غدار کون

غدار کون

25 days ago.

میاں نوازشریف کاآخیر افواج پاکستان سے کیااختلاف ہے۔ میاں صاحب کے دوسرے دور اقتدار میں خودان کے متعین کردہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے کیوں اختلاف ہوا ، جنرل مشرف نے جب وزیراعظم کے علم اورحکم کے مطابق بھارت کی جنگی کارروائی کے جواب میں جب کارروائی کی اور کار گل پر قبضہ کر لیا تو جنرل پرویز مشرف کے کہنے کے مطابق انہوں نے ایک طرح سے کشمیر کی شہہ رگ پرپائوں رکھ کر کشمیر فتح کرلیاتھا لیکن میاں نواز شریف نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے بھارت کے دبائومیں آکر کارگل کافتح شدہ حصہ بھارت کو پلیٹ میں سجا کر واپس کردیا اگر میاں نوازشریف کارگل اس طرح واپس ناکرتے تو کشمیر کب کاآزاد ہوچکاہوتا۔ کارگل کی واپسی ہی جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں سے اختلاف کی وجہ بنی ‘وزیراعظم پاکستان  میاں نوازشریف نے اپنے حاصل اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں جبکہ وہ سری لنکا کے دورے پرگے ہوئے تھے کو اپنی انانیت اور جلد بازی میں معطل کر کے ایک جونیئر جنرل کو چیف آف آرمی مقرر کردیا‘ جو فوجی ضابطوں کے خلاف بھی تھا ۔اس لئے ہی جنرل مشرف کے ساتھی جنرلزنے ناصر ف جنرل پرویز مشرف کوباخبر کیا اور فوری واپسی کیلئے بھی کہا اور جنرل مشرف کی حمایت میں فوج کوبھی نواز شریف کے خلاف  قدم اٹھانے کیلے تیار کردیا  ۔

نواز شریف حاضر ہو

نواز شریف حاضر ہو

2 months ago.

میاں نواز شریف سے بلاول بھٹوزرداری نے فون پر بات کیاکرلی حکومت ہی ہل کررہ گئی  ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں این آراو اور میاں نوازشریف کی لندن روانگی ایک بار پھر ن لیگ اور تحریک انصاف میں لفظی جنگ کاباعث بن رہی ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری سرورکے خیال میں قوم نوازشریف کے بارے میں حقیقت جانا چاہتی ہے۔ بابر اعوان کے مطابق نوازشریف صحت مند ہیں لندن میں بیٹھ کرسیاست کررہے ہیں۔ حکومت نوازشریف کوواپس لانے کے لئے ہر آلہ استعمال کرنے کاعزم رکھتی ہے۔ جبکہ برطانوی ماہر قانون کے مطابق موجودہ صورت حال میں نواز شریف کوواپس لانابہت مشکل ہے۔ایک طویل خاموشی کے بعد اب جب نوازشریف نے یاکچھ لوگوں نے ان سے سیاسی رابطے کیے ہیں تو حکومت کوایک دم ہوشیاری آگئی ہے ایسا محسوس ہورہاہے کہ حکومتی دانشوروں کو کسی شدید خطرے یا خدشے کا احساس ہوگیاہے تب ہی سب کے سب چیونٹیوں کی مانند بلوں سے نکل آئے ہیں ہر کوئی دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہاہے۔ میاں نوازشریف اگر ڈاکٹر کی تجویز پر  چہل قدمی بھی کرتے ہیں توایک شور بلند ہوجاتاہے کہ صحت مند ہیں تب ہی تو سڑکوں پرچل پھر رہے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ میں چائے پینے چلے جائیں تو بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔ تحریکی جوان واویلا شروع کردیتے ہیں ۔

میاں جی اور پاکستان

میاں جی اور پاکستان

3 months ago.

چند نوجوان ایک سوزوکی میں پاکستانی پرچم  لیے نعرے لگاتے جارہے تھے پاکستان بچاناہے میاں کو لاناہے۔ میں کافی دیر اس جاتے ٹرک کودیکھتارہا میری سمجھ میں نہیں آرہاتھا یہ کیا تبدیلی ہے کون سے میاں کولاناہے۔ کراچی جوایم کیوایم کاگڑھ رہاہے یہاں پہلے بھی کبھی اس طرح کے نعرے نہیں گونجے اب کیا تبدیلی آرہی ہے۔  ہوسکتاہے یہ کوئی نیا فتنہ ہو میاں صاحب کو اور کسی طرح کی پابندی کااسیر کرناہواگر یہ نعرہ پنجاب میں لگایاجاتاتو بات سمجھ میں آتی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کسی آنے والی تبدیلی کامظہر ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میاں نواز شریف کولانے کی راہ ہموار کرنا ہو۔کراچی جو ہمیشہ سے ملک میں سیاسی تبدیلی کا محرک رہاہے شاید  ایک بار پھر ہوا کارخ بدل رہاہو ۔کراچی جو منی پاکستان بھی ہے یہاں ایم کیوایم کے علاوہ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اورمسلم لیگ (ف) تحریک انصاف اور دیگر ایک دو ارکان صوبائی اسمبلی موجود ہیں۔ تمام اہم سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے۔ اگر کراچی سے کسی تبدیلی کی تحریک چلی تو تعجب نہیں ہونا چاہے۔ اگر سمجھا جائے توملکی سیاست میں قحط الرجال  ہے سیاسی جماعتیں تو ہیں کوئی ایسابڑا لیڈر نہیں جوسیاسی جماعت کو متحرک کرسکے نواز شریف نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کررکھی ہے۔ آصف زرداری صاحب فراش ہیں، بلاول ابھی کچاہے۔  فی الحال پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے  بڑی مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔سیاست سیاست کھیلنا بچوں کاکھیل نہیں ، سیاست تو آتے آتے آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس بہت اچھے اور مضبوط سیاست دان موجود ہیں لیکن کمزور قیادت کے آگے بے بس ہیں۔ زرداری صاحب ایک مضبوط، دانش مند سیاست دان ہیں جانے کیوں انہوں نے خود کوالگ کرلیا ہے ایسا ہی حشر مسلم لیگ ن کاہے۔ نواز شریف کے نہ ہونے سے ایک بڑی سیاسی جماعت غیر فعال ہوکررہ گئی ہے۔ شہباز شریف شائدکسی موقع کی تلاش میں ہیں۔ 

گھر کابھیدی لنکا ڈھائے

گھر کابھیدی لنکا ڈھائے

4 months ago.

 جہانگیر ترین جوکل تک عمران خان کے بہترین ساتھی اور دست راست تھے اچانک کیسے بہترین سے بدترین ہوگئے‘ کیسے اچھے دوست ساتھی سے برے مخالف بن گے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اگر چائے یا شربت میں چینی ایک یا دو چمچے کی جگہ دس بیس چمچہ ڈال دی جائے تو وہ مٹھاس کڑواہٹ بن جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی جہانگیر ترین کے ساتھ ہوا پہلے انہیں عمران خان نے نائب وزیر اعظم بنایا لیکن  پانچ سیر کی ہانڈی میں پچاس سیر ڈالا گیا۔ ظاہر پھر باقی تو باہر گرنا ہی گرنا تھا۔ سو ایسا ہی ہوا پہلے قومی اسمبلی کی سیٹ سے نااہل کئے گئے پھر بھی خان صاحب نے تعلق بحال رکھا۔ بطور مشیرکابینہ کاحصہ بنائے رکھا لیکن ترین اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے رہے۔ منہ کو جوخون لگ چکا تھا وہ چین نہیں لینے دے رہاتھا۔ دوسروں پرانگلی اٹھاتے اٹھاتے‘ اب خود انگلی کے نشانے پرآگے ہیں۔ اگر یہی کام عمران خان کے کسی مخالف نے کیاہوتا تو کب کا قید ہوچکا ہوتا۔ کسی قیمت پر باہر ناجانے دیاجاتا‘ لیکن بد قسمتی سے شوگر اسکینڈل میں اکثریت خان صاحب کے اپنے قریبی لوگوں کی ہے۔ کس سے آنکھیں بچائیں‘ کس سے ہاتھ اٹھائیں۔  

نا میرا پاکستان ہے ناتیرا پاکستان ہے

نا میرا پاکستان ہے ناتیرا پاکستان ہے

4 months ago.

گذشتہ دنوں خسارے کابجٹ پیش کردیاگیا ہے بقول مشیر خزانہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا پتہ نہیں یہ بجٹ کون سے پاکستان کاہے۔ نئے پاکستان کایاپرانے پاکستان کا پرانے پاکستان کے پرانے سیاسی رہنما تو آج کل توناکام نامراد حز ب اختلاف کاحصہ ہیں اور نیا پاکستان کے اقتصادی معاشی ترقیاتی حکمران توآئی ایم ایف ہے جس کواسٹیٹ بنک سے لیکر وزارت خزانہ تک ہرقسم کا اختیار اوررسائی حاصل ہے اس بار کابجٹ بھی مکمل طور پر ان کاہی سجایا سنوارا ہوا ہے۔ مہنگائی‘ غربت ‘بیروزگاری کی ماری عوام کاکوئی پرسان حال نہیں۔ موجودہ نئے پاکستان میں ناعدلیہ کااحترام ہے‘ ناانتظامیہ کااحترام ہے گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے چینی کے نرخ کے بارے میں ایک حتمی حکم جاری کیا۔ چینی 70 روپے کلو عوام کوفروخت کی جائے گی لیکن شوگر ملز مالکان نے حکم مانے سے انکار کردیاہے ۔قانون نافذکرنے والے تماشائی بنئے ہوئے ہیں یہ اس حکومت کااحوال ہے جویہ دعویٰ کرتی رہی تھی کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی‘ بدعنوانی کرپشن کاخاتمہ کردیں گے کل تک جن باتوں پرانگلیاں اٹھائی جارہی تھیں اب وہی سب کچھ اپنایا جارہاہے کسی طرح کا کوئی تدارک نہیں کیا جارہا عدلیہ کوانتظامیہ کوبے توقیر کیا جارہا ہے کسی کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ اب حکمران سابقہ اہل اقتداروںلوگوں پر ہرقسم کے اعتراض کاحق کھو چکے ہیں کیونکہ نئے بھی پرانے رنگ میں رنگ گے ہیں وہ کچھ کر رہے ہیں کل تک جوکام بدعنوانی کرپشن کاتھا آج وہی۔ کام  اگر نئے پاکستانی حکمران اور ان کے حواری کریں تو ٹھیک انہیں کاموں پر پچھلوں کوقیدوبند کی سزا بد عنوانی کرپشن کے الزامات تحقیق وتفتیش کے بغیر کسی پربھی کوئی بھی الزام لگاکر قید کر دینا معمول کی بات رہی ۔

کیادنیا انقلاب کی طرف چل پڑی ہے

کیادنیا انقلاب کی طرف چل پڑی ہے

5 months ago.

بھارتی نیتا مودی کی خواہش ہے کہ دنیا اسے بھی سپر پاور تسلیم کرلے وہ اس بارے میں اپنے سے جتن کرتے رہتے ہیں  آخیر ہم میں کمی کیا ہے آبادی کے لحاظ سے بھی  ہمارا ملک بڑا ملک ہے۔ چین کی آبادی سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں  اور تو اور ایٹمی طاقت بھی ہیں پھر کیا کمی رہ گی سپر پاور ہونے میں شاید بھارتی نیتا اسی  نشے میں کشمیر اور پاس پڑوس کے ممالک پر اپنی بدنظریں ٹیکائے رہتے ہیں کہ کب موقع ملے کب اسے ہڑپ کریں جیسے تقسیم ہند کے وقت مسلم اکثرتی علاقوں پر زبردستی قبضہ کرلیاتھا۔ کوشش تو کشمیر کی بھی کی گئی  تھی جس کے نتیجہ میں اس کے دوحصے ہوگے ایک آزاد کشمیر ‘ایک مقبوضہ کشمیر اب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے میں ضم کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پڑی قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہے۔  اس کے باوجود چند  لاکھ کی آبادی کاخطہ ساتھ لاکھ مسلح افواج کے قابو نہیں آرہا جبکہ کشمیریوں کے پاس کسی بھی قسم کی عسکری قوت نہیں ہے۔ ناکسی قسم کا فوجی سازوسامان ہے وہ تومشین گن ‘بکتر بن گاڑیوں کا مقابلہ سنگ ساری سے کرنے والے شیردل ہیں۔

طالبان اور غزوہ ہند

طالبان اور غزوہ ہند

5 months ago.

بھارتی دہشت گرد ایجنسی را افغانستان میں بلآخر بے نقاب ہوگئی۔طالبان امریکہ امن معاہدے کے بعد افغانستان میں کسی قدر امن کی فضا ہموار ہورہی تھی لیکن بھارتی ایجنسی را کووہ امن معاہدہ پسند نہیں آیا کیونکہ امریکہ نے بھارت کونظرانداز کرتے ہوئے پاکستان کی مدد سے طالبان سے مذاکرات کیے اوربلآخر امن معاہدہ پایہ  تکمیل کوپہنچا۔ را اور اسرائیلی موسادکے حلق سے یہ معاہدہ نہیں اتررہا انہوں نے امن کی اس کوشش کوملیامیٹ کرنے کے لیے داعش کے روپ میں اپنی دہشت گردی شروع کردی۔ افغانستان میں ہونے والی موجودہ دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی ایجنسی را کے چیف اجیت دوول کاخیال تھا کے ان دہشت گرد کارروائیوں کو طالبان کے سر آسانی سے منڈھ دیاجائے گا مگرافسوس ایسا ہونہیں سکا ۔ طالبان قیادت کے بارے میں بھارت امریکہ اسرائیل کاگمان ہے کہ جاہل اجڈ قوم  کو ناسیاست کی کچھ خبر ہے نا سیاسی چال بازیوں کوسمجھتے ہیں لیکن درحقیقت ایسا ہے نہیں انہوں نے بہت کچھ کھو کربہت کچھ سیکھا ہے جبکہ بھارتی اپنے آپ کو سیاسی چال بازیوں کا ماہر سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہی بھارتی افغانستان میں ہرسطح پراپنے قدم جمانے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔