امت پہ عجب وقت آپڑاہے!

امت پہ عجب وقت آپڑاہے!

7 days ago.

آج ساری دنیا میں نادیدہ کرونا وائرس نے قیامت برپا کررکھی ہے ہرروز دنیا میں ہزاروں ہلاکتیں ہورہی ہیں کورناوائرس کی ابتدا چین سے ہوئی جہاں مساجد بند تھیں جہاں اذان دینے پر پابندی تھی جہاں قرآن کتابی صورت میں دستیاب نہیں تھا وہاں جب کروناوائرس نے اپنی حشر سامنانی کامظاہرہ کیاتو خود صدر چین نے ناصرف مساجد کھلوائیں اور خود مساجد میں جاکر مسلمانوں سے دعا کی درخوست کی اور تمام مسلمانوں میں قرآن کریم کے نسخے تقسیم کئے گئے اس کے برعکس مسلمانوں نے اپنی آباد مساجدکوویران کرلیا ہے یہاں تک کہ بیت اللہ شریف اور مسجدنبوی شریف جواہل ایمان کا مرکز ومحور ہیں کومسلمانوں کے لئے ہی بند کردیا گیا ہے۔ مساجد میں نماز باجماعت پرپابندی عائد کردی گئی ہے نماز جمعہ پرپابندی لگادی گئی ہے۔ آخر ایسا کیوں کیااس لئے کہ چائنہ غیر مذہب ہے اور مسلمانوں کویہ مذہب وراثت میں ملا ہے۔ اس کے  لئے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ چین نے مسلمانوں کی عبادات کی اہمیت کوسمجھا اوراس پرعمل کیا اور مسلمانوں نے اپنے دین مبین کوپس پشت ڈال دیاہے ۔کل تک چین میں جو مسلم دشمن تھے آج وہ مسلم دوست بن چکے ہیں اسلام کی اہمیت کاادراک ہورہا ہے۔  

عورت اور عورت مارچ ؟

عورت اور عورت مارچ ؟

24 days ago.

مارچ کامہینہ شروع ہوتے ہی وطن عزیز میں عورت مارچ کے حوالہ سے بحث چھڑ گئی ہے۔  کیاہماری عورت نے اس لفظ عورت پرغور کیا کہ اس کے معنی کیاہیں ۔ ایک معنی عورت کے پردے والی چیز کے بھی ہیں۔ عورت کامقام ومرتبہ اس کاگھر ہے اسلام نے جو مرتبہ جوعزت واہمیت  عورت کو دی ہے وہ دنیا کے کسی بھی مذہب نے نہیں دی۔ عورت کابلندترین مقام ماں کاہے اس کے پیر کے نیچے جنت کی نوید دی گئی ہے لیکن یہ خوش خبری ہرعورت کے لئے نہیں ہے صرف ماں کے لئے ہے۔ وہ بھی اس کی فرمابردار نیک اولادکے لئے، نافرمان بغاوت والی اولاد کے لئے یہی جنت دوزخ بن جائے گی۔ ماں کے درجہ کے سوا ہرعورت  مرد کے لئے جہنم کازریعہ ہے۔ اگر کوئی مرد یاعورت ہی کسی غیر یااپنی ہی بہن ،بیٹی، ماں اور دیگر رشتوں پربد نظر ڈالے یا براخیال کرے تو اس کی بدنظری جہنم کاسبب بن جاتی ہے۔  اللہ نے عورت کادرجہ ماں کی حیثیت سے تمام مردوں سے بھی افضل کیاہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت یوں ہی نہیں رکھ دی وہ ماں کی اطاعت فرمانبرداری سے مشروط ہے ورنہ  وہی جنت جہنم کاذریعہ بن جائے گی۔   

زودپشیماں کاپشیماں ہونا !

زودپشیماں کاپشیماں ہونا !

25 days ago.

امریکہ نے 9/11 کاحادثہ خود برپا کرکے اس کی آڑ میں افغانستان کی خالص اسلامی مملکت کواپنی طاقت کے نشے میں تہس نہس کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔اس کاخیال تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور ہے‘افغانستان کے خطہ پرلمحوں میں قبضہ کرلے گا اور مسلم دنیا کیلئے افغانستان کو مقام عبرت بنادے گا ۔امریکی جنگجو دانشوروں کا خیال ہوگا کہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پراس بے سروسامان اجاڑ بنجر خشک پہاڑوں پرمشتمل قوم  پرباآسانی قابوحاصل کرلیاجائے گا کیونکہ ہمارے پاس جدید ترین فضائی زمینی اور منظم افواج اور ہرطرح کی قوت موجود ہے جبکہ دشمن کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے۔ وہ منتشر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹاہواہے وہ کس طرح اور کب تک ہمارامقابلہ کرسکے گاجس طرح بلی کو خواب میں چھیچھڑے نظرآتے ہیں‘ اسی طرح امریکہ افغانستان پرقبضہ کوآسان سمجھ رہاتھاکیونکہ اس  قبضے سے اس کاخیال ہوگا کہ روس بلکہ چین ‘ایران ‘ترکی پاکستان خلیجی ریاستوں سمیت بھارت سب اس کے زیر نگیں ہوجائیں گے۔ان عقل کے اندھوں نے روس جیسی سپر پاور کے حشر کو بھلادیا اور اپنی طاقت کے زعم میں آ کر افغانستان پر چڑھ دوڑے تھے اب امریکہ کو 19برس کی طویل مدت تک جھک مارنے اور ہزاروں جانوں کی ہلاکت اربوں کھربوں ڈالروں کے نقصان کے بعد شایدعقل آگئی ہے۔ اس کا  حوصلہ بھی جواب دے گیاہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ جانی اور مالی نقصان میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہی ہوتا چلاجارہاتھا۔  

اخباری صنعت تباہی کے دھانے پرکیوں؟

اخباری صنعت تباہی کے دھانے پرکیوں؟

28 days ago.

ہمارے ایک شناسا کی یہ بات بالکل درست ہے کہ مدینہ کی ریاست میں کہیں دور دوراخبارات توکیا کسی اخبار کانام ونشان تک نہیں تھا اب جبکہ نئی ریاست مدینہ عالم وجود میں آنے کوہے جس کا اعلان عام قوم کے غریب المومینن کرہی چکے ہیں یہ بات بھی طے ہے کہ ہتھیلی پرسرسوں جمع نہیں کرتی وقت تو لگتاہے پاکستانی قوم کے جب رہنما ہی کرپٹ اور بدعنوان ہوتو قوم بے چاری کیا کرتی اللہ نے گزرے ہوئے حکمرانوں کو خدمت کاموقع تودیاتھا لیکن ان لوگوں نے قوم کی جگہ اپنی خدمت کومقدم جانا قوم جائے بھاڑ میں کون ساروزروز موقع ملتاہے اگر اللہ نے موقع دے ہی دیاہے تو دنیاجہاں کااصول ہے پہلے پیٹ پوجا بعدکوئی کام دوجا ‘یہ خیال عام وقت موجودکے غریب المومینن کاہے یہی وجہ ہے کہ وہ فی الحال قوم کی طرف متوجہ ہونے کے اپنے خیال خام کے مطابق پہلے گھر میں پھیلی بدعنوانی کرپشن کے گند کوصاف کرناضروری سمجھتے ہیں تاکہ ہرقسم کے مخالفین کے منہ کوتالے پڑجائیں پھر قوم کی خدمت فلاح وبہبود کے نام لے کر رات کودن میں دن کورات میں لگاکر جی جان سے نئے طریقے سے اپنے سے پہلے سیاسی اکابرین کے نقش قدم پربھی اگرچلناپڑے توآسانی سے چلاجاسکے ۔  

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

a month ago.

اللہ جانے اس ملک میں کیاکچھ ہونارہ گیا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ہی نوجوان خواتین اور نوعمر لڑکیوں نے آزادی نسواں کے لئے ایک بڑے احتجاج کا اہتمام کیا تھا جس کی پشت پناہی سناہے کوئی غیر ملکی امداد پر قائم  این جی او کررہی تھی ۔ظاہر ہے اتنی نفری جمع کرنے کے لئے اتنے ہی بڑے سرمائے کی بھی ضرورت ہوتی ہے وہ ہرکوئی خرچ نہیں کرسکتااورایسی سرمایہ  کاری کے کچھ ناکچھ مقاصد بھی ہوتے ہیں اس احتجاجی جلوس میں جواحتجاجی نعرے اور بینر اٹھائے ہوئے تھے وہ بڑی بے شرمی لئے ہوئے تھے ان میں چند پرلکھاتھا میرا جسم میری مرضی اور یہی نعرے بھی لگائے جارہے تھے۔ پاکستان جو درحقیقت ناسہی لیکن بقول شخصے یا ملکی آئین کے  مطابق تو ایک اسلامی ریاست ہے چاہے نام نہاد ہی سہی ہے تو مسلم ریاست اس میں یوں کھلے عام ایسے بے شرم نعرے اور مطالبے کاکیامطلب ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں فحاشی ،گندگی،بے حیائی پہلے ہی کم ہے جو مزید فحاشی کاتقاضا کیاجارہاہے۔ ہمارے معاشرے کو کلیسانے اپنی چمک دمک کے زور پر پہلے ہی کافی سے زیادہ گمراہی پھیلاکر اپنی مرضی کاکررکھاہے ۔اب رہی سہی کسر جورہ گئی ہے وہ بھی خاتمے کی طرف دوڑ رہی ہے۔کیا کلیسا یہ ہی چاہتاہے کہ ہماری بیٹیاں بھی ان کی طرح بے لباس ہوکر باہر نکلیں، بے غیرتی بے شرمی کواپنا لیں اوراس پر فخر کریں کہ ہم یورپ امریکہ کے ہم قدم ہوگئے ہیں۔   

تصویر کے دو  رخ ؟

تصویر کے دو  رخ ؟

3 months ago.

ہرتصویر کے دورخ ہوتے ہیں ایک سامنے کاجس پر نقش ونگار واضح ہوتے ہیں۔ ایک رخ اسی تصویر کی پشت کارخ جس پر نقش نہیں ہوتا دونوں بظاہر بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں مگر وہ دونوں ہی رخ اسی تصویر کے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود مختلف نہیں ہوتے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ بھی نہیں کیاجاسکتا۔ ایساہی کچھ معاملہ امریکہ اور ایران کا ہے جوبظاہر ایک دوسرے کے مخالف دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے معاملات ومفادات یکساں ہیں۔ امریکہ نے عراق میں جو ایرانی سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی کونشانہ بنایاہے یہ کوئی دشمنی یاایران مخالفت میں نہیں ہوا یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے ، امریکہ میں عنقریب الیکشن کی تیاری ہونے کوہے اس کے ساتھ ہی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی بھی چل رہی ہے جس کے نتیجہ میں عوامی رائے عامہ متاثر ہورہی ہے جو امریکی صدر کے انتخاب پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

قائد کادوقومی نظریہ اور بھارت ؟

قائد کادوقومی نظریہ اور بھارت ؟

3 months ago.

آج پورے بھارت میں نئے شہر یت قانون نے آگ لگا رکھی ہے ہرطرف غصے سے بھرے عوام سڑکوں پر نکلے احتجاج کررہے ہیں ۔حیدر آباد دکن کے مسلم لیڈراسد اویسی نے تو برسر عام کہہ دیا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت قائد اعظم ؒکے دوقومی نظریہ کی مخالفت کر کے بڑی غلطی کی۔ آج جب مسلمانوں کو ختم کرنے ‘ان کا قتل عام کرنے کاقانون بنادیاگیاہے تومسلمانوں کواپنی شہریت کیلئے اپنی شناخت کیلئے جن مشکلات کاسامنا کراناہوگا اس سے ممکن ہی نہیں کہ کوئی عام مسلمان شہری یہ ثابت کرسکے کہ وہ واقعی ہندوستانی شہری ہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جہاں صدیوں سے ہمارے آبائواجداد رہتے بستے آئے ہیں اب ایک دم سے اس مٹی کے لئے‘ اس اپنے دیس کیلئے ہم کواجنبی بنادیاگیاہے صرف اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اب ہندو شدت پسند جماعت ہم سے ہمارے شہری وطنی حقوق چھینے گی۔ یہ وطن اتناہی ایک مسلمان کاہے جتنا کسی ہندویااور کسی بھی اقلیت کا ہے یاہوسکتاہے۔ یہ ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ جس کاجوجی چاہے کرتاپھرے۔ اس زمین میں ہمارے آبائواجداد کالہو شامل ہے ہم اسے اپنالہو دے کربھی بچائیں گے۔ ہمیں ہندوبالادستی کسی طرح قبول نہیں۔دراصل اس طرح آر ایس ایس کو قتل وغارت گری کاکھلا لائسنس دے دیاگیاہے ۔  

پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

3 months ago.

گذشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے پیر سیاست وریاست عمران نیازی  جدید ریاست مدینہ کے داعی جواپنی ہرمجلس میں ببانگ دھل این آراو کی نفی کرتے رہے تھے۔ اکثر فرمایاکرتے کہ کسی کوبھی کسی قیمت پر این آراو نہیں دیاجاے گا لیکن اللہ کی شان کہ جب محترم کو اطلاع ملی کہ چیئرمین نیب شریف نے ہوا کارخ تبدیل کرنے کااعلان فرمایادیاہے توانہیں اپنے قلب اطہر پر اپنے حواریوں کو درپیش مشکلات کااحساس شدید طور پرپرنازل ہوا اور حضرت پیر ریاست نے اپنے معصوم بے قصور حواریوں پر اپنے رحم وکرم کی بارش کرتے ہوئے اپنے عظیم الشان حکم کے ذریعے ان کی دل جوئی فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنی بصیرت اور تدبر سے کام لیتے ہوے بظاہر NRO توجاری نہیں کیا بلکہ اس درخت جس پراحتساب کاپھل لگایاگیاتھااسے ہی اس کی شاخ وپتوں سے محروم کردیا ۔ اگر یوں سمجھا جائے کہ  اس کے کاٹنے والے دانت نکال دے ہیں توغلط نہ ہوگا اس طرح انہوں نے اپنے ہر طرح کے حمایتی اور قرابت داروں کو نیب کی زد سے دور کردیا گیاہے ۔کہنے والے تو کچھ بھی کہتے رہتے ہیں‘ جیسے امیر ریاست مدینہ کے اس عظیم الشان فلاحی و بہبودی اقدام میں کیڑے نکانے والے کہہ رہے ہیں کہ اب جب چیئرمین نیب نے اپنارخ تبدیل کرنے مغرب سے مشرق کی طرف چلنے کے ارادے کا اظہار کیاتو امیرریاست نے اتنی بڑی چھلانگ لگادی کہ وہ این آر او میں اپنے پیش رو جنرل مشرف کوبھی پیچھے چھوڑ گے وہ جواپنی سزائے موت سے جنگ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ اس اقدام سے صرف پیر سیاست کے مرید ین کے علاوہ بہت سارے اہل تجارت کوبھی راحت نصیب ہو گی ہے۔ مخالفین کاجوحشر نشر ہوناتھا وہ توہوچکا کیونکہ اب ادھر ایسا کچھ نہیں بچا جس کی مزید صفائی ستھرائی کی ضرورت ہو جب سے حضرت نیب شریف کاہو اکی تبدیلی کابیان سامنے آیاہے۔ تب سے مریدان ریاست کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں انہیں گرفتاری کاخطرہ منڈلاتا نظرآنے  لگا تھا۔ گردن میں پھندہ پڑتا محسوس ہونے لگا تھاپھر سب سے اصل بات یہ کہ خود قبلہ امیر ریاست بھی زد میں آرہے تھے۔

ہوئے تم دوست جس کے

ہوئے تم دوست جس کے

4 months ago.

انتہائی حیرت کامقام ہے کہ میاں نواز شریف کو معطل کیا گیا۔ ملزم سے مجرم بنادیاگیا اپنے طور سے انہیں گندا کرکے سیاست کے قابل ہی نہیں چھوڑاگیا لیکن ان کا کمبل ہے کہ وہ جان نہیں چھوڑ رہا۔ جب بھی کابینہ کی کوئی میٹنگ ہو کوئی کسی قسم کی تقریب ہو ‘پریس کانفرنس ہو ہر جگہ ہر موقع پر میاں صاحب ‘ ان کے خاندان کاذکر لازما کیا جاتاہے یہ اور بات کہ ان کاتذکرہ منفی انداز لئے ہوئے ہوتاہے ۔چور ڈاکو کے طور پرہوتاہے مگر ہوتا ضرور ہے۔ میاں فیملی چاہے یانا چاہے اس کے ذکر کے بغیر نا وزیراعظم ناہی ان کے معمور کردہ افراد چپ  رہ سکتے ہیں جہاں تک میاں نواز شریف شہباز شریف کاتعلق ہے وہ شاید اس میں بھی ناراض نہیں معلوم ہورہے کیونکہ ہرسیاست دان کی خواہش ہوتی ہے کے وہ ہرقیمت پرخبروں میں رہے بدنام جوہونگے توکیا نام نہ ہوگا ۔ اب جبکہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں حکومت خود ان لوگوں کاچرچا اس قدر کررہی ہے کہ ا نہیں کچھ کہنے کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ لوگ بھی خود کچھ ناکچھ ایسا کام کررہے ہیں جس سے حکومت باربار ان کاذکر خیر ناسہی بد ہی سہی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے یوں میاں نواز شریف فیملی حکمرانوں سے اپنی پبلیسٹی خوب کرارہی ہے وہ بھی مفت میں فی الحال ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیاہے۔ مریم نواز کے بیرون ملک جانے کا میاں خاندان خوب اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اب جبکہ شہباز شریف میاں نواز شریف پاکستان سے نکل چکے ہیں اب اس خاندان کی سر گرم رکن مریم نواز ہی پاکستان میں رہ گئیں ہیں مریم نواز کی خاموشی بھی مقتدر حلقوں کیلئے باعث تشویش ہے اب اس میں مزید اضافہ ان کی بیرون ملک روانگی کے پروگرام نے کردیاہے جو لوگ میاں برادران کے ہاتھ سے نکل جانے پرابھی تک کف افسوس مل رہے ہیں وہ کیسے مریم نواز کواپنے ہاتھوں سے نکلنے دیں گے۔ عدالت نے گیند حکومت کی کورٹ میں منتقل کرکے امتحان میں ڈال دیاہے کچھ کاخیال ہے کہ عدالت خوب اچھی طرح سمجھتی کہ حکمران کاکیا ردعمل ہوگا عدالت نے اپنادامن جلنے سے بچالیا۔

اب تو اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے

اب تو اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے

4 months ago.

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو ان سے بہت پہلے شیطان کی تخلیق فرمائی شیطان اس وقت تک شیطان نہیں تھا  اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے لاکھوں برس قبل جب کائنات تخلیق کرنے کامنصوبہ بنایا توپہلے عرش عظیم کی تخلیق کی اور اس پرجلوہ افروز ہوا تب اللہ ذوالجلال ولاکرام نے قلم کوپیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ قیامت اور اس کے بعد تک جب جب جو مخلوق پیدا کی جائے گی اس کی تقدیر لوح محفوظ پرلکھ دے قلم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہر پیدا ہونے والی مخلوق کی تقدیر لوح محفوظ پرتحریر کردی وہ چاہے ہوا میں اڑنے والی ہوں‘ یازمیں پر چلنے والی‘ رینگنے والی ہوں۔ جمادات ہوں ‘نباتات ہوں پہاڑ ہوں ‘دریااور سمندر صحرا‘ اللہ کی تخلیقات کی ہر قسم کی تقدیریں لکھ کر محفوظ کردی گئی۔ وہ تمام تحریریں  جوقلم نے اللہ کے حکم سے لکھیں وہ کسی طرح تبدیل نہیں کی جاسکتی۔  ہاں اللہ چاہے تو وہی تبدیل کرسکتاہے جوتقدیر جس مخلوق کی لکھ کر محفوظ کردی گی وہی اس عظیم کائنات کے ذرے ذرے کانظام حیات اور اللہ کی مستقل منصوبہ بندی کاحصہ ہے۔

اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

4 months ago.

گذشتہ دنوں جب جناب وزیراعظم نے جوش خطابت میں فرمایاتھا کہ ملک میں امیر کیلئے قانون اور ہے غریب کیلئے قانون اور ہے اس سے پہلے بھی یہ بات وہ بار بار دھراتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں جناب چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ نے دو ٹوک انداز میں ارشاد فرمایا تھا  کہ قانون سب کے لے ایک ہے قانون انصاف کیلئے اپنارستہ خود بناتاہے اس کے بعد ایک اور بیان میں فرمایاتھا کہ جھوٹی گواہی کے خاتمے کیلے سخت سزا تجویز کی جا رہی ہے یہ بھی کہاکہ عدلیہ مکمل آزاد ہے عدالتیں کسی دبائو کوقبول نہیں کرتیں۔ ابھی ان آوازوں کی گونج تھمی نہیں ہے کہ حکومت عدلیہ کے سامنے دیوار بن کرکھڑی ہوگئی ہے ابھی فارن فنڈنگ پر ہی واویلا ہورہاتھا حکومتی ارکان اپناپورا زور سرف کررہے تھے کہ الیکشن کمیشن کسی طرح کسی بھی قیمت پر حزب اختلاف کے مطالبے کے مطابق کوئی فیصلہ فارن فنڈنگ کیس کا فلحال ناکرے جبکہ اس کیس کافیصلہ تیار ہے صرف صادر ہوناہے اسکورٹنی کمیٹی کی رپورٹ کاانتظار ہے جو تحریک انصاف کی تاخیری حربوں کی وجہ سے رکی ہوئی تھی۔   

امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

4 months ago.

 جدید ریاست مدینہ کے جدید ا میر الریاست نے اپنے ہوم گرائونڈ میں اپنی ہی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے کہ مولانا کے ہوتے ہوئے کسی اسرائیلی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ کیا واقعی مولانافضل الرحمن اسرائیلی پشت پناہی کی سیاست کر رہے ہیں گذشتہ دنوں مولانا نے جو دھر نا اسلام آباد میں دیا تھا جس میں خود ریاست مدینہ کے حواریوں کے مطابق کئی لاکھ افراد شامل تھے کیا وہ سب بھی مولانا کے لئے اسرائیلی لابی کاکیا دھراتھا ۔حیرانگی کی بات ہے عوام بیچاری کوتو پتہ ہی اب چلاہے وہ بھی خود امیر الریاست  کی زبانی کیسے غلط ہوسکتاہے کیونکہ بقول مولانا ساتھی کے خود ان کا تو براہ راست اسرائیل سے تعلق ہے ان کی اپنی آنے والی نئی نسل جو مغربی  ماں کے زیر تربیت ہے اب توبچے بچے نہیں رہے بالغ ہوگے ہیں جو رہتے  ماں کی نگرانی میں ہیں ‘اس لئے جناب امیر جدید ریاست مدینہ کاقول کئی سوفیصد درست ہوسکتا ہے کیونکہ جتنا گہرا تعلق ان کاہوسکتا ہے کسی اور کاکیسے ہوسکتا ہے ۔ مولانا کے حواریوں نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے ان کے کہنے کے مطابق اگر امیر ریاست کچھ کہنے سے پہلے کچھ سوچ سمجھ لیاکریں یاکم از کم اپنے گریبان میں ہی جھانک لیا کریں تو یوں بے توقیر ناہونا پڑے کہیں کاغصہ کہیں نکالاجارہاہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے جیسے چراغ بجھنے سے قبل بھڑک رہاہوشاید مولاناکے دھرنے اور غیر متوقع سیاسی اتحاد نے نئی مملکت مدینہ کے حکمران کے پیروں سے زمین سرکادی ہے تب ہی ان کی حکمرانی سیاسی سے زیادہ نجی اختلافی سیاست میں بدل گئی ہے اپنی جس غلطی کا ملبہ کبھی عدلیہ پر کبھی معالجین پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اس سارے معاملے میں بھی یوٹرن لے لیا ہے۔ وہ انسانی ہمدری کے جذبوں کااظہار وہ بیمار کی تیمارداری کاجذبہ سب ہوا ہوگیا نوازشریف کوکسی اور نے نہیں خود آپ نے فرار کرایاہے۔