10:27 am
خواتین کیلئے ضروری وٹامنز

خواتین کیلئے ضروری وٹامنز

10:27 am

آج کی تیزتر زندگی میں ہم’فوری‘کرنے کے کاموں کو نمٹانے میں اکثر وہ کام کرنا بھول جاتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں ،جو ’اہم‘ہوتے ہیں ۔اگر خواتین کی بات کی جائے تو ان کے لیے زندگی ،خوبصورتی اور صحت کے لیے اچھی غذا لینا انتہائی ضروری ہے ۔تاہم اکثر خواتین بھوک لگنے پر ’فوری بھوک مٹانے‘کو ترجیح دیتی ہیں اور اس غذا سے انھیں جو خوبصورتی اور صحت ملنا ہوتی ہے ،اسے نظر انداز کر دیتی ہیں ،یعنی یہاں 

بھی اکثر ’فوری‘کو ’اہم‘پر ترجیحی حاصل ہوتی ہے ،جس کے باعث کئی خواتین چند ایک غذائی اجزا کی کمی کا شکار ضرور ہوتی ہیں ۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ 13ایسے وٹامنز ہوتے ہیں ،جن کی خواتین کو ضرورت ہوتی ہے ۔ان وٹامنز کو تمام خواتین کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنانا چاہئے۔ان میں وٹامن سی ،اے ،ڈی ،ای ،کے اور بی (تھیامین اور وٹامن بی12)،اس کے علاوہ بہت سے اہم تر منرلز اور فیٹی ایسڈز بھی ضروری ہیں ۔تقریباً 30فیصد خواتین ایک یا ایک سے زائد وٹامنز اور منرلز کی کمی کا شکار ہوتی ہیں ۔بہت سی خواتین میں یہ خطرہ عمر کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے ۔اگر سپلیمنٹ کے ذریعے ملٹی وٹامنز کو شامل نہ کیا جائے تو تقریباً 75فیصد خواتین کو وٹامنز کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے ۔وٹامنز کی اہمیت اور خواتین خواتین میں وٹامنز اور غذائیت کی کمی بہت سی بیماریوں کے لیے دروازہ کھول دیتی ہے ۔اس کمی کے باعث خواتین میں بچے کی پیدائش کی صلاحیت میں کمی،انفیکشن کے خطرات ،حساسیت اور بیماریوں کا مقابلہ کرنے میں دشواری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔اگر خواتین میں وٹامن کے، ڈی اور کیلشیم کی کمی ہو جائے تو پوسٹ مینو پاس کے باعث آگے جا کر اوسٹیو پروسس کی بیماری لا حق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس جیسے وٹامن اے اور سی کی کمی سے آنکھوں کے نقصان کا خطرہ رہتا ہے ۔40,20اور70سال کی خواتین کو اپنی غذا میں ان وٹامنز کا استعمال یقینی بنانا چاہئے۔اینٹی آکسیڈنٹ وٹامن (اے ،سی اور ای)حل پذیر اینٹی آکسیڈنٹس ،فری ریڈیکلز کے باعث ہونے والے نقصان سے بچاتے ہیں ،اس طرح خواتین بڑی عمر کو چھونے کے بعد بھی دل ،آنکھ ،جلد اور دماغ کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔وٹامن سی سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے ٹھنڈ ،انفیکشن اور دیگر بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ یہ الٹراوائلٹ شعاعوں اور ما حولیاتی آلودگی سے جِلد اور آنکھوں کی حفاظت کرتا ہے ۔وٹامن سی پر مبنی غذاؤں کا استعمال یقینی بنائیں۔وٹامن اے اور ای صحت مند خلیوں کی حفاظت اور خلیوں کی تبدیلی کو روکتے ہیں ۔نیشنل آئی انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ کے مطابق ،وہ لوگ جو اپنی غذا میں وٹامن اے ،ای اور سی نہیں لیتے تو انھیں بڑی عمر میں موتیا اور میکولرڈی جنریشن کے خطرات لا حق ہو سکتے ہیں ۔وٹامن اے اور ای جِلد کے کینسر اور ایجنگ کے مسائل سے بچاتے ہیں ۔وٹامن ڈی ضرویانڈے ،ڈیری مصنوعات اور مشروم سے وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے ،ساتھ ہی سورج کی روشنی بھی اس کا بہترین ذریعہ ہے ۔مرد خواتین کی اکثریت وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوتی ہے ۔لوگوں کی اکثریت دھوپ سے دورچھت کے نیچے کام کرنے کے باعث دھوپ سے مستفید نہیں ہو پاتی ۔وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت ،دماغی کارکردگی ،موڈ کی خرابی روکنے اور ہارمونل توازن کے لئے ضروری ہے ۔ہفتے میں کم از کم پانچ دن پندرہ سے بیس منٹ تک دھوپ ضرور لیں ۔گھر میں رہنے اور پیدائش کے عمل سے گزرنے کے باعث خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار زیادہ رہتی ہیں ،اسی وجہ سے ان کے لئے وٹامن ڈی سے بھر پور غذا اور دھوپ کی روشنی نہایت ضروری ہے ۔وٹامن کےیہ ہڈیوں کی نشوونما اور مضبوطی ،خون کے جمنے اور دل کے امراض سے بچاتا ہے ۔بہت سی خواتین میں اس قیمتی غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے ۔مطالعہ کے مطابق ،جو افراد اپنی غذا میں وٹامن کے کا استعمال کرتے ہیں ان میں دل کے امراض کے سبب موت کے خطرات لاحق نہیں ہوتے ۔اگر آپ طویل مدت تک اینٹی بائیوٹکس اور کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات لیں تو آ پ میں وٹامن کے کی کمی کا امکان رہتا ہے ،جس کی وجہ سے آنتوں کے مسائل مثلاً آئی بی ایس یعنی آنتوں کی سوزش جیسے امراض در پیش ہو سکتے ہیں ۔وٹامن کے کی دو اقسام ہیں ،جنھیں ہم غذا کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں ۔وٹامن کے ون سبزیوں میں پایا جا تا ہے اور وٹامن کے ٹوڈیری پراڈکٹس سے بآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔وٹامن کے کی کمی سے بچنے کے لئے ہرے پتوں والی سبزیاں ،بروکلی ،بند گوبھی ،مچھلی اور انڈے کھائیں وٹامن بی (فولیٹ)وٹامن بی(وٹامن بی 12اور فولیٹ )خواتین کے بہتر میٹابولز م،تھکاوٹ سے بچاؤ اور کار کردگی میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔یہ دوسرے وٹامنز کے ساتھ مل کر خون کے خلیوں کو بناتے ہیں جو سیلیولر پروسس ،نشوونما اور توانائی کے اخراج میں مدد دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ یہ کیلوریز کا درست استعمال کرنے میں بھی کار آمد رہتے ہیں ۔صحت مند حمل ،دوران حمل بچے کی نشوونما اور پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کی روک تھام میں فولیٹ اہم کردار ادا کرتا ہے ۔یہ بچے کی دماغی اور ریڑھ کی ہڈی کی بہتر نشوونما کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حاملہ خواتین میں فولیٹ کی کمی خطر ناک سمجھی جاتی ہے ۔مچھلی ،گوشت ،دودھ ،دہی اور انڈے کے استعمال سے وٹامن بی حاصل کیا جا سکتا ہے ۔بڑی عمر کی خواتین جو خون کی کمی کا شکار ہوں انھیں ڈاکٹر کی مدد سے وٹامن بی کی کمی سے بچنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہرے پتوں کی سبزیوں ،رس دار پھل اور پھلیوں کے استعمال سے فولیٹ کی کمی سے بچا جا سکتا ہے ۔صحت مند غذا اور لائف اسٹائل میں معمولی ردوبدل کے ذریعے خواتین تمام ضروری وٹامنز بآسانی حاصل کر سکتی ہیں ،تاہم اس کے باوجود اگر کسی کو وٹامنز کی کمی کا مسئلہ در پیش ہوتو اس کے لیے انھیں کسی با اعتماد اور اچھی ساکھ کے حامل ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ،جو ضرورت کے مطابق وٹامن کے سپلیمنٹس تجویز کر سکتا ہے ۔

تازہ ترین خبریں