مشرف کو  سزا ہوئی کیا انصاف بھی ہوا؟

مشرف کو  سزا ہوئی کیا انصاف بھی ہوا؟

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اس فیصلے پر فوج اور تحریک انصاف کی ناراضگی بلا جواز نہیں۔ اٹارنی جنرل کے مطابق عدالتی کارروائی میں ملزم کو دفعہ 10اے کے تحت شفاف عدالتی کارروائی کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے ، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ  اپیل میں یہ فیصلہ منسوخ کردیا جائے گا۔ فوج اس لیے ناخوش ہے کہ ان کے اپنے ادارے سے تعلق  رکھنے والے ایک فرد کو مجرم قرار دیا جارہا ہے اور اسی لیے اس کی جانب سے دکھ اور اضطراب کا اظہار کیا گیا۔ اگرچہ مجھے اس بات سے اتفاق نہیں کہ ’’وہ شخص جس نے چالیس سال تک ملک کی خدمت کی  اسے غدار نہیں کہا جاسکتا اور یہ واضح رہے کہ وہ پاک فوج کا سربراہ تھا اور اس نے ملک کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، اس لیے اس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ مشرف سے ایشوز  پر میرے  اختلافات رہے لیکن بطور فوجی انہیں غدار کہنا ناانصافی اور ناقابل قبول  ہے۔ پاکستان کی لڑی گئی جنگوں میں مشرف کبھی کسی محاذ پر نظر نہیں آئے اور نہ ہی وہ  بہادری کی شہرت رکھتے تھے۔ اس معاملے میں بنیادی بات یہ  ہے کہ قانون کو نظرانداز کرنے اور انتقامی کارروائی کا تاثر بہت واضح ہے۔ 

عالمی حالات میں تغیرات اور پاکستان کے لیے امکانات 

عالمی حالات میں تغیرات اور پاکستان کے لیے امکانات 

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  آئی بی اے میں ایک امریکی یونیورسٹی سے آنے والے سینیئر پروفیسر ، ماہر معیشت اور ایک بڑے اخبار کے کالم نگار  نے سی پیک کو ’’خیالی پلاؤ‘‘ قرار دیا تھا۔ آج سی پیک ایک حقیقت ہے اور ہمارے ملک کی اقتصادی  ترقی کے امکانات اس سے منسلک ہیں۔ انفرااسٹرکچر اور صنعتوں کی ترقی، زراعت کی بہتری اور دنیا کے لیے پاکستان میں نئے مواقع اس منصوبے کے ثمرات ہیں۔ ہمارا ملک ایک دل چسپ دور سے گزر رہا  ہے۔ عمران خان سے غلطیاں تو ہورہی ہیں لیکن کم از کم وہ ایک دیانت دار  لیڈر ہیں اور معیشت کو راہ پر لانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں 12ہزار پوائنٹ کا اضافہ امید افزا  علامتیں ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں ہم نے ایک سنہری موقعہ ضائع کیا۔ نو گیارہ  کے بعد  افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ اور 2005کے زلزلے کے بعد ملک میں اربوں ڈالر آرہے تھے۔ اس وقت صنعتی شعبے میں سرمایہ  کاری نہیں کی گئی اس کے برعکس صدر مشرف کے وزیر خزانہ  شوکت عزیز نے اس بیش قیمت زرمبادلہ کو فریج، کاروں، موبائل وغیرہ میں جھونک دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔ یہ سرمایہ توانائی، سڑکوں ، ریلوں ، پلوں وغیرہ کے منصوبوں میں لگنا چاہیے تھا۔ فریج اور کار وغیرہ خریدنے کے لیے دیے گئے آسان قرضوں اور موبائل فون پیکجز نے، جو اکثر بے مصرف ہی استعمال ہوتے ہیں،  مشرف کی مقبولیت میں تو اضافہ  کیا  لیکن معاشی حقائق نظر انداز کردیے گئے۔ ہمارے ملک میں کام کرنے والی چار فون کمپنیوں میں سے دو کو دنیا میں دوسرے اور تیسرے نمبر کی کرپٹ ترین ملٹی نیشنل کمپنیاں  قرار دیا جاتا ہے۔   

’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

3 months ago.

جب تک یہ تحریر شائع ہوگی مولانا فضل الرحمن اور ان کے حامی اسلام آباد پہنچ چکے ہوں گے۔ خوش قسمتی سے حکومت نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا راستہ نہیں روکا اور امید ہے کہ جمع ہونے والے مظاہرین بھی اسی سمجھ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اگرچہ یہ اجتماع  عمران خان کی سیاست کے خاتمے کا تند و تیز مطالبہ  کررہا ہے تاہم امید ہے کہ اس  کے باوجود یہ اسلام آباد کے امن و امان(اور صفائی ستھرائی) کو متاثر نہیں کرے گا۔ نام نہاد ’’آزادی مارچ‘‘ کا آغاز پشتون آبادی رکھنے والے کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا۔ مذاکراتی ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود حکومت یہ مارچ روک نہیں  سکی۔ آزادی مارچ کے قائدین  یہ ثابت کرنے کے لیے  سڑکوں پر نہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت ناکام ہورہی ہے، بلکہ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ حکومت کامیاب ہورہی ہے۔ مولانا یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس لیے وہ عمران خان کے استعفی سے کم پر راضی نہیں۔ کیا وہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حیثیت محض ربڑ اسٹیمپ سے زیادہ نہیں؟ ان کے نعرے’’آزادی‘‘ کا مفہوم بھی واضح نہیں۔   

بلیک میلنگ کب تک؟ 

بلیک میلنگ کب تک؟ 

4 months ago.

کرپشن اور اقرباء پروری کے جن خطرات کی نشان دہی  بانی پاکستان قائد اعظم نے کی تھی، گزرتے وقت کے ساتھ نہ صرف ان کا تسلسل برقرار ہا بلکہ ان کے مختلف حربوں کو قانونی تحفظ اور جواز بھی فراہم کردیے گئے ۔ آج ہر کوئی بظاہر اس بات کا قائل نظر آتا ہے کہ کوئی بھی  اپنے عہدے سے فوائد حاصل کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ جوابدہی کے غیر مؤثر نظام نے حکومتی اداروں اور کاروباری حلقوں میں ایسے طرز فکر کو فروغ دیا ہے جس کے مطابق کرپشن کو معمول کی بات تصور کیا جاتا ہے بلکہ اس کے لیے مزید آزادی کا مطالبہ بھی ہوتا ہے۔ موجودہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ اس قدر بے توقیر ہوچکے ہیں کہ ان کا نفاذ ناممکن دکھائی دیتا ہے کیوں کہ جن کے ہاتھوں ان قوانین کا نفاذ ہونا تھا ان کے شیطانی دماغ ان قوانین ہی کو مال بنانے کا سب سے بڑا آلہ بنا چکے ہیں۔ کم ٹیکس وصولیوں ہی کا مسئلہ لیجئے جس کی وجہ سے پاکستانی ریاست اپنے اخراجات پورے نہ ہونے کے باعث قرضے یا امداد طلب کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔