چاندنی کااندھیرا

چاندنی کااندھیرا

4 days ago.

آج کل چاروں طرف چاندنی ہی چاندنی پھیلی دکھائی دے رہی ہے۔  راتیں اور رتیں روشن نظر آرہی ہیں، نصف رات کاسماں ہے۔ میں چاندنی سے لطف اندوز ہورہاہوں، سوچ رہاہوں مولانا فضل الرحمن نے اپنے مارچ اور دھرنے کے لئے جو تاریخ مقرر کی ہے تب تک تو چاند کہیں کاکہیں ہوگا وہ چاندنی سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ مولانا کی تحریک کے بارے میں ذہن عجیب طرح سوچنے لگا ہے کہ کہیں اسلام دشمن قوتیں  تو مولانا کو استعمال نہیں کررہیں۔ چڑجابیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا۔ کوئی تو ہے پس پشت جو ساری کارروائی کی نگہداشت کررہاہے۔ شاید وطن کی زندگی میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی مذہبی جماعت نے اس قدر منظم طریقے سے اپنی طاقت کا اعلان کیاہو۔ مارچ کے انتظامات اور شریک افراد کی حفاظت کے لئے اس طرح کھلے عام ڈنڈابرداروںکی تربیت کا مظاہرہ کیاہو یہ تو وہی بات ہوئی کہ ۔  آبیل مجھے مار۔ مولانااور ان کے مشیر کار حضرات کی منصوبہ بندی نے یقینا جہاں نہ صرف حزب  اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کو اشتراک عمل کے لئے مجبور کردیا ہے وہیں حکومت کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں کہ بقول حکمران جماعت کے مولانا اپنی ہار کابدلہ لیناچاہ رہے ہیں۔ ان کے دھرنے اور مارچ سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر مولانا میں اور  ان کی جماعت میں اتنادم خم ہوتا تو مولانا انتخاب میں ہارتے نہیں۔ ان لوگوں کاخیال ہی نہیں یقین تھاکہ مولا نا اپنی کوشش میں منہ کے بل گریں گے اور رہی سہی عزت بھی گنوابیٹھے گے لیکن جوں جوں دھرنے یاان کے مارچ کے دن قریب آرہے ہیں، حکمرانوں کی بے چینی بڑتی جارہی ہے۔ انھیں خوف لاحق ہورہاہے کہیں مولانا اپنی کوشش میں کامیاب ہی نہ ہو جائیں کیونکہ ایک ایک کرکے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے بلکہ اب تو عوامی طبقوں نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کااعلان کردیا ہے۔   

دوستی کے نام پر دھوکہ!

دوستی کے نام پر دھوکہ!

27 days ago.

   آج کشمیر کے دونوں بازو لہولہان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری اپنی آزادی کیلے کٹ مررہے ہیں۔ جوش جذبے سے معمور اپنی جانیں نثار کررہے ہیں۔ اب جبکہ مقبوضہ کشمیر جاگ گیا ہے تو وہ دن دور نہیں جب اللہ انہیں سرخرو کرے گا۔ان شااللہ کشمیر جلد اپنے زوربازو پر آزاد ہوجائے گا‘دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے دیکھتی رہے گی۔ سب زبانی کلامی ہمدردی بھی دکھائوے کی کررہے ہیں ورنہ اقوام متحدہ میں مسلم ممالک کی بے حسی کامظاہرہ یوں نا د یکھنے  میں آتا ۔مسلم ریاستوں نے جوپاکستان کی دوستی کادم بھرتے نہیں تھکتیں۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت کوووٹ نادیتیں ۔انہیں اگر کشمیر سے ہمدردی نہیں تھی تو قرار داد توپاکستان نے پیش کی تھی جس سے ووٹ دینے والے مسلم ممالک دوستی کااخوت کادم بھرتے ہیں۔ وہ اگر پاکستان کواپناووٹ نہیں دینا چاہتے تھے توبھی ان کے پاس کسی کوبھی ووٹ نادینے کاتو اختیار تھا۔ اگر وہ بھارت کوووٹ نادیتے تب بھی وہ پاکستان کی مدد کرسکتے تھے۔ پاکستان پھربھی سر خرو ہوسکتاتھا ۔  

کشمیر آ زاد ہوکررہے گا

کشمیر آ زاد ہوکررہے گا

a month ago.

نازی لیڈر ہٹلر یونہی بدنام ہے اس نے اگرلاکھوں لوگوں کو اجل بردکیا یا بقول لوگوں کے ہلاک کیا تو اس وقت ہٹلر حالت جنگ میں تھا جس میں دشمن کاقلع قمع کرنا ہی جنگ کامزاج ہوتاہے۔  اگر آپ دشمن کونہ مار سکیں تو دشمن آپ کوماردے گالیکن بغیر کسی قسم کی جنگ کے نہتی اقلیت کو صرف اس لئے ہلاک کرنا ان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑ نا کہ ان کاحق رائے دہی ختم کردیا جائے  تو ہٹلر کے جنگی جنون سے بھی بہت زیادہ شقاوت وظلم کی بات ہے اور سارا ظلم وستم صرف اس لئے کہ مظلوم کشمیری قوم کے لوگ  دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اجتماعی تعداد ان کے ہم مذہبوں سے نصف ہے جو انتخابات میں اپنے حق رائے دہی سے ہندو توا کومکمل کامیاب ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہندوتوا کی سوچ بچار کے مطابق اگر مسلم اقلیت کوٹھکانے لگادیاجائے ، تو نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ،یہی سوچ ہے مودی  کی اور اس کی جماعت کی۔ اس لئے بھارت کے طول وارض میں مسلمانوں کے خلاف ہرطرح کے ظالمانہ حربے استعمال کے جارہے ہیں۔  کشمیر میں جوظلم وبربریت کی جارہی ہے اس پر ہی بس نہیں ہے آسام، ہریانہ اور دیگر مسلم اکثریت والے علاقوں کو نشانے پررکھ لیا گیاہے۔ ان لوگوں کوصرف اس لئے سزادی جارہی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔  ان کاحق رائے دہی ختم کرنے کیلئے ان کی بھارتی شہریت منسوخ کی جارہی ہے تاکہ  آنے والے الیکشن میں حزب مخالف کی جو جماعتیں مسلم ووٹ لیکر پارلیمنٹ میں پہنچ جاتی ہیں ان کاراستہ بند کردیاجائے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ  رادھا ناچے گی۔  مودی اور اس کی پارٹی مسلمانوں کو ختم کرکے پورے بھارت پر قابض ہونے کے خواب  دیکھ رہی ہے اس کے خوابوں کی تعبیر کیلئے اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ چڑ ھ جابیٹا سولی پررام بھلی کرے گا۔  موذی اور اس کی پارٹی اس طرز عمل کے نتائج سے بے خبر اپنی سی کئے جارہی ہے کیونکہ امریکہ کے بغل بچہ کچھ مسلم ممالک شاید امریکی شہہ پر ہی مودی کو اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ اس طرح موذی کی حوصلہ افزائی بھی کررہے ہیں وہ اپنی مسلم اقلیت کے ساتھ جوکررہاہے وہ درست ہی کررہاہے لیکن ایسا کرنے والے بھول رہے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ شاید وہ بے آواز لاٹھی چل پڑی ہے ۔

خداہی جانے کیا ہونے والاہے 

خداہی جانے کیا ہونے والاہے 

2 months ago.

آج بہت دن بعد نویدخان ملنے آئے تھے کچھ اداس لگ رہے تھے کافی عرصہ بعد ان کی صورت نظرآئی تھی جب وہ اطمینان سے بیٹھ گئے تو حال احول دریافت کیا،توبولے بھائی براحال ہے سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں ۔آپ کوتو معلوم ہے کہ میں نے اپنی سیاست کاآغاز پیپلزپارٹی سے کیاتھاکیاہی اچھے د ن  تھے۔ بی بی کی شہادت کے بعد دل ٹوٹ گیا۔ قیادت بھی بھلے لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی اس لئے میں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ میں تب بھی آپ کے پاس آیاتھاپھر دوستوں کے مشورے سے تحریک انصاف میں شامل ہوگیا۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے الیکشن سے پہلے بڑے سبز باغ دکھائے ،بڑی بڑی باتیں کرکے لوگوں کوخوب پھنسایا ،لوگ ان کے جھا نسے میں آگئے۔ اب ان کے خیال کے مطابق یو ٹرن لیناہی سیاست ہے ۔ انہوں نے اپنے تمام وعدوں پرپانی پھیردیا ہے اور سیاسی انتقام شروع کردیا جس کی وہ ہمیشہ مذمت کرتے رہے تھے۔ اپنی بات اپنے واعدے توڑنے کاشاید ریکارڈ بنارہے ہیں۔   

 حرم کعبہ سے!

 حرم کعبہ سے!

2 months ago.

گزشتہ دنوں میں حرم شریف مکہ میں بعد نماز عصر باہر صحن میں بیٹھا تھا کہ میرے برابر بیٹھے صاحب نے بڑی نیاز مندی سے اسلام وعلیکم کہا اور دریافت کیا۔ کیا آپ کا تعلق پاکستان سے ہے ۔میں نے کہا الحمد للہ میں پاکستانی ہوں مسکراکر بولے میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہوا ہے۔ آپ پاکستان میں کہاں رہتے ہیں۔ کیا آپ کا تعلق اخبار سے ہے‘ میں نے ہاں میں گردن ہلادی۔ کیا آپ اخبار میں کچھ لکھتے ہیں‘ میں نے کہا جی ہاں۔ بولے آپ کی تصویر بھی چھپتی ہوگی۔ جی ہاں میں نے آپ کو نہیں آپ کی تصویر دیکھی ہے۔ تب ہی ایسا محسوس ہوا کہ میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے۔ میرا تعلق نواز شریف کی پارٹی سے ہے۔ نہیں نہیں اب تک تھا، اب نہیں ہے۔ میں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا اور پوچھا اب کیوں نہیں ہے تعلق آپ کا، بولے آپ تو صحافت سے تعلق رکھتے ہیں، آپ تو خوب اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہوں گے میاں نواز شریف کا مزاج انتہائی انتقامی ہے وہ ڈگے کا کینہ رکھتے ہیں، میں نے کہا ڈگے کا نہیں اونٹ کا کینہ، مشہور ہے۔ کہنے لگے پنجاب میں اونٹ کم اور ڈگے زیادہ ہوتے ہیں اور ویسے بھی ہمیں غیر پنجابی لوگ پنجابی ڈگہ کہتے ہیں اس لیے میں نے ڈگہ کہہ دیا ہے۔ میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف نے برطرف کیا، قید کیا اور سعودی عرب کی فرمائش پر انہیں ملک بدر کیا۔ اس کا رنج میاں نواز شریف سے بھلائے نہیں بھول رہا۔ وہ تمام افواج پاکستان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتے ہیں، حالانکہ ان کے دور اقتدارمیں جس طرح جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف نے ان کی تابعداری کی اور کہیں انحراف نہیں کیا، اس کے باوجود وہ عسکری قیادت پر بھروسہ کرنے کو کسی طرح تیار نہیں تھے، ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رہے ہیں۔ سپہ سالار کے مشورے کو انہوں نے کبھی درخور اعتنا نہیں جانا۔   

حکم حاکم ،مرگ مفاجات

حکم حاکم ،مرگ مفاجات

4 months ago.

(گزشتہ سًے پیوستہ)     اہل درد محب وطن تجزیہ کار اورسیاست کاربخوبی سمجھ رہے ہیں کہ وطن عزیز کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ دراصل کھیل اس طرح سے کھیلا جارہاہے کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرجائے۔ پاکستان چونکہ دنیاکی بڑی سپرپاور امریکہ کا دست نگر رہاہے اس کی سرپرستی کوتسلیم کرتارہاہے اس کے اشارے پر اپنی افواج اور عوام کے سر پیش کرتارہاہے اسی لئے امریکہ نے جب جوکہاوہ ہمارے حکمران تسلیم کرتے رہے ہیں لیکن جب سے سابقہ حکمران نے اس کی بات نہ مانتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کوایٹمی قوت والاملک تسلیم کرنے پرمجبور کردیاہے تب سے تمام کلیسائی ممالک اور خصوصاً امریکہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا خواہش مندہے۔ جب سے سابقہ حکومت نے امریکی  رویوں سے بددل ہوکر چین سے ا پنی دوستی کو پائیدار اورمستحکم کرناشروع کیاہے توامریکیوں کی نیند حرام ہورہی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کے پاکستان جیسی سونے کی چڑیاان کے ہاتھوں سے نکل کرچین کے ہاتھ کیوں لگ رہی ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاہے‘ امریکہ اس سے ناخوش ہے کیونکہ اس نے اپنی ہرقسم کی چھوٹی بڑی سستی مصنوعات دنیابھرمیں اورخصوصاً امریکہ میں پھیلاکراپنا خوف امریکیوں میں بیٹھا دیاہے۔  چین سے امریکہ یوں بھی خوف زدہ ہے کہ کہیں چین عالمی سطح پر اس کی برتری نہ چھین لے کیونکہ چین بھی خطہ میں پاکستان کی اہمیت کواچھی طرح سمجھتاہے اس لئے وہ بھی پاکستان پراپنادست شفقت رکھنا چاہ رہاہے۔ چین  ہرمحاذ پر امریکہ کوپسپاکررہاہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کوپاک چین دوستی ہضم نہیں ہورہی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان سے کیسے نمٹا جائے تاکہ اس کی حیثیت واہمیت خطہ میں برقرار رہے ۔ امریکی منصوبہ سازوں نے اب منصوبہ بنالیاہے کہ پاکستان کومعاشی طور پر بدحال کرکے قابو پایاجائے۔  پہلے پاکستان کوسیاست کے میدان میں چاروں خانے چت کیا۔ تمام سابقہ حکمرانوں پر بدعنوانی کے مقدمات بنواکر انہیں نااہل کرایاگیا پھر اپنے نئے منصوبے کے تحت ایک ایسے حکمران کاانتخاب کرایاگیا جو ہرحال اور ہرطرح سے حکم کی تعمیل کرنے والاہو ‘ خواہ  وہ چاہے نہ چاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکمران کوباربار پلٹنے کے طعنے سناپڑتے ہیں ۔  

خد شات ہی خد شات 

خد شات ہی خد شات 

5 months ago.

پاک چین دوستی  کے طفیل ہی دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب ہورہے ہیں۔ چین پاکستان کی ترقی وتعمیر میں ایک دوست کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرناچاہتا ہے اسی دوستی  نے  سی پیک کو جنم دیاہے ۔ تعمیر وترقی کے بہت سے منصوبے اس سے جڑے ہوئے ہیں سی پیک ناصرف پاکستان ترقی  کیلے بلکہ چین کی توقی کیلے بھی کہیں زیادہ فائدہ مند ہے اس      سی پیک کے منصوبے نے دنیا کی بڑی  سپرپاورکی نیند حرام کی ہوئی ہے اسے خطرہ ہے کہ اس کی سپرمیسی  چین کہیں  اس سے چھین نہ لے کیونکہ چین جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔  اس سے صرف امریکہ کوہی نہیں دیگر بڑی طاقتوں کوبھی خطرہ محسوس ہورہاہے چین بڑی پھرتی سے کام لے رہاہے پہلے اپنی سستی مصنوعات سے امریکہ سے لیکر تمام دنیا میں جہاں جہاں اس کی رسائی ممکن ہوسکتی تھی اپنی مصنوعات کاجال پھیلایا اب امریکہ جیسے ملک میں ہرقسم کی مصنوعات سوئی سے لیکر موٹرکار ‘ہوائی جہاز غرض کوئی چیز چھوٹی نہیں امریکہ کوگھرمیں گھس کرمارنے والی بات ہوگی اب پاکستان جسے امریکہ اپنازر خرید سمجھتاآرہاہے وہ بھی اس کے ہاتھوں سے نکلاجارہاہے۔ سی پیک کے ذریعے چین دنیا کے اور قریب آجائے گا وہ اپنی مصنوعات جلدی اور بہتر طریقے سے دنیابھر کی مارکیٹوں تک پہنچا سکے گا اس طرح وہ دنیاپر چھاسکے گا۔

اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

6 months ago.

 کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان پاکستانی ہیں۔ 1971ء کی خون ریز ہولی کے بعد مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا کیا کوئی معمولی حادثہ تھا۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد خالص پاکستانیوں کا وہاں رہ جانا اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کا برتاو ہونا کیا کبھی بھی سابقہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو، حکمرانوں کو نظر نہیں آیا۔ اب جبکہ اس واقعے کو اڑتالیس برس بیت چکے ہیں آج بھی وہاں رہ جانے والے پاکستانیوں کی تیسری چوتھی نسل نے جنم لے لیا ہے اس کے باوجود بھی وہ بنگلہ دیشی حکمرانوں اور عوام کے مطابق پاکستانی ہی کہلائے جا رہے ہیں۔ آخر ان بے کس و مجبور لوگوں کا کیا قصور ہے صرف اتنا ہی کہ وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کی اولادیں ہیں۔ حالانکہ پنجاب کے وزیر اعظم غلام حیدر وائیں مرحوم نے تو ان مجبور بے کس لوگوں کے لیے بڑا اہتمام و انتظام کیا تھا کہ انہوں نے میاں چنوں میں تین سو ایکڑ پر محیط رقبہ پر ایک ہزار فلیٹ تیار کرائے تھے۔ رابطہ ٹرسٹ کے تحت چورانوے کروڑ کی رقم حبیب بینک میں جمع تھی لیکن غلام حیدر وائیں کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، اب تو وہ رقم 94 کروڑ سے بڑھ کر کئی ارب ہوچکی ہوگی اگر اسے بد عنوان نوکر شاہی، افسر شاہی نے رہنے دیا ہو۔ وہ ایک ہزار تیار فلیٹ میاں چنوں کے کیا ہوئے کسی کو کچھ خبر نہیں۔  

ہمارے بھی ہیں مہرباں

ہمارے بھی ہیں مہرباں

6 months ago.

مملکت خداداد پاکستان آج کل سیاسی بحران کاشکار ہے موجودہ محکوم حکمران کوخود پتہ نہیں ہوتاکہ اس کااکلا قدم کیاہوگا مثلاً حکومت کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کامعاملہ جن کے بارے میں بقول خود اسد عمر رات گیارہ بجے تک عمران خان نے ان سے ملاقات میں کوئی ایسی بات نہیں کی تھی پھراچانک اسی رات کوہی اسد عمرسے استعفیٰ مانگ لیاگیا یا انھوں نے خود دیا دراصل جواور جیسا نظرآرہاہے وہ ویسا ہے نہیں نادیدہ حکمران کہیں دور بیٹھے کنٹرول کررہے ہیں۔ ان کی نظر ایک ایک فرد پر ان کی ایک ایک حرکت پر داخلی وخارجی معاملات پر ہے بظاہر حکمران وقت بیچارہ جوش خطابت میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ تو صرف ایک شاہی ہرکارہ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اسے باربار یوٹرن کاطعنہ سننا پڑ رہاہے کیونکہ انھیں خود یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کااگلا قدم کیا ہوناچاہے اگر وہ اپنی مرضی سے کوئی قدم اٹھا لیتے ہیں تو پھرمجبوراً  انھیں وہ قدم واپس لیناپڑتاہے اس لیے ان کے مخالفین انہیں مسٹر یو ٹرن کہنے سے باز نہیں آتے۔