بلیک میلنگ کب تک؟ 

بلیک میلنگ کب تک؟ 

10 days ago.

کرپشن اور اقرباء پروری کے جن خطرات کی نشان دہی  بانی پاکستان قائد اعظم نے کی تھی، گزرتے وقت کے ساتھ نہ صرف ان کا تسلسل برقرار ہا بلکہ ان کے مختلف حربوں کو قانونی تحفظ اور جواز بھی فراہم کردیے گئے ۔ آج ہر کوئی بظاہر اس بات کا قائل نظر آتا ہے کہ کوئی بھی  اپنے عہدے سے فوائد حاصل کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ جوابدہی کے غیر مؤثر نظام نے حکومتی اداروں اور کاروباری حلقوں میں ایسے طرز فکر کو فروغ دیا ہے جس کے مطابق کرپشن کو معمول کی بات تصور کیا جاتا ہے بلکہ اس کے لیے مزید آزادی کا مطالبہ بھی ہوتا ہے۔ موجودہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ اس قدر بے توقیر ہوچکے ہیں کہ ان کا نفاذ ناممکن دکھائی دیتا ہے کیوں کہ جن کے ہاتھوں ان قوانین کا نفاذ ہونا تھا ان کے شیطانی دماغ ان قوانین ہی کو مال بنانے کا سب سے بڑا آلہ بنا چکے ہیں۔ کم ٹیکس وصولیوں ہی کا مسئلہ لیجئے جس کی وجہ سے پاکستانی ریاست اپنے اخراجات پورے نہ ہونے کے باعث قرضے یا امداد طلب کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

27 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  عسکری تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا جس میں سولہ نفر پر مشتمل مختصر دستے نے نہ صرف دو ٹینک تباہ کیے تھے بلکہ دو ٹینکوں اور دو انفینٹر کمپنیوں جوابی حملے کو بھی ناکام بنادیا تھا۔  شکربو چوکی رینجرز کے حوالے کرنے بعد میں ڈالی آپریشن کے لیے بٹالین میں چلا گیا۔ میری کمپنی نے دشمن کے عقب میں اونچے مقام پر قدم جمانا تھے۔ ہم نے اے اور سی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ڈالی پر قبضے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ ہمیں فضائی مدد فراہم کرنے والے دو جنگی طیارے بے جگری کے ساتھ آگے بڑھے۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور ایم کے عباسی خود ایک طیارہ اڑا رہے تھے۔ فضائی حملے میں نہ صرف دشمنوں کی گولہ بارود سے بھری ٹرین تباہ ہوئی بلکہ انھیں بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شام ڈھلے فلک شگاف نعروں کے ساتھ حملے کا آغاز ہوا اور مکمل طور پر کام یاب رہا۔ ڈی کمپنی کی مدد سے ڈالی کو خالی کروالیا گیا۔ پہلے ہی یہ کمپنی جاسو(جوپر) کی جانب سے ہونے والے جوابی حملے کو ناکام بنا چکی تھی۔ ڈی کمپنی اور رائفلز اور مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور ایک سپاہی دشمن کو للکارتا رہا ’’مورچوں سے نکل آؤ ورنہ ہم تمہارا قیمہ بنا دیں گے‘‘۔

دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

a month ago.

جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو پاکستان ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پستی کے اس سفر کا آغاز زرداری اور پیپلز پارٹی  کی کرپٹ ترین حکومت کی 2008 میں آمد سے ہوا اور 2013 میں نواز شریف برسر اقتدار آنے کے بعد بھی جوں کا توں جاری رہا۔ اس بات میں تو کسی شک یا قیاس آرائی کی گنجائش نہیں کہ یہ لوگ بدعنوان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عدلیہ اس حوالے سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے الفاظ کے ساتھ کھیل رہی ہے جبکہ چالاک وکلاء، جنہیں اچھی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، قانون کی روح کو مجروح کررہے ہیں؟ کیا ہمارے جوانوں نے بے کار اپنے ملک کے لئے جانیں گنوا دیں؟ معاشی نظامکی ابتری ملکی سلامتی کی ضروریات کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ معیشت اور سلامتی باہمی طور پر وابستہ تصور کرنے کے منفرد تصور سے ہی اس صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، پاکستان کو روایتی سانچوں اور جمود کو ختم  کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگرچہ محصولات میں اضافہ لازمی ہے، لیکن ہمیں بچت اور تبدیلیوں کو موثر بنانے کے ہر طریقے پر غور کرنا چاہیے۔  

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

a month ago.

1950ء میں بھارتی دستور میں شامل ہونے والی دفعہ  15کے مطابق ’’ریاست کسی شہری سے مذہب، نسل، ذات، صنف، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتے گی۔‘‘  مطالبۂ پاکستان کے خلاف کانگریس اور بھارت کا استدلال یہ تھا کہ ہندوستانیوں میں مسلم قومیت جیسی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ تمام ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی ذات، جنس یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ہندوستانی قوم کا حصہ ہیں اور سیکیولر ریاست کی نظر میں سب برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان یا کسی اور نام سے علیحدہ ریاست کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تقریباً نصف آبادی نے کانگریس کے اس وعدے پر اعتبار کرلیا،ان کی قیادت جواہر لعل نہرو کے قریبی دوست ابوالکلام آزاد کررہے تھے۔ شیخ عبداﷲ بھی نہرو کے قریبی دوست تھے اور انہی کی وجہ سے کشمیری مسلمان بھی ہندوستانی قوم میں اپنی قبولیت کے امکانات پر یقین رکھتے تھے۔ دونوں مسلمان رہنما آزاد اور شیخ عبداﷲ کو جلد ہی اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا۔ 1950کی دہائی تک ان دونوں رہنماؤں پر آشکار ہوگیا کہ ہندوستان کی آزادی کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھتے رہے اور کانگریس نے ان سے عہد شکنی کی۔ مایوسی کے عالم میں آزاد کا انتقال 1958ء میں ہوا، بھارت کے بارے میں اپنے اوہام کا انہوں نے کبھی براہ راست اعتراف نہیں کیا۔ 1992ء میں ان کے ایک قریبی دوست نے کہا کہ ’’آزاد دل شکستہ دنیا سے رخصت ہوئے‘‘۔ شیخ عبداﷲ کو ان کے دوست نہرو نے دس برس تک اس لیے جیل میں رکھا کہ انہوں نے اس پر آواز اٹھائی تھی کہ دہلی نے کشمیر کو وہ خودمختاری نہیں دی جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ 

 ہندوتوا اور مسلمانوں کو درپیش سوال 

 ہندوتوا اور مسلمانوں کو درپیش سوال 

2 months ago.

(گزشتہ سےپیوستہ)  انگریزوں کے ثقافتی احساس برتری، رعونت اور تصور سلطنت اور ہندوستانی ثقافت سے متعلق ان کے تحقیر آمیز رویے کے نتیجے میں انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں تعلیم یافتہ بنگالیوں اور ہندوستانیوں میں بے چینی بڑھنا شروع ہوگئی۔ اسی وجہ سے انگریز کو اپنی قدر و قیمت سے آگاہ کرنے کے لیے انہوں نے قوم اور قوم پرستی کے تصورات کو اختیار کیا۔ پہلے (1875ء میں ) بنگالی قوم پرستی اور بعد ازاں( 1885ء میں) ہندوستانی قوم پرستی انڈین نیشنل کانگریس کی صورت میں نمودار ہوئی جس نے جنوبی ایشیائی برصغیر میں برطانوی تسلط سے نجات کے لیے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ کانگریس کے ابتدائی برسوں میں مذہب سے گریز کی پوری کوشش کی گئی کیونکہ اس وقت کی قیادت کا خیال تھا کہ سیکولر قومیت کے تصور کے ساتھ وہ انگریز پر زیادہ اثرانداز ہوسکیں گے اور عوامی حمایت بھی حاصل ہوجائے گی۔ کانگریس میں سخت گیر کہلانے والے گروہ کے اس وقت کے رہنماء ہندو دیوی دیوتاؤں کا نام اور ان کی تصاویر سے عوام پر اثرانداز ہونا چاہتے تھے۔ 

ہندو مت کی تشکیل 

ہندو مت کی تشکیل 

2 months ago.

گزشتہ سےپیوستہ) مزید یہ کہ یورپ میں روشن خیالی کی تحریک نے یورپیوں کے جہاں بینی کے تصورت کو یکسر تبدیل کردیا۔ انہوں نے یہ تسلیم کرنا شروع کردیا کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے اور سبھی کی ابتدا بربریت تھی اور سبھی تہذیب کا سفر کررہے ہیں۔ ابتدائی چند یورپی اور برطانوی اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندوستانیوں کی طرح بہت سی اقوام ترقی کے اس سفر میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دنیا کو دیکھنے کے اس نئے تناظر نے علمِ بشریات(اینتھروپولوجی) کو جنم دیا جس میں مختلف اقوام کی تہذیب کے سفر میں صورت حال کا جائزہ لیا جانے لگا۔ اس شعبہ علم کے تحت اقوام اور معاشروں کی زمرہ بندی کی گئی۔ بہت سے برطانوی افسران نے مشغلے کے طور پر یہ علم سیکھا اور ہندوستانی سماج اور رسومات کی زمرہ بندی کی۔ ظاہر ہے کہ یہ زمرہ بندی یورپی طریقے پر کی گئی تھی۔ انہوں نے ’’مذہب‘‘ کو ایک طرز حیات کے بجائے ، ہندوستان میں بھی مذہب کو مسیحیت کی طرح اکائی تصور کیا۔ یورپ میں وہ اسلام سے معاملہ کرچکے تھے اور اس کے لیے بغض بھی رکھتے تھے۔ اب انہوں نے اسلام کے علاوہ دیگر مذہبی رسومات کی زمرہ بندی بطور الگ مذہب کے کرنا شروع کردی۔