کشمیر پالیسی بھی تبدیل کریں

کشمیر پالیسی بھی تبدیل کریں

a month ago.

عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لے کر برسر اقتدار آئی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں لائی جائیں۔ کشمیر پر بھی حکمت علمی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی اس لئے بھی ناگزیر ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں تمام تر بھارتی ظلم و ستم اور طویل کرفیو کے باوجود عالمی رائے کی جانب سے کوئی قابل ذکر رد عمل نہیں آیا۔ اب ضرورت ہے کہ ہمارے پالیسی ساز سر جوڑ کر بیٹھیں اور موجودہ کشمیر پالیسی کا جائیزہ لیں ۔ جب تک اپنی خامیوں اور غلطیوں کا اعتراف نہ کیا جائے، کامیابی کی طرف سفر ممکن نہیں، اس لئے حکومتی اداروں کو ان وجوہات کو تلاش کرنا ہوگا جن کی وجہ سے مسئلہ کشمیر عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا۔ خود احتسابی کا عمل روز اول سے شروع ہونا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہپیے کہ ہم نے کشمیر حاصل کرنے کے کون کون سے مواقع ضائع کئے اور کون سے تضادات کشمیر پالیسی کا حصہ ہیں تاکہ مستقبل میں وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔   

کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟

2 months ago.

بھارتی ظلم اور جبر خصوصاً مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تنسیخ کے بعد ریاست کے بڑے حصہ میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر کیوں عالمی توجہ حاصل نہیں کرسکا؟ بھارتی اقدامات کے بارے کیوں دنیا میں خاموشی ہے اور کسی ملک نے کشمیریوں کے حق میں کیوں آواز بلند نہیں کی؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور اس صورت حال کا حل کیا ہونا چاہیے۔یہ درست ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور دوسرے ممالک کے اس سے تجارتی اور معاشی مفادات وابستہ ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمیں اپنی حکمت عملی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔ بھارت کی جانب مقبوضہ جموں کشمیر کے اس آئین میں موجود دفعہ 370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد بہت کچھ کہا اورلکھا گیا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کو شدید عدم تحفظ کا احساس ہورہا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک نے یہ کام جبر اور کرفیو کی فضا میں کیا اور یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد اسمبلی سے بھی یہ قرار داد منظور نہیں کروائی۔ غیر آئینی و جمہوری اور ظلم و جبر کے اس قدم کی خود بھارتی سیاسی جماعتوں نے مخالفت کیااور لوک سبھا کے 72 اراکین نے ا س کی مخالفت میں ووٹ دیا۔   

نوجوانوں کے لئے پیغام عمل

نوجوانوں کے لئے پیغام عمل

3 months ago.

انیسویں صدی  میں سویڈن بہت غریب اور پسماندہ ملک تھا۔چھوٹے چھوٹے گھر، بے روزگاری، بہت کم زرعی پیداوار، شدید سردی اور توانائی کے محدود ذرائع نے سویڈش باشندوں کی زندگی بہت مشکل بنا رکھی تھی۔ غربت اور افلاس کے مارے ہوئے بہت سے سویڈش بہتر مستقبل کی خاطر ترک وطن کرکے امریکہ میں جابسے اور سویڈن کے شہروں کے نام پر وہاں بستیاں قائم کیں۔ سویڈن میں اس دور میں بادشاہت نے عوام کو اپنے پنجے میں جکڑ رکھا تھا اور اس گرفت کو مضبوط بنانے میں اسے مذہبی پیشوائیت کا مکمل تعاون حاصل تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامناتھا جیسا کہ آج کل پاکستان میں ہے۔ وہ دور سویڈن میں ابتلاء کا دور تھا  جسے سویڈش اب بھی نہیں بھولے۔ اسی دور میں 9 مئی1845  ء کو ایک بچہ سویڈن کے خوبصورت علاقہ دالارنا میں پیدا ہوا جس کا نام گستاف دی لاوال رکھا گیا۔ اس کے والدین عسکری پس منظر رکھتے تھے اور فرانس سے سویڈن منتقل ہوئے تھے۔ اس نوجوان نے اسٹاک ہوم کے رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کے ٹی ایچ) سے 1866 ء میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1872 ء  میں اپسالا یونیورسٹی سے کیمیا کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس نے انجینئر کی حیثیت سے مختلف اداروں میں کام کیا لیکن وہ مطمئن نہ تھا۔ اس نے اپنی دنیا آپ بنانے اور دنیا میں اپنا نام کمانے کا تہیہ کیا اور ملازمت چھوڑدی۔ اس کے قریبی لوگوں نے اسے ملازمت جاری رکھنا کا مشورہ دیا لیکن وہ کچھ ہی سوچتا تھا۔  

بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کیوں؟

بچوں کے ادب سے بے اعتنائی کیوں؟

4 months ago.

یہ جملہ بارہا دہرایا جاتا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں لیکن کیا کسی کو اس مستقبل کی فکر بھی ہے؟ دنیا کی تمام اقوام اپنے بچوں اور نوجوانوں کے تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دیتی ہیں ۔ ادب تخلیق کرنے والے بچوں کے لئے لکھتے ہیں جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بھرپور سرپرستی اور معاونت کرتے ہیں۔ سویڈن میں بچوں کی ادیب آسترید لینڈ گرین کے نام پربچوں کے لئے ہسپتال قائم ہے جو یورپ میں بچوں کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ ان کے نام پر ہرسال عالمی ادبی انعام دیا جاتا ہے اور بیس کرونا کے نوٹ پر ان کی تصویر سویڈش قوم کا بچوں کی اس ادیب کے لئے خراج عقیدت ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔اردو کا ایک دور تھا جب بڑے ادیب اور شعرا  ء بچوں کے لئے لکھا کرتے تھے۔ علامہ اقبال، مولانا الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی اور صوفی تبسم نے بچوں کے لئے لافانی ادب تخلیق کیا۔ ادب اطفال میں نصر ملک، رضا علی عابدی،  اشتیاق احمد، ابن صفی، حکیم سعید، مسعود برکاتی، امجد حسین حافظ کرناٹکی قابل ذکر ہیں لیکن اب بچوں کے لئے اردو میں بہت کم لکھ جارہا ہے۔ لاتعداد ٹی وی چینل موجود ہیں لیکن ان میں بچوں کے لئے پروگرام بالکل شامل نہیں۔ قوم کے مستقبل سے اس لاپرواہی کا کسی کو احساس تک نہیں۔ بچوں اور نوجوان نسل کے لئے لکھا نہیں جائے تو ان سے کیا توقعات کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ بہت سے بچوں کے رسالے ماضی کا قصہ بن گئے ہیں اور جو ہیں بھی وہ بہت مشکل سے اپنی اشاعت جاری رکھی ہوئے ہیں۔   

جمہور کے ابلیس

جمہور کے ابلیس

4 months ago.

ابلیسی سیاست کے علمبردار لیڈر اور ان کے عوام جہنم میں ایک دوسرے کو الزام دیں گے کہ ہم تمہاری وجہ سے اس حال کو پہنچے ہیں۔ اس بحث و مباحثہ کی  قرآن حکیم نے جس انداز سے منظر کشی  کی ہے،  وہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہماری ہی بات ہورہی ہو۔ بالکل،  یہ ہماری ہی بات ہے کیونکہ  قرآن حکیم  کی سورۃ الانبیاء کی دسویں آیت میں واضح کردیا ہے کہ اس کتاب عظیم میں تمہارا ہی ذکر ہے لیکن ہم ہیں کہ یہ سوچتے ہی نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں نہیں یہ اقوام گذشتہ کے بارے میں کہا گیا ہے اور کچھ لوگ جو اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں ان کی ذہنیت کوسورۃ النحل کی آیت چوبیس میں بیان کیا ہے اور کہا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تووہ کہتے ہیں کہ یہ اگلی قوموں کے من گھڑت واقعات ہیں۔ ان کے خیال میں یہ محض قصے کہانیاں ہیں ، ان میں اور کیا رکھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو وحی الٰہی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں اور پھر مہلت کا وقت گذر جاتا ہے جسے سورۃ الانبیاء  کے ابتدا ء  میں یوں بیان کیا ہے کہ لوگوں کے لئے ان کے حساب کا وقت قریب آپہنچا مگر وہ غفلت میں پڑے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اسے یوں بے پرواہی سے سنتے ہیں گویا وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہاں اور آخرت دونوں میں خسارے کا ہے۔ایسی ذہنیت اور طرز عمل اختیار کرنے والوں کے بارے میں سورۃ لقمان کی آیت سات میں کہا کہ ’’جب اس کے سامنے ہماری آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا اس طرح منھ پھیر لیتا ہے گویا اس نے سنا ہی نہیں گویا کہ اس کے دونوں کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں، آپ اسے درد ناک عذاب کی خبر سنا دیجئے‘‘  

جشن نزول قرآن

جشن نزول قرآن

5 months ago.

تصور کریں کہ آپ کسی سنسان علاقہ میں اندھیری  رات میں محو سفرہوں اور آپ کو درست راستے کا بھی علم نہیں اور سڑک پر راہنمائی کے لئے سائن بورڈ بھی نہ ہوں تو ایسے میں آپ کی کی حالت کیا ہوگی۔ کچھ ایسا معاملہ ہمارے ساتھ ایک مرتبہ پیش آیا جب ہم ناروے کے شمال میں سفر کررہے تھے۔ ہم اپنے ہوٹل پہنچنے کے لئے جس راستہ سے گزر رہے تھے وہاں آبادی بہت ہی کم تھی اور ہوٹل کسی پہاڑی پر واقع تھا۔ رات بہت اندھیری تھی اور اس پر مزید یہ کہ جس سڑک سے سفر کر رہے تھے وہ زیر تعمیر تھی۔ اس پر نہ ہی کوئی روشنی کا انتظام اور نہ ہی کوئی رہنمائی کے نشانات تھے۔ گاڑی بہت ہی کم رفتار سے چلائی جاسکتی تھی۔ اہلیہ بہت ہمت کرکے گاڑی چلا رہی تھیں اور میں ساتھ بیٹھا اپنے آپ کوس رہا تھا کہ اس ہوٹل کا انتخاب کیوں کیا اور پھر سر شام کیوں نہ یہاں پہنچے۔ کہیں کوئی روشنی دیکھائی نہیں دے رہی تھی اور محسوس ہورہا تھا کہ ہم بلندی کی طرف سفر کرہے ہیں۔اجنبی علاقہ میںہم دونوں گاڑی میں متفکر بیٹھے تھے اور بہت سست روی سے سفر کٹ رہا تھاوقت گزرتا جا رہا تھا لیکن منزل کے کوئی آثار دیکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس پریشان کن ماحول میں ہوٹل کے استقبالیہ کو فون کیا اوراپنی پریشان کیفیت سے آگاہ کرتے ہوئے رہنمائی چاہی۔ استقبالیہ پر موجود خاتون نے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس نیوی گیٹر ہے ۔کیاوہ منزل کی نشاندہی کررہا ہے اور کیا آپ کا فاصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ انہیں بتایا کہ تینوں باتیں درست ہیں، نیوی گیٹر منزل کی نشادہی کررہا ہے اور ہوٹل کی جانب فاصلہ بھی بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔  اس پر ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود خاتون نے کہا کہ پھر فکر کی کوئی بات نہیں، آپ ہوٹل پر پہنچ جائیں گے۔ یہ سن کر قدرے اطمینان ہوا اور واقعی کچھ دیر بعد ہماری گاڑی ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی۔

ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات بھی پڑھائیں

ڈاکٹروں کو طبی اخلاقیات بھی پڑھائیں

5 months ago.

ہم زندگی دے سکتے ہیں تو زندگی چھین بھی سکتے ہیں  ینگ ڈاکٹروں کے نمائندہ نے جب ہڑتالی کیمپ میں میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایسے کفریہ اور شرکیہ الفاظ کہے تو میں لرز گیا۔ یااللہ ایک مسیحا کی زبان سے یہ کیا سن رہے ہیں۔ پاکستان میں چند سالوں سے ینگ ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے حقوق کے لئے ہڑتالوں کا نہ صرف سلسلہ جاری ہے بلکہ ایسے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ الاحفیظ و الامان۔ دنیا میں کہیں بھی شعبہ صحت اور لازمی سروس کے ملازمین ہڑتال پر نہیں جاتے۔ ینگ ڈاکٹر پہلے حصول ملازمت کے لئے تگ و دو کرتے ہیں لیکن جب ملازمت مل جاتی یے تو پھر ہڑتالی کلچر اپنا لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ینگ ڈاکٹروں کو شرائط ملازمت منظور نہیں تو انہوں نے یہ ملازمت کیوں اختیار کی تھی؟ اور اگر کوئی  تنخواہ، مراعات اور سہولتوں سے مطمئن نہیں تو پھر ملازمت سے مستعفی ہوجائے ۔ پاکستان میں ینگ ڈاکٹروں کو دیگر ملازمتوں کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ مراعات حاصل ہیں۔ ڈاکٹر بننے کے لئے ایف ایس سی کے بعد پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بہت سے دیگر شعبوں میں بھی ایف ایس سی کے بعد کم بیش اتنا ہی وقت صرف ہوتا ہے جن میں انجینئرنگ، زراعت، فارمیسی، ویٹرینری اور بنیادی سائنس کے شعبے شامل ہیں۔ 

ثقافتی سفیر

ثقافتی سفیر

6 months ago.

کسی بھی زبان اور ثقافت کے فروغ اور ترویج میں ذرائع ابلاغ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ دور جدید میں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہوگئی ہے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں میڈیا کے گہرے اثرات ہیں۔ ٹیلی وڑن، فلم، انٹرنیٹ اور میڈیا ،لوگوں کی زندگی کا رخ متعین کررہے ہیں اور انہی سے وابستہ شخصیات لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ سائنس دان، مفکر ، ادیب اور علم و ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات اس دور میں سیلبرٹی کی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ شو بزنس سے تعلق والے ہی شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہیں۔ لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے، ان کے ساتھ ملنے اور تصاویر بنوانے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے سیاسی، مذہبی، سماجی، ثقافتی اور دیگر تقریبات کی کامیابی کے لئے شو بزنس کے ستاروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کے شو بزنس سے تعلق رکھنے والے اکثر ستارے انسانی خدمت اور تعمیر وطن کا جذبہ رکھتے ہیں اور وہ ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو بلا معاوضہ کار خیر میں حصہ لیتے ہیں، جو قابل تحسین رویہ ہے۔وہ اخوت فائونڈیشن، شوکت خانم، ایدھی اور دوسرے سماجی بہبود کے اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں اور مسلسل ان کے لئے رضاکارانہ طور پر پر خلوص خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصہ میں پاکستان کے صف اول کے ستاروں میں سے ریما خان، حمزہ علی عباسی، شازیہ منظور، مایہ علی اور شہریار منور کی سویڈن میں میزبانی کا موقع ملا جو مختلف مواقع پر فلاحی کاموںکیلئے امدادی رقوم جمع کرنے کے لیے اسکینڈے نیویا کے دورہ پر آئے تھے۔ ان سب کا جذبہ، دکھی انسانیت کے لئے درد دل اور لگن دیکھ کر مسرت ہوئی کہ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے جس کے شو بزنس سے تعلق رکھنے والے یہ کردار ادا کررہے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کے سیلبرٹی شائد اس تعداد میں اس طرح سے سماجی بہبود اور انسانی خدمت کے لئے سرگرم نہ ہوں۔ خدا یہ جذبے سلامت رکھے اورانہیں استقامت عطا فرمائے کہ وہ اس کار خیر میں حصہ لیتے رہیں۔

اخوت کا بیاں ہو جا

اخوت کا بیاں ہو جا

8 months ago.

اپنا نام ہمیشہ زندہ رکھنے کی آرزو ہر انسان میں ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کے جتن کرتا ہے اور وہ بڑی بڑی یادگاریں بناتا ہے تاکہ رہتی دنیا تک اس کا نام رہے۔ ممکن ہے کچھ عرصہ تک ایسی نشانیاں قائم رہیں لیکن ان کا ہمیشہ کے لیے قائم رہنا ممکن نہیں ہوتا۔خالق کائنات نے انسانیت کے نام اپنی آخری کتاب میں واضح طور بتا دیا کہ بقا محض یادگاریں قائم کرنے سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ یہ انسانی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ملتی ہے۔ یہ بہت عظیم اور سنہرا اصول ہے اور جن لوگوں نے انسانیت کی خدمت کے لئے کام کئے ہیں ان کے نام آج بھی زندہ ہیں جبکہ بڑی بڑی یادگاریںزمانے کی دھول میں گم ہوجاتی ہیں یا پھر کھنڈروں کی صورت میں بے بسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ کتاب ہذا کے آغاز میں ہی اہل ایمان کی نشانی  بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خدا کے دئیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں۔ سورہ بقرہ میں فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اسی سورہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثال کو یوں سمجھایا کہ جو اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ایک دانہ اس سے سات بالیں اگیںاور ہر بال میں سو سو دانے ہوں بلکہ اللہ اس سے بھی زیادہ اجردے سکتا ہے ۔ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں ان  کے لئے اپنے رب کے یہاں بہت اجر ہے اور انہیںکوئی خوف اور ڈر نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔   

ایک عظیم مسیحا

ایک عظیم مسیحا

9 months ago.

معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اور دکھی دلوں کا مداوا بننے والی اس عظیم اور تاریخ ساز شخصیت سے ہماری نوجوان نسل شائد اس طرح سے شناسا نہیں جس قدر ان کی خدمات ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کے علاج، دیکھ بھال اور بحالی کی ایسی بنیاد رکھی کہ اب بھی ان کا قائم کردہ ادارہ ملک میں بے مثال خدمات سرانجام دے رہا ہے۔انہوں نے 1964 ء میں پاکستان میں فائونٹین ہائوس کے منصوبہ پر کام کا آغاز کیا جبکہ اس وقت ابھی یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی فائونٹین ہائوس موجود نہیں تھے۔سویڈن جیسے ترقی یافتہ، صحت اور سماجی بہبود کی بہترین سہولتوں کے حامل ملک میں بھی فائونٹین ہائوس 1970 ء کے بعد کہیں جا کر بننا شروع ہوئے۔ دکھی انسانیت کے لئے بے مثال خدمات سرانجام دینے والی یہ شخصیت ڈاکٹر رشید چوہدری کی ہے۔ وہ 2006 میں اس فانی دنیا سے رخصت توہوئے لیکن دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ مخلوق خدا سے محبت اور اس کی مشکلات کم کرنے اور کمزوروں کا سہارا بننے کا جو درس انہوں نے دیا ہے اسے ان کے بھانجوں ڈاکٹر افضل جاوید اور ڈاکٹر امجد ثاقب نہ صرف جاری رکھا ہے بلکہ اسے مزید آگے بڑھایا ہے ہے اور خدمت خلق کے لئے دن رات سرگرم عمل ہیں۔