کوئی قانون سے بالا تر نہیں 

کوئی قانون سے بالا تر نہیں 

5 days ago.

تحریک انصاف کی حکومت نے جب سے احتسابی مہم کا آغاز کیا ہے ، پاکستان میڈیا کے ٹاک شوز اور سیاسی جماعتوں کی افطار پارٹیوں میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ وفاقی حکومت نے مبینہ طور پر خلاف ضابطہ اپنی بیرون ملک جائیدادیں چھپانے پر اعلیٰ عدلیہ  کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس دائر کیے ہیں جن میں سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کا نام بھی شامل ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے ایسے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے جن پر ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرون ملک اپنی یا اپنے اہل خانہ کے نام پر اثاثے  رکھنے کا الزام ہے۔ جسٹس عیسیٰ کو شہرت اور شریف خاندان کی پذیرائی اس وقت ملی جب حدیبیہ کیس میں شریف خاندان کے خلاف ناقابل تردید شواہد کے باجود اس مقدمے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس مقدمے میں اسحاق ڈار کا اعترافی بیانِ حلفی بھی موجود تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے نیب کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرکے اسے سپریم کورٹ میں ہمیشہ کے لیے ناقابل سماعت قرار دیا۔ انہوں نے نیب کے پراسیکیوٹر کو اس مقدمے میں چیف جسٹس کے آبزرویشن کا حوالہ دینے سے بھی روک دیا اور میڈیا کو اس سے متعلق رپورٹنگ نہ کرنے کا پابند کیا۔ ان کے خلاف ریفرینس دائر ہونے کے بعد بالخصوص ان حلقوں میں  ہمدردی اور اظہار یک جہتی کی لہر اٹھتی نظر آرہی ہے جنھیں یہ سلسلہ آگے بڑھنے کا خدشہ لاحق ہے۔   

 ’’جھوٹ کے سوداگر ‘‘ 

 ’’جھوٹ کے سوداگر ‘‘ 

15 days ago.

23مئی کی شام ایک نجی ٹی وی چینل پر بار بار ایک آڈیو اور ویڈیو کلپ ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر چلائی گئی جس میں ایک مرد و عورت کی باہمی گفتگو سنائی گئی۔ جلد ہی چینل کے بعد یہ ویڈیو اور آڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ ’’نیوز وون‘‘ نے نشاندہی کی کہ اس کلپ میں مردانہ آواز چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ہے۔ اس خبر سے سبھی کو دھچکا لگا اور نیب کے کرپشن پر بنائے گئے مقدمات کے سامنا کرنے والوں کی بانچھیں کھل گئیں۔  قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ  آصف نے ایک بار پھر سفید جھوٹ بولنے کی اپنی مہارت ثابت کی اور الزام عائد کیا کہ نیوز وون میں تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین شراکت دار ہیں اور حکمران جماعت نے نیب  کے زیر تفتیش اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے اس ادارے کے سربراہ کو بلیک میل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جارحیت کو بہترین دفاع کہا جاتا  ہے لیکن خواجہ  آصف نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہی تلخ لہجہ اپنایا۔   

 دہشت گردی کا سراغ  

 دہشت گردی کا سراغ  

21 days ago.

8مئی کو لاہور میں داتا دربار کے نزدیک حملے میں 10افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پانچ  پولیس اہل کار شامل تھے جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ ایک نوجوان نے مزار کے قریب خود کو  دھماکے سے اُڑا لیا۔ اس دھماکے کے بعد غیر ملکی میڈیا میں بدنیتی کے ساتھ  اس پر کئی تبصرے سامنے آئے۔ مثلاً گلف نیوز ایشیا آن لائن کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اشفاق احمد نے پاکستان کو مشورہ دیا ’’ پاکستان کو خود کُش دھماکوں اور نچلی سطح پر پھیلنے والی عسکریت کو روکنے کے لیے اپنی پالیسی پر از سر نو غور کرنا ہوگا۔‘‘ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے  انسداد دہشت گردی کا مقابلے کے لیے باصلاحیت فورس تشکیل دینے میں مصروف ہے جو نہ صرف تفتیش و تحقیق کے جدید اور سائنسی طریقوں کے استعمال کے قابل ہے بلکہ انہی خطوط پر تجزیہ کرکے دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اسے چلانے والوں تک پہنچنے کے قابل بھی ہے، مذکورہ بالا تبصروں اور تجاویز  میں سوچ سمجھ کر یا انجانے میں پاکستان کی ان تمام کوششوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہماری سیکیورٹی اداروں کی حالیہ کام یابیاں ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا  ثبوت ہیں۔ داتا دربار پر ہونے والے حملے کے بعد دو ہفتے کے اندر اہم سراغ حاصل کیا گیا۔   

مگر مچھ کے آنسو 

مگر مچھ کے آنسو 

22 days ago.

جب سے پاکستان کاآئی ایم یف کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے، حزب اختلاف کی جماعتوں اور خاص مقاصد رکھنے والے میڈیا ہاوسز کو پاکستانی معیشت کی فکر کھا رہی ہے اور وہ اس فکر میں دبلے ہورہے ہیں کہ ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں افطار کے لیے جمع ہونے والے کیا وہی نہیں جو اس ملک کے عوام پر گِدھوں کی طرح منڈلاتے رہے ہیں۔ حکومت گرانے کے عزائم پورے کرنے کے لیے تند و تیز بیانات دینے والوں نے کس قدر آسانی سے بھلا دیا کہ معیشت کو آج جن حالات کا سامنا ہے وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے پیدا کردہ ہیں، کس منہ سے موجودہ حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ حزب اختلاف ہو یا میڈیا، کسی کو پاکستان کے قومی مفاد اور معاشی استحکام اور نظام میں زمینی حقائق سے ہم آہنگ اصلاحات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حزب اختلاف حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے اور میڈیامیں ضمیر کا سودا کرنے والے اپنی بولیاں لگا رہے ہیں۔ ان دونوں کی زہر افشانی سے پیدا ہونے والے تاثر نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ہمارے ہمسایہ حریفوں کے ارمان بھی پورے ہورہے ہیں۔ 

مبالغہ آمیز رپورٹنگ ، ہائیبرڈ وار کا ایک اور ہتھیار 

مبالغہ آمیز رپورٹنگ ، ہائیبرڈ وار کا ایک اور ہتھیار 

29 days ago.

کسی بھی شخص یا ملک کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ہر طرح کی ٹیکنالوجی اورمیڈیائی کرتب کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ جعلی خبریں، جھوٹ پھیلانا یا کسی ذرائع سے ملنے والی خبروں کو بلاتصدیق دہرانا بھی عدم استحکام پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے ، جس کے نتیجے میں کسی بھی فرد یا ملک کو بے یقینی کی سولی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔ عام طور پر اس طرح کی خبریں بہت دیر تک نہیں چلتیں کیوں کہ سچ بہرحال اپنا راستہ بنا لیتا ہے لیکن ان سے نقصان ہوتا ہے بالخصوص جب آبادی کا بڑا حصہ ناخواندہ ہو تو یہ زہریلے اثرات زیادہ دیر پا ہوتے ہیں۔ مفادات کی جنگ میں ایک اور خطرناک حربہ  جسے ہم مسالے دار خبریں کہہ سکتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بنیادی طور پر خبر درست ہے لیکن اسے مرچ مسالا  لگا کر بیان کیا گیا ہے، بات کو بڑا چڑھا کر اس میں منفیت بھی شامل کردی گئی ہے، اس کے نتائج بھی فیک نیوز جیسے ہی برآمد ہوتے ہیں یعنی اس کے نتیجے میں بھی عدم استحکام، شبہات اور بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوتی ہے۔  

 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  مسلم لیگ ن کا محور نواز شریف کی شخصیت ہے لیکن شہباز شریف نے ، بالخصوص لاہور میں، بڑے بڑے منصوبے مکمل کرکے خود کو مردِ میدان ثابت کیا ہے۔ قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ شہباز شریف کی صحت بھی اچھی نہیں، مزید یہ کہ وہ شدید کمر درد میں مبتلا ہیں۔ حمزہ شہباز کو ن لیگ میں قیادت کے لیے ایک آپشن قرار دیا جاتا تھا وہ بھی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی زد میں ہے اور جیل جاسکتے ہیں، اسی سبب سے حمزہ  پرُاعتمادانداز میں اپنے قدم جمانہیں پار ہے ۔ شریف خاندن کی سیاست سے دست برداری مسلم لیگ ن کے لیے آخری دھکا ثابت ہوگی۔ کسی مضبوط قیادت کے بغیر اس کے ارکان تتر بتر ہوجائیں گے اور دیگر جماعتوں کا رُخ کرلیں گے۔ اس کی زد میں شاہد خاقان عباسی بھی آئیں گے جنہوں نے بطور وزیر اعظم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن شریف خاندان سے وفاداری نے انہیں کرپشن کے مقدمات میں ملوث کردیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو برقرار رکھنے کے لیے اسٹبیلشمنٹ کی نظر میں چودھری نثار سب سے مضبوط امیدوار ہوں گے۔ سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں نظام کے استحکام کو متاثر کریں گی اور پہلے سے کمزور پڑتی پاکستانی ریاست کے لیے صورت حال مزید نازک ہوجائے گی۔   

 سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیوں کے آثار

2 months ago.

1971ء کے بعد قومی سطح کی دو سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وجود میں آئیں۔ یہ جماعتیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں وجود رکھتی تھیں لیکن ایک خاص لسانی پس منظر کے ساتھ مختلف صوبوں میں ان کی قوت بھی مختلف تھی۔ بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی ملک کی حقیقی قومی سیاسی جماعت کے مقام سے کئی درجے نیچے اُتر آئی۔ پنجاب میں پی پی کا دائرہ اثر محدود ہوگیا اور بلوچستان اور کے پی کے میں بھی پارٹی کم زور پڑ گئی۔بار بار سندھ کارڈ کھیلنے کی وجہ سے یہ سندھی جماعت بن گئی سندھ میں بسنے والے مہاجر بھی جس سے بے گانگی رکھتے ہیں۔ زرداری اور ان کے خاندان کے گرد جوں جوں احتساب کا گھیرا تنگ ہورہا ہے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے بڑے  معاملات میں وعدہ معاف گواہ سامنے آرہے ہیں۔ دوسری جانب بلاول نوجوان اور ناتجربے کار ہیں اور نہ ہی کرشماتی لیڈر بن سکے ہیں اس لیے اس وقت پیپلز پارٹی کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان ہیں۔ میڈیا کا زر خرید حصہ آصف زرداری کے مقدمات کو مذاق میں اُڑا رہا ہے تاہم ایک مرتبہ اگر عذیر بلوچ کا بیان سامنے آگیا تو زرداری کے خلاف قتل کے الزامات پر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔   

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا :بھارت کی بندوق !

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) جب ابتدائی طور پر امریکہ نے افغانستان میں شمالی اتحاد کی حکومت تشکیل دی تو بھارت نے بالخصوص(اور کم ازکم ابتدائی طور پر) شمالی اتحاد کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات بحال کیے۔ بھارت نے جنگی محاذ پر امریکہ اور آئی ایس اے ایف کو مصروف رہنے دیا اور خود افغان انٹیلی جینس انفرااسٹرکچر سے روابط پیدا کیے،’’ادارتی تعاون‘‘ کی آڑ میں افغان بیورکریسی میں سرمایہ کاری کی جس کا موازنہ امریکیوں کے کیے گئے اخراجات سے کیا جاسکتا ہے۔ اداروں کی تعمیر کے پردے میں بھارتی ’را‘ نے افغان انٹیلی جنس ادارے خود کو اپنے قابو میں کر لیا۔ یہ پاکستان مخالف پالیسی کو فروغ دینے کا بہتری موقع تھا۔ اس کے نتیجے میں 1)پاکستان کے خلاف جعلی انٹیلی جنس رپورٹ پھیلائی گئیں2) ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پناہ دی گئی 3) جب پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو ٹی ٹی پی کو ہتھیار، سرمایہ اور بارود فراہم کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ مزید یہ کہ کراچی اور پشاور میں ہونے والے حملوں میں بھارت پوری طرح ٹی ٹی پی کے ساتھ ملوث رہا۔ یہ نوے کی دہائی میں کراچی میں خاد اور را کی مشترکہ سازش سے ہونے والے دھماکوں کا تسلسل ہی تھا۔   

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

امریکہ اور افغانوں کا کاندھا ، بھارت کی بندوق

2 months ago.

ہائیبرڈ سے مراد ایسی جنگ ہے جو روایتی اور غیر  روایتی، حرکی و غیر حرکی تمام صورتوں میں دشمن کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دشمن کو خفیہ وار سے کم زور کرنے کی حکمت عملی کے لیے  ہندوستان میں ارتھ شاستر صدیوں  پرانا ماخذ ہے۔  اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے پرانے اصولوں پر ترتیب دیے گئے ان حربوں کو بھی جدت دی ہے۔ ہائیبرڈ وارفیئر کے دو یا زائد اجزا ہیں۔ اس میں بیک وقت طاقت کے مختلف ذرائع کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے سماجی کمزوریوں پر وار کیا جائے اور معاشرتی تانے بانے کو زک پہنچے۔ اس حکمت عملی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کی نشان دہی اور تشخیص آسانی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس حکمت عملی کا تمام  انحصار پوری رفتار، پھیلاؤ اور قوت سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہے، جس نے معلومات کے اس عہد کو صورت گری کی ہے۔ اس کی ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اس میں حملے کے ماخذ یا حملہ آور کی نشاندہی بہ آسانی ممکن نہیں۔   

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

پاکستان ، افغانستان میں امن اور بھارت

3 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) گزشتہ برس ماسکو نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں داخلی سطح پر طالبان سمیت افغانستان کی سیاسی قوتوں کے مابین  امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک نے بھی شرکت کی۔ دہائیوں بعد انفرادی سطح پر رابطے ہوئے اور مؤقف  میں بھی تبدیلی آئی۔ خطے میں واحد بھارت ہے جسے افغانستان کے امن میں کوئی دلچسپی نہیں۔ بھارت اس تباہ حال ملک میں صرف اس لیے کشیدگی جاری رہنے کا خواہاں ہے تاکہ اس کے ذریعے سے پاکستان میں انتشار کو ہوا دی جاتی رہے۔ مزید یہ کہ اس پراکسی جنگ میں بھارت مالی وسائل، افرادی قوت یا رسد کی صورت میں بڑی بھاری سرمایہ کاری کرچکا تھا۔ امریکہ بھی یہاں قیام کی بھاری قیمت چکا رہا ہے جب کہ افغانستان میں نہ صرف بھاری جانی نقصان ہورہا ہے بلکہ اسے انفرااسٹرکچراور بڑے شہروں کی تباہی کا بھی سامنا ہے۔ افغان خفیہ ادارے خاد کے ساتھ مل کر بھارتی ’را‘ پاکستان کی نظریاتی اور زمینی حدود پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر نام نہاد جہادی گروہوں کے ذریعے حملہ آور ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو طالبان کے ساتھ نتھی کر کے بھارت نے اسے دہشت گردی قرار دینے کے لیے بہت ڈھنڈورا پیٹا۔ پاکستان کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسے دہشت گردی کا معاون و مددگار بنا کر پیش کیا گیا۔