حکم حاکم ،مرگ مفاجات

حکم حاکم ،مرگ مفاجات

2 months ago.

(گزشتہ سًے پیوستہ)     اہل درد محب وطن تجزیہ کار اورسیاست کاربخوبی سمجھ رہے ہیں کہ وطن عزیز کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ دراصل کھیل اس طرح سے کھیلا جارہاہے کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرجائے۔ پاکستان چونکہ دنیاکی بڑی سپرپاور امریکہ کا دست نگر رہاہے اس کی سرپرستی کوتسلیم کرتارہاہے اس کے اشارے پر اپنی افواج اور عوام کے سر پیش کرتارہاہے اسی لئے امریکہ نے جب جوکہاوہ ہمارے حکمران تسلیم کرتے رہے ہیں لیکن جب سے سابقہ حکمران نے اس کی بات نہ مانتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کوایٹمی قوت والاملک تسلیم کرنے پرمجبور کردیاہے تب سے تمام کلیسائی ممالک اور خصوصاً امریکہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا خواہش مندہے۔ جب سے سابقہ حکومت نے امریکی  رویوں سے بددل ہوکر چین سے ا پنی دوستی کو پائیدار اورمستحکم کرناشروع کیاہے توامریکیوں کی نیند حرام ہورہی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کے پاکستان جیسی سونے کی چڑیاان کے ہاتھوں سے نکل کرچین کے ہاتھ کیوں لگ رہی ہے۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بن رہاہے‘ امریکہ اس سے ناخوش ہے کیونکہ اس نے اپنی ہرقسم کی چھوٹی بڑی سستی مصنوعات دنیابھرمیں اورخصوصاً امریکہ میں پھیلاکراپنا خوف امریکیوں میں بیٹھا دیاہے۔  چین سے امریکہ یوں بھی خوف زدہ ہے کہ کہیں چین عالمی سطح پر اس کی برتری نہ چھین لے کیونکہ چین بھی خطہ میں پاکستان کی اہمیت کواچھی طرح سمجھتاہے اس لئے وہ بھی پاکستان پراپنادست شفقت رکھنا چاہ رہاہے۔ چین  ہرمحاذ پر امریکہ کوپسپاکررہاہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کوپاک چین دوستی ہضم نہیں ہورہی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان سے کیسے نمٹا جائے تاکہ اس کی حیثیت واہمیت خطہ میں برقرار رہے ۔ امریکی منصوبہ سازوں نے اب منصوبہ بنالیاہے کہ پاکستان کومعاشی طور پر بدحال کرکے قابو پایاجائے۔  پہلے پاکستان کوسیاست کے میدان میں چاروں خانے چت کیا۔ تمام سابقہ حکمرانوں پر بدعنوانی کے مقدمات بنواکر انہیں نااہل کرایاگیا پھر اپنے نئے منصوبے کے تحت ایک ایسے حکمران کاانتخاب کرایاگیا جو ہرحال اور ہرطرح سے حکم کی تعمیل کرنے والاہو ‘ خواہ  وہ چاہے نہ چاہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکمران کوباربار پلٹنے کے طعنے سناپڑتے ہیں ۔  

خد شات ہی خد شات 

خد شات ہی خد شات 

3 months ago.

پاک چین دوستی  کے طفیل ہی دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب ہورہے ہیں۔ چین پاکستان کی ترقی وتعمیر میں ایک دوست کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرناچاہتا ہے اسی دوستی  نے  سی پیک کو جنم دیاہے ۔ تعمیر وترقی کے بہت سے منصوبے اس سے جڑے ہوئے ہیں سی پیک ناصرف پاکستان ترقی  کیلے بلکہ چین کی توقی کیلے بھی کہیں زیادہ فائدہ مند ہے اس      سی پیک کے منصوبے نے دنیا کی بڑی  سپرپاورکی نیند حرام کی ہوئی ہے اسے خطرہ ہے کہ اس کی سپرمیسی  چین کہیں  اس سے چھین نہ لے کیونکہ چین جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔  اس سے صرف امریکہ کوہی نہیں دیگر بڑی طاقتوں کوبھی خطرہ محسوس ہورہاہے چین بڑی پھرتی سے کام لے رہاہے پہلے اپنی سستی مصنوعات سے امریکہ سے لیکر تمام دنیا میں جہاں جہاں اس کی رسائی ممکن ہوسکتی تھی اپنی مصنوعات کاجال پھیلایا اب امریکہ جیسے ملک میں ہرقسم کی مصنوعات سوئی سے لیکر موٹرکار ‘ہوائی جہاز غرض کوئی چیز چھوٹی نہیں امریکہ کوگھرمیں گھس کرمارنے والی بات ہوگی اب پاکستان جسے امریکہ اپنازر خرید سمجھتاآرہاہے وہ بھی اس کے ہاتھوں سے نکلاجارہاہے۔ سی پیک کے ذریعے چین دنیا کے اور قریب آجائے گا وہ اپنی مصنوعات جلدی اور بہتر طریقے سے دنیابھر کی مارکیٹوں تک پہنچا سکے گا اس طرح وہ دنیاپر چھاسکے گا۔

اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

اللہ کرے کہ ایسا ہوسکے

4 months ago.

 کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان پاکستانی ہیں۔ 1971ء کی خون ریز ہولی کے بعد مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بن جانا کیا کوئی معمولی حادثہ تھا۔ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد خالص پاکستانیوں کا وہاں رہ جانا اور ان کے ساتھ ظلم و ستم کا برتاو ہونا کیا کبھی بھی سابقہ مغربی پاکستان کے لوگوں کو، حکمرانوں کو نظر نہیں آیا۔ اب جبکہ اس واقعے کو اڑتالیس برس بیت چکے ہیں آج بھی وہاں رہ جانے والے پاکستانیوں کی تیسری چوتھی نسل نے جنم لے لیا ہے اس کے باوجود بھی وہ بنگلہ دیشی حکمرانوں اور عوام کے مطابق پاکستانی ہی کہلائے جا رہے ہیں۔ آخر ان بے کس و مجبور لوگوں کا کیا قصور ہے صرف اتنا ہی کہ وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کی اولادیں ہیں۔ حالانکہ پنجاب کے وزیر اعظم غلام حیدر وائیں مرحوم نے تو ان مجبور بے کس لوگوں کے لیے بڑا اہتمام و انتظام کیا تھا کہ انہوں نے میاں چنوں میں تین سو ایکڑ پر محیط رقبہ پر ایک ہزار فلیٹ تیار کرائے تھے۔ رابطہ ٹرسٹ کے تحت چورانوے کروڑ کی رقم حبیب بینک میں جمع تھی لیکن غلام حیدر وائیں کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، اب تو وہ رقم 94 کروڑ سے بڑھ کر کئی ارب ہوچکی ہوگی اگر اسے بد عنوان نوکر شاہی، افسر شاہی نے رہنے دیا ہو۔ وہ ایک ہزار تیار فلیٹ میاں چنوں کے کیا ہوئے کسی کو کچھ خبر نہیں۔  

ہمارے بھی ہیں مہرباں

ہمارے بھی ہیں مہرباں

4 months ago.

مملکت خداداد پاکستان آج کل سیاسی بحران کاشکار ہے موجودہ محکوم حکمران کوخود پتہ نہیں ہوتاکہ اس کااکلا قدم کیاہوگا مثلاً حکومت کے اوپننگ بیٹسمین اسد عمر کامعاملہ جن کے بارے میں بقول خود اسد عمر رات گیارہ بجے تک عمران خان نے ان سے ملاقات میں کوئی ایسی بات نہیں کی تھی پھراچانک اسی رات کوہی اسد عمرسے استعفیٰ مانگ لیاگیا یا انھوں نے خود دیا دراصل جواور جیسا نظرآرہاہے وہ ویسا ہے نہیں نادیدہ حکمران کہیں دور بیٹھے کنٹرول کررہے ہیں۔ ان کی نظر ایک ایک فرد پر ان کی ایک ایک حرکت پر داخلی وخارجی معاملات پر ہے بظاہر حکمران وقت بیچارہ جوش خطابت میں یہ بھول جاتا ہے کہ وہ تو صرف ایک شاہی ہرکارہ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اسے باربار یوٹرن کاطعنہ سننا پڑ رہاہے کیونکہ انھیں خود یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کااگلا قدم کیا ہوناچاہے اگر وہ اپنی مرضی سے کوئی قدم اٹھا لیتے ہیں تو پھرمجبوراً  انھیں وہ قدم واپس لیناپڑتاہے اس لیے ان کے مخالفین انہیں مسٹر یو ٹرن کہنے سے باز نہیں آتے۔

ہاتھی کے د انت کھانے کے اور دکھانے کے اور…!

ہاتھی کے د انت کھانے کے اور دکھانے کے اور…!

5 months ago.

گزشتہ دنوں بھارتی عدالت عظمیٰ نے سمجھوتا ایکسپریس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ سمجھوتا ایکسپریس کو 18 فروری2007ء کو آگ لگائی گئی تھی جس میں نہ صرف پاکستانی مسلمان کی اکثریت تھی بلکہ اس ٹرین میں متعدد دیگر مذاہب کے افراد بھی سوار تھے۔ اس سانحہ کو گزرے تقریباً بارہ برس بیت گئے۔ اس المیہ کو جنم دینے والے چار مجرموں کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ اس حادثے کے سب سے بڑے مجرم سوامی آسیم آنند نے اقبال جرم بھی کرلیا تھا۔یہ سارے دہشت گرد موجودہ حکومتی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جماعت یہی بی جے پی تھی اب ان کی حکومت مرکز میں ہے۔ حکمران جماعت اور ہندو تفتیش کاروں نے اس کے بعد خود عدالت نے اس معاملے کو طول دیا۔ اب جب بارہ برس بعد فیصلہ سنایا گیا تو تمام بیانات اور تفتیشی ثبوتوں کے باوجود سوامی آسیم آنند اور اس کے شریک جرم تین دیگر مجرموں کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔  

بہت جلد ایک بڑی فتح حاصل ہونے والی ہے

بہت جلد ایک بڑی فتح حاصل ہونے والی ہے

5 months ago.

وزیر اعظم عمران خان اکیلے ہی اپنی کابینہ پر بھاری ہیں۔ تمام اہم اور بڑے فیصلے وہ بڑی بہادری و دلیری سے کر رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ خبر جو کابل سے براستہ پشاور کراچی پہنچی ہے، سچی ہو کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو طالبان کے مطالبے پر رہائی نصیب ہوگئی ہے۔ انہیں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کردیا گیا ہے اور امریکی مطالبے پر ان کو مطلوب امریکی جوڑے کو طالبان نے کابل میں امریکی کمانڈر کے سپرد کردیا ہے۔ اللہ جانے اس خبر کی صداقت میں کتنا وزن ہے کیونکہ یہ خبر اس وقت تک حلق سے نہیں اترے گی جب تک عافیہ صدیقی پاکستان نہیں پہنچ جاتیں۔ اگر واقعی یہ سچ ہے اور ایسا ممکن ہوجاتا ہے تو یہ وزیر اعظم عمران خان کی ذاتی کوشش سے ہی ممکن ہوسکے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جس طرح منہ توڑ جواب دیا ہے اور افواج پاکستان کی بر وقت کارروائی کو سراہا ہے اس کے بہت مثبت اثرات قومی اور بین الاقوامی سطح پر مرتب ہوئے ہیں۔ جس طرح بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیاگیا ہے اس کا انہیں قطعی گمان تک نہیں تھا۔ بھارت کے دو طیارے ہی نہیں مار گرائے ان کے دو پائلیٹوں کو بھی زندہ گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن ایک پائلٹ کمانڈر ابھی نند کو فوری طور پرغیر مشروط طور پر رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا۔ اس کی رہائی کو امریکہ سمیت تمام دنیا نے سراہا۔ لیکن بھارت کے حلق میں اس کا کمانڈر ابھی نند ہڈی بن کر اٹک چکا ہے۔  

پاکستان زندہ باد

پاکستان زندہ باد

6 months ago.

بھارتی سورما اپنے ہی زور میں منہ کے بل گر گئے اور لاکھ کوشش اور ہرزہ سرائی کے باوجود یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ غلطی انہوں نے کی۔ اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے پاکستان کو کمزور اور پسپا کرنے کے لیے اور اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے پاکستان پر رات کی تاریکی میں ہلہ بول دیا۔ ان احمقوں کی خفیہ جماعتیں شاید خود سو رہی تھی جنہیں پاکستانی شیر جوان سوتے نظر آرہے تھے لیکن جب انہیں منہ توڑ جواب ملا تو نہ ان کے ہزیمت زدہ ہر کاروں کو اور نہ ہی انہیں پاکستانی سرحد کی طرف دھکیلنے والوں کو سمجھ آرہی تھی کہ کیا ہوا ۔ ان کا ایک نہیں دو طیارے مار گرائے گے جبکہ ان کے پروگرام اور توقعات کے مطابق تو پاکستان کی وہ لمحوں میں اینٹ سے اینٹ بجا کر اپنے نام نہاد پلوامہ حملہ کا بدلہ لے لیں گے۔ چونکہ خود پلوامہ حادثہ بھی ان کا اپنا خود ساختہ تھا جسے بنیاد بنا کر دنیا کی جواب طلبی سے بچنا چاہتے تھے۔ اللہ نے اس سازش میں بھی انہیں ناکام کیا۔