تصویر کے دو  رخ ؟

تصویر کے دو  رخ ؟

17 days ago.

ہرتصویر کے دورخ ہوتے ہیں ایک سامنے کاجس پر نقش ونگار واضح ہوتے ہیں۔ ایک رخ اسی تصویر کی پشت کارخ جس پر نقش نہیں ہوتا دونوں بظاہر بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں مگر وہ دونوں ہی رخ اسی تصویر کے ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود مختلف نہیں ہوتے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے سے الگ بھی نہیں کیاجاسکتا۔ ایساہی کچھ معاملہ امریکہ اور ایران کا ہے جوبظاہر ایک دوسرے کے مخالف دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے معاملات ومفادات یکساں ہیں۔ امریکہ نے عراق میں جو ایرانی سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی کونشانہ بنایاہے یہ کوئی دشمنی یاایران مخالفت میں نہیں ہوا یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے ، امریکہ میں عنقریب الیکشن کی تیاری ہونے کوہے اس کے ساتھ ہی امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی بھی چل رہی ہے جس کے نتیجہ میں عوامی رائے عامہ متاثر ہورہی ہے جو امریکی صدر کے انتخاب پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

قائد کادوقومی نظریہ اور بھارت ؟

قائد کادوقومی نظریہ اور بھارت ؟

23 days ago.

آج پورے بھارت میں نئے شہر یت قانون نے آگ لگا رکھی ہے ہرطرف غصے سے بھرے عوام سڑکوں پر نکلے احتجاج کررہے ہیں ۔حیدر آباد دکن کے مسلم لیڈراسد اویسی نے تو برسر عام کہہ دیا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت قائد اعظم ؒکے دوقومی نظریہ کی مخالفت کر کے بڑی غلطی کی۔ آج جب مسلمانوں کو ختم کرنے ‘ان کا قتل عام کرنے کاقانون بنادیاگیاہے تومسلمانوں کواپنی شہریت کیلئے اپنی شناخت کیلئے جن مشکلات کاسامنا کراناہوگا اس سے ممکن ہی نہیں کہ کوئی عام مسلمان شہری یہ ثابت کرسکے کہ وہ واقعی ہندوستانی شہری ہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جہاں صدیوں سے ہمارے آبائواجداد رہتے بستے آئے ہیں اب ایک دم سے اس مٹی کے لئے‘ اس اپنے دیس کیلئے ہم کواجنبی بنادیاگیاہے صرف اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اب ہندو شدت پسند جماعت ہم سے ہمارے شہری وطنی حقوق چھینے گی۔ یہ وطن اتناہی ایک مسلمان کاہے جتنا کسی ہندویااور کسی بھی اقلیت کا ہے یاہوسکتاہے۔ یہ ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے کہ جس کاجوجی چاہے کرتاپھرے۔ اس زمین میں ہمارے آبائواجداد کالہو شامل ہے ہم اسے اپنالہو دے کربھی بچائیں گے۔ ہمیں ہندوبالادستی کسی طرح قبول نہیں۔دراصل اس طرح آر ایس ایس کو قتل وغارت گری کاکھلا لائسنس دے دیاگیاہے ۔  

پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

27 days ago.

گذشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے پیر سیاست وریاست عمران نیازی  جدید ریاست مدینہ کے داعی جواپنی ہرمجلس میں ببانگ دھل این آراو کی نفی کرتے رہے تھے۔ اکثر فرمایاکرتے کہ کسی کوبھی کسی قیمت پر این آراو نہیں دیاجاے گا لیکن اللہ کی شان کہ جب محترم کو اطلاع ملی کہ چیئرمین نیب شریف نے ہوا کارخ تبدیل کرنے کااعلان فرمایادیاہے توانہیں اپنے قلب اطہر پر اپنے حواریوں کو درپیش مشکلات کااحساس شدید طور پرپرنازل ہوا اور حضرت پیر ریاست نے اپنے معصوم بے قصور حواریوں پر اپنے رحم وکرم کی بارش کرتے ہوئے اپنے عظیم الشان حکم کے ذریعے ان کی دل جوئی فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنی بصیرت اور تدبر سے کام لیتے ہوے بظاہر NRO توجاری نہیں کیا بلکہ اس درخت جس پراحتساب کاپھل لگایاگیاتھااسے ہی اس کی شاخ وپتوں سے محروم کردیا ۔ اگر یوں سمجھا جائے کہ  اس کے کاٹنے والے دانت نکال دے ہیں توغلط نہ ہوگا اس طرح انہوں نے اپنے ہر طرح کے حمایتی اور قرابت داروں کو نیب کی زد سے دور کردیا گیاہے ۔کہنے والے تو کچھ بھی کہتے رہتے ہیں‘ جیسے امیر ریاست مدینہ کے اس عظیم الشان فلاحی و بہبودی اقدام میں کیڑے نکانے والے کہہ رہے ہیں کہ اب جب چیئرمین نیب نے اپنارخ تبدیل کرنے مغرب سے مشرق کی طرف چلنے کے ارادے کا اظہار کیاتو امیرریاست نے اتنی بڑی چھلانگ لگادی کہ وہ این آر او میں اپنے پیش رو جنرل مشرف کوبھی پیچھے چھوڑ گے وہ جواپنی سزائے موت سے جنگ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ اس اقدام سے صرف پیر سیاست کے مرید ین کے علاوہ بہت سارے اہل تجارت کوبھی راحت نصیب ہو گی ہے۔ مخالفین کاجوحشر نشر ہوناتھا وہ توہوچکا کیونکہ اب ادھر ایسا کچھ نہیں بچا جس کی مزید صفائی ستھرائی کی ضرورت ہو جب سے حضرت نیب شریف کاہو اکی تبدیلی کابیان سامنے آیاہے۔ تب سے مریدان ریاست کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں انہیں گرفتاری کاخطرہ منڈلاتا نظرآنے  لگا تھا۔ گردن میں پھندہ پڑتا محسوس ہونے لگا تھاپھر سب سے اصل بات یہ کہ خود قبلہ امیر ریاست بھی زد میں آرہے تھے۔

ہوئے تم دوست جس کے

ہوئے تم دوست جس کے

a month ago.

انتہائی حیرت کامقام ہے کہ میاں نواز شریف کو معطل کیا گیا۔ ملزم سے مجرم بنادیاگیا اپنے طور سے انہیں گندا کرکے سیاست کے قابل ہی نہیں چھوڑاگیا لیکن ان کا کمبل ہے کہ وہ جان نہیں چھوڑ رہا۔ جب بھی کابینہ کی کوئی میٹنگ ہو کوئی کسی قسم کی تقریب ہو ‘پریس کانفرنس ہو ہر جگہ ہر موقع پر میاں صاحب ‘ ان کے خاندان کاذکر لازما کیا جاتاہے یہ اور بات کہ ان کاتذکرہ منفی انداز لئے ہوئے ہوتاہے ۔چور ڈاکو کے طور پرہوتاہے مگر ہوتا ضرور ہے۔ میاں فیملی چاہے یانا چاہے اس کے ذکر کے بغیر نا وزیراعظم ناہی ان کے معمور کردہ افراد چپ  رہ سکتے ہیں جہاں تک میاں نواز شریف شہباز شریف کاتعلق ہے وہ شاید اس میں بھی ناراض نہیں معلوم ہورہے کیونکہ ہرسیاست دان کی خواہش ہوتی ہے کے وہ ہرقیمت پرخبروں میں رہے بدنام جوہونگے توکیا نام نہ ہوگا ۔ اب جبکہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں حکومت خود ان لوگوں کاچرچا اس قدر کررہی ہے کہ ا نہیں کچھ کہنے کرنے کی ضرورت ہی نہیں وہ لوگ بھی خود کچھ ناکچھ ایسا کام کررہے ہیں جس سے حکومت باربار ان کاذکر خیر ناسہی بد ہی سہی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے یوں میاں نواز شریف فیملی حکمرانوں سے اپنی پبلیسٹی خوب کرارہی ہے وہ بھی مفت میں فی الحال ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیاہے۔ مریم نواز کے بیرون ملک جانے کا میاں خاندان خوب اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اب جبکہ شہباز شریف میاں نواز شریف پاکستان سے نکل چکے ہیں اب اس خاندان کی سر گرم رکن مریم نواز ہی پاکستان میں رہ گئیں ہیں مریم نواز کی خاموشی بھی مقتدر حلقوں کیلئے باعث تشویش ہے اب اس میں مزید اضافہ ان کی بیرون ملک روانگی کے پروگرام نے کردیاہے جو لوگ میاں برادران کے ہاتھ سے نکل جانے پرابھی تک کف افسوس مل رہے ہیں وہ کیسے مریم نواز کواپنے ہاتھوں سے نکلنے دیں گے۔ عدالت نے گیند حکومت کی کورٹ میں منتقل کرکے امتحان میں ڈال دیاہے کچھ کاخیال ہے کہ عدالت خوب اچھی طرح سمجھتی کہ حکمران کاکیا ردعمل ہوگا عدالت نے اپنادامن جلنے سے بچالیا۔

اب تو اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے

اب تو اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہیے

2 months ago.

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو ان سے بہت پہلے شیطان کی تخلیق فرمائی شیطان اس وقت تک شیطان نہیں تھا  اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے لاکھوں برس قبل جب کائنات تخلیق کرنے کامنصوبہ بنایا توپہلے عرش عظیم کی تخلیق کی اور اس پرجلوہ افروز ہوا تب اللہ ذوالجلال ولاکرام نے قلم کوپیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ وہ قیامت اور اس کے بعد تک جب جب جو مخلوق پیدا کی جائے گی اس کی تقدیر لوح محفوظ پرلکھ دے قلم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہر پیدا ہونے والی مخلوق کی تقدیر لوح محفوظ پرتحریر کردی وہ چاہے ہوا میں اڑنے والی ہوں‘ یازمیں پر چلنے والی‘ رینگنے والی ہوں۔ جمادات ہوں ‘نباتات ہوں پہاڑ ہوں ‘دریااور سمندر صحرا‘ اللہ کی تخلیقات کی ہر قسم کی تقدیریں لکھ کر محفوظ کردی گئی۔ وہ تمام تحریریں  جوقلم نے اللہ کے حکم سے لکھیں وہ کسی طرح تبدیل نہیں کی جاسکتی۔  ہاں اللہ چاہے تو وہی تبدیل کرسکتاہے جوتقدیر جس مخلوق کی لکھ کر محفوظ کردی گی وہی اس عظیم کائنات کے ذرے ذرے کانظام حیات اور اللہ کی مستقل منصوبہ بندی کاحصہ ہے۔

اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

2 months ago.

گذشتہ دنوں جب جناب وزیراعظم نے جوش خطابت میں فرمایاتھا کہ ملک میں امیر کیلئے قانون اور ہے غریب کیلئے قانون اور ہے اس سے پہلے بھی یہ بات وہ بار بار دھراتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں جناب چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ نے دو ٹوک انداز میں ارشاد فرمایا تھا  کہ قانون سب کے لے ایک ہے قانون انصاف کیلئے اپنارستہ خود بناتاہے اس کے بعد ایک اور بیان میں فرمایاتھا کہ جھوٹی گواہی کے خاتمے کیلے سخت سزا تجویز کی جا رہی ہے یہ بھی کہاکہ عدلیہ مکمل آزاد ہے عدالتیں کسی دبائو کوقبول نہیں کرتیں۔ ابھی ان آوازوں کی گونج تھمی نہیں ہے کہ حکومت عدلیہ کے سامنے دیوار بن کرکھڑی ہوگئی ہے ابھی فارن فنڈنگ پر ہی واویلا ہورہاتھا حکومتی ارکان اپناپورا زور سرف کررہے تھے کہ الیکشن کمیشن کسی طرح کسی بھی قیمت پر حزب اختلاف کے مطالبے کے مطابق کوئی فیصلہ فارن فنڈنگ کیس کا فلحال ناکرے جبکہ اس کیس کافیصلہ تیار ہے صرف صادر ہوناہے اسکورٹنی کمیٹی کی رپورٹ کاانتظار ہے جو تحریک انصاف کی تاخیری حربوں کی وجہ سے رکی ہوئی تھی۔   

امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

2 months ago.

 جدید ریاست مدینہ کے جدید ا میر الریاست نے اپنے ہوم گرائونڈ میں اپنی ہی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے کہ مولانا کے ہوتے ہوئے کسی اسرائیلی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ کیا واقعی مولانافضل الرحمن اسرائیلی پشت پناہی کی سیاست کر رہے ہیں گذشتہ دنوں مولانا نے جو دھر نا اسلام آباد میں دیا تھا جس میں خود ریاست مدینہ کے حواریوں کے مطابق کئی لاکھ افراد شامل تھے کیا وہ سب بھی مولانا کے لئے اسرائیلی لابی کاکیا دھراتھا ۔حیرانگی کی بات ہے عوام بیچاری کوتو پتہ ہی اب چلاہے وہ بھی خود امیر الریاست  کی زبانی کیسے غلط ہوسکتاہے کیونکہ بقول مولانا ساتھی کے خود ان کا تو براہ راست اسرائیل سے تعلق ہے ان کی اپنی آنے والی نئی نسل جو مغربی  ماں کے زیر تربیت ہے اب توبچے بچے نہیں رہے بالغ ہوگے ہیں جو رہتے  ماں کی نگرانی میں ہیں ‘اس لئے جناب امیر جدید ریاست مدینہ کاقول کئی سوفیصد درست ہوسکتا ہے کیونکہ جتنا گہرا تعلق ان کاہوسکتا ہے کسی اور کاکیسے ہوسکتا ہے ۔ مولانا کے حواریوں نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے ان کے کہنے کے مطابق اگر امیر ریاست کچھ کہنے سے پہلے کچھ سوچ سمجھ لیاکریں یاکم از کم اپنے گریبان میں ہی جھانک لیا کریں تو یوں بے توقیر ناہونا پڑے کہیں کاغصہ کہیں نکالاجارہاہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے جیسے چراغ بجھنے سے قبل بھڑک رہاہوشاید مولاناکے دھرنے اور غیر متوقع سیاسی اتحاد نے نئی مملکت مدینہ کے حکمران کے پیروں سے زمین سرکادی ہے تب ہی ان کی حکمرانی سیاسی سے زیادہ نجی اختلافی سیاست میں بدل گئی ہے اپنی جس غلطی کا ملبہ کبھی عدلیہ پر کبھی معالجین پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اس سارے معاملے میں بھی یوٹرن لے لیا ہے۔ وہ انسانی ہمدری کے جذبوں کااظہار وہ بیمار کی تیمارداری کاجذبہ سب ہوا ہوگیا نوازشریف کوکسی اور نے نہیں خود آپ نے فرار کرایاہے۔

یاروں مجھے معاف رکھو

یاروں مجھے معاف رکھو

2 months ago.

اس بوڑھے شخص کو عرصہ سے دیکھ رہا تھا وہ اکثر  نشے میں چور کوئی گیت گاتا یا کسی سیاسی لیڈر کے انداز میں تقریر کرتاگذرتاچلا جاتا اس کوکبھی ہوش وہواس میں نہیں دیکھا دن میں جب وہ کہیں  ملتا تو کسی بلند جگہ بیٹھا ہوتا ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی حکمران وقت اپنے دربار میں تخت شاہی پر جلوہ آفروز ہو بڑے زور زرو سے ہاتھ ہلا ہلا کر جانے کیاکچھ کہہ رہاہوتا ‘ کم لوگوں کی ہی سمجھ میں اس کئی تقریر آتی ہوگی کبھی کبھی کوئی خوش حال مگر پریشان  شخص اس کے پاس بیٹھا ہوتا جواس سے اپنی پریشانی کے حل کیلے کچھ دریافت کررہا ہوتا کوئی سٹے باز تاجراس کی باتوں سے اپنے لے سٹے کانمبر نکال رہاہوتا وہ اپنے حال میں مگن رہتا وہ شاید اپنے گھر کا رستہ بھی بھول چکا تھا اسے شاید پوری طرح آنے جانے والوں کادرست احساس بھی نا ہوتا ہو‘ ہاں آنے جانے والے اس کی خدمت میں جو نذرانے چھوڑ جاتے وہ کرپشن میں نہیں شمار ہوتے وہ تواس کو پرسرور مست لمحے گذار نے کے کام آتے ہوںگے  اس کے عقیدت مند اسے بادشاہ کہتے ہی نہیں تھے۔ واقعی اسے بادشاہ سمجھتے بھی تھے وہ تھابھی بادشاہ۔ بقول لوگوں کے اس میں ایک کمزوری یہ بھی تھی کہ وہ اپنے دشمن کو خوب پہچانتا تھا دشمن کونہیں بھولتا تھا اس کے حواریوں کاکہنا تھا کہ بادشاہ کی حکومت بہت وسیع ہے وہ جوچاہتاہے وہ کرگذرتا ہے اسے روکنے ٹوکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی ‘کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ شراب کانشہ نہیں کرتا اسے تو اقتدار کانشہ ہے اسے جن لوگوں نے اس مقام تک پہنچایا ہے ان کی حکومت میں اس کاہی قانون چلتا ہے۔

پاک چین زرعی تعاون فورم

پاک چین زرعی تعاون فورم

3 months ago.

 اسلام آبادپاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانے، کے تعاون  سے عوامی جمہوریہ چین کی وزارت زراعت اور دیہی امور اور وزارت برائے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ آف پاکستان، سرمایہ کاری بورڈ کے بھرپور تعاون سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں صدر پاکستان  عارف علوی نے اظہار خیال کیا کہ چین اور پاکستان ہرموسم کے  شراکت دار ہیں۔ پاکستان کو چین کی ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘اقدام سے بہت فائدہ ہوا ہے اور چین،پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کی معاشرتی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت چین اور پاکستان کے مابین ہمہ جہت تعاون زراعت کے میدان میں چل رہا ہے۔ زراعت پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ستون ہے اور زرعی پیداوار کی مالیت پاکستان کی کل معیشت کا تقریبا ً40 فی صدہے۔ پاکستان چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے فعال طور پرفائدہ حاصل کرے گا، چین کے جدید جنیاتی وسائل کومتعارف کرائے گا، چین کو پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمد میں توسیع دے گا  اور پاکستان کی زرعی ترقی کے معیار اور کسانوں کی آمدنی کی سطح کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہے گا، تاکہ چین پاکستان زرعی تعاون کی کامیابیوں سے دونوں ممالک کے عوام کو جلد از جلد بہترفائدہ پہنچ سکے۔

آبیل مجھے مار

آبیل مجھے مار

3 months ago.

جوں جوں مولانا فضل الرحمن کے جتھے کی تاریخ قریب آتی جارہی ہے حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے خوف کے مارے کئی دن پہلے ہی سے تادیبی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ اندازے لگانے والوں کاکہناہے کہ شاید جتنا خرچہ حکومت مارچ روکنے پر کررہی ہے اتناتو مارچ کرنیوالوں کابھی نہیں ہوگا۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے مارچ نہیں بھی ہوتا تب بھی حزب اختلاف جیت چکی ہے تمام قوت واقتدار کے باوجود حکمرانوں کوہلاکررکھ دیاہے،حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیاہے ابھی مارچ شروع بھی نہیں ہوئی  اور حکومت حرکت میں آگئی ۔مملکت اسلامی پاکستان کے اہل سیاست پر حیرت ہوتی ہے نہ سود نہ کپاس خوامخوا میں لٹھم لٹھا۔ نہ تیل دیکھا نہ تیل کی دھار اور لگے شور مچانے،یہ حکومت اور حکمرانوں کی کمزوری اور نااہلی ہے کہ مفت میں بلا جواز خوف کاشکار ہوکر عوام کوپریشان کرنے کے سوا اور کچھ نہیں حالانکہ حکومت کوحوصلہ بلند رکھناچاہیے تھا جیسا کہ وزیر اعظم نے کہاتھا کہ آئیں دھرنا دیں ہم کنٹینر اور کھانادیں گے۔اگر واقعی وزیر اعظم ایساکرتے تو مارچ اور دھرنے کی آدھی ہوا تو اسی وقت نکل جانی تھی اورعوام کی ہمدردی حکومت کوالگ ملتی۔غیر جانبدار لوگ یاتو بالکل الگ تھلگ رہتے یا حکومت کاساتھ دیتے اب حکومت کی موجودہ کارروائی نے مولانا کواور ان کیساتھ کھڑی سیاسی جماعتوں کو اہم بنادیا ہے۔نیب کے کئے کرائے پر بھی خود حکومت کے جلد  بازی اور خوف کے اظہارنے  پانی پھیردیاہے کل تک جوسیاست دان ملزم ومجرم تھے اب وہ معصوم وبے قصور ہوگئے ہیں۔اب عوام کی ہمدردیاں انہیں حاصل ہونے کاامکان پیدا کردیا گیا ہے۔ مار پیچھے پکار توسناتھا لیکن اب سب الٹا سنائی دے رہاہے۔

چاندنی کااندھیرا

چاندنی کااندھیرا

3 months ago.

آج کل چاروں طرف چاندنی ہی چاندنی پھیلی دکھائی دے رہی ہے۔  راتیں اور رتیں روشن نظر آرہی ہیں، نصف رات کاسماں ہے۔ میں چاندنی سے لطف اندوز ہورہاہوں، سوچ رہاہوں مولانا فضل الرحمن نے اپنے مارچ اور دھرنے کے لئے جو تاریخ مقرر کی ہے تب تک تو چاند کہیں کاکہیں ہوگا وہ چاندنی سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ مولانا کی تحریک کے بارے میں ذہن عجیب طرح سوچنے لگا ہے کہ کہیں اسلام دشمن قوتیں  تو مولانا کو استعمال نہیں کررہیں۔ چڑجابیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا۔ کوئی تو ہے پس پشت جو ساری کارروائی کی نگہداشت کررہاہے۔ شاید وطن کی زندگی میں پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی مذہبی جماعت نے اس قدر منظم طریقے سے اپنی طاقت کا اعلان کیاہو۔ مارچ کے انتظامات اور شریک افراد کی حفاظت کے لئے اس طرح کھلے عام ڈنڈابرداروںکی تربیت کا مظاہرہ کیاہو یہ تو وہی بات ہوئی کہ ۔  آبیل مجھے مار۔ مولانااور ان کے مشیر کار حضرات کی منصوبہ بندی نے یقینا جہاں نہ صرف حزب  اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کو اشتراک عمل کے لئے مجبور کردیا ہے وہیں حکومت کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں کہ بقول حکمران جماعت کے مولانا اپنی ہار کابدلہ لیناچاہ رہے ہیں۔ ان کے دھرنے اور مارچ سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر مولانا میں اور  ان کی جماعت میں اتنادم خم ہوتا تو مولانا انتخاب میں ہارتے نہیں۔ ان لوگوں کاخیال ہی نہیں یقین تھاکہ مولا نا اپنی کوشش میں منہ کے بل گریں گے اور رہی سہی عزت بھی گنوابیٹھے گے لیکن جوں جوں دھرنے یاان کے مارچ کے دن قریب آرہے ہیں، حکمرانوں کی بے چینی بڑتی جارہی ہے۔ انھیں خوف لاحق ہورہاہے کہیں مولانا اپنی کوشش میں کامیاب ہی نہ ہو جائیں کیونکہ ایک ایک کرکے تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے بلکہ اب تو عوامی طبقوں نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کااعلان کردیا ہے۔