حملے کا انتظار؟

حملے کا انتظار؟

3 days ago.

بھارتی یوم آزادی کے موقع پر بھی مقبوضہ کشمیرکے  ایک کروڑ سے زیادہ عوام5اگست سے گھروں میںنظر بند ہیں۔مکمل لاک ڈائون ہے۔ اعلان دفعہ 144کا کیا گیا۔ مگر عملاً کرفیو نافذ ہے۔ لازمی سروسز کے لئے کرفیو پاس جاری کئے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز ان پاسز کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ بھارت نے جب سے آرٹیکل 370اور35اے کو صدارتی حکم نامے سے ختم کیا ہے، تب سے کشمیریوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ  احتجاج کا اپنا حق استعمال نہ کر سکیں۔ بھارت نے مقبوضہ ریاست پر صدر راج نافذ کیا ہوا ہے۔ دہلی کا نظام گورنر چلا رہا ہے۔ گورنرآئین ساز اسمبلی کی سفارشات پر ہی بھارت کا کوئی آئین نافذ کرنے یا اسے مسترد کرنے یا اس میں کوئی ترمیم کرنے کا اختیار رکھتا ہے ‘تا ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی 1957ء میںتحلیل کر دی گئی۔یہ آئین ساز اسمبلی مہاراجہ کے ایک حکم نامے سے تشکیل دی گئی تھی۔اس وقت کوئی دستور ساز اسمبلی نہیں۔دستور ساز اسمبلی کی جگہ قانون ساز اسمبلی کام کر رہی ہے ۔  

آزاد ی مبارک

آزاد ی مبارک

4 days ago.

اگست کا مہینہ پاکستان اور بھارت کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔اس ماہ دونوں اپنا اپنا یوم آزادی مناتے ہیں جسے پاکستان میں یوم استقلال بھی کہا جاتا ہے۔ 72سال قبل اسی ماہ کے وسط میں دونوں ممالک نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی اور دنیا کے نقشے پرآزاد و خودمختار ممالک کے طور پر نمودار ہوئے۔یہ برس کشمیریوںکی غلامی کے ہیں۔ گو کہ دونوں ممالک برٹش پارلیمنٹ کے 18جولائی 1947ء کے انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کے تحت آزاد ہوئے اور دونوں کو 14اگست 1947ء کو آزاد ہونا تھا۔لیکن کانگریسی انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ جشن پاکستان کے ساتھ منانا تک گوارا نہ کر سکے اور اسے ایک دن کی تاخیر کی نذر کر دیا گیا۔پاکستان کے لئے انگریزوںکے ساتھ ساتھ کانگریسی انتہا پسند ہندئوں سے بھی آزادی کی جنگ لڑنا پڑی۔ اگست کی 14 تاریخ کو پاکستان ایک آزاد وخود مختار ملک بن گیا ۔ پنجاب کے یونینسٹ اور سرحد کے خدائی خدمت گار کانگریس کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں سرگرم رہے۔یہاں جشن کے مواقع پر تعطیل کی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا کی 93ویں سالگرہ کے موقع پرتعطیل کے بجائے اضافی محنت و مشقت سے کام لیا گیا۔یہ ایک مشعل راہ تھی لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے کا عمل اور قوموں کے مثبت امور عملانے کی جانب توجہ انتہائی تعلیم یافتہ اور سوجھ بوجھ کے حامل معاشروں کا ہی طرہ امتیاز ہوتا ہے۔غیر ترقی یافتہ اور نیم خواندہ قومیں پیامبر کو قتل اور آئینہ توڑنے میں ہی بھلائی و عافیت سمجھتی ہیں۔چند برس قبل پاکستان نے سیلاب زدگان سے اظہار یک جہتی اور اخراجات سے بچنے کے لئے یوم آزادی کی تقریبات کو منسوخ کرکے اچھی روایت قائم کی۔قربانیاں دے کر آزادی اور مقام حاصل کرنے والوںکی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو حاصل کرنے میں لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔قیام پاکستان کے وقت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی۔پاکستان میں 1951ء کو کئے گئے پہلے سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد نے ہجرت کی۔80لاکھ مسلمان پاکستان آئے اور 60لاکھ ہندو پاکستان سے بھارت گئے۔اس دوران مختلف واقعات میں 10لاکھ لوگ مارے گئے۔50ہزار مسلم خواتین کو اغوا کیا گیا۔ ہندوانتہاپسندوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت مختلف قافلوں میں پاک سر زمین پر قدم رکھنے کے آرزو مند مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا۔بزرگوں ،بچوں اور خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں جوان عورتوں اور کم سن بچیوں کو اغوا کرنے کے افسوسناک سانحات بھی پیش آئے ،آج 72 برس گزرنے کے باوجودان گمشدگان کی تلاش جاری ہے ۔پاکستان ہجرت کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ پیش آئے ۔ ان کے لواحقین پر کیاگزری ؟اس بارے صرف سوچاہی جاسکتاہے اس دکھ ودردکو محسوس کرنا انتہا ئی مشکل ہے۔ ہندوانتہاپسندوں نے تلواروں، کرپانوں ،سلاخوں اور برچھیوںپر مسلمان شیر خوار بچوںکو اچھالا ۔ مسلمانوںکے گھروں،املاک و باغات کو آگ لگادی ۔ بستیاں اور بازار راکھ بنادئیے گئے ۔ان کی جائیدادوں پر قبضہ جمالیاگیا ،جو قافلے پاکستان کے لئے روانہ ہوئے ان کو جگہ جگہ لوٹاگیا اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔لاتعداد لوگ زندہ جل مرے۔لاتعداد عفت مآب خواتین کی حرمت کو پامال کیا گیا ۔مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ہوا جو مسلمان بھارت میں رہ گئے انہیںمشکوک، غداراور پاکستان کے ایجنٹ مسلمان کہا گیا ۔ بھارت میں انتہا پسندوں کا آج بھی یہ نعرہ ہے ’’ہندو کا ہندوستان، مسلمان کا قبرستان‘‘۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی اور ہندو متحد ہو گئے۔ جنوبی ایشیا میں تقسیم کے منفی اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔آج بھارت میں مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے الزامات لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے حد کر دی ہے۔نریندر مودی کا دوسرا دور اقتدار زحمت بن کر شروع ہوا ہے۔ 

جنگ بندی لائن کو انٹرنیشنل بارڈر قراردینے کا آغاز

جنگ بندی لائن کو انٹرنیشنل بارڈر قراردینے کا آغاز

6 days ago.

اتوار 4اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی پوری آبادی کو نظر بند کر دیا۔ سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی کو ان کے گھروں میں نظر بند کیا گیا۔ انٹر نیٹ ، موبائل، ٹیلیفون، کیبل سمیت ہر قسم کے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیئے گئے۔ پیر صبح 4بجے کے بعد میرے مقبوضہ کشمیر میں عزیز و اقارب سے کوئی رابطہ نہیں۔ چند صحافی جو سرینگر سے دہلی پہنچے میں کامیابی ہو سکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر اپنی پانچ ہزار سالہ تاریخ کے ایک تاریک دور سے گزر رہا ہے۔ ہر گھر کے سامنے بھارتی فوجی پہرہ دے رہا ہے۔ سخت کرفیو نافذ ہے جسے حکام کرفیو کے بجائے دفعہ 144کا نام دے رہے ہیں۔ 4اگست سے آج 10اگست تک کرفیو نافذہے۔ تمام  کاروبار زندگی تو معطل ہے ہی، بچوں کو دودھ تک میسر نہیں۔ کئی علاقوں میں نوجوانوں نے کرفیو توڑ کر قابض فورسز پر پتھرائو کیا۔ جن پر اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں۔ سینکڑوں کشمیری ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ پیلٹ فائرنگ سے سینکڑوں کشمیریوں کی آنکھیں اور سر ، چہرے متاثر ہیں۔ مگر ہسپتالوں میں ادویات موجود نہیں۔ سخت پابندیوں کے وجہ سے ایمرجنسی سروسز کو بھی کام کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ کرفیو پاس جاری کئے گئے ہیں لیکن فوجی ان کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ بھارتی اخباروں کے ساتھ منسلک کشمیری صحافیوں نے 4اگست کو اپنی آخری رپورٹ ارسال کی تھی۔ اس کے بعدان میں سے چند نے دہلی پہنچ کر 9 آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے منصوبہ بندی سے پہلے آزادی پسند قائدین کو گرگرفتار کیا۔ اس کے بعد بھارت نواز حراست میں لئے گئے۔ سینکڑوں افراد کو جیلوں میںڈال دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ جب بھارتی پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370ختم کرنے کے بل پر بحث ہو رہی تھی، ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو دہلی میں نظر بند رکھا گیا۔ آج ہر کشمیری ایک بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اسی بے بسی نے گزشتہ چار روز سے شدید بخار میں مبتلا کر رکھا ہے۔   

امریکی ثالثی اور بھارتی آئینی جارحیت

امریکی ثالثی اور بھارتی آئینی جارحیت

12 days ago.

 اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر میں رائے شماری کرانے کے مطالبات بھارت نے نظر انداز کر دیئے اور کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مار دیا۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیںمسترد کر دیا۔ امریکی ثالثی کی مسلسل کئی  پیشکشوں کے بعد بھارت نے بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی۔ مقبوضہ ریاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی بنیاد مٹا دی۔ مقبوضہ ریاست کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو اپنی مرکزی حکومت کے زیر انتظام علاقے بنا دیا۔یہ فارمولہ گو کہ بی جے پی کے الیکشن منشور میں درج تھا مگراس پر عمل در آمد وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے کامیاب قرار دی گئی  دوستانہ ملاقات کے بعد ہنگامی طور پر کیا گیا۔ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ان پر بھارتی قوانین نافذ کر دیئے۔ کشمیر کا پرچم اتار دیا۔ یہ سب  ڈرامہ پہلے گورنر اور اب صدارتی راج کے دوران رچایا گیا۔   

کشمیر میں ہائی الرٹ

کشمیر میں ہائی الرٹ

13 days ago.

فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیںخفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے بتایا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوئوں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے ۔ گذشتہ ہفتے ریاست میں نیم فوجی دستوں کی 100کمپنیاں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔  

عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

عمران خان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وعدے

20 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) بھارت نے مسئلہ کشمیر کو بھی دہشت گردی سے جوڑ کر پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے بے انتہا سفارتی اور سیاسی سرمایہ کاری کی تھی، لیکن اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلے کے طور پر تسلیم کیا بلکہ بھارتی وزیرِاعظم کو بھی بیک فٹ پر لے گئے۔بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوان ان سیشن تھے اور بھارت کے وزیرِ خارجہ اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی خود ایوان میں آکر وضاحت دیں۔ مودی کے لیے امریکی صدر کو جھوٹا قرار دینا بہت بڑی سفارتی آزمائش تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات انتہائی گرم جوشی کے بعد تجارتی تنازع کا شکار ہیں اور مودی کو ستمبر میں واشنگٹن بھی جانا ہے۔قوم پرستی کی لہر کا شکار بھارتی میڈیا تو جیسے یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ مودی نے صدر ٹرمپ سے ایسی کوئی درخواست کی ہوگی۔رواں سال فروری میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد انتہائی کشیدہ صورت حال میں بہتری صدر ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد ہی آئی تھی جو انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے انتہائی اہم ملاقات کی مصروفیت سے وقت نکال کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے ویتنام کے دارالحکومت میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ چند گھنٹوں بعد پاک‘بھارت تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر آنے والی ہے۔ صدر ٹرمپ سے کس نے درخواست کی یہ الگ موضوع ہے لیکن اس موقع پر ٹرمپ نے ڈیل میکنگ کی مہارت دکھا دی تھی۔ اسی ڈیل میکنگ کی مہارت کی بنیاد پر شاید مودی نے ٹرمپ سے کوئی درخواست کی ہو اور ڈیل میکنگ کے ماہر صدر نے شاید اس درخواست کو نئے مفہوم پہنا کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیا ہو، غرض یہاں کسی سے کچھ بھی بعید نہیں۔  

امریکی ثالثی

امریکی ثالثی

25 days ago.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش پر بھارت سخت ردعمل اور پاکستان  زبردست  خیر مقدم کر رہا ہے۔22جولائی کو وائٹ ہائوس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان  کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کے کئی ریمارکس خیر معمولی تھے۔ یہ سب روایت سے ہٹ کر ظاہر کئے گئے۔ ان میں کشمیر پر ریمارکس کا بطور خاص ذکر ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ’’دو ہفتے قبل میری وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کہا کہ آپ  مصالحت کار یا ثالث بننا چاہیں گے تو میں نے کہا کہ کہاں، جس پر انہوں نے کہا کہ کشمیر، کیونکہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے ہے۔ میں یہ جان کر حیران ہوا کہ یہ مسئلہ طویل عرصہ سے موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس کو حل کریں گے اور مجھے ثالث بن کر خوشی ہو گی،اگر میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہوں تو میں ثالثی کا کردار ادا کروں گا‘‘۔ صدر ٹرمپ کا اشارہ جی 20سربراہ اجلاس میں نریندر مودی سے ملاقات کی جانب تھا۔ یہ ملاقات جاپان کے شہر اوساکا میں 27جون کو ہوئی۔  

 صدر ٹرمپ کا دبائو؟

 صدر ٹرمپ کا دبائو؟

26 days ago.

بارک اوباما کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان پر دبائوبڑھا دیا ہے۔ یہ دبائو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میںہے۔جس پرحکومت پاکستان نے لچک دکھاتے  ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ امریکی نیوز چینل فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعظم نے اس کا عندیہ دیا۔ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مشیر طارق فاطمی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان شکیل آفریدی کی رہائی کے معاملے پر امریکہ سے بات کر سکتا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ کیا بات ہو گی۔ قانون کا دائرہ کیا ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے تصدیق کرتے ہیں کہ  ڈاکٹر آفریدی نے امریکی کے لئے جاسوسی کی۔  یہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کون ہے۔ امریکہ کا پیارا کیوں ہے۔ صدر اوباما کے بعدصدر ٹرمپ اسے اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ امریکی کانگریس کا اس سے کیا رشتہ ہے۔جیسے وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی اصل میں امریکاکا جاسوس ہے۔جو 33سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔ اس نے 2مئی 2011ء کو ایبٹ آباد آپریشن کی مدد کی۔پہلے کہا جا رہا تھا  کہ ڈاکٹر آفریدی کو عدلیہ سے گزرنا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے کہ اس کیس کو معافی کے لئے صدر کے پاس بھیجنا درست ہے یا نہیں۔لیکن اب عدالت کے فیصلے کی بات نہیںکی جاتی بلکہ اب امریکہ سے بات چیت کا آپشن زیر غور لا یا جا رہا ہے۔یعنی پاکستان پر امریکی دبائو بڑھ رہا ہے۔ ایبٹ آباد میں ڈاکٹر آفریدی کے جعلی پولیو قطرے پلانے کی مہم کی وجہ سے اسامہ بن لادن کا پتہ چلا۔ جس میں امریکی کمانڈوز ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے لڑاکا جہازوں پر آئے۔   

کشمیر پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا قیام

کشمیر پر بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا قیام

a month ago.

اقوام متحدہ کی دوسری رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔بھارتی اعتراضات نظر انداز کرتے ہوئے رپورٹ کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 41ویں سیشن میں پیش کیاگیا ۔انسانی حقوق کونسل نے رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل اس کا مسودہ حکومت پاکستان کو حقائق پر مبنی آراء کے لئے پیش کیا ۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کم از کم 8مقامات پر مقبوضہ جموں و کشمیر یا بھارت کے زیر قبضہ یا انتظام جموں و کشمیر کے بجائے ’’انڈین سٹیٹ آف جموں وکشمیر‘‘ درج ہے۔ پاکستان نے اس اہم نکتے کی جانب توجہ کیوں نہ دی۔اس بارے میں بھی وضاحت درکار ہو گی۔ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر سے جنیوا میں8جولائی کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میںجاری کردہ رپورٹ میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور فورسز کو حاصل استثنیٰ کے طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔  رپورٹ میں بھارت کو 19 سفارشات پیش کی گئیں جن میں زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے حق خودارادیت سمیت انسانی حقوق کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مکمل احترام کرے۔  انسانی حقو ق کونسل نے بھارت سے کہا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جامع، آزادانہ وار بین الاقوامی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیشن کے قیام سمیت اس رپورٹ کی مندرجات پر غور کرے۔ اس سے پہلے بھی دنیا نے متعددبار بھارت سے ایسا کرنے کو کہا مگر بھارت اپنے خلاف ہی کوئی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتا ہے۔ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ آزادانہ انکوائری کمیشن قائم کرے۔   

 انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) افغانوں کے درمیان مذاکرات کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا تھا جب زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان بات چیت کا ساتواں دور قطر کے د ا ر ا لحکو مت  دوحہ میں جاری تھا۔افغانستان کے سیا ستد ا نو ں، سول سوسائٹی اور صحافیوں کی طالبان نمائندوں سے ملاقات کے لیے قطر اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں دو روزہ بین الافغان کانفرنس دوحہ میں ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ  کانفرنس میں جنگ بندی پر بھی بات چیت کی جائے گی تا ہم جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ خاموش ہے۔ کانفرنس کا مقصد افغانستان کے مختلف طبقوں کو طالبان سے ملاقات کا موقع دے کر افغان تصفیے کا حل تلاش کرنا تھا۔ بین الافغان اجلاس میں افغانستان سے 50 مندوبین شر یک  تھے جن میں سیاستدان، سول سوسائٹی اور معتبر صحافیوں سمیت پہلی بار خواتین بھی شامل تھیں۔طالبان ترجمان بتا رہے تھے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں 80 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔ بین الافغان کانفرنس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا جس میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔  

 انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

انٹرا افغان امن کانفرنس کے بعد

a month ago.

 دو روزہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم ہو گئی ہے ۔ اس کے خطے کے حالات اور سیاست پر ممکنہ اثرات کے بارے میں جائزے پیش ہونے لگے ہیں۔ ایسی کانفرنسز سے پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کیا حاصل کر سکتا ہے۔ اس پر بحث سے پہلے اس امن کانفرنس اور اس کے پس منظر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میںمنعقدہ اس کانفرنس کی میزبانی مشترکہ طور پر قطر اور جرمنی نے کی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا  جس میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکا دوحہ میں کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔اعلامیے میں خاص طور پر اقوامِ متحدہ، خطے کے ممالک، امریکہ اور انٹرا افغان کانفرنس میں مذاکرات کا اہتمام کرنے اور تنازعے کے حل کیلئے اقدامات اختیار کرنے والوں کی کوششوں کو سراہا گیا اور اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان میں حقیقی قیام امن کیلئے یہ تمام فریق مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ شرکا نے کہا کہ مذاکرات سے افغانستان کے حال اور مستقبل کے بارے میں افہام و تفہیم پیدا کرنے میں مدد ملی ہے اور اس سے رکاوٹیں دور کرنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ لہٰذا، تمام شرکا کا اصرار تھا کہ اس طرح کے مذاکرات کو جاری رہنا چاہئیے۔   

برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

برہان وانی شہید کا مشن زندہ ہے

a month ago.

 آج سے تین برس قبل 8جولائی2016 کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد لوگ گھروں کو واپس جا رہے تھے۔ عید الفطر کے بعدکافی چہل پہل تھی ۔ مطلع ابر آلود تھا۔ایک خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جنوبی کشمیر کے سیاحتی مقام کوکر ناگ کے بمڈورہ گائوں کابھارتی فوج اور پولیس ٹاسک فورس نے اچانک کریک ڈائون کر لیا ۔ فورسز نے گائوں کو محاصرہ میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ ایک رہائشی مکان پر فورسز نے اندھا دھند گولہ باری کی ۔کشمیر میں بھارتی فوج کے، محاصرے،  چھاپے اور تلاشی آپریشن 1990سے کریک ڈائون کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آج تک کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں کریک ڈائون ہو چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی گھرکئی کئی بارقابض فورسز کے آپریشن اور توڑ پھوڑ سے بچا ہو۔کوکر ناگ آپریشن کا اس لئے چرچا ہو اکہ اس کا نشانہ ایک ایسا مجاہد نوجوان اور اس کا گروپ تھا، جس نے وادی میں مسلح جدوجہدکی پہچان ہی بدل ڈالی۔ اسے نوجوان اپنا رول ماڈل قرار دینے لگے۔آج کی سائبر ایج میںوہ پوسٹر بوائے کے طور پر شہرت پارہا تھا۔یہ برہان وانی تھا۔جو اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ اس مکان میں موجود تھا۔ جہاں سے فورسز پر لگاتار فائرنگ ہو رہی تھی۔ علاقہ میں برہان وانی کی موجودگی کی اطلاع پھیلی تو لوگ جوق در جوق گائوں کی جانب بڑھنے لگے۔ جھڑپ جاری تھی۔عوام نے فورسز  کو گھیر کر اس پر پتھرائو شروع  کر دیا۔لوگ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بلا خو ف و خطر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔لوگ برہان وانی کو کسی بھی صورت میں بچانے کے آرزومند تھے۔  

بھارت کا ڈو مور کا مطالبہ

بھارت کا ڈو مور کا مطالبہ

a month ago.

انڈیا کے لئے پاکستان کی طرف سے بڑی اعتمادی سازی کیا ہو سکتی ہے۔ پاکستان جو مرضی کر لے ، دہلی والے راضی نہیں ہو سکتے۔ وہ صرف کشمیریوں کی طرف سے جدوجہد کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کشمیری اگر بھارت کے آگے سرنڈر کریں تو مودی خوش ہوں گے مگر ان کے مطالبات ختم نہ ہوں گے کیونکہ مودی چکوٹھی سے آگے بڑھ کر مری انٹرنیشنل بارڈر بنانا چاہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان ہر حال میں مودی کی زبان سے اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہی مظفر آباد میں کشمیری حریت پسندوں کے دفاتر پر تالے چڑھا دیئے گئے ۔ انہیں سر بمہر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود بھارت بھی امریکہ کی طرح ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کرتا ہے۔ بھارت حافظ محمد سعید کیخلاف پاکستان کی کارروائی کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے اور محض کاغذی قرار دے رہا ہے۔ وہ حافظ سعید سمیت ان کے12احباب کیخلاف کیس درج کرنے کوصرف عالمی دبائو کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ وہ اسلام آباد کو باور کراتا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو بھارت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔پاکستان کی کوشش ہے کہ عالمی برادری کوپیغام دیا جائے کہ وہ  سنجیدہ ہے اور  انتہا پسندوں کیخلاف کارروائی کررہا ہے۔بھارت پاکستان کے سنجیدہ اقدامات کو بھی محض کاغذی قرار دیتا ہے۔ دہلی والے  نیک نیتی سے بعض گروپوں کیخلاف پاکستان کی کارروائی کو جانچنے کے مصدقہ اور صاف طور پر دکھائی دینے والے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دکھائی دینے والے اقدامات کشمیر یو ں  کا بھارتی ناجائز اور جبری قبضے کے خلاف جھک جانا ، بھارتی جارحیت پر خاموش ہوناہے۔