مارا کم‘ گھسیٹا زیادہ؟

مارا کم‘ گھسیٹا زیادہ؟

7 days ago.

اپوزیشن جماعتوں کو شکوہ تھا کہ حکومت ان کی تعریف نہیں کرتی‘ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد حکومتی شخصیات جس طرح سے اپوزیشن کی تعریفیں کر رہی ہے انہیں سن کر یقینا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا یہ شکوہ تو ختم ہوگیا ہوگا؟ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری  پرویز الٰہی کہتے ہیں کہ ’’آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کا کردار قابل تعریف ہے‘‘ دوسروں کو تو چھوڑئیے اب تو فرزند ’’راولپنڈی‘‘ شیخ رشید بھی اپوزیشن کی تعریف پر مجبور ہوگئے‘ فرماتے ہیں کہ ’’اپوزیشن نے آرمی ایکٹ بل پر ذمہ داری کا ثبوت دیا‘‘ شیخ رشید اور چودھری  پرویز الٰہی کی طرف سے اپوزیشن کی تعریف ’’اپوزیشن‘‘ کے حقیقی ہونے کا بین ثبوت ہے‘ ایسی  ہی ’’اپوزیشن‘‘ حکومت کی ضرورت تھی کہ جس کی تعریف شیخ رشید بھی کریں‘ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’’آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی مفاد کی اہم قانون سازی ہے‘‘ بالکل درست‘ اگر وہ ’’قومی مفاد‘‘ کی اس اہم قانون سازی سے  فارغ ہوچکے ہوں تو اپنی ’’پیاری‘‘ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مل کر  ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں قوم کو مہنگائی  سے نجات کا راستہ بھی سمجھانے کی کوشش کریں۔

دما دم مست قلندر‘ نکے‘ لاڑکانہ تا لندن

دما دم مست قلندر‘ نکے‘ لاڑکانہ تا لندن

10 days ago.

اگر شریف بردران کی پارٹی کا فیصلہ آرمی ایکٹ میں چیف آف آرمی سٹاف کو توسیع دینے کے لئے ہونے والی ترمیم میں ووٹ دینے کے حق میں آرہا ہے تو میرے پاکستانیو! اس میں گھبرانے یا حیران ہونے والی کون سی بات ہے؟ اس خاکسار کا تو روز اول سے ہی مئوقف رہا ہے کہ شریف بردران کا سیاسی خمیر جن فوجی گملوں سے اٹھا ہے‘ ان کی سیاسی خاک کو انہیں گملوں میں پانی ملے گا تو شریفوں کی سیاست ہری بھری رہے گی‘ مجھے ہمدردی ہے ان لوگوں سے جو ’’شریفوں‘‘ سے کسی انقلابی سیاست کی توقع لگائے بیٹھے تھے اور اب ترمیم کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد وہ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر نکال رہے ہیں۔ مجھے ان اینکرنیوں‘ اینکرز اور صحافی دوستوں سے بھی بہت زیادہ ہمدردی ہے کہ جو شریفوں کے کندھے استعمال کرکے اپنا اپنا ایجنڈا پورا کرنے میں مصروف تھے مگر پھر شریفوں نے ایسی پٹخنی ماری کہ ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ اور اب کھسیانی بل کھمبا نوچے کے مترادف انہیں کچھ سمجھائی نہیں دے رہا کہ آخر وہ جائیں تو جائیں کہاں؟

جنت دوزخ برحق۔۔۔آئودین کی طرف

جنت دوزخ برحق۔۔۔آئودین کی طرف

14 days ago.

 سورہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور پیارے بندوں کے ان اوصاف کو ذکر فرمایا ہے جن کی وجہ سے وہ خاص’’عباد الرحمن ‘‘کے لقب اور انعامات باری تعالیٰ کے مستحق بنتے ہیںان مقبول  بندگان میں پائی جانے والی صفات کا خلاصہ یہ ہے کہ -1وہ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ اور غلام بناکر رکھتے ہیں ، اپنی من مانی کے بجائے ہر چیز میںاپنے رب کی مان کر چلتے ہیں اور اسی میں اپنی سعادت دنیوی واخروی سمجھتے ہیں-2ان کا قول وفعل تو کیا پورے مزاج میں ہی تواضع ہے خشونت اور سختی والا مزاج نہیں رکھتے کہ دوسرے انسان انہیں دیکھ کرہی ان سے نفرت کریں -3وہ حلیم اور بردبار ہیں ،غصہ پی جانے والے ہیں ، جاہل کے ساتھ جاہل نہیںہوجاتے بلکہ ایسی بات کرکے جاہل اور جہالت سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں کہ جس سے شردفع ہو جاتا ہے۔-4 پانچوں نمازوں کی پابندی تو کرتے ہی ہیں لیکن اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں اور تنہائی میں اپنے رب کے سا تھ جی بھر کے ملاقات کرتے ہیں-5اپنی عبادت پر فخرو غرور نہیں کرتے بلکہ ہروقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں اور عذاب جہنم سے،اللہ پاک کی ناراضی سے پناہ مانگتے ہیں ۔-6عبادات کی طرح معاملات میں بھی دین و شرع کے پابند رہتے ہیں خصوصاً خرچ کرنے کے معاملے میں نہ تو بخل اور کنجوسی کرتے ہیں اور نہ ہی حد سے زیادہ خرچ کرتے ہیں بلکہ اعتدال پر قائم رہتے ہیں -7 عقیدے کے ایسے پکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شریک نہیں جانتے۔ یہ سچے اور حقیقی عابد ہیں کہ جن کا معبود ایک ہی ہے-8عقیدئہ توحید کو اپنا لینے کے بعد نہ کسی کو ناحق قتل کرتے ہیں-9 اور نہ زنا کرتے ہیں ۔-10اوراگر کوئی گناہ غلطی سے ہو بھی جائے تو اسے صحیح او رحق ثابت کرنے کیلئے الٹی سیدھی تاویلوں کا سہارا نہیں لیتے بلکہ فوراًاپنی غلطی کا اقرار و اعتراف کر کے نادم ہوتے ہیں اور رب کے حضور گریہ وزاری کرکے توبہ واستغفار کرتے ہیں اور اس ایک توبہ کے آسرے بیٹھے نہیںرہتے بلکہ پھر خوب نیک اعمال بھی کرتے ہیں کہ یہ علامت اورنشانی ہے توبہ قبول ہوجانے کی ۔-11عام کبیرہ گناہو ں سے بچنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ سے ، جھوٹی گواہی سے بھی اپنے آپ کوبچاتے ہیں کہ یہ مسلمان کی شان سے بہت بعید ہے ۔-12اور جب انہیں بھلائی کے کاموںکی نصیحت کی جاتی ہے تو اِتراتے نہیںبلکہ خوب توجہ سے سنتے ہیںاور پھر دل و جان سے اس پر عمل پیراہوتے ہیں -13اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو خودہی اپنے پیارے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے اللہ تعالیٰ کے سامنے اس انداز سے اپنی حاجت رکھتے ہیں کہ وہ پوری ہو جاتی ہے ، ہاں!بندے جو اللہ کے ہوئے ، خاص اللہ کے بندے تو اللہ کے ہوتے ہوئے غیراللہ کے سامنے اپنی حاجت کیوںرکھیں؟