07:46 am
سونا،چاندی اور روزگولڈ کی انگوٹھیاں

سونا،چاندی اور روزگولڈ کی انگوٹھیاں

07:46 am

زیورات کے بغیر خواتین کا سنگھارا دھورا رہتا ہے ۔بنیادی ضروریات کی تکمیل میں کمی بیشی برداشت کی جاسکتی ہے مگر ہار سنگھار خاص کر زیور سے محرومی کھلتی ہے ۔ہم جب درویش صفت عورتوں یا گداگر عورتوں کو چوڑیاں اور انگوٹھیاں پہنے دیکھتے ہیں تویہ بات سچ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے قطع نظر طبقاتی فرق کے ،ہر ایک خاتون سجنا سنور نا چاہتی ہے۔بازار میں سر سے لر کر پاؤں تک ہمہ اقسام کے زیورات دستیاب ہونے لگے ہیں۔ آج ہاتھوں کے خاص زیور یعنی انگوٹھیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ عہد قدیم سے لر کر آج کے جدید ترین دور اور یقینا آنے والے زمانوں میں بھی خواتین کا یہ محبوب زیورنت نئی اشکال اور زاویوں کے ساتھ مروج رہے گا۔
 
پرانے زمانے اور کہیں کہیں آج بھی اس عقیدے کے لوگ موجود ہیں جو نایاب اور قیمتی پتھروں کے اثرات کا علم رکھتے ہیں اوریہ جوتشی اپنے تئیں پتھروں کے ذریعے مختلف اثرات حاصل کرنے اور توڑ کر نے کا نسخہ آزماتے ہیں۔ایک وقت تھا جب سونا سستا تھا تو اس دھات کی انگوٹھیاں خوشی کے موقع پر تحائف میں بھی دی جاتی تھیں اور خواتین عام دنوں میں بھی اسے استعمال کیا کرتی تھیں۔اب ویسے حالات نہیں رہے لیکن فیشن نے کروٹ بدل کے ،مختلف دھاتیں آزما کے جدید ترین زاویوں کی انگوٹھیاں متعارف کرادیں۔اب چاندی ،نکل،کرومےئم اور جست جیسی دھاتوں میں بھی روپہلی اور سنہری پالش کے ساتھ انگوٹھیاں پہنی جارہی ہیں۔سفید سونے کے استعمال کا بھی رجحان آیا ۔اس میں ہیرے ،یا قوت ،روبی ،زرقون اور موتیوں کے جڑاؤ نے بھی کشش وجاذبیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔
اصلی ڈائمنڈ کی رنگ یعنی انگوٹھی اب بھی بے حد پسند کی جاتی ہے ۔ہیرے کا استعمال بھی صدیوں سے ہوتا آرہا ہے اوریہ مقبول رجحان اب منگنی اور شادی کی انگوٹھی میں پروان چڑھ چکا ہے ۔اصلی ہیرے کو محبت ،طاقت اور صداقت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔اصلی ہیرے کی شناخت ماہر جو ہری ہی کر سکتا ہے ۔یہ انگوٹھی سونے کے علاوہ چاندی کی ٹھندی دھات میں بھی بنوائی جاسکتی ہے۔
 

تازہ ترین خبریں