابیں بھی لکھیں ۔ ضیاء الحق کے جبرو ستم کے عہد میں افسانوں اور ناولوں میں تجریدی وعلامتی اسلوب کے ذریعے معاشرے کی زبوں حالی کی بھر پور ترجمانی کی۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے!اور پھر یوں ہوتا ہے کہ لوگ ہم سے دور چلے جاتے ہیں تو ہمیں خیال آتا ہے کہ جانے والے تو بہت اچھے لوگ تھے، وہ ہم سے کچھ بھی تو نہ مانگتے تھے سوائے محبت کے چند بولوں کے!اورہم وہ بھی نہ دے سکے!  

اعلیٰ فوجی و سول افسروں کو سزائیں

اعلیٰ فوجی و سول افسروں کو سزائیں

19 days ago.

٭ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غداری کے مجرموں کو موت کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت، سابق بریگیڈیئر راجہ رضوان اور فوج کے ملازم سول افسرڈاکٹر وسیم اختر کو سزائے موت کا حکم! جنرل فیلڈ مارشل کورٹ مارشل نے پاکستان اور بیرون ملک پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ رابطوں اورانہیں اہم معلومات فراہم کرنے پر سزا سنائی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ نے توثیق کر دی ہے۔ ان افراد کو فروری میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے پہلے بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل منصور علی کو فرانسیسی آبدوزوں کے سکینڈل میں گرفتار کیا گیا اور قید کی سزا سنائی گئی۔ فضائیہ کے ایک وائس ایئر مارشل شاہد نے طیاروں اور اسلحہ کی خریداری میں کروڑوں ڈالر کا کمیشن لیا اور امریکہ کی شہریت حاصل کر کے وہاں اعلیٰ قسم کے فلیٹ تعمیرکئے۔ وہ واپس نہیں آیا۔ فوج کے فنڈز کے چار ارب 30 کروڑ روپے کے ناجائز استعمال پر دو سابق جرنیلوں، لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور میجرجنرل خالد زاہد اختر کو طویل قید کی سزائیں ملیں۔ انہیں ہر قسم کی فوجی مراعات اور پنشن وغیرہ سے محروم کر دیا گیا۔ سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ کے ساتھ مشترکہ کتاب لکھنے پر کورٹ مارشل کا سامنا کرناپڑا۔ موجودہ سزا یافتہ جنرل جاوید اقبال گوجرانوالہ کا کور کمانڈر اور دوسرے بہت اہم عہدوں پر فائز رہ چکا ہے۔ سزا یافتہ افراد پر بہت سنگین الزام یہ ہے کہ وہ دشمن عناصر کوملکی سلامتی کے منافی معلومات کی فراہمی کے عوض بھاری رقوم حاصل کر کے منی لانڈرنگ بھی کرتے رہے۔ مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ان سزائوں کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج میں کسی بھی جرم پر معافی یا رعائت کا کوئی تصور موجود نہیں!

وزیرستان کا سانحہ! عمران مودی مذاکرات

وزیرستان کا سانحہ! عمران مودی مذاکرات

23 days ago.

٭وہی ہوا جس کے خدشہ کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ ملک میں خاص انداز سے جو جنگی فضا بنائی جا رہی تھی اس کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے علاقہ میں خار قمر کی فوجی چوکی پر شر پسندوں کے گروہ نے حملہ کر دیا فائرنگ کے تبادلہ  میں ایک فوجی سپاہی شہید، پانچ زخمی، تین حملہ آور ہلاک 10 زخمی ہو گئے۔ مسلح افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ قومی اسمبلی کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں ہوا۔ حملے سے پہلے ان دونوں نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کیا اس پر مشتعل ہو کر ریلی کے مسلح گروہ نے فوجی چوکی پر حملہ کر دیا۔ چوکی میں موجود فوجی جوانوں نے جوابی فائرنگ کی۔ فوج کا ایک سپاہی شہید، 5 زخمی ہو گئے۔ تین حملہ آور ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد محسن داوڑ وہاں سے بھاگ گیا۔ فوج نے علی وزیر اور آٹھ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعہ کے فوری بعد افغانستان کی ایک نیوز ایجنسی نے پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف جعلی تصویریں نشر کر دیں۔ بعد میں اس جعل سازی پر اس ایجنسی نے تصویریں واپس لے کر جعل سازی پر معذرت کر لی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آور اپنے کچھ دہشت گرد ساتھیوں کو چھڑانا چاہتے تھے۔  

پاکستان میں امریکہ نئے فوجی اڈے؟

پاکستان میں امریکہ نئے فوجی اڈے؟

29 days ago.

٭گلگت میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کا بڑا گروہ پکڑا گیا۔ تفصیل خبروں کے صفحہ میں درج ہے۔ مجھے اس خبر سے اطمینان ہوا مگر حیرت نہیں ہوئی! سانپ اور بچھو کی فطرت میں ڈنک مارنا ضروری ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے خلاف برسرکار یہ سارے بدبخت لوگ پاکستان کے ہی باشندے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر ملک کے انٹیلی جنس ادارے اپنے ملک کی حفاظت کے ساتھ سرحد پار اپنے دوست ممالک کے اندر بھی مختلف سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ بھارت سے آپ بھلائی کی کیا توقع کر سکتے ہیں؟ اس نے بلوچستان میں اودھم مچایا ہوا ہے۔ بھارتی وزیراعظم واضح الفاظ میں بلوچستان کو ہدف قرار دے چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ کہ ہمیں تین اطراف ایران، بھارت اور افغانستان کی کھلی پاکستان دشمنی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک پر ایران سے کسی قسم کے کاروبار پر پابندی لگائی ہوئی ہے مگر بھارت کو ایرانی چاہ بہار بندرگاہ کے استعمال کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ بھارت اس بندرگاہ کے ذریعے ایران کے ساتھ ہر قسم کا کاروبار کر رہا ہے۔ بھارت تیل کادو تہائی سے زیادہ حصہ ایران سے درآمد کرتا ہے، یہ تو کاروباری بات ہے، اسی بندرگاہ سے افغانستان کی سرحد کے ساتھ بھارت نے وسطی ایشیائی ممالک تک بڑی شاہراہ بھی تعمیر کر رکھی ہے۔ اسی سڑک کے ذریعے چین سے ملحق ملک تاجکستان میں بھارتی فوجی چھائونی کو فوجی دستے اور اسلحہ بھی بھجوایا جاتا ہے۔ ایران نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ بھارت اس کے تیل کی دنیا بھر میں سب سے بڑی منڈی ہے، وہ اسے کیسے ناراض کر سکتا ہے؟ ایران نے اپنا خاص قسم کا انقلاب لبنان، شام، یمن اور عراق تک پھیلا لیا ہے۔ پاکستان میں وہ یہ انقلاب پھیلانے میں کامیاب نہیںہو سکا، وہ پاکستان ایران بھائی بھائی کے نعرے لگاتا رہتا ہے اور وقفہ وقفہ سے پاکستان کے اندر حملے بھی کرتا رہتا ہے۔