آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

4 days ago.

جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعلان کے مطابق وہ 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز کریں گے ، یہ مارچ 31اکتوبر کو اسلام آباد سے ٹکرائے گا۔ مولانا کے مطابق اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مقصد عمران خان حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ انہوں نے اس مارچ کو 27اکتوبر کے دن شروع کرنے کا مقصد جو بیان کیا ، اس میں کشمیر کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہاں 27اکتوبر کا کشمیر کی تاریخ میں اہم کردار ہے۔ آج سے سات دہائیاں قبل اسی دن بھارت نے کشمیر میں اپنی قابض فوجیں داخل کر کے ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ مقبوضہ جمو ںو کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ اور جارحیت کے 72سال مکمل ہونے پر بھارت نے مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کر دیئے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے بجائے ریاست کو ڈی گریڈ کر دیا۔ ریاست کے ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں اپنی غلام کالونیاں بناتے ہوئے اپنے مرکزی علاقوں کا درجہ دے دیا۔ 5اگست 2019ء کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت نے مقبوضہ ریاست پر از سرنو حملہ کیا،لشکر کشی کی اور مزید فوج داخل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کھلی جنگ شروع کر دی۔ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر کے ان کا محاصرہ کر دیا۔کرفیو اور پابندیاں سخت کیں اور کشمیر کو دنیا کے لئے انفارمیشن بلیک ہول بنا دیا۔

جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

9 days ago.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد47کے تحت کشمیری جنگ بندی لکیر کو آزادانہ عبور کر سکتے ہیں۔یہ قرارداد کشمیریوں کو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ وہ اس لکیر کے آر پار آ جا سکیں۔ پاک بھارت کی فورسز اس لائن کو پار نہیں کر سکتیں۔اس لائن کی نگرانی کے لئے سلامتی کونسل نے فوجی مبصرین تعینات کئے ہیں جو 1949سے آج تک اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔وہ روزانہ اپنی رپورٹس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کرتے ہیںیہی ان کا مینڈیٹ ہے تا ہم بھارت نے شملہ معاہدے کے بعد سے یواین فوجی مبصرین کو اپنے زیر قبضہ کشمیر کی طرف سے اس لائن کی نگرانی کرنے سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے مگر فوجی مبصرین مقبوضہ کشمیر میں بھی موجود ہیں۔آزاد کشمیر میں ان فوجی مبصرین کا ہیڈکوارٹران دنوں اسلام آباد میں ہے۔یہ سرمائی ہیڈ کوارٹر ہے جو چند برس قبل راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل ہوا ہے جبکہ فوجی مبصرین کا گرمائی ہیڈکوارٹر سرینگر میں ہے جہاں چیف ملٹری آبزرور چھ ماہ تک کام کرتے ہیں۔میری تین چیف فوجی مبصرین جنرل تورونن،جنرل جوزف بالی،برگیڈیئر اسپنوزہ سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں جنھوں نے اعتراف کیا کہ بھارت کی طرف سے ان کی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔گپکار روڈ سرینگر میں کشمیریوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرلز کے نام ہزاروںکی تعداد میں قراردادیں جمع کرائی ہیں مگر دوران انٹرویوز چیف ملٹری آبزرورز نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل نے انہیں جنگ بندی لائن کی نگرانی اور سیکریٹری جنرل کو رپورٹ کرنے کا منڈیٹ دیا ہے۔اگر سلامتی کونسل ان کے مینڈیٹ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سیاسی مینڈیٹ بھی دے تو وہ کشمیریوں کے خدمات انجام دے سکیں گے۔ان فوجی مبصرین سے قیام امن فورس جیسی خدمات نہیں لی گئیں۔یو این پیس کیپنگ فورس دنیا بھر میں قابض فورسز کی جگہ خدمات انجام دینے کے لئے سلامتی کونسل کی طرف سے تعینات کی جاتی ہے۔پاکستان اور بھارت اس فورس میں ایک ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔کانگو میں جو پیس کیپنگ فورس ہے،اس میں بھارت اور امریکہ ایک فارمیشن میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی یہاں موجود ہے مگر پاک فورسز کے اہلکار بھارت کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں  بھی پاک فورسز نے عالمی امن کے لئے بہت کام کیا ہے۔پاک فوج نے عالمی امن کے لئے جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔   

بھارت کا مشن کشمیر

بھارت کا مشن کشمیر

11 days ago.

مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک دائون،کرفیو اور سخت پابندیوں کے 67ویں روز بھی نظام زندگی مفلوج ہے۔ بھارت پابندیوں کے خاتمے اور سب ٹھیک ہے ،کے مسلسل دعوے کر رہا ہے اور ان دعوئوں کے دوران شمال کشمیر ، وسطی کشمیر کے بعد جنوبی کشمیر کا آپریشن تیز کیا گیا ہے۔ ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں کئی رہائشی مکانات کو بارودی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ گھروں کو زمین بوس کرنے سے پہلے فرضی جھڑپ کاڈرامہ رچایا گیا۔ایک مکان سے ملبے سے کشمیری نوجوان کی سوختہ نعش بر آمد کی گئی۔ قابض فورسز نے دو کشمیریوںکو شہید کرنے کے بعد ان کا تعلق لشکر طیبہ سے جتلایاتا کہ دنیا کو مزید گمراہ کیا جا سکےکیوں کہ بھارت پروفیسر حافظ سعید کے بارے میں دنیا میں چیخ و پکار کر چکا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران بھارتی فورسز نے نصف درجن کے قریب جعلی جھڑپیں کیں۔ اس سے پہلے گاندربل کے جنگلات میں جاری آپریشن میں دو کشمیریوں کو 28ستمبر کے روز شہید کیا گیا جن کی شناخت 12روز گزرنے کے باوجود ظاہر نہیں کی جا سکی۔ خدشہ ہے کہ بھارت ماضی کی منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کو گھروں سے حراست میں لینے کے بعد انہیں جنگلوں اور بیابانوں یا جنگ بندی لائن پر پہنچا کر فرضی معرکوں میں شہید کر رہا ہے۔ موجودہ لاک ڈائون کے بعد اس طرح کی فرضی جھڑپ بارہمولہ کے قدیم محلہ میں20اگست کو کی گئی جس میں محسن گجری نامی کشمیری نوجوان کو شہید کیا گیا۔ اس کے چند دن بعد ایک کشمیری کو سوپور میں شہید کیا گیاجبکہ نصف درجن سے زیادہ کشمیریوں کو وادی چناب اور پیر پنچال میں شہید کیا گیا۔ 

تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

19 days ago.

لاک ڈائون کے دو ماہ مکمل ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کے باوجود کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کا خاتمہ کجا ، اس میں کمی بھی نہ آ سکی۔ یورپین یونین میں آواز بلند ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں کشمیریوں پر مظالم پر تشویش ظاہر کی گئی۔ او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ نے بھی چیخ و پکار کی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے بھارت کے خلاف بیانات دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخ ساز تقریر کی۔ بھارت کو پچھاڑ کے رکھ دیا۔ہم اس تقریر پر جشن منا رہے ہیں۔ مگر بھارت ٹس سے مس نہ ہوا۔ جیسا کہ دنیا نے مودی کو یقین دلا دیا ہو کہ جو مرضی مظالم ڈھا لو، کوئی بات نہیں۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ عالمی میڈیا بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی درد بھری داستانیں بیان کر رہا ہے۔ دنیا میں کشمیر پر تجزیئے اور تبصرے ہو رہے ہیںمگر بھارت سب ان سنی کر رہا ہے۔ سب نظر انداز کر رہا ہے۔ عربوں نے مودی کو ایوارڈز سے نواز دیا۔ سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ اسلام آباد آئے۔ وہ بھی اظہار یک جہتی سے زیادہ کچھ نہ کر سکے۔  

 سچ کیا ہے؟

 سچ کیا ہے؟

26 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) چلی کی دو بار صدر مملکت منتخب ہونے والی مچلی بچلٹ نے اپنے والدین سمیت کئی برس تک سیاسی قید کاٹی ہے۔ آپ کے ولد ائر فورس میںجنرل تھے، قید کے دوران ہی دنیا سے چل بسے۔ قید سے رہائی  کے بعد والدہ کے ہمراہ کئی برس تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات نے کروٹ لی۔بچلٹ  ملک کی دو بار صدر منتخب ہوئیں اور اب اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ہیں۔شاید وہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی ظلم و جبر اور جارحیت، قید و بند کی سنگینی کو سمجھ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھارتی اقدامات کی بھر پور مخالفت کی ہے۔ ان کا بھارت کو صاف طور پر یہ پیغام دینا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ’’ کسی بھی فیصلے کے عمل میں کشمیری عوام کی شمولیت اور مشاورت ضروری ہے کہ جس کے اثرات ان کے مستقبل پر پڑتے ہوں‘‘۔ بھارتی اقدامات اور فیصلوں کے عمل میں کشمیریوں کی کوئی مشاورت یا شمولیت نہیں۔ 

 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

29 days ago.

 سعودی تیل تنصیبات پر حملہ ایک غیر معمو لی  واقعہ  ہے۔ اس کے مضر اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے۔ غالباً اسلام آباد کے فیصلہ ساز معاملے کی حساسیت کا ادراک رکھتے ہیں ! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم صاحب امریکہ  براستہ سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں ۔ سعودی اعلیٰ حکام بشمول ولی عہد محمد بن سلمان سے  ملاقاتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔ اگرچہ پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر مرکوز ہے لیکن سعودی تنصیبات پر حملے سے مشرق وسطیٰ میں ابھرتی کشیدگی  سے لاتعلق رہنا دانشمندی نہیں بلکہ حماقت ہوگی ۔ یہ غور طلب اور کسی حد تک دلچسپ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اہم کردار کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کو متاثر کرنے والے علاقائی مسائل سے بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ جڑے  ہوئے ہیں ۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تین فریق نمایاں اہمیت کے حامل ہیں ۔ سعودی عرب ، ایران اور امریکہ۔ سعودی عرب نے متاثرہ فریق کی حیثیت سے ایران پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔   

غداری کی سزا

غداری کی سزا

a month ago.

انہوں نے کانٹے بوئے، گلاب کی تمنا کی ۔ جو گڑھا کھودا ، آج اسی میں خود گر گئے۔پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے)کی قبر کھودی ، آج خود اس میں دفن ہو گئے۔ یہ داستان ڈاکڑفاروق عبد اللہ کی ہے جو ڈیڑھ ماہ سے اپنے گھر میں قید ہیں، تمام کشمیری بھی 45دنوں سے قید ہیں۔ فاروق عبد اللہ، بھارت کے رکن پارلیمنٹ ہیں، تین بار وزیر اعلیٰ رہے، بھارت کے وفاقی وزیر بھی رہے،ایک بار بھارت کے صدر بھی منتخب ہوتے ہوتے رہ گئے۔ بھارت کا صدر بنانے کا دھوکہ دیا گیا ۔ بی جے پی کے ساتھ اتحادی حکومتیں بھی قائم کرتے رہے، کالے قوانین پی ایس اے، ٹاڈا، پوٹا، افسپا کو کشمیر میں نافذ کرنے اور ہزاروں کشمیریوں کو پابند سلاسل کرنے میں سرگرمی دکھائی۔ان قوانین کے تحت بھارتی سپاہی کو جنرل جیسے اختیارات ہیں وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے حراست میںلے سکتا ہے۔ بھارتی فوجی کسی بھی کشمیری کو گولی مار کر قتل کر سکتا ہے۔ بھارتی عدالت میں اس کے اس جرم پر کوئی شنوائی نہ ہو گئی۔ آج تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری کو بے دردی سے قتل کیا گیا مگر ایک بھی فوجی کو سزا نہ ہوئی۔ پی ایس اے قانون کے تحت بھارتی فورسز کسی بھی کشمیری کو وجہ بتائے بغیر حراست میں لے کر دو سال تک قید کر سکتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کو کئی کئی بار اس قانون کے تحت جیلوں میں رکھا گیا۔ ماورائے عدالت قیدی بنایا گیا، جوں ہی دو سال قید مکمل ہوتی ہے تو قیدی کو نئے سرے سے اس کالے قانون کی گرفت میں لا یا جاتا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان کا سفر نامہ کشمیر

وزیراعظم عمران خان کا سفر نامہ کشمیر

a month ago.

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائیکل فورسٹ نے رواں سال اپریل میں کہا تھا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے لئے ’’ انفارمیشن بلیک ہول ‘‘بن چکا ہے۔ یہ بیان  انہوں نے بلگریڈ ، سربیا میں انٹرنیشنل سوسائٹی ہفتہ کے موقع پر دیا، جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے 300کلومیٹر سرینگر جموں شاہراہ کو ہفتہ میں دو بار عوام کے لئے بند کر دیا۔مائیکل فورسٹ کو بھارت نے کشمیر کے حالات معلوم کرنے کے لئے دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیاتھا۔جس کشمیر کو کبھی جنت نظیر کہا جا تا تھا، اسی کشمیر کو دنیا کی خوبصورت جیل کا نام دیا گیامگر یہ کشمیر آج بھارت کا ٹارچر سنٹر بن چکا ہے۔ آج بھارت نے 40دن سے مقبوضہ کشمیر کے ایک کروڑ عوام کو عملی طور پر قید کر رکھا ہے۔ ان کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا ہے۔ کوئی کشمیری نہیں جانتا، اس کے عزیزو اقارب کس حال میں ہیں؟ آج کے دور میں کوئی انٹر نیٹ،  سمارٹ فون، ٹیلیفون ، ٹی وی ، اخبارات کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتامگر بھارتی کرفیو اور پابندیوں کے دوران کشمیری پیغام رسانی کے لئے خطوط کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ وہ کبوتروں کے ذریعے اپنوں تک اپنا حال پہنچانے کا سوچ رہے ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کو ان کے گھروں، جیلوں، تعذیب خانوں ، کال کوٹھریوں میں قید کر رکھا ہے۔ دنیا کو انسانی حقوق کی پامالیوں سے بے خبر رکھنے کے لئے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیئے ہیں۔   

کشمیر کی فروخت یا بندر بانٹ؟

کشمیر کی فروخت یا بندر بانٹ؟

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) جب بھی کشمیر پر کسی سودا بازی کا چرچا ہو تو 1846 کی سودا بازی کی داستان سامنے آ جاتی ہے۔ جب انگریزوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کو کشمیر اور کشمیری 75لاکھ نانک شاہی (سکھ دور حکومت کی کرنسی)کے بدلے فروخت کر دیئے۔ فی کس کشمیری کی قیمت دو نانک شاہی لگائی گئی۔علاوہ ازیں مہاراجہ گلاب سنگھ کو پابند بنا دیا گیا کہ وہ انگریزوں کو سالانہ ایک گھوڑا، 6بکرے، 6بکریاں، 6کشمیری شالیں تحفے میں دیا کریں گے۔  جمہوریت اور انسانی حقوق کے برطانیہ جیسے چیمپئن نے کشمیریوں کی مرضی کے بغیر ان کا سودا کیا۔ یہی بیعہ نامہ امرتسر ہے۔ آج کی سودا بازی یا بندر بانٹ کی ابتدا ء تب ہوئی جب سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن کا نام دے کر دنیا کو کنفیوژ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جس قرارداد میں سیز فائر لائن کا تذکرہ کیا ہے اسے شملہ معاہدے کے بعد سے کنٹرول لائن میں بدل دیاگیا۔ اس طرح ایک عالمی تنازعہ کو پاک بھارت کا دو طرفہ مسئلہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان اس سلسلے میں بھی بھارت کے فریب کا شکار ہوا۔ سودا بازی یہی ہوتی ہے کہ مذاکرات کی میز پر زور بیان یا منصوبہ بندی کو کوئی فریق اپنے حق میں استعمال کرے اور دوسرا فریق یہ سمجھے کہ یہ سب اس کے موقف کی جیت ہے۔ یہ معاملہ بھی بحث طلب ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ایک سلگتے عالمی مسئلے سے دو طرفہ بنانے والے والے کردار کون تھے؟کیا انھوں نے سمجھوتہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ یا وہ اتنے نا اہل تھے کہ اپنے قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر قربان کر دیا۔ آج یہ تاثر یا خدشہ موجود ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی لائن کو ہی انٹرنیشنل بارڈر تسلیم کرانے کے لئے ثالثی کا راگ الاپنا شروع کیا ہے۔ یہی چناب فارمولے یا ڈکسن پلان کا ایک ورژن ہے۔کشمیر کے ٹکرے ٹکڑے کرنے اور ان کی بندر بانٹ کی یہی ایک کڑی ہے۔ 

میڈیا اور سفارتی بریفنگ 

میڈیا اور سفارتی بریفنگ 

2 months ago.

مقبوضہ کشمیرمیں زندگی مسلسل مفلوج ہے۔ نظام زندگی درہم برہم ہے۔ لوگ گھروں پر قید ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق دس تا 15ہزار کشمیری گرفتار ہیں مگر گرفتاریوں کی درست تعداد کوئی نہیں جاتنا۔ لاتعداد کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا ہے مگر تعداد کسی کو معلوم نہیں۔ پیر کو 29ویں روز بھی کشمیر دنیا سے کٹا ہو اہے۔ کوئی موبائل، ٹیلیفون، کام نہیں کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ بند ہے۔ ٹی وی کیبل نیٹ ورک بند ہیں۔ ہر گھر کے سامنے فوجی کھڑا ہے۔ فوج جگہ جگہ نئے بنکرز تعمیر کر رہی ہے۔ سرکاری عمارتوں اور تعلیمی اداروں پر فوج کا قبضہ ہے۔ بازار، سکول، دفاتر بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔ عملی مارشل لاء اور ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے۔ یہ سب معلومات ہمیں صرف بی بی سی، الجزیرہ، ٹی آر ٹی جیسے عالمی میڈیا اداروں سے حاصل ہو رہی ہیں یا سرینگر سے دہلی پہنچنے والوں کی زبانی پتہ چل رہا ہے‘ تا ہم بھارت کشمیر کے حالات سے دنیا کو مسلسل بے خبر رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کی سول سروسز امتحانات میں کشمیری ٹاپر محمد فیصل کو دہلی ائیر پورٹ سے واپس سرینگر روانہ کرنے کے بعد ایک کشمیری صحافی گوہر گیلانی کو دہلی ائیر پورٹ پر گرفتار کیا گیا ہے جو جرمنی میں منعقدہ ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لئے جا رہے تھے‘ البتہ برطانوی  نشریاتی اداروں کے ساتھ منسلک کشمیری صحافی نعیمہ احمد مہجور کسی طرح سرینگر سے لندن پہنچنے میں کا میا ب ہو چکی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے لوگ بھی سرینگر ائیر پورٹ سے کسی بڑے ہوٹل میں پہنچائے جاتے ہیں۔ ان کی میزبانی بھارتی فورسز کے لوگ کرتے ہیں۔ وہ سنسان شہر میں گھوم پھر کر اور کرفیو زدہ علاقوں کا فضائی دورہ کرنے کے بعد حالات کے پرسکون ہونے کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جب کشمیر کے لاک ڈائون زدہ بند پڑے بازار میں سب اچھا ہونے کا ڈرامہ رچاتے  نظر آئیں تو دہلی کی پالیسی کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔   

آزاد کشمیر کا اعلان آزادی یا انقلابی حکومت؟

آزاد کشمیر کا اعلان آزادی یا انقلابی حکومت؟

2 months ago.

 آزاد جموں و کشمیر کے اعلان آزادی کی تجویز جنرل(ر)حمید گل مرحوم کی بھی پیش کردہ ہے ۔ جنرل صاحب سے متعدد بار بات چیت کا اتفاق ہوا۔ 2001ء میں ایک ملاقات ان کے گھر چکلالہ سکیم تھری میں ہوئی۔ ایک صحافی دوست کے ہمراہ ان کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت آزادی کا اعلان کرے اور پاکستان فوری طور اسے تسلیم کرے ، آزاد کشمیر کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لے۔ ان کے مطابق یہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت سے آزادی دلانے واحد طریقہ بھی۔پاکستان کا آزاد کشمیر کے ساتھ دفاعی معاہدہ زبردست آپشن ہے۔ جس کے تحت آزاد کشمیر پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہو گا۔ پاکستان پر حملہ آزاد کشمیر پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اگر آزاد کشمیر کی اپنی فوج بنے تو یہ فوج فوری حرکت کرے گی۔ اگر آزاد کشمیر اسمبلی آزادی کی قرارداد میں آزاد کشمیر کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائیندہ قرار دینے کا بھی اعلان کرے تو اس کا مطلب ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھی حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس طرح پاکستان شاید قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی جارحیت  کا جواب دینے کی پوزیشن میں آجائے۔ 

ایک کروڑ کشمیریوں کی قید کے 24دن

ایک کروڑ کشمیریوں کی قید کے 24دن

2 months ago.

اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میںجب انسانوں کو تمام حقوق دیئے جانے کے دعوے ہو رہے ہیں۔جب حیوانوںیہاں تک کہ سمندروں اور جنگلوں کے جانداروں کے حقوق کے لئے سول سوسائٹی ، این جی اوز، سرکاری اور نیم سرکاری ادارے میدان میں ہیں۔ مگر دنیا کے اس خطہ کشمیر میں انسانوں کے کوئی حقوق نہیں۔ آزادی اظہار رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ شہری آزادیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں ہیں۔ کیونکہ یہ خطہ انڈیا کی کالونی ہے۔ جو گزشتہ 24دنوں سے مسلسل بھارتی جنونی اور شدت پسند فوج کے محاصرے میں ہے۔جہاں کی آبادی کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس لائے گئے مریضوں میں 40فی صد ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ پہلے آزاد میڈیا کے نام نہاد علمبردار پریس کلب آف انڈیا نے دہلی میں کشمیر پر سول سوسائٹی کی ویڈیوز اور تصاویر دکھانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ اب انڈیا میں پریس کی آزادی کی آواز پریس کونسل آف انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیاں اور آزادی اظہار رائے پر بھارتی فوج کے لاک ڈائون اور کرفیو کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے ایڈوائز ری جاری کی ہے کہ ریاست کے مفاد کے سامنے کشمیریوں کے حقوق کی کوئی اہمیت نہیں۔   

 مسئلہ کشمیر کا افغان ماڈل حل

 مسئلہ کشمیر کا افغان ماڈل حل

2 months ago.

 بھارتی کے جنگی جرائم اور کشمیریوں کے خلاف کھلی جنگ پر دنیا ابھی تک تشویش سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔وزیراعظم عمران خان بھارت کے ساتھ بات چیت کے امکانات  معدوم ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام مسلسل 19دن سے اپنے گھروں، بھارتی ٹارچر سیلز میں قید ہیں۔ بھارتی متعصب میڈیا بھی اعتراف کر رہا ہے کہ کشمیری ریاست کی تقسیم اور جغرافیائی وحدت کو منتشر کرنے کی زبردست مزاحمت کر رہے ہیں۔ کسی کشمیری نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں سرینگر ہوائی اڈے کو جانے والی شاہراہ پر جگہ جگہ خون اور پتھر، اینٹیں بکھری ہیں۔ ائر پورٹ کا علاقہ کبھی کافی پر امن ہوا کرتا تھا۔ یہ سول لائن علاقہ سخت سیکورٹی حصار میں رہا ہے۔ یہاں پہلے سے ہی چپہ چپہ پر بھارتی قابض اہلکار پہرہ دے رہے  ہیں۔ اس سڑک پر مظلوم کشمیریوںبہنے والا خون اور پتھر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی فورسز نے گزشتہ دو ہفتوں میں کشمیر کے شہروں اور دیہات میں مظالم کا کیسا کھیل کھیلا ہے ، حقائق کا کوئی پتہ نہیں کیوں کہ مسلسل لاک ڈائون ہے۔ بھارتی سول سوسائٹی کے ایک وفد نے وادی کا دورہ کرنے کے بعد کئی انکشافات کئے۔ جن میں ایک یہ بھی ہے کہ بھارتی فوجی رات کو بستیوں میں داخل ہو کر نوجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں اور خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کشمیری حراست میں لئے گئے ہیںمگر لوگ مزاحمت کر رہے ہیں۔   

فالو اپ پر توجہ دینے کی ضرورت

فالو اپ پر توجہ دینے کی ضرورت

2 months ago.

 کشمیر پر سلامتی کونسل کا بند کمرے میں مشاورتی اجلاس منعقد  ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔ اب اس کا انحصار پاکستان کے ہوم ورک پر ہو گاکہ پاکستان زیادہ توجہ چین اور امریکہ سمیت روس، فرانس اور برطانیہ تک رسائی اور تعاون کے حصول میںسرگرمی دکھائے۔بھارت نے دنیا پر باور کرایا ہے کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مسئلہ ہے۔ جسے دونوں بات چیت سے حل کریں گے۔اس کے لئے شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔امریکہ ، فرانس اور جرمنی نے بھارتی مکاری سے ہی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان اور بھارت پر باہمی بات چیت سےمسئلہ حل کرنے پر زور دیا تا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے راستے بند نہ ہو جائیںمگر یہ سب معاملہ کو لٹکاناہے۔ گو کہ اقوام متحدہ میں نصف صدی بعد کشمیریوں کی آواز سنی گئی، جو کہ بڑی کامیابی ہے۔ چین کا اس میں منفرد کردار ہے۔ پہلا موقع ہے کہ روس نے ویٹو نہ کیا۔ ورنہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد بھی ناممکن تھا۔ روس کے ساتھ مزید سٹریٹجک تعلقات کے فروغ کی ضرورت ہے۔ فرانس کے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات ہیں۔ پاکستان کی سفارتکاری میں مزید بہتری آ جائے تو بعض چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔   

حملے کا انتظار؟

حملے کا انتظار؟

2 months ago.

بھارتی یوم آزادی کے موقع پر بھی مقبوضہ کشمیرکے  ایک کروڑ سے زیادہ عوام5اگست سے گھروں میںنظر بند ہیں۔مکمل لاک ڈائون ہے۔ اعلان دفعہ 144کا کیا گیا۔ مگر عملاً کرفیو نافذ ہے۔ لازمی سروسز کے لئے کرفیو پاس جاری کئے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز ان پاسز کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ بھارت نے جب سے آرٹیکل 370اور35اے کو صدارتی حکم نامے سے ختم کیا ہے، تب سے کشمیریوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ  احتجاج کا اپنا حق استعمال نہ کر سکیں۔ بھارت نے مقبوضہ ریاست پر صدر راج نافذ کیا ہوا ہے۔ دہلی کا نظام گورنر چلا رہا ہے۔ گورنرآئین ساز اسمبلی کی سفارشات پر ہی بھارت کا کوئی آئین نافذ کرنے یا اسے مسترد کرنے یا اس میں کوئی ترمیم کرنے کا اختیار رکھتا ہے ‘تا ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی 1957ء میںتحلیل کر دی گئی۔یہ آئین ساز اسمبلی مہاراجہ کے ایک حکم نامے سے تشکیل دی گئی تھی۔اس وقت کوئی دستور ساز اسمبلی نہیں۔دستور ساز اسمبلی کی جگہ قانون ساز اسمبلی کام کر رہی ہے ۔  

آزاد ی مبارک

آزاد ی مبارک

2 months ago.

اگست کا مہینہ پاکستان اور بھارت کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔اس ماہ دونوں اپنا اپنا یوم آزادی مناتے ہیں جسے پاکستان میں یوم استقلال بھی کہا جاتا ہے۔ 72سال قبل اسی ماہ کے وسط میں دونوں ممالک نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی اور دنیا کے نقشے پرآزاد و خودمختار ممالک کے طور پر نمودار ہوئے۔یہ برس کشمیریوںکی غلامی کے ہیں۔ گو کہ دونوں ممالک برٹش پارلیمنٹ کے 18جولائی 1947ء کے انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ کے تحت آزاد ہوئے اور دونوں کو 14اگست 1947ء کو آزاد ہونا تھا۔لیکن کانگریسی انتہا پسندی کا یہ عالم تھا کہ وہ یہ جشن پاکستان کے ساتھ منانا تک گوارا نہ کر سکے اور اسے ایک دن کی تاخیر کی نذر کر دیا گیا۔پاکستان کے لئے انگریزوںکے ساتھ ساتھ کانگریسی انتہا پسند ہندئوں سے بھی آزادی کی جنگ لڑنا پڑی۔ اگست کی 14 تاریخ کو پاکستان ایک آزاد وخود مختار ملک بن گیا ۔ پنجاب کے یونینسٹ اور سرحد کے خدائی خدمت گار کانگریس کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں سرگرم رہے۔یہاں جشن کے مواقع پر تعطیل کی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے لیڈر نیلسن منڈیلا کی 93ویں سالگرہ کے موقع پرتعطیل کے بجائے اضافی محنت و مشقت سے کام لیا گیا۔یہ ایک مشعل راہ تھی لیکن تاریخ سے سبق سیکھنے کا عمل اور قوموں کے مثبت امور عملانے کی جانب توجہ انتہائی تعلیم یافتہ اور سوجھ بوجھ کے حامل معاشروں کا ہی طرہ امتیاز ہوتا ہے۔غیر ترقی یافتہ اور نیم خواندہ قومیں پیامبر کو قتل اور آئینہ توڑنے میں ہی بھلائی و عافیت سمجھتی ہیں۔چند برس قبل پاکستان نے سیلاب زدگان سے اظہار یک جہتی اور اخراجات سے بچنے کے لئے یوم آزادی کی تقریبات کو منسوخ کرکے اچھی روایت قائم کی۔قربانیاں دے کر آزادی اور مقام حاصل کرنے والوںکی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو حاصل کرنے میں لاکھوں افراد نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔قیام پاکستان کے وقت تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی۔پاکستان میں 1951ء کو کئے گئے پہلے سروے میں یہ انکشاف ہوا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد نے ہجرت کی۔80لاکھ مسلمان پاکستان آئے اور 60لاکھ ہندو پاکستان سے بھارت گئے۔اس دوران مختلف واقعات میں 10لاکھ لوگ مارے گئے۔50ہزار مسلم خواتین کو اغوا کیا گیا۔ ہندوانتہاپسندوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت مختلف قافلوں میں پاک سر زمین پر قدم رکھنے کے آرزو مند مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا۔بزرگوں ،بچوں اور خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں جوان عورتوں اور کم سن بچیوں کو اغوا کرنے کے افسوسناک سانحات بھی پیش آئے ،آج 72 برس گزرنے کے باوجودان گمشدگان کی تلاش جاری ہے ۔پاکستان ہجرت کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ پیش آئے ۔ ان کے لواحقین پر کیاگزری ؟اس بارے صرف سوچاہی جاسکتاہے اس دکھ ودردکو محسوس کرنا انتہا ئی مشکل ہے۔ ہندوانتہاپسندوں نے تلواروں، کرپانوں ،سلاخوں اور برچھیوںپر مسلمان شیر خوار بچوںکو اچھالا ۔ مسلمانوںکے گھروں،املاک و باغات کو آگ لگادی ۔ بستیاں اور بازار راکھ بنادئیے گئے ۔ان کی جائیدادوں پر قبضہ جمالیاگیا ،جو قافلے پاکستان کے لئے روانہ ہوئے ان کو جگہ جگہ لوٹاگیا اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔لاتعداد لوگ زندہ جل مرے۔لاتعداد عفت مآب خواتین کی حرمت کو پامال کیا گیا ۔مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ہوا جو مسلمان بھارت میں رہ گئے انہیںمشکوک، غداراور پاکستان کے ایجنٹ مسلمان کہا گیا ۔ بھارت میں انتہا پسندوں کا آج بھی یہ نعرہ ہے ’’ہندو کا ہندوستان، مسلمان کا قبرستان‘‘۔ برصغیر کے مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی اور ہندو متحد ہو گئے۔ جنوبی ایشیا میں تقسیم کے منفی اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔آج بھارت میں مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے الزامات لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے حد کر دی ہے۔نریندر مودی کا دوسرا دور اقتدار زحمت بن کر شروع ہوا ہے۔