جبل استقامت محمد مرسی اور پی ٹی ایم کے کرتوت؟

جبل استقامت محمد مرسی اور پی ٹی ایم کے کرتوت؟

18 hours ago.

جس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہو کر للکارتے ہوئے اعلان  کیا تھا کہ ’’ہم صرف اس کی عزت کریں گے‘ جو ہمارے آقا حضرت محمدﷺ کی عزت کرے گا اور جو بھی  ان کی توہین کرے گا اس سے دشمنی رکھی جائے گی‘‘ مصر کے وہ سابق صدر محمد مرسی ڈکٹیٹر کی نام نہاد عدالت میں زندگی کی بازی ہار گے...صدر محمد مرسی کی زندگی ہی نہیں بلکہ موت بھی غیرت و حمیت کا استعارہ بن گئی‘ وہ عمر عزیز کی 67بہاریں گزار چکے تھے‘ میرے ابا جی دامت برکاتھم سے اگر کوئی پوچھتا ہے کہ حضرت آپ کی عمر کتنی ہے تو وہ مسکرا کر جواب دیتے ہیں کہ ’’سنت‘‘ عمر پوری کرکے اب تو ’’بونس‘‘ پہ زندہ ہوں...مطلب یہ کہ 63سالہ سنت عمر پوری ہوگئی ‘اب زندگی کے باقی سارے سانس ’’بونس‘‘ کے طور پر ہیں‘ یوں محمد مرسی بھی سنت عمر گزار کر بونس پر زندہ تھے ‘وہ مصر کے ایسے منتخب جمہوری صدر تھے کہ  جنہوں نے براہ راست عوام کے پچپن فیصد ووٹوں کے ذریعے حکومت حاصل کی تھی۔  

حضرت سیدناعمرفاروقؓ اور عدلیہ کاوقار

حضرت سیدناعمرفاروقؓ اور عدلیہ کاوقار

11 days ago.

 جمہوری حکومت کا اصلی زیور یہ ہے کہ بادشاہ ہر قسم کے حقوق میں عام آدمیوں کے ساتھ برابری رکھتا ہو یعنی کسی قانون کے اثر سے مستثنیٰ نہ ہو، ملک کی آمدنی میں سے ضروریات زندگی سے زیادہ نہ لے سکے، عام معاشرت میں اس کی حاکمانہ حیثیت کا کچھ لحاظ نہ کیا جائے، اس کے اختیارات محدود ہوں،ہر شخص کو اس کے قابل اعتراض امور پر نکتہ چینی کا حق حاصل ہو۔ یہ تمام امور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس درجے تک پہنچے تھے کہ اس سے زیادہ ممکن نہ تھے اور جو کچھ تھا خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریق عمل کی بدولت ہوا تھا انہوں نے متعدد موقعوں پر ظاہر کر دیا تھا کہ حکومت کے لحاظ سے ان کی کیا حیثیت ہے  اور ان کے کیا اختیارات ہیں ایک موقع پر انہوں نے اس کے متعلق جو تقریر کی تھی اس کے بعض  فقرے اس موقع پرآب زر سے  لکھنے کے قابل ہیں: ’’مجھ کو تمہارے مال(یعنی بیت المال) میں اس قدر حق ہے جتنا یتیم کے مربی کو یتیم کے مال میں۔ اگر میں دولت مند ہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اور ضرورت پڑے گی تو دستور کے موافق کھانے کے لیے لوں گا ۔ میرے اوپر تم لوگوں کے متعدد حقوق ہیں جس کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے۔ ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بیجا طور سے نہ جمع کیا جائے ۔ ایک یہ کہ جب میرے ہاتھ میں خراج اورغنیمت آئے تو بیجا طور سے خرچ نہ ہونے پائے،ایک یہ کہ میں تمہارے روزینے بڑھادوں اور سرحدوں کو محفوظ رکھوں ۔اور ایک یہ کہ تم کوخطروں میں نہ ڈالوں‘‘  

خوشی اور غم … عید ملن

خوشی اور غم … عید ملن

12 days ago.

عید کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی والدہ محترمہ مغفورہ کی قبر پر حاضری دینے کی نیت سے قبرستان پہنچا تو وہاں سینکڑوں مسلمان اپنے پیاروں کی قبور پر فاتحہ خوانی میں مصروف نظر آئے۔ خوشی اور غمی کے ان ملے جلے لمحات میں آقاء و مولیٰ ﷺ کی غلامی اختیار کرنے پر دل مزید اطمینان اور راحت سے بھر گیا یہ ’’حسن‘‘ صرف اسلام کا ہی ہے کہ جو موت کا جام پی کر قبر کے پاتال میں اتر جانے والے انسانوں کے حقوق کا بھی مکمل ضامن ہے۔عید الفطر ہو‘ عید الاضحی ہو‘ جمعتہ المبارک ہو‘ شب برات ہو یا شب معراج رات‘ دن میں پنجگانہ نمازیں ہوں‘ تہجد ہو ‘ نماز چاشت ہو‘ اشراق ہوں یا اوالبین کے نوافل‘ عمرہ ہو یا حج بیت اللہ کی سعادت‘ مسلمان‘ انتقال کے بعد قبرستانوں کے مکین بن جانے والے اپنے  پیاروں کو ہر جگہ یاد رکھتا ہے‘ جو مسلمان مردوں کے حقوق کو نہیں بھولتا‘ وہ بھلا زندہ انسانوں کے حقوق کیسے بھول سکتا ہے؟ اس بات پر غور کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔