کشمیر : بحران اورامکانات 

کشمیر : بحران اورامکانات 

6 days ago.

(گزشتہ سےپیوستہ) فوج، کارگل سے پہلے تک اس مسئلے کے لیے عسکری حل چاہتی تھی۔ فوج بھارت کے ساتھ کشمیر پر تین جنگیں لڑ چکی ہے لیکن اس کے زیادہ حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنا شروع کردیا ہے کہ کشمیر اور افغانستان جیسے مسائل کا  صرف سیاسی حل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل مشرف نے اپنے دور اقتدار میں کارگل کی اپنی غلطی کو درست کرنے لیے مسئلہ کشمیر کا قدرے مختلف انداز میں حل نکالنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کشمیر کے لیے ’’چار نکاتی حل‘‘پیش کیا۔ غالباً 2000ء میں این ڈی یو میں انسٹرکٹر رہنے والے، ائر مارشل (ر) مسعود اختر بتا سکتے ہیں کہ یہ ’’بہترین خیال‘‘ جنرل مشرف کے ذہن میں کہاں سے آیا۔ مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کو بھی اصولی طور پر یہ حل قبول تھا لیکن دستخط کی تقریب سے چند گھنٹے پہلے ہی معاملہ بگڑ گیا۔ مشرف نے افواج کے بتدریج انخلا، ایل او سی کے دونوں اطراف آزادانہ نقل وحرکت اوردونوں جانب آزاد ہونے کے بجائے خود مختار حکومت کے قیام سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے غیر روایتی حل پیش کیے۔ یہ مؤثر اقدامات ہوسکتے تھے جوحقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ پاکستان میں آنے والی سویلین حکومتیں  اس مسئلے کا کوئی غیر روایتی حل پیش کرنے میں ناکام رہیں۔ اس کے بجائے یہ  1948ء میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل اور استصواب رائے کے موقف سے بھی دستبردار ہوگئیں۔ 1950ء اور 1960ئکی دہائی میں  حل کے امکانات 1972ئکے شملہ معاہدے کے بعد تبدیل ہوگئے۔ اس کے بعد سے بھارت کشمیر کو دو طرفہ تنازعہ ہی بتاتا ہے کیوں کہ بھٹو نے بھی یہ تسلیم کرلیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی قرار دادوں پراصرار زمینی حقائق سے چشم پوشی کے علاوہ کچھ نہیں۔ 

ریکوڈک کی اصل کہانی

ریکوڈک کی اصل کہانی

15 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) کینیڈا کی بیرک گولڈ کارپوریشن دنیا میں سونے کی کان کَنی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ دونوں کمپنیوں کے بانی یورپ سے ہجرت کرکہ چلی اور کینیڈا گئے۔ لیوکسک خاندان کے بزرگ اندرونکو لیوکسک چلی میں ایک کروشیائی باپ اور بولیویائی ماں کی اولاد تھے۔ Antofagasta لینے کے بعد انہوں نے تانبے اور کان کنی کے میدان میں بھی قدم رکھا جہاں وہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں سے ایک بن گئے۔ ان کی کامیابی کی کہانی تب شروع ہوئی جب جاپانی سرمایہ کار چلی میں ان کی کان خریدنا چاہتے تھے۔ لیوکسک نے جاپانیوں کو 500000 پیسو کے عوض اسے خریدنے کی دعوت دی۔ جاپانی سمجھے کہ پیسو نہیں بلکہ امریکی ڈالر کی بات ہورہی ہے اور انہوں نے امریکی ڈالر میں ادائیگی کردی جو اصل رقم سے دس گنا زیادہ تھے۔ لیوکسک نے اس ’’ایماندارانہ غلطی‘‘ کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی۔ Tethyan میں اپنا حصہ لے کر تلاش کے اخراجات میں ان کی سرمایہ کاری 100 ملین ڈالر ہوگی (1 ارب ڈالر کی زیادہ تر مزید سرمایہ کاری قرضوں کی شکل میں کی جائے گی)۔ اس کے عوض انہیں 56 سال میں 937 ارب ڈالر کا منافع ملے گا، یعنی اصل سرمایہ کاری سے ہزار گنا زیادہ۔ اندرونکو لیوکسک اعتماد کرنے والے جاپانیوں سے اپنے حق سے دس گنا اور بے وقوف پاکستانیوں سے ہزار گنا زیادہ منافع کما کر 2005 میں بخوشی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

پاک امریکا تعلقات کا ایک اور نیا آغاز

پاک امریکا تعلقات کا ایک اور نیا آغاز

23 days ago.

وزیر اعظم کا تاریخی تین روزہ دورہ امریکا اختتام کو پہنچا۔ اس دورے کا واضح تاثر یہی ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں مزید قربت کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔وقت بتائے گا یہ امید کتنی درست ہے۔ صدر ٹرمپ نے دورۂ پاکستان کے لیے وزیر اعظم کی دعوت قبول کرلی ہے جو ایک مثبت اشارہ ہے تاہم ہمیں اس امید افزا ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط رہنا پڑے گا۔  دیگر اہم ملاقاتوں کے ساتھ اس دورے میں امریکی سینیٹ کمیٹی برائے عدلیہ کے سربراہ اور سینیٹ کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے رکن لنزے گراہم کے ساتھ بھی وزیر اعظم کی ملاقات ہوئی۔ سینیٹر گراہم نے، اپنے آنجہانی دوست سینیٹر جوہن مک کین کے ساتھ ، ہمیشہ پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کی خطے کے امن وسلامتی کے لیے اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور انھیں مستحکم کرنے کے حامی رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے عمران خان کے دورۂ امریکا کو گزشتہ دو دہائیوں میں دونوں ممالک کے مابین تزویراتی (اسٹریٹجک) روابط مستحکم کرنے کے لیے بہترین موقعے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان اور خطے کے طویل المیعاد امن کے لیے یہ دورہ مددگار ثابت ہوگا۔  

بدلتی دنیا میں پاکستان کا کردار 

بدلتی دنیا میں پاکستان کا کردار 

26 days ago.

تیزی سے گلوبلائزڈ ہوتی دنیا میں ، ہمارا جغرافیہ ہماری سب سے بڑی خوش قسمتی ہے، ایک جانب جنوبی ایشیاء  تو دوسری جانب وسطیٰ ایشیا ء اور مشرق وسطیٰ، جیو پالٹیکس میں اسے ہماری برتری کا سبب ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان کی قومی ریاست کو آغاز ہی سے خطرات کا سامنا رہا، مشرقی سرحد پر بھارت اس کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا اور مغربی سرحد پر افغانستان نے نو تشکیل شدہ ریاست کی سرحدیں تسلیم نہیں کیں۔ قیام کے فوری بعد پیش آنے والے ان مسائل نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی یہ سمت متعین کی کہ ہمیں اپنی بقا کے لیے دنیا میں مستحکم اور مضبوط حمایت کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان اتحادی کے طور پر اگر امریکہ کے بجائے سوویت یونین کی جانب ہاتھ بڑھاتا تو اس کے کیا نتائج نکلتے، اس بارے میں پورے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ سماجی اور ذہنی سطح پر ہماری ابتدائی قیادت کے لیے، دنیا میں شروع ہونے والی سرد جنگ میں امریکہ فطری انتخاب ٹھہرا، پاکستانی فوج ہتھیاروں اور آلات اور دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ پر انحصار کرتی تھی۔ سیٹو اور سینٹو میں شمولیت نے ہماری خارجہ پالیسی کو مزید محدود کردیا۔   

خطرناک صف بندیاں 

خطرناک صف بندیاں 

27 days ago.

 1979ء میں سوویت یونین کی جارحیت کے بعد بڑے پیمانے پر افغانستان سے پاکستان نقل مکانی ہوئی ، ان میں جو متمول تھے وہ اپنے ساتھ اتنا سرمایہ بھی لائے جس سے انہوں نے رہایشی مکانات خریدے اور چھوٹی سطح کے کاروبار بھی شروع کیا، زیادہ تر نے ٹرانسپورٹ کا کام کیا۔ ان میں ایک بڑا حصہ کابل سے آنے والی اشرافیہ کے لوگوں کا تھا۔ افغانستان میں یہ جنگ جب مضافات تک پھیلی تو جو لوگ مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھے انہوں نے بھی نقل مکانی کا آغاز کیا اور ان میں سے کئی  دوطرفہ فائرنگ کی نذر بھی ہوئے۔ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں (زیادہ تر پشتون) افغانوں کی ملکیت جائیدادیں اس وقت کے مختلف باغی افغان گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سمجھیے چھٹیاں گزارنے کی  قیام گاہیں تھیں۔ پشاور میں حیات آباد اور نیو یونیورسٹی ٹاون کے علاقے مال دار افغانوں سے بھرے  ہوئے ہیں۔ کرزئی کے خاندان کے کچھ لوگ آج بھی کوئٹہ میں رہتے ہیں اسی طرح  کہا جاتا ہے کہ رشید دوستم کی ایک بیوی اسلام آباد میں مقیم ہے۔  

ریکوڈک کا تلخ سبق

ریکوڈک کا تلخ سبق

a month ago.

بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ  انفرااسٹرکچر، تعمیر و ترقی اور تعلیم وغیرہ میں پس ماندہ ترین بھی ہے۔ تاہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں دنیا میں سونے اور تانبے کی سب بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر بلوچستان اور پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ریکوڈک کے نام پر جو ڈراما رچایا گیا  اس کی تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ صوبے میں بد انتظامی اور کرپشن، کم از کم ماضی میں،عروج پر  پہنچ چکی تھی۔ گمان تو نہ جانے کہاں تک جائے لیکن ایسے کرپٹ بھی ہیں جو بڑی مہارت سے پس پردہ رہنے میں کام یاب رہے ہیں۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹربیونل نے  ٹی سی سی کی جانب سے 2010ء میں پاکستان کے خلاف دی گئی درخواست پر حال ہی میں فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پر چھ ارب ڈالر ہرجانہ کیا ہے۔  2013ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیر سربراہی تین رکنی بینچ نے ’’چاغی ہل ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر‘‘ معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔  آئی سی ایس آئی ڈی کا یہ فیصلہ معاشی مسائل میں گھِرے پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم کی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی جب کہ ہرجانہ ہر صورت ادا کرنا لازم ہے۔ اس معاملے میں اپیل کی بھی گنجائش نہیں، ہمارے قانونی ماہرین کو کوئی راستہ تو نکالنا ہوگا بصورت دیگر اس سے بھی زیادہ رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ رکو ڈک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معاہدات کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ فیصلہ درست معلوم ہوتا ہے۔ حکومتِ بلوچستان نے 2010ء میں ٹی سی سی کو کان کَنی کا لائسنس جاری کرنے سے انکار کردیا حالاں کہ طے شدہ معاہدے میں لائسنس کا اجرا شامل تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ جو معاہدہ ٹی سی سی چاہتی تھی وہ نہ صرف بلوچستان اور پاکستان کے حق میں غیر منافع بخش تھا بلکہ پاکستان کے موجودہ قوانین سے بھی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بعدازاں معاہدے میں ہونے والی اضافے اور تبدیلیوں سے یہ معاہدہ پاکستان کے لیے مزید بدترین ہوگیا۔ اسے پہلے ہی مرحلے پر تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آج ہم اس نقصان کی ذمے داری کے تعین کے لیے بہت واویلا سن رہے ہیں تاہم  لائسنس جاری نہ کرنے والی اس وقت کی حکومت بلوچستان کو اس کے لیے ذمے دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا   اور نہ ہی 2013ء میں پاکستانی قوانین سے متضاد ہونے کے باعث سپریم کورٹ اور افتخار چودھری کی جانب سے اس کی تنسیخ کو نقصان کا سبب قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں ہی نے ملک کو خسارے کے سودے سے بچانے کی کوشش کی کیوں کہ اس معاہدے میں نہ صرف ایک غیر ملکی کمپنی کو دس کلومیٹر پر محیط رقبے میں ذخائر کی تلاش کا اختیار دیا جارہا تھا بلکہ ہزاروں مربع کلو میٹر زمین اس کے حوالے کی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ منافع میں 75فیصد حصہ ٹی ٹی سی اور صرف 25فیصد بلوچستان کے لیے رکھا گیا تھا جب کہ اس دور دراز بے آباد علاقے میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری بھی بلوچستان کے ذمے تھی۔   

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  ان کے حامیوں نے دوبارہ انہیں صدارتی دوڑ میں شامل ہونے پر آمادہ کیا اور یکم اکتوبر کو پیرٹ پھر اس دوڑ میں شامل ہوگئے لیکن 60دنوں کے وقفے نے ان کی مہم کی رفتار ماند کردی۔ پہلے صدارتی مباحثے میں پیرٹ کو مقابل امیدواروں پر واضح برتری حاصل رہی۔ صدارتی انتخابات میں پیرٹ مجموعی ووٹوں کا 19فیصد حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے جب کہ انتخابات جیتنے والے بل کلنٹن نے  45فیصد اور دوسرے نمبر پر رہنے والے جارج بش نے 37.5 فی صد حاصل کیے۔ امریکی تاریخ میں پیرٹ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے آزاد امیدوار ثابت ہوئے۔ 1996ء میں پیرٹ نے سیاسی سرگرمیاں ترک کردیں اور 1988ء میں اپنی قائم کردہ پیرٹ سسٹمز کارپوریشن کی صدارت سے بھی علیحدگی اختیار کرلی۔ وہ 2000ء تک کمپنی کے سربراہ کے عہدے پر رہے اور 70برس کی عمر میں یہ عہدہ بھی اپنے بیٹے روز پیرٹ جونیئر کے حوالے کردیا۔ لیکن اپنے ملک سے متعلق ان کی فکر مندی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ امریکہ کے قومی قرضوں سے متعلق وہ ہمیشہ پریشان رہے اور 2008ء میں انہوں نے اپنے ہم وطنوں میں اس حوالے سے آگاہی کے لیے ایک ویب سائٹ کا اجرا کیا۔ اگلے ہی برس  امریکہ کے ’’ویٹرن افیئر ڈپارٹمنٹ‘‘ نے انہیں افواج کی فلاح کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی اعزاز دیا۔ 

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

a month ago.

ڈیلاس میں روز پیرٹ سینئر 89برس کی عمر میں کینسر کے خلاف جنگ ہار گئے، زندگی سے بھرپور اس شخص کی موت کی خبر سے شدید صدمہ ہوا۔ ان کے صاحبزادے روز پیروٹ جونیئر راقم کے بہترین دوستوں میں شامل ہیں۔  روز پیرٹ نے 1930ء میں ٹیکساس میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ شدید مالیاتی بحران سے دوچار تھا اور ان حالات میں روز پیرٹ اپنے بل پر ارب پتی بنے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسی ’’امیریکن ڈریم‘‘ میں زندہ رہے، جو خواب اپنی قسمت بنانے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ کا رخ کرنے والوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ سات برس کی عمر میں وہ صبح سویرے اسکول جانے سے پہلے اخبارات تقسیم کرنے کا کام کرتے رہے۔ 1953ء میں گریجویشن کے بعد امریکی نیوی سے منسلک ہوئے اور پانچ برس تک خدمات انجام دیں اور یہیں پہلی بار کمپیوٹر سیکھا۔ یہاں سے ان کی دلچسپی اس شعبے میں پیدا ہوئی اور بعدازاں انہوں نے ڈیٹا پراسیسنگ کی دو بڑی کمپنیاں قائم کیں جنہیں 1990ء کی دہائی میں اچھے منافعے پر فروخت کردیا۔ 1957ء  میں امریکی بحریہ سے سبک دوش ہوکر روز پیرٹ نے بطور سیلز مین آئی بی ایم میں ملازمت اختیار کرلی۔ سی ای او آئی بی ایم کو جب معلوم ہوا کہ فروخت پر ملنے والے کمیشن کی وجہ سے  اس سلیز مین کی آمدن اس سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے تو اگلے برس پیرٹ کی آمدن کو ایک خاص حد تک رکھنے کے لیے ضوابط تبدیل کردیے گئے۔   

جھوٹ اور جعل سازی 

جھوٹ اور جعل سازی 

a month ago.

اپوزیشن کے اکثر بڑے لیڈر کرپشن، اقرباء  پروری، منی لانڈرنگ اور منشیات اسمگلنگ جیسے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ ان کی جماعتوں کی دوسری اور تیسری صف کی قیادت سامنے آرہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ عوام کو سڑکوں پر لانے سے نا امید ہوکر ’’ابا بچاؤ تحریک‘‘ کو ہنگامہ خیز بنانے کے لیے دوسرے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ کی ’’نائب صدر‘‘ اور سیاسی افق پر ’’ستارے‘‘ کی طرح ابھرتی ہوئی مریم نواز کی حالیہ پریس کانفرنس انہی حربوں کی ایک مثال ہے۔ جب ان کے والد برسر اقتدار تھے تو انھوں نے  تقریباً تین سو افراد پر مشتمل اپنی میڈیا ٹیم کی صورت میں افواہوں کا کارخانہ لگا رکھا تھا۔ ’’ڈان لیکس‘‘ معاملے میں اس وقت کی حزب اختلاف اور اپنے خلاف جاری احتساب کو بے اثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ طارق فاطمی، پرویز رشید اور راؤ تحسین جیسے لوگ مریم کے ان ’’حربوں‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔   

 پاکستان کے لئے عالمی اقتصادی فورم کی اہمیت

پاکستان کے لئے عالمی اقتصادی فورم کی اہمیت

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) عالمی اقتصادی فورم کا مقصد ہے ’’عالمی حالات میں بہتری‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا بھر کی قیادت کو عالمی، خطوں اور صنعت کے ایجنڈے کی تشکیل کے  لیے ایک جگہ جمع کیا جائے۔ ڈیووس میں آپ کا بیانیہ نہ صرف سنا جاتا ہے بلکہ اسے سمجھا بھی جاتا ہے۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کی آواز عوامی سیشن میں بھی سنی جائے۔ مٹھی بھر بزنس مین ڈیوس میں پاکستان کی نمائندگی کا بار گراں نہیں سہار سکتے۔ ڈیووس پاکستان کو دنیا سے مثبت انداز میں متعارف کروانے کے لیے ایک انتہائی اہم موقع ہے، ہمارے بڑے بزنس لیڈرز کو اس پلیٹ فورم میں شرکت کو اہمیت دینی ہوگی، کیوں کہ جس  انہوں نے کاروبار کے میدان میں کام یابیاں حاصل کی ہیں، یہاں بھی ان کا چرچا ہونا ضروری ہے۔ دنیا بھر کے امیر ترین، طاقت ور اور صاحبان علم کے حلقوں کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ عالمی اقتصادی فورم  معاشی، سماجی اور سیاسی حوالے سے منعقد ہونے والا اہم ترین ایونٹ بن چکا ہے۔  عالمی اقتصادی فورم کا مشن’’دنیا کے حالات میں بہتری‘‘ ہے جس کا اصل مفہوم عالمی لیڈز کے باہمی تعاون سے عالمی، خطے اور کاروباری ایجنڈے کی تشکیل ہے۔