دینی مدارس اصحابِ صفہ کے چبوترے!

دینی مدارس اصحابِ صفہ کے چبوترے!

18 days ago.

   ایک مسلمان کی اصل شناخت اس کا نظریہ حیات ہے،وہ اسلوبِ زیست جو نبی آخر الزامان ﷺ کے صحابہؓ نے اپنایا تو دنیا و آخرت کی کامیابیوں کی اسناد کے ساتھ آسودہ خاک ہوئے،ان کے بعد تابعین ؒ ، تبع تابعین ؒ کا دور آیا  انہوں نے بھی اس ورثے کی پاسبانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی،جو اصحابِ رسول ﷺ نے ان تک پہنچایا تھا ،وہ اصحابِ رسول ﷺ جنہوں نے خطبۃالوداع کے وقت دیئے گئے پیغامِ رسالت کوسارے عالم کے کونے کونے تک پہنچانے میں  کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔وہی خطبہ ہی انسانی حقوق کا پہلا اور آخری منشور ہے ،جس نے ہمیشہ کے لئے انسانی  مساوات کی حتمی اور آفاقی حدود متعین فرما دیں ،اس خطبے نے انسانی رویوں میں ایک ایسا انقلاب بر کیا جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔عجمی اور عربی،کالے اور گورے اور مفلس و نادار اور متمول کے درمیان کھڑی ساری فضیلتوں کی دیواریں  منہدم کر دیں ۔غلاموں اور عورتوں کے حقوق متعین کر دیئے گئے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لینے پر گمراہی سے بچ جانے کا واضح درس دے دیا گیااور کیا ۔خوب فرمایا اللہ کے آخری نبی ﷺ نے کہ ’’آگاہ رہو جاہلیت کا ہر کام میں اپنے  اپنے دونوں قدموں نے نیچے دفن کر رہا ہوںـ‘‘سرکار دوجہاں ﷺ نے اسی عظیم اجتماع کے موقع پر یہ مژدہء روح فرسا بھی سنا دیا کہ ’’ اے لوگو ! بخدا مجھے علم نہیں کہ آ ج کے بعد میں اس جگہ تم سے مل سکوں گا یا نہیں‘‘۔آپ ﷺ نے کار نبوت  علمائے امت کے ذمہ لگا دیا ،امت نے اس وقت سے بار نبوت اٹھانے کا وعدہ کیا اور آج تک اپنے وعدے پر عمل پیرا  ہیں ۔ہاں مگر پندرہویں صدی ہجری تک پہنچتے پہنچتے تبدیلیوں کا ایک طوفان برپا ہو چکا۔ مسلمان اپنی طاقت اور حیثیت کے مطابق بھلائی کا پرچم اٹھائے رہے ،مگر معاشرتی سطح پر ہونے والے تغیرات کا اندازہ صحیح طور پر نہ لگایا گیا ۔  

جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع...!

جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع...!

25 days ago.

جنگ کا بازار گرم ہو دشمن کی افواج سامانِ حرب کے ساتھ نبرد آزئی کے لئے تیار کھڑی ہوں ، سرحدوں پر کشیدگی کا سماںہو ،رات دن شہادتوں کا سلسلہ جاری ہو ،ایسے میں سالار کی مدت ملازمت ختم ہو جائے تو لشکر کو نئے سالار نوید دے دی جائے ، ایکٹنگ سالار کی حکمتِ عملی کا بوجھ نئے سالار کے کندھوں پر ڈال دیا جائے تو اسے سنبھلنے اور معاملات کو سنبھالنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،افواج کے بیچ نئے سرے سے انڈر سٹینڈنگ پیدا کرنے میں کچھ وقت لگ ہی جا تا ہے، اس لئے دانش کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے کسی فیصلے کو مئوخر کردیا جائے،پھر یہ پہلی بار بھی تو نہیں ہورہا اس سے پہلے جنرل اشفاق کیا نی کو اتنی ہی توسیع پی پی پی کے دور میں ملی ،تب سرحدوں پر ایسی کشیدگی نہیں تھی نہ ہی سیاستدان لنگوٹ کسے حکومتِ وقت کے سامنے رن سجائے ڈنڈ پیل رہے تھے ۔میاں نواز شریف اپنے دور اقتدار میں جنرل کاکڑ جیسے اصول پرست سالار کو مدت ملازمت میں توسیع کی پیش کش کی جو انہوں نے ٹھکرا دی جس کی بعد ازاں سزا بھی پائی۔  

مخالفت برائے مخالفت کی سیاست...!

مخالفت برائے مخالفت کی سیاست...!

2 months ago.

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ایک سو چھبیس دنوں کے دھرنے کا ورثہ لئے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے،ان کے دھرنے میں زیادہ تر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہوتی تھیں،آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں جوان مردوں اور عورتوں کی تعداد زیادہے ،پاکستان تحریکِ انصاف نے آبادی کے اس کثیر حصے کو تبدیلی کے نعرے سے متاثر کیا،اس دھرنے کے دوران قومی املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ،مگر معیشت کے لئے ایک وبال کی سی صورت حال بنی رہی،چار ماہ کے لگ بھگ عرصہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کے لڑکے لڑکیاں پارٹی کے نغموں پر رقص میں مست حال رہے۔اس دھرنے کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت نے سیاسی سرگرمیوں پر خاطر خواہ پابندیاں نہیںلگائیں ،حد سے زیادہ پکڑ دھکڑ بھی نہیں ہوئی،حکومت کی طرف سے تشدد کے واقعات بھی کم کم دیکھنے کوآئے،دھرنے میں شامل بعض شر پسند عناصر کو چند گھنٹوں یا دو چار دنوں کے لئے تھانے میں رکھا جاتا، عام طور پر سنگین نوعیت کی سزا بھی نہیں دی جا تی تھیں۔