09:41 am
چھوٹی سی لا پرواہی بڑے مسائل جنم دے سکتی ہے۔

چھوٹی سی لا پرواہی بڑے مسائل جنم دے سکتی ہے۔

09:41 am

عیشتہ الرّاضیہ ویڈیو گیمز، موبائل فون اور الیکٹرونک اشیاء سے پاک ایک ایسا دور بھی تھا جب بڑوں کے پاس بچوں کے لئے وقت میسر رہتا تھا۔ دن بھر کام کاج اور دوسرے امور سرانجام دینے کے بعد شام کو ایک خاص وقت بچوں کو دیا جاتا جس میں ان سے ان کے دلچسپی پر مبنی مصنوعات پر گفتگو ہوتی ا ور ان کے خیالات جانے جاتے تھے۔ اس طرح والدین اپنے بچے کی سوچ پر گرفت رکھتے ہوئے ان کے خیالات سے بخوبی آگاہ رہتے۔نہ صرف یہ بلکہ اس طرح کی نشستوں سے والدین ا ور بچوں کے مابین ایک دوستی کا رشتہ استوار ہو جاتا تھا۔ یہ دوستی گہری یاری میں تبدیل ہو کر ایک خوبصورت
رشتہ پیدا کردیتی ہے۔ اولاد کے سب سے اچھے دوست ا س کے والدین کو ہونا چاہئے۔ جدید دورکی رنگینیوں اور افراتفری نے اس احساس کو ماند کر دیا ہے۔اب تو والدین کے پاس اتنا بھی وقت نہیں کے وہ روتے بلبلاتے بچے کو پیار پچکار کر چپ کروا سکیں۔بلکہ اس کام کے لئے بھی گھر میں ہر وقت ایک عدد آیا کا بندوبست ہوتا ہے۔ بچے ماں کی آغوش میں پلنے کی بجائے آیا خاتون کی گود میں پرورش پاتے ہیں یہی ان کی تربیت کرتی ہے۔ ایسی خواتین تعلیم کے اعتبار سے بھی کم پڑھی لکھی ہوتی ہیں لہٰذا بچے کو اچھے برے کی تمیز سکھانا ان کے بس کی بات نہیں۔ ان کا کام بچے کو صاف ستھرا لباس پہنا کر بہلائے رکھنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے بچے بڑے ہو کر بدتمیز ثابت ہوتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ ماں باپ کا پیار کیا ہے۔ ان کی شفقت کسے کہتے ہیں۔ یہ گمان کرتے ہیں کہ شاید والدین کا کام بچوں کی ضروریات پورا کرنا ہے لہٰذا اولاد کو جب کسی شے کی طلب محسوس ہوتی ہے انہیں تبھی والدین کی یاد آتی ہے۔ ضرورت کے اس رشتے میں جب اولاد جوان ہو کر اپنے پائوں پرکھڑی ہو جاتی ہے تب انہیں والدین کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔پھر یہی والدین شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ اولاد فرمانبردار نہیں ہے۔ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کل ویڈیو گیمز اور موبائل فونز نے نونہالوں کو اردو ادب سے دور کر دیا ہے۔ ان میں مطالعے کی حِس اب کسی طور نظر نہیں آتی۔ شاید ہی کوئی بچہ آپ کواپنے فارغ اوقات میں بچوں کی کہانیاں پڑھتا نظر آئے۔پہلے وقتوں میں جب ٹی وی پر ایک سرکاری چینل آتا تھا، گھر پر عزیز رشتہ داروں کے لئے ایک ٹیلی فون موجود رہتا تھا تب نونہال بطورمشغلہ اردو زبان میں بچوں کی کہانیاں ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔اس طرح ان کی اردو بھی عمدہ ہو جاتی تھی۔ مگر آجکل انگلش اس قدر حاوی ہے کہ گھر میں بھی والدین کی کوشش رہتی ہے کہ وہ گفتگو کے دوران زیادہ سے زیادہ انگریزی کے الفاظ ادا کریں، تاکہ نونہالوں کا انگریزی میں لب و لہجہ درست ہو۔ ا س چکر میں ہماری مادری زبان کے ساتھ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس کے اپنے ہی اہل زبان اپنے مستقبل کے ستاروں کو اسی سے روشناس نہیں کروا رہے۔میں ایک پانچویں جماعت کے طالب علم کی بات سن کر حیران رہ گئی جب اس نے کہا کہ اسے اردو کا پیپر انگریزی کی نسبت مشکل لگتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک خاص وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اردو اور اسلامیات کے علاوہ تقریباً ہر مضمون انگریزی زبان میں ہے اور اردو کا نصاب باقی مضامین کی نسبت مشکل بنایا گیا ہے۔ اشعار یاد کرناان کی تشریح ، نثر کی تلخیص ، مضامین، درخواستیں، خطوط ، گرائمر کے قوائدیہ سب بچے کو اردو سے پیار کرنے کے بجائے دور لے جا رہا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ نونہال اردو زبان سے پیار کریں تو اردو کا نصاب ایساتیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جس میں مختصر نصاب تیارکیا جائے اور اردو زبان سے بچوں میںرغبت پیدا کی جا سکے۔

تازہ ترین خبریں