مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

16 hours ago.

ایک (ر)صاحب ایک ٹی وی پروگرام میں فرما رہے تھے کہ 1977ء میں جب تحریک نظام مصطفیٰ  چلی تو ان کی ڈیوٹی لاہور میں تھی۔ نیلا گنبد اور اس کے گردونواح کے علاقے میں  تحریک کا زور تھا۔ نبیﷺ کے نام پر لوگ گولی کھانے سے بھی دریغ نہیں کر رہے تھے فورسز کا جوان جب انہیں بندوق سے ڈرانے کی کوشش کرتا تو وہ سینہ تان کر گولی کھانے کیلئے تیار ہو جاتے۔ یہ صورتحال پریشان کن تھی۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ بندوق کی بجائے ان کی ٹانگوں پر لاٹھیوں سے اتنا مارو کہ ’’مولویوں‘‘ کو نانی یاد آجائے۔ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر  اینکر قہقہہ مار کر ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں وہ آزادی مارچ والوں سے بھی  اسی طرح نمٹے، جواب  ملتا ہے کہ بالکل ان کا علاج ہی یہی ہے، سچی بات ہے کہ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر میں ہل کر رہ گیا، اپنے ہی عوام کے بارے میں اس قسم کی گفتگو کرنا سنگدلی کی انتہا نہیں تو پھر کیا ہے؟  

ایک بات پوچھوں؟ مارو گے تو نہیں؟

ایک بات پوچھوں؟ مارو گے تو نہیں؟

13 days ago.

آج کشمیر کے عوام یہ سوالات اٹھانے پر مجبور ہیں کہ ’’اگر کلاشنکوف لے کر ایل او سی کو کراس کریں تو تم دہشت گرد کہتے ہو، کلاشنکوف کے بغیر ایل او سی پر جائیں تو بے وقوف کہتے ہو، تم سے کشمیر کو آزاد کروانے کی بات کریں تو کہتے ہو کہ کشمیریوں کی جنگ ہے، کشمیری اپنی جنگ خود لڑنے کے لئے میدان میں آئیں تو کہتے ہو یہ بھارتی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ تم سے ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟ کہیں تم میر جعفر اور میرصادق تو نہیں؟ ان سوالات کا جواب کسی صاحب اقتدار کے پاس ہے تو وہ ضرور دے ۔ وہ جو جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی مشہور زمانہ تقریر تھی۔ اس تقریر سے کیا کشمیر میں کرفیو ختم ہوگیا؟ کیا بدمعاش نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کر دیا؟ کیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی مظالم میں رتی بھر برابر بھی کمی آئی؟ اگر نہیں تو پھر جنرل اسمبلی کی اس تقریر کو کسی بڑے مرتبان میں ڈال کر اس کا اچار بنالیا جائے اور تقریر کا وہ اچار وفاقی اور صوبائی وزراء کی فوج ظفر موج میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ ان کے ہاضمے درست ہوسکیں۔  

سعودی عرب اور ایران کے مابین مصالحت کی امید

سعودی عرب اور ایران کے مابین مصالحت کی امید

20 days ago.

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حد سے بڑھی ہوئی کشیدگی کیا رنگ لائے گی یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے‘ سعودی عرب کی وزارتی کونسل کا کہنا ہے کہ ’’ ایرانی نظام گزشتہ چالیس سال سے بیماری‘ تباہی اور قتل و قتال کے سوا کچھ نہیں جانتا‘‘ اس سے قبل ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کو سعودی عرب کی جانب سے پیغامات بھیجے گئے ہیں جو موصول ہوگئے ہیں‘ ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہتا ہے تو تہران اس اقدام کا خیر مقدم کرے گالیکن اس سے اگلے ہی روز سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ عادل الجیر نے ایرانی حکام کو مصالحت کے لئے کوئی پیغام بھیجنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’’برادر ممالک پر واضح کیا گیا ہے کہ صلح  کی پیشکش اس کی جانب سے آنی چاہیے جو جارحیت کی راہ پر گامزن ہو‘ سعودی عرب نے یمن کے بارے میں ایرانی حکومت کے ساتھ  بات کی ہے اور نہ کرے گا‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایرانی حکومت یمن میں امن چاہتی ہے تو اس نے وہاں پر تعمیر و ترقی کے لئے فنڈز کیوں نہیں دئیے؟ یمن کا معاملہ یمنی عوام کا مسئلہ ہے۔  

تقریر کا تاریخی گھوڑا اور مہنگائی کا سونامی

تقریر کا تاریخی گھوڑا اور مہنگائی کا سونامی

22 days ago.

وزیراعظم عمران خان اور حکومتی رتھ پر سوار دانشوران تحریک، اگر تقریر کے تاریخی گھوڑے سے نیچے اتر آئے ہوں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ ایک نظر مہنگائی کے سونامی کے ہاتھوں پریشان پاکستانی قوم کی حالت زار پر بھی ڈال لیں۔ عمران خان کی حکومت کے ایک سالہ دور میں ہونے والی مہنگائی نے پاکستان کے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ عمران خان اور ان کے درباری اس قوم کو بتائیں کہ وہ کدھر جائیں؟ کیا کریں؟ اور کیسے گزارہ کریں؟ ’’تقریر‘‘ سے اگر غریبوں کا پیٹ بھرتا تو میں انہیں ’’تقریر‘‘ کھانے کا مشورہ دیتا … ’’تقریر‘‘ اگر سالن پکانے میں معاون ثابت ہوسکتی  ، ’’تقریر‘‘ سے اگر مائیں صبح بچوں کا ناشتہ تیار کرسکتیں، ’’تقریر ‘‘ سے اگر بجلی کا بل ادا ہوسکتا ، ’’تقریر‘‘ اگر بچوں کی فیسوں کا متبادل ثابت ہوسکتی ، ’’تقریر‘‘ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لاسکتی، ’’تقریر‘‘ اگر مزدور کی تنخواہ میں اضافے کا سبب بن سکتی، ’’تقریر‘‘ اگر سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار میں درستگی کا باعث بن سکتی ، ’’تقریر‘‘ اگر جان بچانے کی ادویات کی قیمتوں میں کمی لاسکتی، ’’تقریر‘‘ اگر سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی گردی کا نشانہ بننے والے بچوں کی اشک شوئی کرسکتی۔ تقریر اگر گوجرانوالہ کے صلاح الدین کو انصاف مہیا کرسکتی تو یقین مان لیں میں تقریر کے ایک ایک لفظ کو تعویذ بنانے کا مشورہ ضرور دیتا،  ’’تقریر‘‘ کے الفاظ ہوا میں اڑ جاتے ہیں یا پھر فائلوں میں دب جایا کرتے ہیں۔ تقریریں کرکے لوگ اگر بھولیں نہ بھی مگر یوٹرن تو لازمی لے لیا کرتے ہیں۔

سعودی تقریبات کااحوال  اور  زلزلے کی وجوہات

سعودی تقریبات کااحوال  اور  زلزلے کی وجوہات

28 days ago.

پیر اور منگل کے دن اسلام آباد کے مختلف ہوٹلز میں تین بڑی تقریبات منعقد ہوئیں، گو کہ ان تینوں تقریبات کے عنوانات مختلف تھے مگر مقصد تقریباً ایک ہی تھا، پیر کے دن ایک ہوٹل میں وحدت امت کے عنوان سے کانفرنس انعقاد پذیر تھی تو دوسرے ہوٹل میں تقدس حرمین سیمینار کا غلغلہ تھا۔ دونوں تقریبات میں تمام مسالک کے علماء، سیاسی، سماجی شخصیات کے علاوہ پیران کرام اور مشائخ عظام بھی بھرپور نداز میں شریک رہے جبکہ منگل کے دن سعودی عرب کے 89 ویں قومی دن کی نسبت  سے سعودی سفارت خانے کی طرف سے مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ ان تینوں تقریبات  کی منفرد بات یہ تھی کہ سعودی عرب کے اسلام آباد میں سفیر نواف سعید المالکی پیر کے دن منعقدہ علماء ومشائخ کی دونوں تقریبات کے مہمان خصوصی اور منگل کے دن منعقدہ پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ عالمی حالات کے تناظر میں اسلام آباد میں منعقدہ  ان تینوں تقریبات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری تھا لیکن افسوس کہ منگل کے دن آنے والے زلزلے نے ذہن میں آئے ہوئے خیالات پر بھی لرزہ طاری کر دیا۔ بہرحال ایک بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ اسلام آباد میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بہرحال سفارت کاری کے ہنر سے خوب آشنا ہیں ،  مان لیں اگر وہ سعودیوں والا لباس نہ پہنیں تو اندر باہر سے پورے کے پورے پاکستانی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔