کشمیر کی آزادی اور جہاد کشمیر کے مخالف دانش فروش

کشمیر کی آزادی اور جہاد کشمیر کے مخالف دانش فروش

6 days ago.

15 اگست جمعرات کے دن بھارت کے یوم آزادی کو مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر سے لے کر کراچی اورگوادر تک پاکستان کے عوام نے یوم سیاہ کے طور پر مناکر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا، پاکستانی عوام نے شہر شہر، جلسے جلوس،مظاہرے اور سیمینار منعقد کرکے بدنام زمانہ نریندر مودی اور بھارتی آرمی چیف کے نہ صرف یہ کہ پتلے جلائے بلکہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کے خلاف بھی کھل کر اپنی نفرت کااظہار کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت پاکستان کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کی زندگیاں بچانے کیلئے اعلان جہاد کرتی ہے تو پاکستانی قوم کا ہر پیرو جواں پاک فوج کے شانہ بشانہ اس جہاد میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔ اس سارے تناظر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے وہ عناصر جو کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور اللہ پاک کے حکم جہاد کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے چلے آرہے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بدترین مظالم کے خلاف سرگرم نظر نہیں آیا، پی ٹی ایم اور حقوق حیوانات کی این جی اوز کے خرکار جو پاک فوج کے خلاف تو پروپیگنڈہ کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیںاس نازک موقعہ پر وہ بھی منظرنامے سے غائب رہے۔  

کشمیری بہن کا سوال آج نہیں تو پھر کب؟

کشمیری بہن کا سوال آج نہیں تو پھر کب؟

11 days ago.

کشمیر کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو دنگا فساد ہوا، اسے دیکھ کر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ کشمیرپر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں، سڑکوں کے احتجاج، عالمی برادری سے مداخلت کی اپیلوں اور التجائوں سے نہیں بلکہ پاک فوج کے عملی جہاد سے آزاد ہوگا، دنیا نے دیکھا کہ نریندر مودی کی درندہ صفت فوج نے سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کو جمعتہ المبارک کی نماز بھی ادا نہیں کرنے دی …کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں ایٹمی اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور مسلح افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کو پکار رہی ہیں ۔ ایسا یہ ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں ایک کشمیری بہن ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویومیں کہہ رہی ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کے تین فریق ہیں ،ایک انڈیا، دوسرا پاکستان اور تیسرا کشمیر کے عوام، اگر انڈیا زبردستی کشمیریوں کو دبانے کیلئے کشمیر میں اپنی فوج داخل کرسکتا ہے تو دوسرا فریق پاکستان کشمیر میں اپنی فوج داخل کیوں نہیں کرسکتا؟ دنیا کے پاس پاکستان کو اپنی فوج کشمیر میں داخل کرنے سے روکنے کا کیا جواز ہے؟ اگر دنیا انڈیا کو کشمیریوں کے ظلم سے باز نہیں رکھ سکتی  تواس دنیا کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ پاکستانی فو ج کو کشمیر میں داخل ہونے سے روکے؟ کشمیری بہن روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ پاکستانی فوج کو اس وقت تک مقبوضہ کشمیر کے اندر ہونا چاہیے تھا،  عالمی برادری اور امریکہ کشمیر کے لئے کچھ نہیں کرے گا، آج نہیں تو کب؟ پاکستانی وزیراعظم تو ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے ، جب ہندوستان آخری حد کو کراس کرچکا تو پھر کس چیز کا انتظار کیا جارہا ہے؟ یہ عالمی برادری یہ  مسلم ’’امہ‘‘ ان میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے، بحیثیت کشمیری میری توقعات پاکستان آزاد کشمیر کے عوام پاک فوج سے وابستہ ہیں، میں آج کشمیر کی بیٹی کی حیثیت سے آواز دیتی ہو ں پاکستان کی فوج کو اٹھیں اور کشمیر کے اندر داخل ہو جائیں … اگر آج نہیں تو پھر کب؟  

وادی چترال اور اس کا گرم چشمہ

وادی چترال اور اس کا گرم چشمہ

15 days ago.

بلامبالغہ پاکستان کی خوبصورتی میں کوئی کلام نہیں ہے‘ جمتہ المبارک کی علی الصبح کراچی سے اسلام آباد کی طرف عازم سفر ہوئے تو چترال کی خوبصورت وادیوں کے سفر کی ٹھان لی۔ کوئی ڈیڑھ عشرہ قبل چترال کی مرکزی شاہی مسجد میں چترال کے غیور مسلمانوں سے خطاب کرنے کی سعادت حاصل کر چکا تھا‘ تب اور اب میں فرق صرف یہ نظر آیا کہ چترال کی طرف جانے والی سڑکوں میں کچھ بہتری نظر آئی‘ یہ خاکسار اتوار کی رات تقریباً11بجے عزیزم حافظ عبدالحفیظ رحمی اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا قاری سہیل عباسی کے ہمراہ چترال شہر میں داخل ہوا تو بازار بند ہوچکا تھا جبکہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی اپنے آخری مراحل کی طرف گامزن تھے اور اگر ہم تھوڑا سا بھی لیٹ ہوتے تو یقینا وہ بھی بند ہوچکے ہوتے‘ رات چترال سٹی میں گزارنے کے بعد اگلی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ہم ضلع چترال کی تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ کی طرف روانہ ہوئے‘ چترال شہر سے تقریباً چوالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ’’گرم چشمہ‘‘ واقع ہے‘ لیکن تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ تک پہنچنے کے لئے یہ 44کلو میٹر 3 سے 4 گھنٹے میں طے ہوتے ہیں‘ وجہ اس کی بڑی واضح یعنی خطرناک خشک پہاڑی سلسلہ‘ راستہ ٹوٹا پھوٹا اور انتہائی شکستہ حال‘ سڑکوں کی شکستگی اور خستہ حالی صرف چترال سے تحصیل لٹکوہ کے درمیانی راستے میں ہی نہیں بلکہ تحصیل لٹکوہ کے صدر مقام گرم چشمہ کی حدود میں بھی ہر طرف پھیلی ہوئی نظر آئی۔

کشمیر کی خوفناک صورتحال اور ہماری دلنوازیاں

کشمیر کی خوفناک صورتحال اور ہماری دلنوازیاں

18 days ago.

وزیراعظم عمران خان جس طرح سے بار‘ بار نریندر مودی کو فون کرکے راضی کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے‘ جس طرح سے بھارت اور ایف اے ٹی ایف اے کے مطالبوں پر آزادکشمیر اور پاکستان سے جہاد کشمیر کے آثار مٹانے کی کوششیں کی گئیں جس محبت بھرے جذبات کے ساتھ کرتار پورہ راہداری کو اوپن کیا گیا‘ صوبہ پنجاب‘ سندھ ‘بلوچستان  اور کے پی کے سے جہاد کشمیر سے محبت کرنے والوں کو جن ظالمانہ انداز سے گرفتار کرکے جیلوں اور ٹارچر سیلوں کا رزق بنایا گیا‘امریکہ کا دورہ کامیاب ثابت کرنے کے لئے جس طرح سے  ٹرمپ کی ثالثی کے اعلان کی دھول اڑائی گئی‘ حسن سلوک کے نام پر جس طرح سے جارحیت کا ارتکاب کرنے والی بھارتی پائلٹ کو پورے پروٹوکول کے ساتھ رہا گیا۔ عمران خان حکومت کے ان سب کارناموں کا تقاضا تو یہ ہے کہ میرے سمیت ہر پاکستانی نریندر مودی سے ’’محبت‘‘ کے جذبات کا اظہار کرے‘ اس کی جیت کو پاک وہند کے انسانوں کے لئے مثبت قرار دے‘ دہلی کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرکے ’’سیفما‘‘ یا بھارتی راتب خور کسی دوسری این جی او میں شامل ہو کر پاک انڈیا دوستی کی خود ساختہ خبریں اڑائے‘ سابق حکمرانوں کی طرح عمران خان حکومت کا دہلی کے لئے نرم اور کشمیری مجاہدین کے لئے سخت رویہ دیکھ کر میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی بھارتی سرکار کے حق میں دو چار کالم لکھ کر چند شامیں بھارت میں گزارلوں۔مولانا محمد مسعود ازہر اور حافظ محمد سعید جیسے اکابرین کو دہشت گرد تسلیم کرکے اپنی ’’دانشوری‘‘ کا لوہا نریندر سرکار سے تسلیم  کروالوں‘ لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ اور بھارتی پٹاری کے دانش فروشوں نے دہلی سرکار کو منہ دکھانا ہوتا ہے۔  

مدرسہ ڈسکورسز،فضل الرحمن ،عمران خان اور طارق جمیل

مدرسہ ڈسکورسز،فضل الرحمن ،عمران خان اور طارق جمیل

24 days ago.

جمعرات 25جولائی کو اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر یوم سیاہ منایا‘ کیا کبھی کوئی دن بھی ’’کالا‘‘ ہوسکتا ہے؟ انتخابات تو ’’جعلی‘‘ بھی ہوسکتے ہیں‘ خود ساختہ بھی اور  25جولائی کو بعض غیر مرئی طاقتوں کے کسی کارنامے کو بھی سیاہ‘ کالا یا بلیک قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر کسی ’’دن‘‘ کو سیاہ قرار دینا کس حد تک درست ہے اور اس کا جواب مفتیان کرام کے ذمہ قرض بھی ہے اور فرض بھی‘ بالکل ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے در آنے والے نئے نویلے فتنے کی طرح‘ گو کہ ہمارے ایک بزرگ کالم نگار نے ’’مدرسہ ڈسکورسز کے بارے میں‘‘ کے عنوان سے تین قسطوں میں لکھے گئے کالموں میں دینی مدارس کے نظام تعلیم میں پائی جانے والی خامیوں کی خوب نشاندہی فرما کر گیند وفاق المدارس اور تنظیمات دینی مدارس کے اکابرین کی کورٹ میں پھینک دی ہے...اب حضرت اقدس ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر‘ مولانا محمد حنیف جالندھری اور حضرت مفتی منیب الرحمن سمیت دینی مدارس کے دیگر اکابرین اور وارثین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ کالم نگار بزرگ عالم دین نے اپنے مضمون میں جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے اس کا کافی و شافی جواب عنایت فرمائیں‘ اور ان سوالوں کا بھی کہ ان خامیوں کی موجودگی میں اگر کوئی صاحبزادہ کسی مسیحی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر امریکی این جی او کے سائے تلے مدارس کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس پر  چیں بہ چیں ہونے کی کیا ضرورت ہے؟  

درویش صفت عرفان صدیقی کی گرفتاری!

درویش صفت عرفان صدیقی کی گرفتاری!

25 days ago.

2013 ء میں جب وہ نواز شریف حکومت کو پیارے ہوگئے تو انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا، مسلسل چھ سالوں سے وہ جو ’’نقش خیال‘‘ نہ لکھنے کا جرم کررہے تھے اس کی سزا تو انہیں ملنی ہی تھی، بہانہ وہ ’’کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی ‘‘ بنا، مگر عمران خان حکومت نے 78 سالہ بوڑھے درویش صفت عرفان صدیقی کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر یہ بات ثابت کر دی کہ اس عہد کم ظرف میں ’’تبدیلی‘‘ کی حیاء باختہ کوکھ سے جس تہذیب نے جنم لیاہے اس میں بوڑھے، پروفیسر، ادیب، عالم، غیر عالم سب رگیدے جائیں گے، پیارے عرفا ن صدیقی سے اس خاکسار کا پہلا رابطہ1999 ء میں ہوا تھا، وہ شہید مولانا سمیع الحق کے وفد کے ہمراہ قندھار کے دورے پر گئے جہاں ان کی طالبان کے امیر مرحوم ملا محمد عمر مجاہد سمیت دیگر رہنمائوں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، افغانستان کے دورے سے واپسی پر انہوں نے کراچی سے چھپنے والے ایک معروف جریدے میں ’’طالبان کا افغانستان‘‘ کے عنوان سے قسط وار مضمون لکھے، سچی بات ہے کہ ان مضامین نے مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا اور پھر ان سے رابطہ کرنے میں اس خاکسار نے خود پہل کی۔