آٹھ سال بعد پاکستان میں کیا دیکھا 

آٹھ سال بعد پاکستان میں کیا دیکھا 

10 days ago.

آٹھ سال بعد پاک سرزمین پر قدم رکھنا ایسا پر لطف لمحہ تھا جیسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اپنے شہر سیالکوٹ کے بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر اترنے کا ہمارا پہلا تجربہ تھا۔شہر اقبال دنیا بھرمیں پاکستان کی پہچان ہے اور یہ ہم جیسے اس شہر کے باسیوں کے لیے باعث فخر ہے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد وطن عزیز میں بہت کچھ نیا تھا اور ساتھ ہی ہم’’تبدیلی‘‘بھی دیکھنے کے مشتاق تھے جس کی گونج دنیا بھر میں ہے۔ بڑے بڑے محلات جیسے شادی ہالز، نجی تعلیمی ادارے، غیر سرکاری ہسپتال، نت نئے ریستوران اور شاپنگ مالز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ نظر آیا ہے۔ آبادی کے ایک طبقہ کے معیار زندگی میں بہت بہتری  نظر آئی اور وہی لوگ بازاروں اور شاپنگ مالز کی رونق ہیں۔ پاکستانی دل زندہ ہیں اور جینے کا ہنر جانتے ہیں۔ حکومت کو ٹیکس دینے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن حکومت کی طرف سے بہت سی سہولتوں کے مزے سب لیتے ہیں۔ پاکستان کے شہریوں کئی ایک ایسی سہولتیں بھی حاصل ہیں جو سویڈن جیسی فلاحی مملکت کے شہریوں کو بھی حاصل نہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ پاکستان میں عوام کو مفت علاج معالجہ کی سہولتیں جن میں ڈاکٹر کے پاس تقریبا مفت معائنہ، ایمرجنسی میں مفت اور فوری طبی امداد، آوٹ ڈور مریضوں کو مفت ادویات، ہیلتھ کارڈ سے غریبوں کو سات لاکھ روپے تک مفت ادویات، سپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس براہ راست رسائی،  دانتوں کا مفت علاج، کالج اور یونیورسٹیوں میں انتہائی کم فیس پر تعلیم اور ہاسٹلوں کی صورت میں رہائش کا بہترین نظام جو یورپ میں بھی نہیں ، جانوروں کا مفت علاج اور ادویات، پورے ملک میں تقریباً مفت کار پارکنگ، زرعی شعبہ کے لئے مفت مشاورتی اور امدادی سلسلہ اور بہت سے دیگر امور شامل ہیں۔ پاکستانی عوام کو اس ملک کی قدر کرنی چاہیے اوراس کی تعمیر وترقی میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ 

دل چیر کر رکھ دیا 

دل چیر کر رکھ دیا 

29 days ago.

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطہ تو کچھ عرصہ سے تھا لیکن ان سے شرف ملاقات اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں ہوا۔ دنیاانہیں ایک عظیم ایٹمی سائنسدان کی حیثیت سے جانتی ہے اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اس کادفاع ناقابل تسخیربنانے کا کارنامہ سرانجام دینے پر قوم انہیں محسن پاکستان کے لقب سے یادکرتی ہے لیکن میرا ان سے تعلق اہل قلم ہونے کی وجہ سے ہے جو ناصر ناکا گاوا کے توسط سے قائم ہوا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت اچھے ادیب، کالم نگار، شاعر اور ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ ان کا ہفتہ وار کالم اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے جس کا قارئین کو انتظار رہتا ہے۔زبان و بیاں، علمی و تحقیقی اندازاور قرآنی فکر ان کی تحریر وں کی اہم خوبیاں ہیں۔اپنے انہی کالموں میں انہوں نے نیشنل بک فائونڈیشن اسلام آباد سے میری شائع ہونے والی کتابوں  سبق آموز کہانیاں اور  سبق آموز کہانیاں2 پر سیر حاصل تبصرے شامل کئے جس کی بدولت دونوں کتابوں کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا، جس پر ان کا بہت ممنون ہوں۔ اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ ان سے ملنے جب اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو حفاظتی عملہ نے خوب جانچ پڑتال کرنے کے بعد اندر جانے کی اجازت دی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت پر تپاک انداز میں ملے۔ ایک طویل عرصہ سے ان سے ملنے کی خواہش تھی جو اب پوری ہورہی تھی۔ ان کی جتنی بڑی شخصیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر وہ بااخلاق ، مہمان نواز اور اعلیٰ خوبیوں کے حامل انسان ہیں۔ان کی اہلیہ نے بھی ہمیں اپنے گھرخوش آمدید کہا۔ ہماری گفتگو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی لیکن وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے سویڈن کے دورہ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتا یا کہ جب وہ 1964ء میں ہالینڈ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو مطالعاتی دورہ پر سویڈن گئے تھے ۔ اس دورہ میں  وہ سٹاک ہوم میں کارولنس کا انسٹیٹیوٹ اور ہسپتال، رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اپسالا یونیوسٹی، لنشاپنگ یونیوسٹی کے علاوہ چند اور شہروں میں بھی گئے تھے۔ سویڈن کے دورہ کو  وہ آج بھی خوشگوار یادوں میں شمارکرتے ہیں۔   

سفر حرمین کے تاثرات (حصہ دوم )

سفر حرمین کے تاثرات (حصہ دوم )

a month ago.

مکہ مکرمہ میں دنیا بھر سے اہل اسلام آتے ہیں جبکہ پاکستانی زائرین کی بہت بڑی تعداد ہمیں نظر آئی۔اردو یہاں کی ایک بڑی زبان ہے۔ حرم شریف میں سائن بورڈ اور ہدایات عربی ،انگریزی اور اردو میں لکھی گئی ہیں۔ سعودی سیکورٹی والے بھی اردو زبان کے کئی جملے بولتے سنائی دیتے ہیں ۔ بیت اللہ میں ہروقت انسانوں کا ہجوم اپنے رب کو پکار رہا ہوتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینے کی ہرکسی کو خواہش ہوتی ہے۔ ہماری بھی کوشش تھی کہ ہم بھی یہ سعادت حاصل کریں ۔ ابھی ہم آگے بڑھنے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ کسی خاتون کی چیخیں سنائی دیں اور پھر کسی نے اس خاتون کو ہجوم سے نکالا ۔ معلوم ہوا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی کوشش میں تھیں کہ بہت زیادہ رش کی وجہ سے وہ اس مشکل کا شکار ہوئیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے ارادہ ترک کیا اور ہاتھوں کا اشارہ کرکے ہی اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگ حجر اسود تک پہنچنے کے لئے بہت دھکم پیل کرتے جو بالکل مناسب نہیں او ر کچھ تو وہاں تصاویر بنوانے کے لئے ہر حربہ اختیار کرتے ہیں۔ ایک اوربالکل نامناسب رویہ بیت اللہ کے طواف کے دوران اپنے سمارٹ فون سے لائیو ویڈیو بنانا ہے۔ زیادہ تر برصغیر سے تعلق رکھنے والے اس کے شوقین نظر آئے۔ان کے ایسا کرنے سے نہ صرف طواف کرنے والے دوسرے زائرین متاثر ہوتے ہیں بلکہ اس سے خود ان کی عبادت کا اخلاص بھی متاثر ہوتا ہے ۔ اس حوالے سے حرم شریف میں سعودی انتظامیہ سے بات کی تو انہوں نے نہ صرف ہمارے ساتھ اتفاق کیا بلکہ اسے ریا کاری سے بھی تعبیر کیا اور اس بارے میں توجہ مبذول کرانے پر شکریہ ادا کیا۔ مکہ مکرمہ میں نئی تعمیرات جاری ہیں اور حرم شریف اردگر کی بلند و بالا عمارتوں میں گھرا ہوا ہے۔حرم شریف کے اطراف میں ہوٹل کئی منزلہ ہیں جہاں لوگ قیام پذید ہوتے ہیں جبکہ ہم لوگ اس قدر عقیدت رکھتے ہیں کہ ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی تقدس کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے پاوں کا رخ بھی کعبہ کی طرف نہیں کرتے۔لوگوں کی نگاہوں کا مرکز مکہ ٹاور کی آسمان کو چھوتی ہوئی عمارت بن رہی ہے البتہ مدینہ منورہ میں یہ صورت حال نہیں ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جہاں مذہبی اور تاریخی مقامات ہوتے ہیں ان کے قریب بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے پر پابندی ہے تاکہ متعلقہ مقام کی اہمیت کم نہ ہو۔  

سفر حرمین کے تاثرات

سفر حرمین کے تاثرات

a month ago.

سعودی عرب کی موجودہ حکومت کی جانب سے بہت سی نئی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اور ان میںایک اہم اورمفید تبدیلی پچاس کے قریب ممالک کے شہریوں کو عمرہ کے لئے آن لائن ویزہ کی سہولت دینا ہے۔ اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ پاکستان جانے سے قبل عمرہ کی ادائیگی کے لئے تیاری کررہے تھے کہ یہ اچھی خبر ملی۔ عمرہ ویزہ کے لئے انٹرنیٹ سے فارم بھیجا ہی تھا کہ صرف پانچ منٹ میںویزہ ملنے کی اطلاع ای میل میں آگئی۔ ویزہ کے لئے کسی قسم کی ویکسین یا دیگر شرائط نہیں اور مزے کی بات یہ کہ ایک سال کے لئے ملٹی پل ویزہ ہے ، ایک سال میںجب جی چاہے جائیں۔ عمرہ کے ویزہ کے لئے پہلے نظام میں ایجنٹ کو ڈھائی سو یورو کے قریب فیس دینا پڑتی تھی لیکن اب فیس بھی نصف ہے۔ ویزہ ملتے ہی اپنی تیاریوں کو مکمل کیا اور آخر دہ دن بھی آگیا جس کے لئے دن گنتے تھے ۔ سٹاک ہوم ائیر پورٹ پر پہنچے اور سامان چیک کیا تو علم ہوا کہ اپنا اور بیٹے کا احرام تو دوسری گاڑی پر ہی رہ گیا ہے جو ہمیں ائیرپورٹ چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی۔ اب بہت پریشانی ہوئی کہ کیا کریں، سٹاک ہوم ائیرپورٹ پر تو احرام ملنا ممکن نہیں تھا اور احرام کے بغیر عمرہ ادا نہیں ہوسکتا۔ جہاز کے روانہ ہونے میں کچھ وقت تھا اس لئے برخوردار منیب نے اپنے دوست سلمان جن کی گاڑی میں ہمارے احرام رہ گئے تھے رابطہ کیا۔سلمان نے بتایا کہ وہ تو واپس سٹاک ہوم شہر پہنچ چکے ہیں ۔ انہیں کہا کہ جلد از جلد ائیرپورٹ واپس پہنچ کر احرام ہمارے حوالے کردیں۔ خوش قسمتی سے ٹریفک کا زیادہ رش نہیں تھا اور جہاز کی روانگی سے قبل ہمیں احرام مل گئے تو اطمینان ہوا۔ سٹاک ہوم سے سعودی عرب کے لئے کوئی بھی براہ راست پرواز نہیں اس لئے سویڈن والوں کو جدہ جانے سے قبل کسی اور ائیرپورٹ پر جہاز تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے براستہ لندن جانے کا پروگرام بنایا ۔ ہتھرو ائیرپورٹ پہنچ کر جلدی سے احرام باندھا اور جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔ لندن سے کافی لوگ احرام باندھے جہاز میں سوار تھے اور خدا کے گھر میں حاضر ہونے کے لئے بے قرار تھے۔ 

کشمیر پالیسی بھی تبدیل کریں

کشمیر پالیسی بھی تبدیل کریں

5 months ago.

عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لے کر برسر اقتدار آئی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں لائی جائیں۔ کشمیر پر بھی حکمت علمی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں تمام تر بھارتی ظلم و ستم اور طویل کرفیو کے باوجود عالمی رائے کی جانب سے کوئی قابل ذکر رد عمل نہیں آیا۔ اب ضرورت ہے کہ ہمارے پالیسی ساز سر جوڑ کر بیٹھیں اور موجودہ کشمیر پالیسی کا جائیزہ لیں ۔ جب تک اپنی خامیوں اور غلطیوں کا اعتراف نہ کیا جائے، کامیابی کی طرف سفر ممکن نہیں، اس لئے حکومتی اداروں کو ان وجوہات کو تلاش کرنا ہوگا جن کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا۔ خود احتسابی کا عمل روز اول سے شروع ہونا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہپیے کہ ہم نے کشمیر حاصل کرنے کے کون کون سے مواقع ضائع کئے اور کون سے تضادات کشمیر پالیسی کا حصہ ہیں تاکہ مستقبل میں وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔   

کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

5 months ago.

بھارتی ظلم اور جبر خصوصاً مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تنسیخ کے بعد ریاست کے بڑے حصہ میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟ بھارتی اقدامات کے بارے کیوں دنیا میں خاموشی ہے اور کسی ملک نے کشمیریوں کے حق میں کیوں آواز بلند نہیں کی؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور اس صورت حال کا حل کیا ہونا چاہیے۔یہ درست ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور دوسرے ممالک کے اس سے تجارتی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں اپنی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ بھارت کی جانب مقبوضہ جموں کشمیر کے اس آئین میں موجود دفعہ 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد بہت کچھ کہا اورلکھا گیا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو شدید عدم تحفظ کا احساس ہورہا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک نے یہ کام جبر اور کرفیو کی فضا میں کیا اور یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد اسمبلی سے بھی یہ قرار داد منظور نہیں کروائی۔ غیر آئینی و جمہوری اور ظلم و جبر کے اس قدم کی خود بھارتی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کیااور لوک سبھا کے 72 اراکین نے ا س کی مخالفت میں ووٹ دیا۔   

نوجوانوں کے لئے پیغام عمل

نوجوانوں کے لئے پیغام عمل

6 months ago.

انیسویں صدی  میں سویڈن بہت غریب اور پسماندہ ملک تھا۔چھوٹے چھوٹے گھر، بے روزگاری، بہت کم زرعی پیداوار، شدید سردی اور توانائی کے محدود ذرائع نے سویڈش باشندوں کی زندگی بہت مشکل بنا رکھی تھی۔ غربت اور افلاس کے مارے ہوئے بہت سے سویڈش بہتر مستقبل کی خاطر ترک وطن کرکے امریکہ میں جابسے اور سویڈن کے شہروں کے نام پر وہاں بستیاں قائم کیں۔ سویڈن میں اس دور میں بادشاہت نے عوام کو اپنے پنجے میں جکڑ رکھا تھا اور اس گرفت کو مضبوط بنانے میں اسے مذہبی پیشوائیت کا مکمل تعاون حاصل تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامناتھا جیسا کہ آج کل پاکستان میں ہے۔ وہ دور سویڈن میں ابتلاء کا دور تھا  جسے سویڈش اب بھی نہیں بھولے۔ اسی دور میں 9 مئی1845  ء کو ایک بچہ سویڈن کے خوبصورت علاقہ دالارنا میں پیدا ہوا جس کا نام گستاف دی لاوال رکھا گیا۔ اس کے والدین عسکری پس منظر رکھتے تھے اور فرانس سے سویڈن منتقل ہوئے تھے۔ اس نوجوان نے اسٹاک ہوم کے رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کے ٹی ایچ) سے 1866 ء میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1872 ء  میں اپسالا یونیورسٹی سے کیمیا کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس نے انجینئر کی حیثیت سے مختلف اداروں میں کام کیا لیکن وہ مطمئن نہ تھا۔ اس نے اپنی دنیا آپ بنانے اور دنیا میں اپنا نام کمانے کا تہیہ کیا اور ملازمت چھوڑدی۔ اس کے قریبی لوگوں نے اسے ملازمت جاری رکھنا کا مشورہ دیا لیکن وہ کچھ ہی سوچتا تھا۔  

بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کیوں؟

بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کیوں؟

7 months ago.

یہ جملہ بارہا دہرایا جاتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں لیکن کیا کسی کو اس مستقبل کی فکر بھی ہے؟ دنیا کی تمام اقوام اپنے بچوں اور نوجوانوں کے تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دیتی ہیں ۔ ادب تخلیق کرنے والے بچوں کے لئے لکھتے ہیں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھرپور سرپرستی اور معاونت کرتے ہیں۔ سویڈن میں بچوں کی ادیب آسترید لینڈ گرین کے نام پربچوں کے لئے ہسپتال قائم ہے جو یورپ میں بچوں کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ ان کے نام پر ہرسال عالمی ادبی انعام دیا جاتا ہے اور بیس کرونا کے نوٹ پر ان کی تصویر سویڈش قوم کا بچوں کی اس ادیب کے لئے خراج عقیدت ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔اردو کا ایک دور تھا جب بڑے ادیب اور شعرا  ء بچوں کے لئے لکھا کرتے تھے۔ علامہ اقبال، مولانا الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی اور صوفی تبسم نے بچوں کے لئے لافانی ادب تخلیق کیا۔ ادب اطفال میں نصر ملک، رضا علی عابدی،  اشتیاق احمد، ابن صفی، حکیم سعید، مسعود برکاتی، امجد حسین حافظ کرناٹکی قابل ذکر ہیں لیکن اب بچوں کے لئے اردو میں بہت کم لکھ جارہا ہے۔ لاتعداد ٹی وی چینل موجود ہیں لیکن ان میں بچوں کے لئے پروگرام بالکل شامل نہیں۔ قوم کے مستقبل سے اس لاپرواہی کا کسی کو احساس تک نہیں۔ بچوں اور نوجوان نسل کے لئے لکھا نہیں جائے تو ان سے کیا توقعات کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ بہت سے بچوں کے رسالے ماضی کا قصہ بن گئے ہیں اور جو ہیں بھی وہ بہت مشکل سے اپنی اشاعت جاری رکھی ہوئے ہیں۔   

جمہور کے ابلیس

جمہور کے ابلیس

8 months ago.

ابلیسی سیاست کے علمبردار لیڈر اور ان کے عوام جہنم میں ایک دوسرے کو الزام دیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے اس حال کو پہنچے ہیں۔ اس بحث و مباحثہ کی  قرآن حکیم نے جس انداز سے منظر کشی  کی ہے،  وہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہماری ہی بات ہورہی ہو۔ بالکل،  یہ ہماری ہی بات ہے کیونکہ  قرآن حکیم  کی سورۃ الانبیاء کی دسویں آیت میں واضح کردیا ہے کہ اس کتاب عظیم میں تمہارا ہی ذکر ہے لیکن ہم ہیں کہ یہ سوچتے ہی نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں نہیں یہ اقوام گذشتہ کے بارے میں کہا گیا ہے اور کچھ لوگ جو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں ان کی ذہنیت کوسورۃ النحل کی آیت چوبیس میں بیان کیا ہے اور کہا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تووہ کہتے ہیں کہ یہ اگلی قوموں کے من گھڑت واقعات ہیں۔ ان کے خیال میں یہ محض قصے کہانیاں ہیں ، ان میں اور کیا رکھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو وحی الٰہی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں اور پھر مہلت کا وقت گذر جاتا ہے جسے سورۃ الانبیاء  کے ابتدا ء  میں یوں بیان کیا ہے کہ لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں بے پرواہی سے سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہاں اور آخرت دونوں میں خسارے کا ہے۔ایسی ذہنیت اور طرز عمل اختیار کرنے والوں کے بارے میں سورۃ لقمان کی آیت سات میں کہا کہ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے‘‘  

جشن نزول قرآن

جشن نزول قرآن

8 months ago.

تصور کریں کہ آپ کسی سنسان علاقہ میں اندھیری  رات میں محو سفرہوں اور آپ کو درست راستے کا بھی علم نہیں اور سڑک پر راہنمائی کے لئے سائن بورڈ بھی نہ ہوں تو ایسے میں آپ کی کی حالت کیا ہوگی۔ کچھ ایسا معاملہ ہمارے ساتھ ایک مرتبہ پیش آیا جب ہم ناروے کے شمال میں سفر کررہے تھے۔ ہم اپنے ہوٹل پہنچنے کے لئے جس راستہ سے گزر رہے تھے وہاں آبادی بہت ہی کم تھی اور ہوٹل کسی پہاڑی پر واقع تھا۔ رات بہت اندھیری تھی اور اس پر مزید یہ کہ جس سڑک سے سفر کر رہے تھے وہ زیر تعمیر تھی۔ اس پر نہ ہی کوئی روشنی کا انتظام اور نہ ہی کوئی رہنمائی کے نشانات تھے۔ گاڑی بہت ہی کم رفتار سے چلائی جاسکتی تھی۔ اہلیہ بہت ہمت کرکے گاڑی چلا رہی تھیں اور میں ساتھ بیٹھا اپنے آپ کوس رہا تھا کہ اس ہوٹل کا انتخاب کیوں کیا اور پھر سر شام کیوں نہ یہاں پہنچے۔ کہیں کوئی روشنی دیکھائی نہیں دے رہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ ہم بلندی کی طرف سفر کرہے ہیں۔اجنبی علاقہ میںہم دونوں گاڑی میں متفکر بیٹھے تھے اور بہت سست روی سے سفر کٹ رہا تھاوقت گزرتا جا رہا تھا لیکن منزل کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس پریشان کن ماحول میں ہوٹل کے استقبالیہ کو فون کیا اوراپنی پریشان کیفیت سے آگاہ کرتے ہوئے رہنمائی چاہی۔ استقبالیہ پر موجود خاتون نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس نیوی گیٹر ہے ۔کیاوہ منزل کی نشاندہی کررہا ہے اور کیا آپ کا فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ انہیں بتایا کہ تینوں باتیں درست ہیں، نیوی گیٹر منزل کی نشادہی کررہا ہے اور ہوٹل کی جانب فاصلہ بھی بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔  اس پر ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود خاتون نے کہا کہ پھر فکر کی کوئی بات نہیں، آپ ہوٹل پر پہنچ جائیں گے۔ یہ سن کر قدرے اطمینان ہوا اور واقعی کچھ دیر بعد ہماری گاڑی ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی۔

ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات بھی پڑھائیں

ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات بھی پڑھائیں

8 months ago.

ہم زندگی دے سکتے ہیں تو زندگی چھین بھی سکتے ہیں  ینگ ڈاکٹروں کے نمائندہ نے جب ہڑتالی کیمپ میں میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایسے کفریہ اور شرکیہ الفاظ کہے تو میں لرز گیا۔ یااللہ ایک مسیحا کی زبان سے یہ کیا سن رہے ہیں۔ پاکستان میں چند سالوں سے ینگ ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے حقوق کے لئے ہڑتالوں کا نہ صرف سلسلہ جاری ہے بلکہ ایسے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ الاحفیظ و الامان۔ دنیا میں کہیں بھی شعبہ صحت اور لازمی سروس کے ملازمین ہڑتال پر نہیں جاتے۔ ینگ ڈاکٹر پہلے حصول ملازمت کے لئے تگ و دو کرتے ہیں لیکن جب ملازمت مل جاتی یے تو پھر ہڑتالی کلچر اپنا لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ینگ ڈاکٹروں کو شرائط ملازمت منظور نہیں تو انہوں نے یہ ملازمت کیوں اختیار کی تھی؟ اور اگر کوئی  تنخواہ، مراعات اور سہولتوں سے مطمئن نہیں تو پھر ملازمت سے مستعفی ہوجائے ۔ پاکستان میں ینگ ڈاکٹروں کو دیگر ملازمتوں کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ مراعات حاصل ہیں۔ ڈاکٹر بننے کے لئے ایف ایس سی کے بعد پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بہت سے دیگر شعبوں میں بھی ایف ایس سی کے بعد کم بیش اتنا ہی وقت صرف ہوتا ہے جن میں انجینئرنگ، زراعت، فارمیسی، ویٹرینری اور بنیادی سائنس کے شعبے شامل ہیں۔ 

ثقافتی سفیر

ثقافتی سفیر

9 months ago.

کسی بھی زبان اور ثقافت کے فروغ اور ترویج میں ذرائع ابلاغ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ دور جدید میں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہوگئی ہے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں میڈیا کے گہرے اثرات ہیں۔ ٹیلی وڑن، فلم، انٹرنیٹ اور میڈیا ،لوگوں کی زندگی کا رخ متعین کررہے ہیں اور انہی سے وابستہ شخصیات لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ سائنس دان، مفکر ، ادیب اور علم و ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات اس دور میں سیلبرٹی کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ شو بزنس سے تعلق والے ہی شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہیں۔ لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے، ان کے ساتھ ملنے اور تصاویر بنوانے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے سیاسی، مذہبی، سماجی، ثقافتی اور دیگر تقریبات کی کامیابی کے لئے شو بزنس کے ستاروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کے شو بزنس سے تعلق رکھنے والے اکثر ستارے انسانی خدمت اور تعمیر وطن کا جذبہ رکھتے ہیں اور وہ ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو بلا معاوضہ کار خیر میں حصہ لیتے ہیں، جو قابل تحسین رویہ ہے۔وہ اخوت فائونڈیشن، شوکت خانم، ایدھی اور دوسرے سماجی بہبود کے اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں اور مسلسل ان کے لئے رضاکارانہ طور پر پر خلوص خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصہ میں پاکستان کے صف اول کے ستاروں میں سے ریما خان، حمزہ علی عباسی، شازیہ منظور، مایہ علی اور شہریار منور کی سویڈن میں میزبانی کا موقع ملا جو مختلف مواقع پر فلاحی کاموںکیلئے امدادی رقوم جمع کرنے کے لیے اسکینڈے نیویا کے دورہ پر آئے تھے۔ ان سب کا جذبہ، دکھی انسانیت کے لئے درد دل اور لگن دیکھ کر مسرت ہوئی کہ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے جس کے شو بزنس سے تعلق رکھنے والے یہ کردار ادا کررہے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کے سیلبرٹی شائد اس تعداد میں اس طرح سے سماجی بہبود اور انسانی خدمت کے لئے سرگرم نہ ہوں۔ خدا یہ جذبے سلامت رکھے اورانہیں استقامت عطا فرمائے کہ وہ اس کار خیر میں حصہ لیتے رہیں۔