بدترین دھوکہ بازی

 بدترین دھوکہ بازی

9 days ago.

 انسانیت دشمن بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم وجبر کا ایک نیا باب رقم کررہے ہیں۔ بھارت عالمی  برادری کو ہمیشہ دھوکہ دیتا آرہا ہے اور یہ عمل تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارتی حکومت اور کٹھ پتلی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں صورت حال پرامن اور معمول کے مطابق ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نےRSSکی حکومت کو سہولتیں فراہم کرتے ہوئے ایک عاجزانہ فیصلے میں  کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی حکومت اپنی ضروریات کے مطابق پروگرام بنا کر بتائیں کہ کرفیو کب ختم کرنے کا ارادہ ہے اور مواصلاتی پابندیا ں کب تک جاری رہیں گی ؟قابض حکومت کو اس سے زیادہ کیا سہولتیں چاہیں۔ BJPکے نمائندے بھارتی آئین کی خلاف ورزی اور آرٹیکل 370کے خاتمے کی وجہ کشمیر کی پسماندگی بتاکر جھوٹ بول رہے ہیں۔  BJPکا سیکرٹر ی جنرل رام دیو غلط بیانی کرتے ہوئے کہتاہے ۔’’اس آرٹیکل کو ختم کرنے کا مقصد جموں وکشمیر میں ترقی کا دور لانا ہے  زیادہ انویسٹمنٹ اور ترقی ہوگی  روزگار ملے گا بہتر سیاسی ماحول اور ریاستی باشندوں کو سیاسی حقوق ملیں گے،  ترقی کا اثر گلیوں تک جائے گا۔بھارتیوں کا یہ دعویٰ انتہائی کھوکھلا ہے  کہ یہ آرٹیکل کشمیر کی ترقی کیلئے ختم کیا گیا ہے۔ بھارتی دعوے کو رد کرتے ہوئے بھارت کے نامور ماہرمعاشیات جان دریز  مختلف حقائق بیان کررہے ہیں جو بھارتیوں کی دھوکہ بازی کو بے نقاب کررہے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں یہ گمراہ کن بات کی جاتی ہے کہ یہ ایک پسماندہ ریاست ہے  اور اس کی ترقی کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے  یہ بات غلط ہے  جموں وکشمیر ایک ترقی یافتہ ریاست ہے نہ صرف اقتصادی بلکہ سماجی ،سیاسی اور تعلیمی طور پر بھی ترقی یافتہ ہے۔  بھارت کو کشمیر سے جو چیز سیکھنی چاہئے  وہ اس کی ترقی کا عملی نمونہ ہے۔

 مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں جنوبی ایشیاء کا مستقبل پرامن نہیں

 مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں جنوبی ایشیاء کا مستقبل پرامن نہیں

6 months ago.

گزشتہ ایام میں لاہور میں پاک بھارت مذاکرات کی ایک بیٹھک ہوئی۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس کے لئے شاباشی کے مستحق ہیں ۔ کر تارپور پر ہوئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے مل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ طرفین میں اسی فی صد معاملات طے پا چکے ہیں جب کہ اسلام آبادکی طرف سے راہداری پر اسی فیصد کام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔کرتار پور راہداری پر مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا، جس میں بھارت کے آٹھ رکنی وفد نے شرکت کی جب کہ پاکستان کی جانب سے تیرہ رکنی وفدنے مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے اس تازہ دور میں سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن اور داخلے کے طریقہ کار،کسٹم اور امیگریشن،کرنسی کی نوعیت اور حد ، ٹرانسپورٹ  اور قیام کی مدت کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔ کرتارپور راہداری کے قیام کے لیے بھارتی سکھ رہنما اور عمران خان کے سابق کرکٹر دوست نجوت سنگھ سدھو بارش کا پہلا قطرہ بنے ۔  

کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

7 months ago.

 گزشتہ دن سپہ سالارِ پاک فوج نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’قومی معیشت‘‘ کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے سیمینار میں خاصی کھل کر بات چیت کی اور قوم کو جہاں یکجا رہنے کا پیغام دیا وہاں ایسی قوتوں کو بھی پیغام دیا جو کہ اس نازک ترین صورتحال کے دوران ملک میں جلسے جلوسوں اور احتجاجوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے پلید خواب دیکھ رہی ہیں۔  آرمی چیف نے کھلم کھلا کہا کہ ملک مشکل معاشی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ ماضی میں اہم مشکل فیصلے کرنے سے ہم کتراتے رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی  قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت کرنا اور نئے راستے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔  انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے سے ہی مختلف ممالک کامیابی سے معاشی بحرانوں سے نکلے ہیں اور ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔  مگر ایسی صورتحال میں محض اکیلا ایک آدمی کچھ نہیں کرسکتا بلکہ پوری قوم کو ایک ہونا ہو گا اور اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ پاک فوج نے بھی دفاعی بجٹ میں اس سال اضافہ نہ لے کر اپنا حصہ ڈال دیا ہے انہوں نے  مزید کہا کہ ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں اس لئے ہمیں علاقائی روابط اور تعاون پر زور دینا ہو گا۔