پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

پاکستان کوتنہا کرنے کی بھارتی پالیسی

4 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) 1956ء میں جب سووویت افواج نے ہنگری اور 1968ء میں چیکو سلواکیہ  کی بغاوت کو ٹینکوں سے روند ڈالا تو غیر جانبدار ممالک نے چپ سادھ لی جبکہ اِن ممالک کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ کسی بھی زیادتی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ بھارت کی اپنی مجبوریاں در پیش رہیںجو کہ بیشتر کشمیر سے وابستہ تھیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں سووویت یونین کے ویٹو کا مرہون منت رہا۔کشمیر کے معاملے میں سووویت یونین نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا۔ پاکستان مغربی فوجی بلاکوں میں بندھا ہوا تھا۔نیٹو کے علاوہ امریکہ کی سر کردگی میں مغربی بلاک کے کئی فوجی معاہدے تھے جن میں بغداد پیکٹ، سیٹو  اور سینٹو  کا نام لیا جا سکتا ہے۔مسلہ کشمیر اُسی زمانے میں عالمی سیاست کی بھول بھلیوں کا شکار ہوا۔ غیر جانبدار ممالک کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ چبھتی ہوئی بات کہی۔اُن کا یہ کہنا تھاکہ یہ ممالک دونوں بلاکوں سے دور تو رہتے ہیں لیکن دونوں بلاکوں کے ساز پہ رقص بھی کرتے ہیں۔ بھارت ابھی بھی غیر جانبدار ممالک کی عالمی تنظیم کا ممبر ہے لیکن یہ اب نام کی تنظیم رہ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی وزرائے اعظم غیر جانبدار ممالک کے اجلاسوں میں شرکت بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ نچلے درجے کی نمائندگی اِن اجلاس کا مقدر بن چکی ہے۔   

آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

7 days ago.

5ہزار سال قدیم یونیورسٹی شاردہ کے کھنڈرات، قلعے ، کورئوں اور پانڈئوں ، منگولوں اور مغلوں کی گزرگاہیں، دلفریب باغات ، جنگلات اور پگڈنڈیاں، آبشاریں، قلعے، آثار قدیمہ کا خزانہ۔عید الفطر کی چھٹیوں میں کئی لاکھ سیاح اندرون ملک  سے کشمیر پہنچے ہیں۔کشمیر بلا شبہ دنیا میںجنت  بے نظیر ہے۔آج جون میںیہاں جنوری جیسی فضا اور موسم ہے۔کشمیر کا  ایک خوبصورت ترین حصہ بھارت کے قبضے میں ہے۔دوسرا حصہ، آزاد کشمیر اور تیسرا ، گلگت بلتستان ہے۔ چوتھا، چین کے زیر کنٹرول ہے۔یہ سب خوبصورتی کے شاہکار ہیں۔ آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے ریاست کو گلگت بلتستان سے جوڑنے کی طرف توجہ نہیں دی۔ ریاست میں پی پی پی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام سے دوستانہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کی۔آزاد کشمیر کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروںمیں ان کے لئے کوٹہ مختص کیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کوبراستہ گلگت بلتستان چین سے جوڑنے کے لئے ایک اہم شاہراہ نیلم ایکسپریس وے اور شونٹھر ٹنل تعمیر کرنے کا اعلان کیا ۔اس پر فوری کام شروع نہ کیا گیا۔  وادی لیپا ٹنل کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ اگر عمران خان حکومت نے اہم منصوبوں کی تکمیل میں دلچسپی لی اور ترقی کو سیاست سے الگ رکھا تو یہ شاہراہ وادی نیلم کی ترقی اور سیاحت کے فروغ ہی نہیں بلکہ اس خطے کی ترقی کا باعث بنے گی۔ ڈوگرہ مہاراجوں کے دور میں قدیم راستے کشمیر کو وسط ایشیاء ، ایران سے ملاتے تھے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومتیں ہیں جو خطے کی ترقی اور آزادکشمیر سے تعلقات پر خصوصی توجہ دیں تو یہاں کی تقدیر بدل جائے گی۔ 

مودی کا ایجنڈا

مودی کا ایجنڈا

16 days ago.

(گزشتہ سےپیوستہ) پاکستان اس خطے میں تیزی سے آنے والی تبدیلی سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ خاص طور پر بھارت کے حالات فکر انگیز ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور تعلقات صرف برابری کی بنیاد پر ہی بہتر کئے جاسکتے ہیں۔ تعلقات استوار کرنا اگر بھارت کی مجبوری نہیں تو اسلا م آبادبھی دیگر آپشنز زیر غور لانے پر توجہ دے سکتا ہے۔ بھارت کو دو طرفہ تجارت اور دوستی کا احساس ہونے تک یہ مشق فضول ہو گی۔ اگر بھارت کا انحصار کسی بھی میدان میں پاکستان پر ہوتا ہے ، چاہے دہلی کو وسط ایشیا ء تک راہداری کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو ، تب ہی  دہلی کی دلچسپی قائم و دائم رہ سکتی ہے۔ اگر جن سنگھی یا دیگر انتہا پسند گروپ یہ گمان کرتے ہوں کہ ان کے ملک کی پاکستان سے بہتر تعلق کے بغیر ہی ترقی ہونی چاہیئے یا پاکستان میں ایسا تاثر ہو تو پھر کشیدگی اور سرد جنگ جاری رہے گی۔ اسی دشمنی اور جنگی جنون کی آڑ  میں اسلحہ کی دوڑ مزید تیز ہو گی۔ تیسری پارٹی اپنا الو سیدھا کرے گی۔ معیشت اسی طرح عسکریت پر قربان ہو گی۔ ان ہی حالات میں بھارت کے چین اور روس کے ساتھ قربت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔جدید اسلحہ اور جنگی ٹیکنالوجی کے سودے ہو رہے ہیں۔ مشترکہ جنگی مشقوں کے معاہدے ہو رہے ہیں۔   

مودی کی دوبارہ جیت

مودی کی دوبارہ جیت

23 days ago.

 وزیراعظم عمران خان نے مودی کی جیت کی خواہش ظاہر کی ۔اب  نریندر مودی دوبارہ اقتدار میں آرہے ہیں۔ تا ہم  پاک بھارت بات چیت اور مسئلہ کشمیر کے حل کی راہیں ہموار ہو نے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔عمران خان کی  خواہش کے دوران بھارت میں چھ ہفتے تک جاری رہنے والے انتخابی عمل کے بعدرائے عامہ کے جائزوں  میں نریندر مودی کو اکثریت ملنے کی پیش گوئی کی گئی ۔ جو درست ثابت ہوئی۔ابتدائی انتخابی نتائج کے رحجان کے مطابق پنجاب، کیرالا، تامل ناڈو ، مغربی بنگال، آندھرا پردیش، اڑیسہ  کو چھوڑ کربی جے پی اور اس کا اتحاد این ڈی اے دہلی کی طرح  کئی ریاستوں میں کلین سویپکر رہا ہے ۔ مودی لہر اور زعفرانی نسل پرستی نے ہندو انتہا پسندی کو عروج پر پہنچا دیا ہے اور مودی دوسری بار بھارت کے وزیر اعظم بن رہے ہیں۔ کانگریس کی کارکردگی توقع سے کم رہی ۔پنجاب اور کیرالا کے بغیر راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کا کہیں  جادو نہ چل سکا۔   

دنیا بھارت پر معاشی دبائو ڈالے

دنیا بھارت پر معاشی دبائو ڈالے

25 days ago.

 سال 2018میں بھارتی قابض فورسز اہلکاروں نے اس مہلک ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے 230کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی کو متاثر کردیا۔پیلٹ کے متاثرین آج آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ایسے نوجوان اپنی اور فیملی کی کفالت کرنے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے بھارت کے نام مراسلے اور ان پر بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔ بھارت انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور آزاد میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے کر انسانی حقوق کی مزید پامالیوں کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ امن پسند دنیا اور انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والے اداروں کو بھارت پر دبائو ڈالنے کے تمام طریقے آزمانا چاہیئے۔سیاسی، سفارتی اور اخلاقی دبائو بھارت تسلیم نہیں کرتا ۔ اس لئے دنیا کو بھارت پر معاشی دبائو ڈالنے کی جانب راغب ہو تو اس دبائو کو نظر انداز کرنا دہلی کے لئے مشکل ہو جائے گا۔   

پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

پاکستانی روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے

29 days ago.

 ملکی پیداوار میں کمی  اور درآمدات میں اضافہ سے ڈالر مہنگا ہو جا تا ہے۔غیر یقینی سیاسی صورتحال اور سرمایہ داری میں کمی بھی ملکی اقتصادی حالت کو مزید ابتر بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ملک دشمنوں کا نشانہ خاص طور پر سی پیک بھی بن رہا ہے۔چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی یو آن یا  آر ایم بی میں  تجارت کی خواہش کا اظہار اسی وجہ سے کیا تھا۔ سی پیک اور گوادر کے حوالے سے چین ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی کو ترجیح دینا چاہتا تھا۔1994میں یوآن کی قدر کم ہو کر7یو آن(آر ایم بی) فی ڈالر ہوئی تو پھر اس ڈالر کے خلاف ہنگامی اقدامات کئے گئے۔چین نے ڈالر کی قدر کم کر دی ہے۔جب کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھی ہے۔ یہ67روپے سے150پر پہنچ چکا ہے۔کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافے کا اثر کمزور معیشت پر زیادہ ہوتا ہے۔ جب کہ جاپان جیسی مضبوط معیشت اس کا اثر قبول نہیں کرتی۔امریکی ڈالر109ین کا ہے۔مگر انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔  آج چین اور جاپان دنیا کی پہلی اور دوسری مملکتیں ہیں جن کے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے سے زیادہ ہیں۔ امریکہ 22ویں نمبر پر ہے۔پاکستان کی رینکنگ کم ہوئی ہے۔ہماری غیر ملکی کرنسی کی کمائی میں کمی آ رہی ہے۔ہماراغیر ملکی قرضہ ہماری آمدن کی رفتار سے بہت زیادہ ہے۔ڈالر کی قدر میں اضافہ پہلے سے ہو رہا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں برابر ہو گئیں۔اس کی بھی کئی وجوہات تھیں۔سب سے بڑی وجہ ہماری پیداوار میں جمود ہے۔آج16 مئی 2019میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈالر کی زر مبادلہ اور در آمدات برآمدات کے لئے طلب ہے۔  ہماری ترسیلات زر میں اضافہ بھی اس رفتار سے نہیں ہو رہا ہے۔ یعنی کہ ہوم ریمیٹنس اضافہ چاہتی ہیں۔ اس میں تیز رفتاراضافہ کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ بینک کا اعتراف ہے کہ ملکی زر مبادلہ کے زخائر میںکمی ہو رہی ہے۔ اگر زر مبادلہ کے ذخائر ہوتے ہی ہمارے روپے کی قدر میں کمی آ رہی ہے۔ ڈالر کی طلب بہت زیادہ اس لئے ہے کہ ملکی بر آمدات اور در آمدات کا انحصارڈالر پر ہی ہے۔ ہم باہر سے اتنا مال منگواتے ہیں کہ ڈالر میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان  نے جب حکومت سنبھالی ، اس وقت  زرمبادلہ کے زخائر اتنا کم نہ تھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ زرمبادلہ چین کے پاس ہے۔ 30کھرب  ڈالر۔ امریکہ سوا کھرب ڈالر کا زرمبادلہ رکھتا ہے۔ہماری نظریں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ہیں۔ وہ ہماری معیشت کو اوپر لے جا سکتا تھا۔ اس میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہمارے لئے زیادہ اہمیت خود انحصاری کی ہو گی۔یہی ہمیں معاشی پاور بنا سکتی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری  اس میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔بھارت نے بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کی وجہ سے ایک سال میں اپنے ذخائر میں بھاری اضافہ کیا ہے۔  

بلٹ ٹرین، ایک خواب

بلٹ ٹرین، ایک خواب

a month ago.

بلٹ ٹرین یا گولی کی رفتار سے چلنے والی ٹرین کا سفر دنیا کے لئے آئیندہ کئی برسوں تک خواب رہے گا۔حقیقی بلٹ ٹرین وہ ہو گی جو گولی کی رفتار سے چلے گی۔ گولی کی رفتار 2ہزار7سو 43کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔  تا ہم  دنیا بلٹ ٹرین نام کی حد تک  خواب کی تکمیل نصف صدی  پہلے کر چکی تھی۔جب جرمنی نے 250کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار والی دنیا کی پہلی بلٹ ٹرین 1964میں تیار کی۔اس وقت  پاکستان اور بھارت دوسری جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اب جاپان400کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک چلنے والی دنیا کی تیز ترین بلٹ ٹرین تیار کر رہا ہے۔ چین میں 350کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بغیر ڈرائیور چلنے والی بلٹ ٹرین تیار ہو رہی ہے۔ پاکستان میں 110کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرین کو بلٹ ٹرین قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میںچین کے اشتراک سے 160کلو میٹر فی گھنٹہ چلنے والی ٹرین کو تیز ترین بلٹ ٹرین کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔  یہی حال بھارت کا بھی ہے جہاں سب سے تیز رفتار ٹرین 180کلو میٹر فی گھنٹہ چلتی ہے جس کا نام بلٹ ٹرین رکھا گیا ہے۔ ہم اس دور میںزندہ ہیں جب پاکستان میں کروڑوں لوگ اس وقت ٹچ موبائل کے مزے لے رہے ہیں۔پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی پی ٹی اے کے مطابق جنوری 2018میں یہاں موبائل صارفین کی تعداد14کروڑ 40لاکھ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کے ماڈرن دور میں زندہ ہیں۔ جب کہ یہ سب ٹیکنالوجی آئی فون، سام سنگ، نوکیا، سمیت درجنوں برانڈز کی دین ہے۔سمارٹ فونز برانڈ ز میں سے ایک بھی پاکستانی نہیں۔ جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکیں۔ اس کی صاف وجہ ہے کہ ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے تو کجا ، اس میدان میں ابھی تک اترے بھی نہیں۔ کیوں کہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں اس کے لئے بالکل بھی تیار اور رہنمائی نہیں کرتا۔ ہم احساس کم تری یا برتری کے کشمکش کے درمیان جھول رہے ہیں۔ فواد چوھدری ہمارے آج کے وزیر با تدبیر ہیں۔ جن کو سائنس و ٹیکنالوجی کا اہم قلمدان دیا گیا ہے۔ ان سے کیا شکوہ ، ان سے پہلے کے وزراء بھی کوئی تیر نہ مار سکے۔ اسی لئے ہمارے پاس آئی فون یا کوئی برانڈ ہے تو ہمیں اس پر ناز اور نخرہ ہو گا۔ کیوں کہ ہم اپنی نہیں بلکہ غیر ملکی تشہیر کر رہے ہیں۔ ہمارا سرمایہ  ملک سے باہر جا رہا ہے۔ دنیا سے یک دم  رابطے پر ہم مطمئن ہیں۔ اسی طرح زمینی رابطوں کا حال ہے۔ ہمارے وزیر ریلوے کئی برسوں سے بلٹ ٹرین کی خوشخبری سنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ یہاں جو جتنا باتونی اور مسخرہ ہے، اس کا اتنا ہی طوطا بولتا ہے۔ مگر بجائے اس کے ہر شاخ پر الو بولتا نظر آتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی سب سے تیز رفتار ٹرین پشاور تا کراچی کے درمیان دوڑتی ہے جس کی رفتار 160کلو میٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔ اس رفتار کی ٹرینوں کو یہاں بلٹ ٹرین کا نام دیا جا رہا ہے۔   

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی

a month ago.

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست میں 15سال ہو گئے ہیں۔ امریکہ سے نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی  ڈاکٹر صدیقی پر کسی کے قتل کا الزام نہیں بلکہ اقدام قتل کا کیس ہے۔ ڈاکٹر صدیقی مارچ2003ء سے امریکی قید میں ہے ۔ اس پر 2008ء میں مقدمہ چلایا گیا۔ 2010ء میںامریکی عدالت نے 86سال سزائے قید سنائی ۔ تین بچوں کی ماں ، پاکستانی سائنسدان کو پہلے سزا ہوئی، مقدمہ بعد میں چلا۔ کوئی حکومت رہائی کے لئے کچھ نہ کر سکی۔ آج ایک بار پھر ڈاکٹر صاحبہ کی ہمشیرہ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔ وہ اکیلی دردمندی سے اپنی قیدی بہن کی رہائی کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ شاید اس کا درد اور دکھ کوئی محسوس کرے۔ پاکستان نے مسلسل امریکہ کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا۔ جب کہ پاکستانی قیدی کی وطن واپسی کے لئے امریکہ کے ساتھ 1993ء میں طے پانے والا معاہدہ بھی اہم ہے۔ امریکی قانون کے مطابق ملزم ہی رہائی کے لئے امریکہ سے اپیل کر سکتا ہے۔ اب ڈاکٹر صاحبہ نے پاکستان واپسی کی اپیل دائر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جس کے بعد پیش رفت کے امکانات روشن ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سینٹ میں اعظم خان سواتی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے یہ معاملہ سینٹ میں اٹھایا۔ جس پر وزیر خارجہ نے بیان دیا۔ یہ وہی روایتی بیان تھا جو گزشتہ برسوں میں دیئے گئے۔ ظاہر ہے کوئی بھی ان بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی نے سینٹ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔   

افطار پارٹیاں

افطار پارٹیاں

a month ago.

دین میں روزہ کی بہت اہمیت ہے۔یہ اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ روزہ دار کو افطار ی کرانے کی اپنی افادیت ہے۔ اسلام کے ہر رکن میں، ہر ایک ہدایت میں ، ہر ایک فعل میں انفرادیت سے زیادہ اجتماعیت کا تصور اجاگر ہوتاہے۔ کسی کی انفرادی حیثیت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج تمام کے تمام کا پیغام اجتماعیت ہے۔ یہ اجتماعیت ایک گائوں محلہ شہر سے لے کر ملک اور دنیا تک ہے۔ نماز محلہ کی مسجد، جمعہ شہر کی جامع مسجد، حج دنیا کے مرکز مکہ المکرمہ میں ادا کرنے کا یہی واضح پیغا م ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد عبادت ہی نہیں بلکہ انسانی معاملات ہیں۔جن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حقوق اللہ سے حقوق العباد کی زیادہ اہمیت اسی لئے ہے۔عبادات اور معاملات کیا ہیں۔ اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ عبادات کا بھی بنیادی مقصد معاملات کو سنوارناہے۔ انسان کا انسان کے کام آنا، اس کے دکھ درد، خوشی غمی میں شریک ہونا، اس کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی تیمار داری کرنا، اس کے لئے تحائف کا اہتمام کرنا، اس کو اپنے دسترخوان میں شامل کرنا، کفن ودفن میں شرکت وغیرہ ان میں شامل ہے۔   

آزاد کشمیر کی آبادی پر بھارتی جارحیت

آزاد کشمیر کی آبادی پر بھارتی جارحیت

a month ago.

بھارتی فوج نے آزاد کشمیر کے نہتے شہریوں پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جموں  اودھم پور، سرینگر اور بارہمولہ کی بھارتی پارلیمنٹ کی نشستوں پر فوج کے سخت پہروں میں انتخابی مرحلے مکمل ہوئے اور اب اننت ناگ جو کہ جنوبی کشمیر ہے کی نشست کے الیکشن کے لئے سینکڑوں کشمیریوں کو قید کر لیا گیا ہے۔ بستیوں کا کریک ڈائون  محاصرے اور لوگوں پر تشدد جاری ہے۔ عوام پر دبائو بڑھانے کے لئے ہی آزاد کشمیر کی سول آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حویلی ضلع کے فاروڈ کہوٹہ میں نو عمر طالب علم طاہر اور اس کی کم سن بہن طاہرہ کو بھارتی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔بھائی موقع پر شہید ہو گیا اور بہن شدید زخمی ہوئی جو ہسپتال میں تڑپ رہی ہے۔ محمد حفیظ کے یہ بچے بھارتی جارحیت سے بے خبر تھے۔ جب گولہ باری ہوئی تو لوگ حفاظتی بنکرز نہ ہونے کی وجہ سے جان بچانے میں بے کسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ فاروڈ کہوٹہ سمیت آزاد کشمیر کے تمام سیکٹرز میں حکومت سے مسلسل مطالبات کے باوجود بنکرز تعمیر نہ ہو سکے۔ افسوس ‘ صد افسوس! بھارتی فائرنگ سے لاتعداد لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔   

 دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

دنیا کو بھارت کا کھلا چیلنج

2 months ago.

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کو دنیا سے ملانے والی سرینگر جموں شاہراہ کی ہفتہ میں دودن بندش کو کشمیریوں کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس شاہراہ پر ایک کشمیری نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی مگر بھارتی اہلکاروں نے ایمبولنس کو سڑک پر چلنے کی اجازت نہ دی۔ سرینگر سے ڈوڈہ تک فورسز نے کم از کم 50مقامات پر ایمبولنس کو روک دیا۔ جس کی وجہ سے سرینگر کے انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ ہسپتال سے ایمبولنس پر محو سفر کینسر کے مریض عبدالقیوم بانڈے نے بیٹے کے بازئو ں پر تڑپتے ہوئے جان دی مگر سی آر پی ایف اہلکاروں نے آکسیجن پر زندہ اس کشمیری پر کوئی ترس نہ کھایا۔بانہال کے آگے بٹوت کے مقام پر اس کی روح پرواز کر گئی۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے بھی بھارتی حکومت سے ہائی وے کو ہفتہ میں دو دن عوام کے لئے بند رکھنے کا جواب طلب کیا ہے۔  مگر یہ جواب طلبی بھی دیگر عدالتی فیصلوں اور ہدایات کی طرح نام نہاد اور خانہ پری کے برابر ہو گی۔

سشما سوراج کا اعتراف

سشما سوراج کا اعتراف

2 months ago.

بھارتی وزیر خارجہ اس جھوٹ کا اب خود اعتراف کر رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے دو ماہ تک اپنے عوام اور دنیا کے سامنے مسلسل جھوٹ بولا۔ مگر اب  بالآخر تسلیم کر لیا کہ 26 فروری کو بالاکوٹ میں بھارتی ایئر فورس کی فضائی کارروائی میں کسی پاکستانی شہری یا فوجی کی جان کو نقصان نہیں پہنچا۔کسی فوجی تنصیب کو بھی بھارتی کارروائی  سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ جس پرپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ آخر کار سچ سامنے آ ہی گیا اور بھارت نے اپنا جھوٹ خود بے نقاب کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’زمینی حقائق کی مجبوریوں کے تحت بالآخر سچ سامنے آگیا‘۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت کی جانب سے بالا کوٹ حملے اور اس کے بعد پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کی سچائی بھی جلد سامنے آجائے گی۔وہ امید کر رہے ہیں کہ  بھارت کے دیگر جھوٹے دعوے کے حوالے سے بھی ایسا ہوگا، جیسا کہ 2016 کا سرجیکل اسٹرائیک، پاک فضائیہ کا 2 بھارتی طیارے مار گرانے کی تردید اور ایف 16 کے حوالے سے ان کا دعویٰ سامنے آیا جو کہ سب کے سب گمراہ کن بیانات تھے۔ ان کا مقصد بھارتی عوام کے گرتے مورال کو سنبھالنا تھا مگر پھر بھی یہ سنبھل نہ سکا۔